شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تعزیتی نشست کا انعقاد
نئی دہلی (۲۰ جون ۲۰۲۲)
پروفیسر گوپی چند نارنگ کے سانحۂ ارتحال پر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تعزیتی نشست منعقد ہوئی۔شعبہ کے سابق استاد پروفیسر محمد ذاکر نے شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور پروفیسر گوپی چند نارنگ کی انتھک محنت اور عزمِ مصمم کی تعریف کی۔ پروفیسر شہناز انجم نے کہا کہ گوپی چند نارنگ متعدد خوبیوں کے حامل تھے جن میں ان کی وضع داری اور شائستگی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پروفیسر وہاج الدین علوی نے نارنگ صاحب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص نہیں، شخصیت تھے اور شخصیت کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت پر علمی، ادبی اور اخلاقی ہر پہلو سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ علم جہاں سے ملے وہ اسے حاصل کرتے تھے اور اس میںانھیں چھوٹے بڑے کسی سے پوچھنے میں جھجھک نہیں ہوتی تھی۔ وہ خود بھی بہت محنت کرتے تھے اور دوسروں سے بھی اسی محنت کی امید کرتے تھے۔ نارنگ صاحب کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے اس کا ہمہ جہت مطالعہ کرتے اور جب مطمئن ہوجاتے تو لکھنا شروع کرتے۔ پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے نارنگ صاحب کی وابستگی اس شعبے کی خوش بختی ہے۔ اس موقعے پر انھوں نے نارنگ صاحب کی ان کتابوں کا ذکر کیا جو انھوں نے این سی ای آر ٹی کے لیے تیار کرائی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ نارنگ صاحب کی عظمت کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ نارنگ صاحب اپنے استاد خواجہ احمد فاروقی سے اس قدر عقیدت رکھتے تھے کہ محض ہم وطنی کی نسبت سے مجھے بھی عزیز رکھتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نارنگ صاحب کی خطابت بہت مشہور تھی، جس میںان کی سخت ریاضت شامل ہے اور یہ ریاضت ان کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بنی۔ پروفیسر شہزاد انجم اور گوپی چند نارنگ کی ملاقاتوں کا سلسلہ خاصا طویل رہا ہے۔ انھوں نے نارنگ صاحب کی وضع داری اور خوش لباسی کو یاد کرتے ہوئے گفتگو کے سلیقے اور وقت کی پابندی کا ذکر کیا۔ پروفیسر کوثری مظہری نے نارنگ صاحب کی تحریر، تقریر اور تنقید کا ذکر کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کو اردو کے قطبین قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ گوپی چند نارنگ کی شخصیت سے نئی نسل کو بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔ پروفیسر عمران احمد عندلیب نے نارنگ صاحب کی رحلت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں جن کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر سید تنویرحسین نے نم آنکھوں کے ساتھ گوپی چند نارنگ کی شفقتوں کو یاد کیا۔ صدر شعبہ پروفیسر احمد محفوظ نے تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے بے مثل علمی کارناموں کے بیان کے لیے دفتر درکار ہے۔ علم و ادب میں نارنگ صاحب کا جو مرتبہ تھا اس پر ہم سب کو فخر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نارنگ صاحب آخر دم تک محفلوں اور مجلسوں میں ذہنی اور جسمانی طور پر موجود رہتے تھے جس سے ان کی لگن اور حافظے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نشست کے آخر میں پروفیسر شہزاد انجم نے تعزیتی قرار داد پیش کی۔
تعزیتی نشست میں شعبے کے سابق اساتذہ پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی نے بھی شرکت کی اور اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا۔ شعبے کے اساتذہ پروفیسر خالد جاوید، پرو فیسر ندیم احمد، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی ، ڈاکٹر آس محمد صدیقی ، ڈاکٹر آفتاب احمداور ڈاکٹر شاہ نواز فیاض سمیت تمام شرکا نے اس موقعے پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

