پریس ریلیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تاریخی مڈل اسکول میں رنگا رنگ یوم جمہویہ تقریب کاانعقاد
نئی دہلی (25 ؍جنوری) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تاریخی مڈل اسکول میں رنگا رنگ یوم جمہوریہ تقریب کا انعقادعمل میں آیا۔اسکول کے طلبا وطالبات نے اس میں رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ہر سال راج پتھ پر منعقد ہونے والی یوم جمہوریہ تقریب کی من عن نقل کرتے ہوئے سلامی اسٹیج پنایاگیا جہاں صدر جمہویہ کا کردار نبھاتے ہوئے ایک طالبہ کو بری، بحری اور فضائی فوجی اہلکاروں کی طرف سے سلامی دی گئی۔تقریب میں مختلف صوبوں کی جھانکیوں اور وہاں کے روایتی کلچرل اور رقص کو بھی پیش کیا گیا۔رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس بچوں نے پروگرام میں موجود سبھی کا دل جیت لیا۔پروگرام میں پروفیسر محمد اسحاق بطورمہمان خصوصی اور ڈپارٹمنٹ آف ٹیچرٹریننگ اینڈ نان فارمل ایجوکیشن سے ڈاکٹرمحمد اسجدانصاری اورڈاکٹرمحمد معمورعلی بطورمہمان اعزازی شریک ہوئے۔ڈاکٹرمحمد اسجد انصاری نے اپنی خطاب میں یوم جمہوریہ کی اہمیت افادیت اور اس کے تاریخی پس منظر کو تفصیل سے بیان کیا۔انھوں نے کہاکہ اگرچہ 15 ؍اگست 1947 کو ملک آزاد ہوچکا تھا لیکن عملی طورپر یہاںگورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ہی نافذ تھا۔26 ؍نومبر1949 کو نیا دستوراپنایاگیا اور26 ؍جنوری1950 سے اس کا نفاذ عمل میں آیا۔اس طرح اس دن سوراج کا نفاذ عمل میں آیا جس کے لیے مجاہدین آزادی نے طویل جنگ لڑی اور قربانیاں پیش کیں۔انھوں نے مزید کہا کہ جامعہ کا قیام بھی انگریزوں سے تعلیمی آزادی کی ایک کڑی ہی تھی جسے مہاتماگاندھی، پنڈت نہرو، محمدعلی جوہر، مولانامحمودحسن ، مولاناابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹرذاکرحسین جیسے عظیم مجاہدین آزادی نے قائم کیا تھا۔اس موقع پر جامعہ مڈل اسکول کے سبکدوش اساتذہ کو خصوصی طورپرمدعوکیاگیا تھا۔پروگرام کے ساتھ ہی اسکول کی عمارت میں ایک شاندارنمائش کا بھی نظم کیا گیا تھا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

