میرٹھ 28؍ جنوری 2023ء
معروف شاعر ناصر کاظمی کی رومانوی شاعری پر شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیوسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تابش فرید کو اس سال کا رسرچ ایکسی لینس ایوارڈ ملا ۔ ان کے گائڈ صدر شعبۂ اردو، پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اس تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے بڑے شاعر ناصر کاظمی اداس شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن تابش نے اپنی تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری میں امید کی کرن تلاش کی ہے۔ انہوں نے دلائل دے کر یہ ثابت کیا کہ ناصر کاظمی کی سنجیدگی اور متانت کو ناقدین نے نہ صرف اداسی اور افسردگی کا نام دے کر بلکہ اسے ان کی ہجرت کے واقعہ سے وابستہ کر کے ان کی ذات کا املیہ بنا دیا ہے جبکہ ناصر کاظمی کی شاعری میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ ناصر کاظمی نے جدید غزل کی گفتگو میں یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ بنا ہجرت کے کامیابی ممکن نہیں اور جدید غزل کا وجود میں آنا ہجرت کے مثبت پہلو سے تعبیر ہے۔ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے تابش فرید کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے سنہرے مستقبل کی دعا دی۔
ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ تابش فرید نے بڑی محنت اورلگن سے تحقیقی مقالہ پورا کیا ہے۔ اردو ادب سے شروع سے ہی ان کا لگاؤ رہا ہے ۔ تابش کی کتاب ’’ناصر کاظمی کی رومانوی شاعری دیوان کے تناظر میں‘‘ شعبۂ اردو کے نصاب میں شامل ہے۔ جو کسی طالب علم کے لئے بڑی اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ان کی دوسری کتاب شائع ہونے والی ہے۔ ڈاکٹرآصف علی نے کہا کہ مختلف سیمینار اور کانفرنس میں تابش فرید تحقیقی مقالات پیش کر چکے ہیں ۔ میگزین اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ ناصر کاظمی جدید شاعری کا ایک منفرد نام ہے جس پر تابش فرید نے بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہے اور ناصر کاظمی کو رومانوی شاعر ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ آنے والے وقت میں ان کے تحقیقی مقالہ ’’ناصر کاظمی کی رومانوی شاعری دیوان کے تناظر میں‘‘ کی انفرادیت کو ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل ہوگی۔
غور طلب ہے کہ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی نے مختلف شعبوں سے بارہ طلباء کو رسرچ ایکسی لینس ایوارڈ دیا ہے۔ شعبۂ اردو سے محمد تابش فرید کو منتخب کیا گیا ہے۔ شعبۂ اردو سے ڈاکٹر الکا وششٹھ، سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد، محمد شاکرمطلوب، فیضان ظفر، فرح ناز، گلناز، سید ساجد علی، نوید احمد خان، سیدہ مریم الہٰی وغیرہ طلباء واطالبات نے تابش فرید کو مبارک باد پیش کی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

