داستانوی قصوں کو مثنوی میں عمدگی سے برتا گیا ہے:پروفیسر عابد حسین حیدری
شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت ’’اردو مثنوی کا آغاز و ارتقا اور جدید مثنوی‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ27؍ جنوری2023ء
’’ہمیں سماج اور انسانی مسائل سے جڑنا چاہئے۔جنگ کے خلاف سوچنا چاہئے۔مثنویوں میں ملنے والے تاریخی قصوں سے انسان کے مسائل دور ہوسکتے ہیں ۔مثنوی میں سماج، معاشرہ، ماحول، رومان اور عشقیہ مضامین کے ذریعے بہت سے تاریخی پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ نئے ریسرچ اسکالر س کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ الفاظ تھے جرمنی سے معروف ادیب و شاعر عارف نقوی کے جو شعبۂ اردو اور آ یوسا کے ذریعے منعقد ہفتہ واری ادب نما پروگرام میں’’اردو مثنوی کا آ غاز و ارتقااور جدید مثنوی‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازڈاکٹر آصف علی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت ایم ۔اے سال اول کی طالبہ نزہت اختر نے پیش کیا۔ پروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ جب کہ مقرر کی حیثیت سے معروف ناقد پروفیسر عابد حسین حیدری نے شرکت کی ۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹرارشاد سیانوی نے انجام دیے۔
مہمان خصوصی پروفیسر ناشر نقوی نے کہا کہ آج کے پروگرام میں مثنوی کے تعلق سے جو گفتگو ہوئی وہ آج کے موضوع کے تعلق سے بہت اہم تھی۔مثنوی نے سماج میں پھیلے مسائل، عشقیہ واردات اورعام انسان کی حالت زار کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
پروفیسر عابد حسین حیدرری نے ’’گلزار نسیم‘‘ اور مثنوی’’ سحر البیان‘‘ کی بحروں کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلزار نسیم اور سحر البیان میں سماجی مسائل اور عشقیہ جذبات کی جانب خوبصورتی سے اس جانب بھی اشا رے کیے گئے ہیں جہاں سے قارئین کی بڑی تعداد روپوش تھی۔ داستانوی قصوں کو مثنوی میں عمدگی سے برتا گیا ہے۔
اس موقع پر صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اردو شاعری میں نظم، غزل ،مرثیہ اور قصیدہ کی طرح مثنوی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ مثنوی نگاروں میں آج ہم غضنفر،ڈاکٹر جمیل دوشی اور اسلم بدر کی مثنویات پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سماج کے تمام مسائل اور عشق کی واردات ان میں سمٹ آ ئی ہے۔ پروفیسر غضنفرکی مثنویات نے ادب کے قاری کو سوچنے کے لیے مجبور کیا۔ عصر حاضر میں مثنویوں کے تعلق سے تمام قارئین اور مشاہر ادب کو سوچنے کی ضرور ہے۔
پروگرام میں ڈاکٹر ریاض توحیدی ،ڈاکٹر نگار عظیم، پرویز بلگرامی،غالب نشتر،تبسم نانڈیکر،انور آفاقی،خورشید حیات،نیاز جیراجپوری،محمد شمشاد،سعید احمد سہارنپوری،راحت علی ،عظمیٰ پروین ، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

