اوٹی ٹی پلیٹ فارم OTT platform نیٹ فلیکس پر تقریباً دو مہینہ پہلے ایک ویب سیریز بیڈ بوائز بلینائر Bad Boys Billionaire کے نام سے آئی ہے جس میں تین مشہور و معروف ہندوستانی صنعتکاروں کی کہانی فلمائی گئی ہے جنھوں نے بینکوں اور عوام دونوں کو لوٹا ہے ۔اس سیریزمیں بہت تفصیل اور خوبصورتی کے ساتھ انکے طریقہِ کار Modus operandi کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ان تینوں میں ایک تو وجے مالیا ہیں ،دوسرے نیرو مودی اور تیسرے ہیں سبر تو رائے سہارا۔سہارا شری(وہ اسے نام سے پکارے جاتے تھے )کی کہانی اور طریقہِ کار اور نوہیرا شیخ (ہیرا گولڈ کی مالکن) کی کہانی اور طریقہِ کار میں اتنی مماثلت ہے کہ ایسا لگتا ہے آپا(نوہیرا شیخ اسی نام سے جانی جاتی ہیں )نے اپنا بلیو پرنٹ وہیں سے بنایا ہے اور ایک آپا پر ہی موقوف نہیں ساری پونزی اسکیم انھیں اصولوں پر چلتی ہیں ۔
چارلس پونزی نام کے ایک شخص نے امریکی عوام کو جس عیاری سے دھوکہ دیا تھا وہ اتنا مشہور ہوا کہ بعد میں یہ اسکیم ہی اس کے نام سے موسوم ہوگئی۔پونزی اسکیم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انویسٹر کو دھوکہ میں رکھا جائے اور اسے وہ پرافٹ دکھایا جائے جو کبھی ہوا ہی نہیں تھا ۔شروعاتی دور میں یقیناً لوگوں کو پیسے دئے جاتے ہیں تاکہ اور لوگ لالچ میں آکر انویسٹ کریں اور پھر اس طرح سے ایک پیرامیڈ pyramid تیار ہوجاتا ہے اور جب تک نئے لوگ انویسٹ کر تے رہتے ہیں یہ اسکیم بہت کامیابی سے چلتی رہتی ہے کیونکہ اس کا اصول ہے یہ کہ “to rob Paul to pay Peter”
چونکہ حقیقتاً کوئی بزنس ہوتا نہیں ہے اس لئے لوگوں کو جھانسا دینے کے لئے کئی سارے طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ایک تو یہ کہ بزنس کیاہے کبھی اسکے دستاویز نہیں دکھائے جاتے ہیں اور نہ ہی کبھی بیلینس شیٹ مہیا کرائی جاتی ہے ۔سیکریسی کے نام پر انویسٹر کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے ۔ہیرا گولڈ نے بھی نہ تو کبھی بیلینس شیٹ دکھائی اور نہ ہی بزنس کے سلسلہ میں کوئی شفافیت کا مظاہرہ کیا ۔رٹے رٹائے جواب کہ کسی افریقی ملک سے سونا خریدتے ہیں ،اس میں دو یا چار پرسنٹ کا منافع ہوتا ہے جو شیر ہولڈر میں بانٹ دیا جاتا ہے ۔سونا خریدنے کی کچھ رسیدیں بھی دکھا دی جاتی تھیں اگر کوئی بہت زیادہ سوال وجواب کرتا تو(جن ممالک سے سونا خریدنے کی بات ہے وہاں اتنا سونا نکلتا ہی نہیں)۔ہیرا گولڈ کا بنیادی بزنس سونے کی خرید و فروخت بتائی جاتی تھی ۔گلف ممالک میں دکھاوے کے طور کچھ شوروم بھی تھے (یہ ہم نے سنا ہے )۔حیدآباد میں بھی بڑی دھوم دھام سے ایک شوروم کھولا گیا تھا جس کے افتتاح میں بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے سنیل شیٹی کوبھی بلایا گیا تھا جس پر کافی لے دے ہوئی تھی ۔دھوکہ کاجال اور لمباپھیلانے کے لئے کئی اور بزنس میں انویسٹ کرایا جاتا جیسےفوڈکابزنس اور ٹیکسٹائل کا بزنس ۔آج تک یہ پروڈکٹ مارکیٹ میں نہیں دکھائی دئے ۔ہاں کچھ فیکٹریاں وغیرہ شوٹ کر کے رکھی گئی تھیں کہ اگر کوئی سوال کرے توپھر اسکا منھ بند کرنے کے لئے ان پروڈکٹ کی اسمبلی لائن دکھائی جا سکے۔(جہاں اتنا بڑا فراڈ چل رہا ہو وہاں دو چار فیکٹریوں کی فلم بندی کونسی مشکل ہے)پھر تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے استخارہ کا سہارا لیا جاتا ۔اس مرحلہ پر آدمی بیچارہ خود شرمندہ ہوجاتا کہ ناحق اتنا شک کیا ۔اس میں توسراسر ہماری بھلائی ہے ۔یہ تو تجارت ہے ۔۔ہمارا حق حلال کا پیسہ ہے ۔عموماً ایجنٹ حضرات باریش،نشانِ سجدہ سے مزین پیشانیاں ،اسلامی وضع قطع،ایک عام مسلمان تو اتنے میں ہی ڈھیر ہو جاتا تھا (مجھے معلوم نہیں کہ یہ ایجنٹ حضرات اس فریب دہی کے بارے میں جانتے تھے یا انکی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جا رہی تھی ) سناہے کچھ علماء کرام پے رول پر تھے (واللہ اعلم باالصواب )جو نوہیراشیخ کو آج کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا قرار دے رہے تھے۔پرافٹ پر سود کا شبہ نہ ہو اس لئے ہر مہینہ رقم متعین نہیں تھی بلکہ کچھ کمی اور بیشی کے ساتھ آتی تھی (ایک لاکھ پر تین ہزار تو متعین تھے لیکن ہر مہینہ آنے والی رقم یکساں نہیں ہوتی تھی)
وسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ سماج میں اپنی مقبولیت اور اپنے بزنس کے تئیں سارے شک وشبہ دور کرنے کے لئے کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۔یہ ہر پونزی اسکیم کا سب سے بڑا حربہ ہے ۔سہارا شری تو ایک ساتھ سو سو غریب لڑکیوں کی نہ صرف شادی کرواتے تھے بلکہ گھر بسانے کے لئے اچھی خاصی رقوم بھی فراہم کر تے تھے ۔لوگ انھیں دیوتا کی طرح پوجتے تھے اور آج بھی آپ کو بہت سارے لوگ ایسے مل جائیں گے جو آپ کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ انھوں نے کوئی غلط کام کیا ہی نہیں ۔نوہیرا شیخ کی آج بھی ایسی گڈ ول good will ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سیاسی رقابت کا شکار ہوئی ہیں اور جیسے ہی وہ جیل سے باہر آئیں گی لوگوں کا پیسہ واپس مل جائے گا(کروڑوں لوگوں کا پیسہ اگر وہ اپنی ساری جائداد بھی بیچ دیں ،جو لسٹڈ listed ہیں تو بھی واپس نہیں کر پائیں گی ۔اللہ سب پر رحم کرے۔جیل سے نکلے ہوئے زمانہ ہوگیا اور مجھے کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جسکو آج تک اسکا پیسہ واپس ملا ہو)۔دراصل انکی دینداری ،تقوی ،راست بازی اور سماج سے انکی محبت کی ایسی کہانیاں انکے ایجنٹ سناتے تھے کہ ہر کوئی یقین کر لیتا تھا (خدا انکا یہ بھرم رکھ لے )
تیسرا اصول یہ ہے کہ لالچ کو مزید بڑھایا جائے ۔دوطرح کی اسکیم چلائی جاتی ہیں ۔ایک تو مہینہ والی اسکیم ہے اور یہ نسبتا محفوظ ہے ۔ہیرا گولڈ میں جن لوگوں نے اس اسکیم میں انویسٹ کیا تھا اور اگر خوش قسمتی سے انکے تین سال مکمل ہوگئے تو وہ ان معنوں میں خوش قسمت ہیں کہ انکا “مدّل”واپس آگیا ۔(مجھے تسلیم ہے بہت لوگوں نے اس اسکیم سے پیسے بھی کمائے ہیں لیکن بنیادی طوریہ پیسہ بھی “دھوکے”سے آیا ہے کیونکہ حقیقت میں تو کوئی بزنس تھا ہی نہیں ۔آپ کا ہی پیسہ آپ کو واپس مل رہا تھا )رہے وہ لوگ جو بعد میں آئے تو انکو کافی نقصان ہوا ۔میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنھوں نے اپنا پورا پراویڈنٹ فنڈ اس میں ڈال دیا ،کسی نے اپنی زمین بیچ کر سارا پیسہ لگا دیا ،کسی نے دوکان بیچ دی ۔دھوکہ تو ہر طریقہ سے غلط ہے اور وہ اگر مذہب کے نام پر دیا جائے تو اور شنیع ہے ۔
زیادہ نقصان ان لوگوں کا ہوا جنھوں نے سالانہ یا اس سے زیادہ والی اسکیموں میں حصہ لیا تھا ۔یہاں موڈس اپرنڈی یہ رہتی ہے کہ جیسے ہی اسکیم ختم ہونے والی ہوتی ہے آپ کو مزید لالچ دیا جاتا ہے کہ اگر پرافٹ نہ لیکر اور ایک اس سے بہتر اسکیم میں حصہ لے لیں تو پرافٹ اور بھی بڑھ جائے گا ۔اس سے دو فائدے ہوتے ہیں ،ایک تو پیسہ واپس نہیں کرنا پڑتا ہے ،دوسرے پیرامیڈ بھی بڑا بنتا جاتا ہے۔
جب بھی کوئی پونزی اسکیم کا بھانڈا پھوٹتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو سب سے زیادہ خسارے میں رہتے ہیں ۔سہارا میں بھی یہی ہوا ، شاردا میں بھی اور ہیرا گولڈ میں بھی ۔
سوال یہ پیدا ہوتاکہ پھر لوگ کیسے اس طرح کے فراڈ کا شکار ہوجاتے ہیں ؟بڑے پڑھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی شکار ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ،تو بنیادی عنصر تو لالچ ہے اور یہ ہر انسان کی فطرت میں بسا ہے ۔اللہ قرآن میں فر ماتے ہیں “واحضرت الا نفس الشح”یعنی ہر نفس حرص کا شکار ہے ۔ہیرا گولڈ کے معاملے میں ایک دوسرا عنصر بھی کارفرما ہے اور وہ ہے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کا حکم۔مذہب کے نام پر لوگ صدیوں سے ٹھگے جارہے ہیں ۔یہاں بھی حلال کے نام پر لوگوں کو ٹھگا گیا (خدا کرے کہ ہمارا یہ خدشہ غلط ثابت ہو اور لوگوں کو انکے پیسے واپس مل جائیں )کون کس سے شکوہ کرے؟
پوسٹ اسکرپٹ:نیٹ فلیکس پر Bad Boy’s Billionaire دیکھ لیں ۔آنکھیں کھل جائیں گی ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

