"پہلے دن بیت بازی مقابلہ، سیمینار، تلاش جوہر صوبائی مشاعرہ، مستقبل کا بھارت اور ادب موضوع پر سیمینار، شام موسیقی اور رقص صوفیانہ جیسے بہترین پروگرامس ہوئے منعقد ”
مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت تین روزہ ’’جشن اردو‘‘ کا آغاز 18 جنوری 2023 کو صبح 11 بجے بیت بازی مقابلے سے ہوا.
پروگرام کی شروعات میں اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے جشن اردو کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور محکمۂ ثقافت سبھی کی یہ کوشش ہے کہ جو بھی پروگرام محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام منعقد ہوں وہ زبان و ادب کے فروغ کے نظریہ سے بامقصد ہوں۔ اردو اکادمی نے بھی پورے سال مندرجہ بالا مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے پروگرام منعقد کیے۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جشن اردو۔ یہ جشن پوری طرح آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت منایا جارہا ہے اور سبھی پروگرام آزادی کے امرت مہوتسو کو موسوم ہیں.
پہلے دن کے پہلے اجلاس میں بیت بازی مقابلہ ہوا جس میں بھوپال کی دس ٹیموں نے حصہ لیا. بیت بازی مقابلے میں حکم صاحبان کے طور پر شہر کے سینئر شعراء ایاز قمر، خالدہ صدیقی اور پروین کیف موجود تھے جن کے متفقہ فیصلے سے ٹیم تاج بھوپالی کے فیروز خان اور عبدالرحمٰن نے اول، ٹیم حسرت موہانی کے کے سرفراز علی اور سلمان انصاری نے دوم اور ٹیم کیف بھوپالی کی پورنیما سنگھ ارم اور عافیہ خان نے سوم مقام حاصل کیا. تمام فاتحین کو 20 جنوری کو اختتامی اجلاس میں انعامات سے نوازا جائے گا. پہلے اجلاس کی نظامت کے فرائض بدر واسطی نے انجام دیے.
دوسرے اجلاس میں تلاش جوہر کے فاتحین پر مبنی صوبائی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے صوبے سے تلاش جوہر کے ذریعے منتخب شعرا نے اپنا کلام پیش کیا . اس مشاعرے کی صدارت سینئر شاعر ظفر صہبائی نے کی اور ماہرین کے طور پر ان کے ساتھ سینئر شعراء ضیا فاروقی اور قاضی ملک نوید موجود رہے. اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض رضوان الدین فاروقی نے انجام دیے.
تیسرے اجلاس میں مستقبل کا بھارت اور ادب کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سینئر ادیب اور سابق ایڈیشنل چیف سکریٹری منوج شریواستو نے فرمائی اور مقررین کے طور پر سینئر ادبا ڈاکٹر نعمان خان اور ڈاکٹر عباس رضا نیر موجود رہے. منوج شریواستو نے کہا کہ بھارت کا مستقبل جو ہے وہ ادب کے زریعے ہی کارگر بنایا جا سکتا ہے اگر معاشرہ جو ہے اس میں وہ ادبی اقدار ہوں. دوسری جانب ادیب بھی جو ہیں وہ معاشرے کے لیے، جو اس کے چیلنجز ہیں ان پر توجہ دیں تو ادب اور بھارت دونوں کی ایک ساتھ ترقی ہوگی. ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں زبان جو ہے وہ بہت ہی وعدوں اور اشتہارات اپنی طرح کی ایک سطحیت کا شکار ہورہی ہے، اپنی طرح کی ایک بے اعتمادی ہے زبان کو لے کر وہ بے اعتمادی تبھی ختم ہوگی جب ہم ادب کو اس کے صحیح معنوں میں سمجھیں گے.
ڈاکٹر نعمان خان نے کہا کہ ہر صحت مند انقلاب کے پردے میں امید کی کرنیں پوشیدہ ہوتی ہیں. ادیب اپنی تخلیقات سے تبدیلیِ حالات احساس بھی کراتا ہے. بیدارئِ عمل کا پیغام بھی دیتا ہے اور مستقبل کے تئیں لائحۂ عمل کی نشاندہی کرکے رہنمایانہ کردار بھی ادا کرتا ہے. جب جب مسائل پیدا ہوئے ہیں ہمارے فرض شناس، بیدار ذہن ادیبوں نے اصلاحی اور انقلابی قدم اٹھائے ہیں. قوم کو بیدار کیا ہے.
لکھنؤ سے تشریف لائے ڈاکٹر عباس رضا نیر نے مستقبل کا بھارت اور اردو شاعری موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں اردو زبان و ادب خاص طور سے اردو شاعری کا اہم کردار رہا ہے، اردو کا حال بھی ہندوستان سے وابستہ ہے اور اردو کا مستقبل بھی. اور ظاہر سی بات ہے کہ ادب جو ہے وہ زندگی کے تمام تر زاویوں کا احاطہ کرتا ہے تو ہمارے ملک کی مستقبل سازی میں بھی ادب اہم کردار ادا کرے گا. ہمیں اپنے ادب کے ذریعے سے یہ متعین کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیا دے رہے ہیں. ہمیں اپنی آنے والی نسلوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ادب کی تخلیق کریں گے اور کر بھی رہے ہیں اس کی مثال ہم کووڈ کے وقت دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ادب نے کووڈ کی ترجمانی کی. اس اجلاس کی نظامت کے فرائض اقبال مسعود نے انجام دیے.
چوتھے اجلاس میں شام موسیقی کے تحت سنجے دویدی نے بہترین نغمے پیش کیے اور آخری اجلاس میں رانی خانم نے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر رقص صوفیانہ پیش کیا.
"دوسرے دن کے پروگرام:”
دوپہر ۱۲:۰۰ بجے
*محفل لٹریری اوپن مائیک*
نوجوانوں کے ذریعے شاعری، گیت نظم، غزل وغیرہ کی پیشکش
معاون : انش ہیپی نیس سوسائٹی ، بھوپال
دوپہر ۱۲:۳۰ بجے
*گفتگو*
*موضوع: اردو زبان سنیما اور تھیٹر*
کنول جیت سنگھ فلم تھیٹر اور ٹی وی اداکار، ممبئی، سلیم عارف فلم تھیٹر اور ٹی وی اداکار ممبئی، را جیودرما فلم تھیٹر اور ٹی وی اداکار، بھوپال
نظامت : بدر واسطی
شام – ۴:۳۰ بجے اوپن مائیک
*چلمن مشاعرہ شاعرات*
شبانہ نظیر ۔ دلی سلمیٰ شاہین۔ دلی ، ڈاکٹر سا دھنا بلوٹے۔ بھوپال، تارا اقبال لکھنو ، حنا حیدر رضوی۔ پٹنہ، نفیسہ سلطانہ انا۔ بھوپال، ڈاکٹر انوسپن۔ بھوپال، سیما ناز ۔ بھوپال ، ڈاکٹر پرارتھنا پنڈت ۔ بھوپال
نظامت: صبیحہ صدف۔ رائسین
شام 7:00 بجے : شام قوالی
منور معصوم ممبئی ، ناصر حسین صابری ، بھوپال، آفتاب قادری۔ اندور
نظامت: ثمینہ علی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

