جدید دور کی غزل اپنی تخلیقیت میں بدلتے ہوئے حالات اور نئے تقاضوں کی متحمل ہے جو متنوع سرچشموں سے کسبِ فیض کے ساتھ ہی اپنے دور کی سائنسی طرزِ فکر سے بھی وابستہ ہے نیز انفرادی شعور کی کارفرمائی اجتماعی حوالوں سے رقم بھی کرتی ہے۔چنانچہ اس کی فکری و موضوعی بساط نہ صرف نئے رجحانات و میلانات سے روشناس ہوتی ہے بلکہ تخلیقی پیچ و تاب کے نئے ابعاد کا خلاصہ بھی ہوجاتا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اندرونی طلسمات آرائی کا بیرونی نقش پذیری سے آپس داری بھی کمال کی ہے۔جدید دورمیں انسان کے ترقیاتی کارناموں نے ان بے چہرہ مسائل کو جنم دیاجن کے خط و خال سے قبل از دور کی انسانیات بے خبر تھی۔اس شکست و ریخت کی صورتحال کا اظہار جدید غزل اپنے منفرد اورمختلف انداز میں کرتی ہے۔زندگی کی بے معنویت،غیرمحفوظیت، مہملیت،جنسیت،نفرت،اجنبیت وغیرہ وہ جدید کٹھن اورتلخ اندیش انسانی مسائل ہیں کہ جن کی عکاسی جدید غزل نے اپنے عصری حسیت سے لبریز لہجہ میں کی ہے۔ساتھ ہی تخلیقی آزادی،فکری خودمختاری،حقیقت پسندی،تشکیک پرستی،زبری وغیرہ بھی جدید غزل کی تخلیقی آئینہ سامانی میں درج ہیں۔بنابریں اس سیاسی،سماجی اورتہذیبی آشوب سامانی نے جدید انسان کو جہاں تب وتاب کی تپش سے سرگرم رکھا،وہیں غزل نے بھی اپنے تخلیقی سانچوں اور ڈھانچوں میں نئے لامحدود امکانات کو شامل کیا تاکہ نئے دورکی کرب ناکی کا جوازشعری وجود میں بارز ہو۔ علاوہ ازیں ان تمام ترسیاسی،سماجی،شخصی،نفسیاتی اور معروضی مسائل کی تصویر کشی کی جن سے جدید دور کا انسان باہم دگر ہے۔ چنانچہ عورت کے مسائل کو بھی اپنی تخلیقی بساط کا حصہ بنالیا۔
جدید غزل میں عورتوں کے مسائل کا اظہار بھرپور انداز میں ہوا ہے۔عورت، جس کا تعلق افزائشِ نسل سے ہوتاہے،جسے قربانی کی دیوی مانا جاتا ہے اور جسے کسی بھی قوم کے استقلال اور بقا کی ضامن سمجھا جاتا ہے۔عرصہء دراز تک انسانی سماج میں ناانصافی کی شکار رہی ہے کہ اسے دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا گیا،صرف جنسی تسکین فراہم کرنے کا آلہ تصور کیا گیا،اسے اظہارِ رائے کا حق تھا نہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی۔ہر چند کہ سرسید تحریک نے تعلیمِ نسواں پر بھی زور دیا تھا کہ تعلیم ِ نسواں کے بغیر کوئی ملک،کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔لیکن عورت پھر بھی تخلیقی سطح پوری طرح سے اپنا وقار بحال نہ کرسکی۔بعد ازاں ترقی پسندوں نے عورت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ میدانِ عمل میں بھی آنے کی دعوت دی ۔تو اس کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں کہ اب وہ بھی اپنے ذہنی خط و خال کی نمائش تخلیقی انداز میں کرنے لگی ۔نیزاپنے تخلیقی وژن سے زندگی ‘معاشرہ اور خود اپنے وجود کی بازیافت نسوانی زاویہ نگاہ سے پیش کیا۔ اصل میں مرد مرکزسماج میں عورتوں سے ہونے والا ناروا برتاؤ،حقوق کی پامالی،جنسی زیادتیاں وغیرہ جیسے مسائل کی عکاسی جدید تعلیم کے بعد اس وقت ہوئی جب عورتوں کی تخلیقی اظہار کی آزادی کا نعرہ عالمی سطح پر بلند ہوا۔چوں کہ اس تانیثی ڈسکورس کا مقصد بقولِ ورجنیا وولف،’کون اس شاعرانہ دل کی تپش اور تشدد کی پیمائش کرسکتا ہے جوایک نسوانی جسم میں مقیداور محصور ہے‘تھا۔جدید دور میں عورت میدانِ عمل میں آتے ہی اور دوسرے مسائل کی بھی شکار ہوگئی۔اگرچہ مرد شعرا نے بھی وقتاً فوقتاً عورتوں کے مسائل کی،ان کے دکھ دردکی،ان پر لظلم وزیادتی کا ذکرکیا ہے اور کرتے بھی ہیں لیکن جو حدت و شدت اور تڑپ شاعرات کے طرزِ احساس میں ہے وہ فقیدالمثال ہے۔جدید غزل گو شاعرات نے مردمرکز سماج میں عورت کے ساتھ ناانصافی اور ظلم و زیادتی کے تجربات کو نسائی لب ولہجہ میں پیش کیاتو عورت کی کرب ناک پسماندگی کا احساس ہونے لگا۔تعلیمی مسائل سے لے کر معاشی مسائل تک عورت کے دکھ درد کا دکھڑا بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔جن جدید شاعرات نے اپنی غزلوں میں عورتوں کے مسائل کی عکاسی کی ہے ان میں ادا جعفری،کشور ناہید،پروین شاکر،فہمیدہ ریاض،یاسمین حمید،شاہدہ حسن،مسعودہ حیات،سارا شگفتہ،عذرا عباس،ممتاز مرزا،نوشیں گیلانی،ساجدہ زیدی،شہناز نبی،شفیق فاطمہ شعری،اسما سعیدی،ترنم ریاض،شبنم عشائی وغیرہ کا نام قابلِ ذکر ہے۔
جدید غزل نے خواتین کا جو بنیادی مسئلہ بھرپور اندازمیں پیش کیا ہے وہ عدمِ تشخیص کا مسئلہ ہے۔تمام شاعرات کے غزلیہ کلام میں یہی مسئلہ سرفہرست ہے۔اسی مسئلہ کو باقی تمام مسائل کا سرچشمہ مانا جاتا ہے۔عورت جسے مردمرکز معاشرہ میں صنفِ نازک کے نام سے موسوم کیاگیاہے اب اس معاشرہ میں گھٹن اور گھمس محسوس کررہی ہے۔صدیوں کی قربانیوں کے باوجودبھی اسے اپنا وجود خطرے میں نظرآرہا ہے کہ مردمرکز معاشرے کا آئین ہی اس کے اقدار و افکار کے خلاف ہے۔نہ اس کا من اپنا،نہ تن اپنا،نہ دھن اپنا اور نہ جن اپنا۔عدمِ آزادی اورگمشدگی کا یہی وہ احساس ہے جو جدید غزل میں عورت کے ادراکِ وجود کے لیے ضمانت کی جنگ لڑتا ہے تاکہ ان تمام متداول رسم و رواج کی بیخ کنی ہوجائے۔جن میں سب سے پہلے ایک عورت کی آزادی سلب کی جاتی ہے کہ اسے مرد کی رضا مندی کے سامنے سر تسلیم خم ہونا پڑتا ہے۔اپناجدی گھر چھوڑ کرشوہر کا گھرآباد کرنا پڑتا ہے۔یعنی اسے والد کے گھرپیدا اور شوہر کے گھر مرنا پڑتا ہے۔تمام عمرگھر کو بنانے،سنوارنے اور سجانے کے باوجود بھی وہ شوہر کا ہی گھر کہلاتا ہے۔چنانچہ وہ گھر کی تلاش میں عمر بھر بے گھری کا احساسِ محرومی لیے پھرتی ہے ۔نیز اسے صابر و شاکر بن کر گرہستی کے مشکلات و معاملات سے نبھا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر وہاں بھی:
بہت ہے بارشِ سنگِ ملامت
مگر ہم صورتِ کہسار چپ ہیں
(نوشی گیلانی)
متذکرہ بالا شعر میں ’بارشِ سنگِ ملامت ‘جہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مردمرکز معاشرہ میں عورت چہاردانگ جس ناقدری،ظلم و زیادتی ،تشدد اور بے وقعتی کی شکار ہے اور جس ناروا سلوک سے دوچار ہے۔دراصل مذکورہ معاشرہ کے مروجہ رسم ورواج اور اقدار کا نتیجہ ہے، وہیں مصرعہء ثانی میں ’صورتِ کہسار چپ‘اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عورت نڈر ہوکران تمام تر مسائل و مشکلات کا دیوانہ وار مقابلہ کرتی ہے جو اس پر روا رکھے گئے ہیں۔ساتھ ہی اس احساسِ محرومی کا ادراک بھی ہوجاتاہے کہ عورت اپنی بے اختیاری اور بے زبانی کے شدید احساس سے بھی جھوجھ رہی ہے۔چند اور اشعار ملاحظہ فرمائیں؛
بے وفائی کا دلِ زار پہ الزام نہ رکھ
ہم نے اک عمر گزاری ہے وفاداری سے
(مسعودہ حیات)
ہم وفاؤں کی ردا اوڑھ کے چپ ہیں لیکن
آپ اک تازہ ستم روز ہی کرجاتے ہیں
(اسما سعیدی)
وہ چاند بن کے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
میں اس کی ہجر کی راتوں میں کب اکیلی ہوں
(پروین شاکر)
میں شمع بن کے جلتی رہی عمر بھر مگر
خود اپنے گھر کا دور اندھیرا نہ کرسکی
(نفیس بانو شمع)
اس طرح سے ایک عورت کے حقوق کی پامالی کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ہرچند کہ جدید دور میں عورت مرد کے شانہ بہ شانہ چل کر کار زارِ حیات میں بھرپور طریقے سے اپنا دم خم دکھارہی ہے اور دُنیا کی مختلف حکومتوں نے اس کی آباد کاری اور بہتری کے لئے قوانین بھی بنائے ہیں لیکن مشرقی سوسائٹی میں ابھی تک اس کے لیے ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔گھر کی چاردیواری میں اس کو تنہائی کا شدید احساس ڈس رہا ہے کہ وہ بھیڑ میں تنہائی کا شکار نظرآرہی ہے۔جدید دور کے صنعتی اور میکانکی تمدنی ہاؤ بھاؤ نے آدمی کو جہاں جذبات سے عاری مشین اور مادیت پرست بنایا ،وہیں اسے اپنے رشتوں ناتوں سے بھی دور کیا کہ اب اس کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ اپنے رشتوں کو دے سکے۔ یہی سبب ہے کہ جب سیاسی،سماجی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی آتی ہے تو عین ممکن ہے کہ تصورِ فردبدل جائے اور اس سے وابستہ رشتوں کی نوعیتیں بھی۔جب جدید دور کا آدمی اپنی عورت کو زیادہ وقت نہ دے سکا،اسے محبت کے دو بول نہ بتا سکا تو وہ تنہائی کا شکارہوگئی۔
میں گھر میں بھی اس سے ملتی کیسے
دیوار کھڑی تھی گھر کے اندر
(کشور ناہید)
عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
(پروین شاکر)
اس کی پہچان کھوگئی آخر
اپنے ہی گھر میں وہ رہی تنہا
(شہناز نبی)
مردکی پسند کا اس کی پسند بن جانا،ظلم و جبر سہہ کربھی چپ سادھ لینا،گھر اور آفس میں بھی کام کرنا،چاروں طرف بری نظروں اور حرکتوں کا شکار ہوجانا،بے چارگی،عدم تحفظ،مذہبی کٹر پسندی کا شکار ہونا وغیرہ ایسے مسائل ہیں جن سے آج بھی مشرقی سوسائٹی کی عورت کو اپنی شناخت معدوم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔چنانچہ جدید غزل نے مذکورہ تمام مسائل کو اپنی تخلیقی تشت کا حصہ بناکر عورت کی اہمیت اور مردمرکز معاشرہ میں اس کی بے زبانی کو زبان دی ہے۔پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں:
”وہ معاشرہ جس کی کم و بیش نصف آبادی عورت پر مشتمل ہے محض اس لیے اسے اپنے حقوق اور آزادیوں سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے کہ وہ عورت ہے۔گویا وہ انسان نہیں کوئی اور مخلوق ہے۔اس کے لیے اختیارات و قوانین کا محضر نامہ الگ،بازیابی کی شرائط علحیدہ،رد و قبولیت کے معیار جدا کیوں؟صرف اس لیے کہ وہ عورت ہے۔یہ سوال باربار ہماری شاعرات نے اٹھایا ہے۔انھیں اس ضابطہء اخلاق سے سخت چڑ ہے جس پر جاگیرداری منشا اور رضا کے دستخط ثبت ہیں۔وہ محض ایک زینت خانہ ہے۔جنس عیش تو بن سکتی ہے،خود کاروخود ساز نہیں بن سکتی۔گویا نام نہاد اخلاقی اور سماجی جبر اور دباؤ اس کی تقدیر ہے۔“
(ترجیحات:عتیق اللہ،ص 361)
مذکورہ بالا اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مردمرکز معاشرہ میں عورت کوبہت سارے مسائل درپیش ہیں کہ اسے دوسرے درجے کی مخلوق سمجھ کر اس پر حق و حقوق کے وہ سب دروازے بند ہیں کہ جہاں سے وہ اپنی شناخت،اپنا آئین،اپنی زبان،اپنی آرزو،اُمنگ اور نئے معاشرے کے اس خواب کو شرمندہءتعبیر کرتی کہ جس کا علم لے کر جدیددور کی شاعرات نے اپنے تخلیقی اظہار میں طنز اور احتجاج کی لے کو تیز کیا ہے۔غرض، ایک ایسا جہاں کہ جہاں عورتوں کی تعلیم،پرورش،من پسند شادی،مساوی حقوق کی چہل پہل بھی ہو،عورت کی انا کا بھرم بھی قائم ہو ،اسے رحمِ مادر میں ہی نہ مارا جاتاہو، اور تو اور نہ اس کی ذات پر کسی بھی قسم کا لیبل ہو اور نہ ہی اس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتاہو۔اس تمام تر جدوجہدکا مقصد دراصل اس بیمار ذہنیت کا علاج تھا کہ جو ابھی بھی عورت کی زخمی روح کی پکار اورسینے کے سناٹے کو محسوس کرنے سے عاری ہے۔یہ دراصل عورت کو اس کی طاقت کا احساس دلانے کی بھی جدوجہد ہے کہ وہ بڑی سے بڑی انسانی طاقت کو بھی زیر کرسکتی ہے ۔مرد کے استحصالی نظام میں اس کے جذبات کی ناقدری کا پر احتجاج بھی کرسکتی ہے اور اپنی بات منوا بھی سکتی ہے تاکہ ان بے شمار جوانیوں کا زیاں بچ جائے جورسم رواج ،ذات پات، خاندان،عزت کے نام پر آئے روز اپنی زندگیوں کا خاتمہ تو کرتی ہیں لیکن سودے اور سمجھوتے کا ساتھ نہیں دیتی۔
لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا
(پروین شاکر)
سنبھل بھی لیں گے،مسلسل تباہ ہوں تو سہی
عذابِ زیست میں رشکِ گناہ ہوں تو سہی
(کشورناہید)
رحمِ مادر میں ہی لڑکی کو ختم کرنے کا مسئلہ آج کے دور کا ایک سنگین مسئلہ ہے کہ اسے غیر کا مال سمجھ کر اس سے مکتی میں ہی عافیت تصور کی جاتی ہے۔ آج بھی برصغیر میں لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور لڑکی کی پیدائش پر غمی محسوس کی جاتی ہے۔اس کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن یہ وجہ ضرور ہے کہ لڑکی کی پرورش،تعلیم اور اس پر خرچہ کو بوجھ سمجھ کراس لیے اہمیت نہیں دی جاتی ہے کہ اسے توکوئی اورہی گھر بسانا ہے جبکہ لڑکے کو بڑھاپے کا سہارا مان کر،وارث سمجھ کر لڑکی سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ جو لڑکی رحمِ مادر سے صحیح سلامت بچ کرپیدا ہوتی ہے اس کے لئے دنیا میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے نیزشادی کے بعد ہی و ہ شوہر کے حدِ اختیار میں آجاتی ہے تو اپنی آزادی اور خود مختاری سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔اسے اپنی شناخت کی معدومی کی پرواہ کیے بغیرہر وقت سمجھوتاکرنا پڑتا ہے۔نوکرانی یا خادمہ بن کر کام کرنا پڑتا ہے۔لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کو گھونٹ گھونٹ لہو میں اُتارنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اب اگر سمجھوتہ نہ کیا اور کٹھ پتلی زندگی بسر کرنے پر آمادہ نہ ہوئی تو اسے سسرال کے ظلم و زیادتی اور طعن و تشنیع کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اور کبھی کبھی بات طلاق ،خلع،قتل اور مقدمہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ساتھ ہی وہ لڑکیاں جو مذہب کی غلط تاویل،رسم و رواج،غربت ، معاشی تنگ دستی ،جہیزوغیرہ کی وجہ سے جلد شادی کی زندگی اختیار نہیں کرپاتی ہیں، احساسِ کمتری اورشدید ذہنی،جسمانی اور جذباتی اذیت سے دوچار ہوجاتی ہیں تو پھرجنسی بے راہ روی،منشیات کا استعمال،خودکشی کی شکار ہوجاتی ہیں۔جدید غزل نے عورت کی اس خانمان بربادی کا اظہارمختلف تخلیقی پیکروں میں یوں کیا ہے:
طلاق دے رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
(ساجد سجنی)
عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی
پر اس کے لئے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا
(زہرا نگاہ)
عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے
(تنویر سپرا)
جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم
جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو
(رضیہ فصیح احمد )
خود پہ یہ ظلم گورا نہیں ہوگا ہم سے
ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں
(بلقیس ظفیر الحسن)
فی الجملہ جدید غزل عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی،معاشی ،سیاسی ،سماجی استحصال ،رسم و رواج اور مذہب کے نام پر ظلم و زیادتی،عدمِ شناخت،بے اختیاری،تعلیم،نا انصافی،جنسی بے راروی،غربت،جہیز،شادی ،نوکری جیسے مسائل کی عکاسی کرتی ہے تاکہ مردمرکز معاشرہ اور ادب میں ان کی شناخت معدوم نہ ہوسکے۔ان تمام مسائل کی پیشکش میں جو شعری فضا قائم ہوتی ہے اس میں لطیف جمالیاتی پہلو ہونے کے باوجود طنز اور احتجاج کی لے بھی تیز ہے جو برہنہ سماجی صداقتوں اور پیچیدہ انسانی مسائل کے اظہار میں سچائی اور سادگی کا حسنِ اظہار بھی اپنے تخلیقی بطن میں محفوظ رکھتی ہے۔کیونکہ غزل کی طرح عورت کو بھی معاشرہ جبر سے جینے نہیں دیتا لیکن اس کے اندر کا صبر اسے مرنے نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ غزل اور عورت دونوں برداشت اور صبر کی کوکھ میں پرورش پاتی ہیں۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

