Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

افسانہ ’راکھ سے لکھی گئی کتاب‘ :تفہیم کے چند گوشے – سبط حسن نقوی

by adbimiras فروری 21, 2023
by adbimiras فروری 21, 2023 0 comment

پروفیسر ناصرعباس نیر ناقد کے ساتھ فکشن نگار کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ہندوستان میں ایم آر پبلی کیشن نئی دہلی سے ابھی ان کے افسانوں کا مجموعہ’راکھ سے لکھی گئی کتاب ‘شائع ہوا ہے۔ادبی حلقوں میں یہ مجموعہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ زیر بحث افسانے کی اہمیت کے پیش نظر افسانہ نگار نے مجموعے کا نام ہی ’راکھ سے لکھی گئی کتاب‘ رکھا ہے۔افسانے کو راوی کی شکل میں تیسرے اور مرکزی کردار سے بیان کرایا گیا ہے۔اختتام راوی کے بجائے خود افسانہ نگار نے کیا ہے۔ اس افسانے کو میں نے کئی بارالگ الگ زاویوں سے پڑھنے کی کوشش کی ہے اور اپنے ہر زاویے کو قلم بند بھی کیا ہے۔ زیر نظر تحریری کو تسلسل کی ایک کڑی سمجھنا چاہیے۔

افسانہ انسان کے خلاف انسان کے ظلم و تشدد کی کہانی کے اسباب و علل کی ایک جستجو ہے۔جستجو تاریخ کے مطالعے سے نہیں بلکہ شہر اور ملک میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعات اور فسادات کے سبب پیدا ہوئی ہے۔فسادات ،کتب سوزی اور کشت وخون جدید زمانے کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے ساتھ اپنا وجود رکھتے ہیں۔خلیفۃ اللہ بننے سے قبل فرشتوں نے انسان کی فسادی اور خوں ریز طبیعت کا اعلان کر دیا تھا۔’جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے‘کے الٰہی بیان نے فرشتوں کو خاموش کر دیا تھا۔آزمائش میں فرشتوں کی شکست نے تسلیم بھی کر لیا کہ ’ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے تعلیم کر دیا ہے‘۔خون کے دریا کو پار کر کے ہی انسان اپنی اس حقیقت کو حاصل کر سکتا ہے جس کی اساس پروہ مسجود ملائک بنا تھا۔اگر وہ دریا کی شناوری اور غواصی ہی کرتا رہے اور عبور نہ کر سکے تو وہ حیوان بلکہ اس سے بھی زیادہ مضل ٹھہرے گا۔

انسان حیوان کی سطح پر کیوں آ جاتا ہے؟انسان میں حیوان ہونے کا تخم ہوتا ہے اوروہ تخم ہے خواہش کا پرستار ہونا۔انسان کو فقط اپنی خواہش کی تسکین ہی عزیز نہیں ہے بلکہ وہ تسکین کی اشیا پر اپنا قبضہ بھی بنائے رکھنا چاہتا ہے اور دوسروں کی محرومی سے اسے کوئی سروکار بھی نہیں ہوتا۔اس کو بس اس بات کی فکر ستاتی رہتی ہے کہ اس کی ذات کے علاوہ، دوسر ا کوئی ان اشیا سے فائدہ نہ اٹھانا شروع کر دے اور ہمارے ہم پلہ ہو جائے۔ اس کے لئے وہ گروہ بندی،نسل پرستی،تعصب پرستی ،فرقہ بندی کو اپنی طاقت بناتا ہے۔اس طاقت کے بل پر وہ ظلم و زیادتی ،کشت و خون اور فتنہ و فساد وغیرہ کا کھیل کھیلتا رہتاہے۔انسانی تاریخ اسی کھیل کی کہانی ہے۔

’راکھ سے لکھی گئی کتاب‘اولاد آدم کی کہانی تو ہے لیکن آٹھ سو سال اور بادشاہی و جمہوری دور کو محیط ہے۔بادشاہ پوری دنیا پر حکومت کا خواب دیکھتا تھا لیکن اب حکومتیں سرحدوں سے باہر قدم نہیں نکال سکتیں۔بادشاہ اپنی موت تک حاکم تھا اب حکومت پانچ سال یا اس سے بھی کم مدت میں مقید ہے۔اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے انتخاب کا میدان سر کرنا لازمی ہے۔پہلے حکومت فوج کی بنیاد پر ہوتی تھی اب فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں مشغول ہے۔حکومت سازی رائے دہندگان کے قبضے میں ہے۔ ووٹروں کو متحد رکھنا ہی اقتدار کی کلید ہے۔ووٹوں کا کھیل شطرنج کی بساط ہے،جہاں چالوں سے بازی جیتی جاتی ہے۔

خواہش کی کہیں کوئی انتہا نہیں ہوتی ،یہ ایک متعدد ی مرض ہے جس کا مقدر سمٹنا نہیں پھیلنا ہے۔لوگوں کی خواہشات کو تسکین پہنچا کر ان کو متحد تونہیں البتہ منتشر ضرور کیا جاسکتا ہے۔تجربات بتاتے ہیں خوف وخطر پیدا کر کے اکثریتی طبقے کو کسی خاص نقطے پر جمع کیا جا سکتا ہے ۔ ہر ملک میں اکثریت اپنی حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے لہٰذا خوف کا ماحول دنیا کی سرشت بن چکا ہے۔

افسانہ نگار کے ملکی حالات بھی اس سے مختلف نہیںہیں۔اکثریتی فرقے کو متحد رکھنے کے لئے اقلیت پر ظلم کی داستان وہاں بھی رقم کی جا رہی ہے۔یہ کہانی کسی ایک شہر کی نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی ہے۔اس کا اظہار اس نے راوی نے ان بیانات سے کیاہے جن میں اس نے کہا ہے کہ کتابیں جلنے کے واقعات اس کے شہرمیں اکثر ہوتے رہتے ہیں اور اس کو اس بات پر حیرانی ہے کہ اس کو اتنی دور جلے اوراق سے کتاب ترتیب دینے کے لئے کیسے عارضی ملازمت دے دی گئی۔کتاب جلنے کے واقعات صرف اسی کے شہر میں نہیں ہو رہے ہیں دوسرے شہروں میں بھی یہ دھواں موجود ہے۔

کتب خانہ جل گیا ،اسے کیوں جلایاگیا ؟اس کی خبر بھی ہو گئی لیکن اس کا سبب صاف صاف بیان نہیں کیا گیا ہے ،بس اتنا کہہ دیا گیا ہے کہ’’کوئی آگ اتفاقاً نہیں لگتی ،کتابوں کو تو بالکل نہیں‘‘ کسی مقصد کے تحت کتابوں کو جلایا گیا تھا، تو بچے ہوئے اوراق میں دوبارہ آگ کیوں نہیں لگائی گئی؟ اس کا جواب ہوگا کہ کتاب جلانے کے مقصد کے دائرے میں بچے اووراق کی نئی ترتیب بھی آتی ہے۔کتابوں کو جلانا کاغذ کا جلانا نہیں ہے ،کتاب لکھنے والے ذہن اور ذہنیت کو راکھ کرناہے۔ادھ جلے اوراق ذہنوں کی آزمائش کا ذریعہ ہیں۔

کتابیں ہر رخ سے حاکم کے حق میں لکھی جاتی ہیںلیکن ہر کتب خانے کا تخاطبی حاکم ایک نہیں ہوتا ہے۔یہی خطرہ ہے کہ کہیں یہ کتابیں پھیل کر اپنا حاکم نہ بنا لیں،اکثریت اقلیت نہ بن جائے اور اقتدار کی زمام کسی اور کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ اکثریت کو یہی خوف باندھے اور اپنے مسائل سے نادیدہ بنائے ہوئے ہے۔ایک فرقے کے مکان کو جلا کر پلازہ بنایا جاتا ہے تو بیس دیگیں تقسیم ہوتی ہیں ،ظاہر ہے ان دیگوں کو کھانے والے پلازہ بنانے والے فرقے کے غریب لوگ ہوں گے۔ان کی غربت کوئی مسئلہ نہیں ہے امن کے ساتھ رہنے والے ایک ادھ جلے کاغذ کی اساس پر بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں۔حکومت،انتظامیہ اور سرمایہ دار طبقے کا مثلث ہے جووقت کا ہابیلوں کے ساتھ قابیلی کھیل کھیل رہا ہے۔

حکومت کے سامنے سوال یہ ہے کہ ادھ جلے اوراق اور جسم کے ٹکڑے نئی کتاب اور نیا جسم اختیار کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب ہے کہ جب تک فطرت کا مطالعہ قائم رہے گا شکستہ اور جلے ہوئے اوراق کی راکھ سے نئی کتاب ترتیب دیتے رہیں گے۔ فرعونیت موسیٰ کو تو نہیں ما رسکتی لیکن اپنی تسکین کے لئے معصوم بچوں کو قتل ضرور کرا سکتی ہے۔یہی فیصلہ ہوا ہے،آخری روز حاکم کا نمائندہ کتاب کو سنتا ہے اور وقتی اطمینان کے بعد کتاب کا مرتب غائب ہو جاتا ہے او رراکھ کا ایک نیاڈھیر بن جاتا ہے،جس کے متعلق کہا گیا کہ ’وہ کہیں نہیں تھا کمرے میں ایک جگہ راکھ کا ڈھیر تھا ‘۔

فطرت کے نظام سے ٹکرانا کسی شہنشاہی قوت کے بس میں نہیں ہے۔کسان کو مزدور بنا کر مضبوط قلعے بنانے والوں کا انجام کیا ہوا؟ان کے انجام کو کھنڈر نما قلعہ کی صورت حال سے اجاگر کیا گیا ہے۔جس میں محل کی چھت گری ہوئی ہے۔قلعہ تماش بینوں کے لئے سرمۂ عبرت ہے۔ضعیف بادشاہ اپنی مردانہ موچھوں پر تاؤ دیتا ہے تو کنیزوں کا طنز فطرت کا عکاس ہے اورفطرس پر قابو پانے کی کشش بوڑھے بادشاہ کو ملک عدم پہنچا دیتی ہے۔

جذبات،خواہش اور فطرت میں، فطرت تو سب پر حاوی ہے لیکن جذبات کی دنیا خواہشات کا مقالہ نہیں کر سکتی ہے۔ ساری بستی لاشوں میں بدل گئی ایک بوڑھا بچا ،پہلے وہ جذبات میں رویا پھر اس خیال سے کہ میں اکیلا ہوں اور سب کچھ میرا ہے وہ ہنسنے لگا،ہنستے ہنستے وہ گریہ تک پہنچ گیا ،یہ گریہ فطرت سے شکست کے سبب وجود میں آیا ہے کیوں کہ سب کچھ اس کا تو ہے لیکن بڑھاپے کا کیا کرے جو اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہے ۔خواہش کی سر بلندی کا ایک منظر اور ملاحظہ فرمائیے، بادشاہ کے صندوق کو قبر کے قریب رکھا جاتا ہے بیٹا باپ کا چہرہ دیکھتا ہے آنکھیں ڈاڑھی بھگودیتی ہیں،میت کے قریب آ کر بیٹا کہتا ہے کہ جب تک تم زندہ تھے میں عذاب میں تھا،یہ بادشاہ بننے کی خواہش تھی جو باپ کو بھی بادشاہ کی شکل میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔

قلعہ اور غار دونوں کو یکجا کر کے غور کیجئے تو ایک خارجیت اور دوسرا باطنیت کی علامت ہے۔خارجیت مادہ پرستی اور خواہش کی دنیا ہے جو فطرت کو نظر انداز کرتی ہے۔مضبوط قلعے بتاتے ہیں کہ اس کو بنانے والے یہ سمجھتے تھے کہ جیسے وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اورزوال ان کے یہاں بے معنی ہے۔باطنیت خواہش کے برخلاف حقیقت کا انکشاف ہے اور وہ قبر نما غار ہی کو اصل حقیقت تصور کرتی ہے۔وہاں آغاز سے انجام ایک ہی کڑی میں اجاگر ہوتا ہے۔انسان کی حقیقت موت ہے اور اس کے بعد ایک طویل خاموشی۔یہ دونوں متضاد حالتیں ہیں،قلعے کو غار سے کوئی پریشانی نہیں ہے اور غار زمین کے نیچے کی بات کرتا ہے۔یہ غیر متصادم زمین کے اوپر اور نیچے کی کیفیتیں ہیں ان کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔غار کی حقیقت اس طرح آشکار ہوتی ہے،’دنیا غار نہیں ہے،غار دنیا نہیں ہے،آدمی غار سے نہیں نکلا ،غار آدمی سے نہیں نکلا،کوئی غار میں ہے نہ غا ر میں کچھ ہے۔جو کچھ ہے وہ کچھ نہیں ہے۔‘ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اصل دنیا غار اور قلعے کے درمیان ہے۔وہ دنیا فطرت ہے جس کا مشاہدہ اور مطالعہ ایک آوارہ گرد طبیعت ہی کر سکتی ہے۔ قلعہ خواہش کی ،غارتجربے کی اور اپنے اندر کی آواز فطرت کی حقیقت اور آئینہ دارہے۔

فطرت اپنے اندر ربط و تسلسل رکھتی ہے۔ربط تو مشاہدے کے دائرے میں آجاتا ہے لیکن تسلسل کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا مخاطب کون ہے؟یا کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ادھ جلے اوراق کا مطالعہ فطرت کا مشاہدہ کرنے والے کو یہ بتادیتا ہے کہ اس کا مخاطب کون ہے۔ ہر کتاب کا مخاطب بادشاہ ہے،اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اس نے اپنی آوارہ گرد طبیعت کے مشاہدات کو قلم بند کرنے کا ارادہ ترک کردیا کیوں کہ اس سے خیال کی دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا وجود میں نہیں آتی۔وہ کسی خیال کی دنیا یا بادشاہ کے لئے کتاب نہیں لکھنا چاہتا ہے ، وہ کچھ لکھنے سے بہتر، فطرت کے مشاہدہ کو سمجھتا ہے۔اس ذہنیت کا شخص جب ادھ جلے مربوط اوراق کو تسلسل دے گا تو اس کا مخاطب انسان کی فطرت ہی ہوگی۔مختلف خواہشات کو فطرت کی بنیاد پر اس نے تسلسل بخشا ہے۔اس کی مثال بادشاہ کا آئینہ دیکھنا اور لونڈیوں کے مسکرانے والا ادھ جلا کاغذ اور جنگ میں سب مارے گئے اور ایک بوڑھے کے بچ جانے کے واقعے کا تسلسل ہے۔

حکومتیں جھوٹی حقیقتوں کے سہارے باقی رہتی ہیں،حق کا ظاہر ہونا باطل کا مٹنا ہے۔فطرت کا بیان حق کا بیان ہے، فطرت کی اساس پر ترتیب دی گئی راکھ کی کتاب کسی آگ سے کم نہیں ہو سکتی جو انسانیت سوز حکومت کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ایسا انسان یا ایسی نسل جو حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی جویا ہو اور فطرت کا مشاہدہ ہی نہیں بلکہ واقعات کی تحقیق بھی اس کی سرشت کا حصہ ہو تو وہ نسل حکومت کے لئے کسی آگ کے گولے سے کم نہیں ہے ،اس سے نمٹنے کے لئے دو ہی راستے حکومت کے سامنے ہیں ایک یہ کہ وہ خود راکھ بن جائے دوسرے یہ کہ ان شعلوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دے۔راکھ سے لکھی گئی کتاب کی یہی حقیقت ہے۔

ٌٌٌ*****

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثناصر عباس نیر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ادارۂ شرعیہ کا فقہی ترجمان ’الفقیہ‘ کا تجزیاتی مطالعہ – محمد ولی اللہ قادری
اگلی پوسٹ
ملک کی یکجہتی اور خیرسگالی کے جذبے کو مشاعروں نے فروغ دیا: ڈاکٹر عابد حسین حیدری

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,141)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں