پروفیسر نارنگ ایسی ادبی شخصیت کے مالک تھے جن کو ادبی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا : عارف نقوی
پروفیسر گو پی چند نارنگ نے جو ادبی سر مایہ چھوڑا ہے اس کو کبھی بھلا یا نہیں جاسکتا: پروفیسر انور پاشا
شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کی یاد میں تعزیتی جلسے کا اہتمام
میرٹھ20؍جون2022
پرو فیسر گو پی چند نارنگ کے جانے سے ایسا لگتا ہے کہ ایک بڑا بھیم گرگیا ہو اور محسوس ہوتا ہے کہ اب اردو کی صورت حال کیا ہو گی۔ انہوں نے اردو ادب کو جہاں تک پہنچایا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ انگریزی اور اردو میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔ آپ نے دہلی کی کارندھاری زبان پر جو کام کیا ہے وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔یہ الفاظ تھے معروف اسکالر و دانشور اور شیخ الجامعہ جو دھپور یونیورسٹی کے پروفیسر اختر الواسع کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام پروفیسر گوپی چند نارنگ کی یاد میں بین الاقوامی تعزیتی جلسے میں آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب اردو کے ساتھ بہتر سلوک نہیں ہو رہا تھا اس وقت نارنگ صاحب نے سا ہتیہ اکا دمی کے ذریعے اردو کو ایسا فروغ دیا جس کو زمانہ یاد رکھے گا۔ ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ جو آ یا ہے اسے جانا ہی ہے مگر نارنگ صاحب کے جانے سے جو صدمہ پہنچا ہے وہ ادبی حلقوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ پرو گرام کی صدارت کے فرا ئض معروف ادیب عا رف نقوی (جرمنی) نے ادا کیے۔گو پی چند نارنگ کا تعارف ڈا کٹر شاداب علیم اور نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دی۔
اس موقع پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہو ئے پرو فیسر شافع قدوا ئی نے کہا کہ’’ ساختیات پس سا ختیات‘‘،’’ اردو افسا نہ : روایت اور مسائل‘‘ جیسی درجنوں کتابوں کی وجہ سے نارنگ صا حب کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نارنگ صا حب نے فکشن کے حوا لے سے جو خدمات انجام دی ہیں ان سے طلبہ و ریسرچ اسکالرز بڑی حد تک استفا دہ حا صل کر رہے ہیں۔
پرو فیسر خالد محمود نے کہا کہ نارنگ صا حب کے چلے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا احساس سب کو ہے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کے ذریعے قاری اور ریسرچ اسکالرز کو متاثر ہی نہیں کیا بلکہ مستفید بھی کیا ہے۔ نا رنگ صا حب اپنے طالب علموں کو بھی بہت عزیز رکھتے تھے۔ معمولی سے معمولی کام کو بھی وہ نہایت توجہ دیتے تھے۔
جرمنی سے ڈا کٹر سرور غزالی نے کہا کہ یقینا گوپی چند نارنگ اردو ادب میں چو دہویں کے چاند کے مثل چمکتے رہیں گے۔ ان کی کتابوں نے اردو ادب میں جو اضا فہ کیا ہے اس کو کبھی فرا موش نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے فی زمانہ اردو کے سب سے بڑے نقاد کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
پروفیسر صغیر افرا ہیم نے کہا کہ جب گو پی چند نارنگ ’’ اردو شاعری میں ہندوستانی عناصر‘‘ پر کام کررہے تھے اور انہوں نے ہندوستان کو جس نظریے سے پیش کیا اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اردو ادب میں اب کام شروع ہو رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ نارنگ صاحب نے سوچنے اور سمجھنے کا ایک نیا انداز ہمیں دیا ہے۔
ڈنما رک سے صدف مرزا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر گو پی چند نارنگ کا انتقال پوری اردو دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ نارنگ صاحب کی شخصیت کی تمام جہات پر گفتگو ممکن نہیں مگر جب ان کی کتابوں پر نظر جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ لسانیات پر بھی نارنگ صا حب کے کام کو فرا موش نہیں کیا جاسکتا ۔ لسانیات کو زمین سے اور جغرافیے سے جو ڑ نے کا کام انہوںنے کیا۔لندن سے فہیم اختر نے کہا کہ میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ ان کی صحبت میں رہنے کا اتفاق رہا۔ جس طرح شاعری میں کچھ شعرا کے نام امر ہو گئے ہیں اسی طرح فکشن میں بھی پروفیسر گو پی چند نارنگ نے اردو تنقید کے میدان کو وسیع کیا ہے۔
پرو فیسر انور پاشا نے کہا کہ پروفیسر گو پی چند نارنگ نے جو ادبی سر مایہ چھوڑا ہے اس کو کبھی بھلا یا نہیں جاسکتا۔ نارنگ صاحب ایسی شخصیت کے حامل تھے جن کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ وہ علم و دانش مندی کے ایک خزانہ تھے۔نا قدین کے درمیان ایک ادبی بحث رہتی اور اس بحث میں گو پی چند نارنگ ہمیشہ شامل رہتے۔ ان کا کام اتنا وسیع ہے کہ اس کا ذکر کرنے کے لیے بھی کافی وقت درکا ر ہو گا۔
پروفیسر فاروق بخشی نے کہا کہ گوپی چند نا رنگ کا جانا ایک عجیب سانحہ ہے جس کا تعلق دل سے ہے اور دل پر اثر کرتا ہے۔ نارنگ صاحب ایسی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے ایک ایسی اردو دنیا آ باد کی جس کو آپ کے سامنے پیش کرنے میں وقت لگے گا۔مانو، حیدر آباد نے انہیں ڈی لٹ کی ڈگری سے نوازا کئی دیگر یونیورسٹیز نے بھی انہیں ڈی لٹ کی ڈگریوں اور دیگر اعزازات سے نوازا۔ نارنگ صا حب کا جانا پوری تہذیب کا خاتمہ ہے۔
ازبیکستان سے ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ وہ اردو کے مجا ہد تھے۔ مختصر طور پر ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ اردو والوں کے لیے اور اردو کے لیے کیا۔ وہ نئے ذہن اور نئی تحریروں کو خوب دیکھتے تھے اور ان کے دیکھنے کا مقصد یہ ہو تا تھا کہ نئے اسکالرز اور ان کی تنقیدی بصیرت کیسی ہے۔آیو سا کی صدر ڈا کٹر ریشما پروین نے کہاکہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بڑا ادبی قیمتی سرمایہ چھو ڑا ہے۔ ان کا جب مطالعہ کرتے ہیں تب پتہ چلتا ہے کہ نارنگ صا حب کا مطا لعہ کتنا وسیع تھا۔
صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ نا رنگ صاحب کے اندر ایک ادیب، خطیب کے ساتھ ایک منتظم بھی تھا۔ وہ ہر کام کو سلیقے سے کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ آپ نے ایسے سیمینار، سمپوزیم اور ورکشاپ منعقد کیں جن کو کافی وقت تک یاد رکھا جائے گا۔ نارنگ صاحب مشترکہ کلچر کے ترجمان تھے وہ فر ماتے تھے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہو تا۔ نئی نسل کے لیے ان کا یہی پیغام تھا۔
اپنے صدارتی خطبے میں عارف نقوی نے کہا کہ تمام مہمانان کو سننے کے بعد یہ یقین ہو گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس جلسے کی ایک عالمی حیثیت ہے۔ پچھلے برسوں بڑی بڑی شخصیات ہم سے وداع ہوگئی ہیں ۔ اب تو ڈر لگتا ہے جب کسی ادیب کی بیماری کا پتہ چلتا ہے مگر پروفیسر نارنگ ایسی ادبی شخصیت کے مالک تھے جن کو ادبی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر رام گوپال بھارتیہ، ذیشان خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام میں ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر اسلم صدیقی، ہلال فرید لندن، موسٰی رضا دہلی، قمر عالم علی گڑھ ، امیر نہٹوروی، اجے مالویے ، خورشید حیات، ممتاز عالم رضوی،صائمہ نفیس کراچی، محمد غلام ربانی،اسلم مرزا، سوشیل گپتا، سیدہ مریم الٰہی، نوید خان، فرح ناز، فیضان انصاری، محمد شمشاد وغیرہ موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

