(سنبھل) ۲۲؍فروری ۲۰۲۳
اترپردیش اردو اکادمی کے تعاون سے سنبھل میں کل ہند مشاعرہ کا انعقاد
مشاعرے اردو تہذیب اور ثقافت کا منارۂ نور ہے۔ ملک کی یکجہتی اور خیرسگالی کے جذبے کو مشاعروں نے فروغ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عابد حسین حیدری نے احساس ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیر فائونڈیشن ٹرسٹ لکھنؤ کے زیر اہتمام ، اتر پردیش اردو اکادمی کے مالی تعاون سے مشن انٹرنیشنل اکیڈمی سنبھل کے سبزہ زار پر منعقد قومی یکجہتی پر مبنی کل ہند مشاعرہ کے افتتاحی خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے سنبھل میں مشاعروں کی تاریخ اور تہذیب پر بھی روشنی ڈالی۔ مشاعرہ کی صدارت جناب سلطان محمد خاں کلیم نے انجام دی اور جناب محمد مشیر خاں ترین نے افتاح فرمایا۔ یہ مشاعرہ جناب سید حسین افسر سنبھلی ، ڈاکٹر نسیم الظفر اور جناب وقار رومانی کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ڈاکٹر یو۔سی سکسینا،ڈاکٹر اروند کمار گپتا اور جناب فرخ جمال بطور مہمان اعزازی مشاعرہ میں شریک ہوئے۔مشاعرہ کے کنوینر اویس سنبھلی نے شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا نیز اترپردیش اردو اکادمی کے چیر مین جناب چودھری کیف الوریٰ اور سکریٹری ایس ایم عادل حسن کا بھی خاص طور سے شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض جناب فاخر ادیب نے انجام دیے۔ منتخب کلام یہ ہے۔
لوٹ کے آئے قفس سے تو چمن تھا ویراں
آشیاں کو بھی بڑی دیر میں پہچانے ہیں
سلطان محمد خاں کلیم
اپنی تصویر بناؤگے تو ہوگا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا
اظہر عنایتی
دوچار امیدوں کے دیئے اب بھی ہیں روشن
ماضی کی حویلی ابھی ویران نہیں ہے
ماجد دیوبندی
آئینے ایسے بھی ہیں دیکھا نہیں جاتا جن کو
ایسے پتھر بھی ہیں جن کو آئینہ کہتے ہیں لوگ
سید حسین افسر
اگر درویش ہو تو لقمۂ تر کی ہوس کیوں ہے
قلندر ہو تو شاہوں سے کنارہ کیوں نہیں کرتے
طارق قمر
منتخب الفاظ، لہجہ پراثر رکھتے ہیں ہم
پتھروں کو موم کرنے کا ہنر رکھتے ہیں ہم
شکیل غوث
مجھے ایک لاش کہہ کر نہ بہاؤ پانیوں میں
مرا ہاتھ چھو کے دیکھ مری نبض چل رہی ہے
عزم شاکری
محبت کرنے والے جانتے ہیں سلطنت دل کی
سمرقند و بخارا سے بڑی معلوم ہوتی ہے
ڈاکٹر عمیر منظر
کبھی بھی باخدا یہ سانحہ ہونے نہیں دیں گے
ہم اپنے جیتے جی تجھ کو خدا ہونے نہیں دیں گے
ندیم شاد
میری قیمت تو لگا کرتی ہے ہر روز مگر
کوئی ہے مجھ میں جو سودا نہیں ہونے دیتا
جاوید نسیمی
میں نے سچ بولتے رہنے کی سزا پائی ہے
اور یہ لوگگ گنہگار سمجھتے ہیں مجھے
اظہر اقبال
جس قوم نے تعلیم سے رشتہ نہیں رکھا
اس قوم کے ہاتھوں میں کشکول رہا ہے
سلیم تابش
اظہار کررہا ہوں حقیقت کا شان سے
تہذیب میں نے سیکھی ہے اردو زبان سے
وسیم مظہر گورکھپوری
اس کے علاوہ عرفان لکھنوی،ڈاکٹر یو۔سی سکسینا، مزمل خاں مزمل، کپل ورما، منور تابش، مجاہد نادان ، شفیق برکاتی، انس درانی وغیرہ نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

