ایک کالج کے نو تقرر شدہ استاد نے بچوں کی عدم موجودگی کے سبب کلاس نہیں کرنے کے ہرجانہ کے طور پر۳۳؍مہینے کی تنخواہ واپس کرنے کی پیش کش کی!!
جواہر لعل یونی ورسٹی، نئی دہلی سے تحقیق کرکے اپنے وطن بہار آکر ڈاکٹر للن کمار ہندی زبان و ادب کی تدریس کے لیے پونے تین برس پہلے مظفر پور کے ایک کالج میں مامور ہوئے۔ یہ زمانہ کورونا کی وبا اور پوری دنیا میں آفت در آفت کی کیفیات سے عبارت رہا۔ جب جینے کے مسائل سامنے ہوں تو دوسری چیزیں پس پشت چلی جاتی ہیں مگر چند دنوں پہلے مذکورہ نوجوان استاد نے بی۔آر۔اے۔بہار یونی ورسٹی، مظفرپور کے رجسٹرار کو ایک درخواست دی کہ گذشتہ دو برس اور نو مہینے سے وہ جس کالج میں مقرر ہیں، وہاں طلبا نہیں آتے ہیں جس کی وجہ سے انھوںنے تدریس کا کوئی کام نہیں کیا۔ اب وہ تنخواہ میں حاصل شدہ ۲۳؍لاکھ، ۸۲؍ہزار،۲۲۸روپے کی رقم بذریعہ چیک اپنی یونی ورسٹی کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔ یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر رام کرشن ٹھاکر نے ان سے چیک اس وجہ سے نہیں لیا کہ تنخواہ واپسی کی کوئی شِق نہیں جس کے حصے میں یہ رقم واپس لی جاسکے۔
یہ واقعہ تاریخ کا ایک انوکھا اور عجیب و غریب معاملہ بن گیا۔ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کے بہ طور استاد فرض شناسی کے ماتم میں اخلاق کا اعلا معیار قائم کرتے ہوئے تنخواہ کی ساری رقم واپس کررہا ہے۔ دوسری طرف یونی ورسٹی ضابطے سے مجبور ہے کہ وہ کس طرح یہ رقم واپس لے اور اسے کہاں اور کس مد میں جمع کرے؟ اخبار اور ٹی وی چینلوں پر یہ بات جنگل میں آگ کی طرح سے پھیل گئی۔ سڑک اور چوراہے سے لے کر اسکول اور کالج میں چہ می گوئیاں شروع ہوگئیں۔ کہیں کالج کا مذاق اڑ رہا ہے تو کہیں رقم واپس کرنے کی پیش کش کرنے والے استاد طنز کے نشانے پر ہیں۔ ایسے معاملوں میں انتظامیہ کی سطح پر جو طور روا رکھا جاتا ہے، وہ یہاں بھی آزمایا گیا۔ اساتذہ کی یونین نے اپنے طور پر کارروائی کی، سماجی دبائو الگ پڑا؛دو تین دنوں میں مذکورہ استاد نے اپنی درخواست کو واپس لیتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان کی باتوں کو میڈیا اور سماج میں صحیح تناظر میں نہیں دیکھا گیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ انھوںنے یونی ورسٹی شعبے یا کسی دوسرے بڑے کالج میں ٹرانسفر نہیں کیے جانے کے غصے میں یہ دبائو بنانے کا کھیل کیا۔ تین چار دنوں میں شہہ کو مات مل چکی ہے اور اب یہ حاشیہ آرائی اور گاسپ کا موضوع ہے۔
ملک کی دانش گاہوں اور مقابلہ جاتی امتحانات میں سرخروئی حاصل کرنے کے لیے بہار کے طالب علم پورے ملک میں نام کمائے نظرآتے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، دلی یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے لے کر بنارس ہندو یونی ورسٹی تک جہاں جہاں مقابلہ جاتی امتحانات ہوتے ہیں، وہاں بہار کے طالب علم دوسرے صوبے کے افراد کے مقابلے زیادہ تعداد میں کامیابی پاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یونین سول سروس کے امتحان میں بھی دوسرے صوبے کے افراد سے زیادہ تناسب میں بہار کے طالب علم کامیاب ہوکر سماجی خدمت اور سرفرازی کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبے میں قومی سطح پر جہاں جہاں مقابلے کی گنجایش پیدا ہوتی ہے، بہار کے طالب علم اپنی تعداد یا تناسب سے بڑھ کر حاصل کرتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ گذشتہ تیس چالیس برسوں میں بہار کے تعلیمی اداروں پر حکومتِ وقت نے اولاً توجہ نہ دی اور پالیسیاں ایسی بنائیں کہ ان کے معیار میں گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ ایک سازش کے تحت بہار کے تعلیمی اداروں کو کمزور ، بے اثر اور ناکارہ بنانے کی سرکاری سطح پر مہم چلائی گئی اور اب یہ زخم ایسا ناسور بن چکا ہے جس میں علاج کے لیے کوئی گنجایش نہیں بچی ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے پٹنہ سائنس کالج سے پڑھ کر نکلنے والے بچے ہندستان کی آئی ۔آئی۔ٹی ۔ میں قبضہ جما لیتے تھے۔ پٹنہ کالج میں جس نے پڑھا، اسے ملک کا کوئی مقابلہ جاتی امتحان خوف زدہ نہ کرسکتا تھا۔ اس لیے جو جس میدان میں جانا چاہتا تھا،و ہاں اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر پہنچ جاتا تھا۔
پہلے کانگریسی حکومتوں نے ذاتی کالجوں کو سرکاری تحویل میں لے کر غیر معیاری اساتذہ کو مستقل کرکے بہار کے طالب علموں کے مستقبل کو تاریک کرنے کی مہم شروع کی۔ وہ سیاست دانوں کے ناموں یا ان کی برادری کے کسی فرد کے نام سے کالج تھے۔ ان کے خاندان کے لوگ یا دیگر رشتے دار یا برادری کے افراد؛ ان میں اساتذہ ہوتے اور اسی طرح کم پڑھے لکھے گھروالوں کو غیر تدریسی ملازم رکھ لیا جاتا۔ سچائی یہ ہے کہ ویسے اساتذہ کبھی پڑھا نہیں سکتے تھے۔ بہار کے وزیر اعلا، چاہے وہ شری کرشن سنگھ ہوں یا جگن ناتھ مشرا ؛ ان سب نے سینکڑوں کی تعداد میں ایسے کالجوں کو منظوری دی جو دو کمرے یا چار کمرے میں چل رہے تھے اور کسی ایک برادری یا کسی ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد سے اَٹے پڑے تھے۔ تعلیمی نظام کی غارت گری کا یہ پہلا باب تھا۔ وہ اساتذہ اَن پڑھ تو تھے ہی، تدریس کے پیشے کی پاکیزگی سے بھی ناواقف تھے۔ بڑی آسانی سے وہ سیاست میں داخل ہوتے چلے گئے۔ کوئی ایم۔ایل۔اے۔، ایم۔پی، کوئی وزیر اور کوئی وزیر کا رشتے دار؛ بن گیا۔ یعنی یہ ان کے لیے اجازت نامہ ہے کہ وہ تنخواہ تو اپنے تعلیمی ادارے سے لیں مگر کبھی ان اداروں کی طرف بالخصوص کلاس روم میں اپنے طلبا کی طرف توجہ بھی نہ دیں۔
بعد میں تقرری کے نام پر اور بھی بدعنوانیوں کا دور شروع ہوا۔ سرکار کے چہیتے لوگوں کو ان اداروں کا سربراہ بنایا گیا اور مالی خرد برد کے سینکڑوں واقعات ایک سلسلے سے سامنے آنے لگے۔ ایسے میں اہل اساتذہ کی بڑی تعداد بہار کے کالجوں میں پہنچ ہی نہ سکی۔ جو نااہل ان اداروں تک گئے تو دیکھتے دیکھتے ماحول اتنا بدل چکا تھا کہ وہ خود کو سدھار بھی نہیں سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بگاڑ کا ایک باضابطہ سلسلہ قائم ہوا۔ وائس چانسلرسے لے کر پرنسپل تک اور یونی ورسٹی کے سارے اہل کار رقم لے دے کر اپنی تقرری سے لے کر دوسروں کے انتخاب تک؛ ایک مکمل ادارے کے زوال کی کہانی تیار کرچکے ہیں۔ اب تو بیسٹ وائس چانسلر وہ ہوتا ہے جس پر لاکھوں الزامات ہوں اور بہترین استاد کا تمغہ اسے دیا جاتا ہے جس نے کلاس روم ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں۔ کمال یہ ہے کہ وزیر اعلا سے لے کر بڑے حکام تک جن کے ذمے اس نظام کی اصلاح کے لیے پالیسی بنانے کا کام تھا، وہ خود ایسے ناکارہ لوگوں کی کھلے طور پر پشت پناہی کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بہار کے بچے لاکھوں کی تعداد میں اپنے مستقبل کی حفاظت میں دوسرے صوبوں تک جاتے ہیں اور کامیاب ہوکر اپنی زندگی کو بہ حفاظت بچا لیتے ہیں مگر جو مالی اعتبار سے کمزور افراد ہیں، وہ اس کام کو بھلا کیسے کر سکتے ہیں، انھیں تو اسی سڑاندھ میں جینا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ تعلیمی گراوٹ میں صرف بہار کا کوئی اختصاص ہے۔ ہماری یونی ورسٹیوں میں جب سے تنخواہیں بڑھی ہیں، اساتذہ کی درس و تدریس سے بے رغبتی بھی بڑھ گئی ہے۔ جے این یو اور دہلی یونی ورسٹی سے خبریں ملتی رہتی ہیں کہ وہاں مہمان اساتذہ اور ایڈہاک ٹیچر نہ پڑھائیں تو ادارے پاتال میں چلے جائیں۔ جو مشہور اور سینیر اساتذہ ہیں، وہ درس و تدریس سے الگ اور کچھ دوسرا ہی چاہتے ہیں ۔ تعلیم سے زیادہ سیاسی اور معاشی سرگرمیاں حاوی ہورہی ہیں۔ ایسی قوم کو کلاس روم میں آکر دور دراز سے آئے ضرورت مند طالب علموں کے لیے اپنی جان کھپانے کی ضرورت کیوں پڑے؟ یہ بھی یاد رہے کہ رفتہ رفتہ بڑی بڑی یونی ورسٹیوں میں ایسے اساتذہ کسی نہ کسی راستے سے پہنچتے چلے جارہے ہیں جن کی ترجیحات میں تعلیم و تدریس کے وقار اور اس کی پاکیزگی کا کبھی خیال ہی نہیں ہے۔
مظفر پور کے ایک چھوٹے سے کالج کے ایک نئے اور نو آموز استاد نے بھلے ہی نوٹنکی کرتے ہوئے شگوفہ بازی کی ہو مگر یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ طلبا کلاس روم میں کیسے آئیں اور انھیں اساتذہ کیسے پڑھائیں؟ سرکار کو اس میں دلچسپی اس وجہ سے نہیں ہے کہ دلی سے لے کر پٹنہ تک پڑھے لکھے لوگوں کے خلاف سیاست کی مہم چلی رہتی ہے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب تک ہم اپنے اسکول، کالج اور یونی ورسٹیوں کو معیاری اور مثالی نہیں بنائیں گے، اس وقت تک یہ قوم اندھیرے میں ہی اپنی قسمت پر ماتم کرتی رہے گی ۔ ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے، اندھیرے سے اور خوابِ غفلت سے ہم بیدار ہوجائیں۔ طلبا اور اساتذہ دونوں یہ جان لیں کہ صرف ان کی زندگی نہیں بلکہ سماج کو ایک نئی ترغیب اور مکمل روشنی بھی وہیں سے ملنی ہے۔ کب تک وہ غافل بنے رہیں گے؟
[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
safdarimamquadri@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

