پروفیسر ناصرعباس نیر ناقد کے ساتھ فکشن نگار کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔ہندوستان میں ایم آر پبلی کیشن نئی دہلی سے ابھی ان کے افسانوں کا مجموعہ’راکھ سے لکھی گئی کتاب ‘شائع ہوا ہے۔ادبی حلقوں میں یہ مجموعہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ زیر بحث افسانے کی اہمیت کے پیش نظر افسانہ نگار نے مجموعے کا نام ہی ’راکھ سے لکھی گئی کتاب‘ رکھا ہے۔افسانے کو راوی کی شکل میں تیسرے اور مرکزی کردار سے بیان کرایا گیا ہے۔اختتام راوی کے بجائے خود افسانہ نگار نے کیا ہے۔ اس افسانے کو میں نے کئی بارالگ الگ زاویوں سے پڑھنے کی کوشش کی ہے اور اپنے ہر زاویے کو قلم بند بھی کیا ہے۔ زیر نظر تحریری کو تسلسل کی ایک کڑی سمجھنا چاہیے۔
افسانہ انسان کے خلاف انسان کے ظلم و تشدد کی کہانی کے اسباب و علل کی ایک جستجو ہے۔جستجو تاریخ کے مطالعے سے نہیں بلکہ شہر اور ملک میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعات اور فسادات کے سبب پیدا ہوئی ہے۔فسادات ،کتب سوزی اور کشت وخون جدید زمانے کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے ساتھ اپنا وجود رکھتے ہیں۔خلیفۃ اللہ بننے سے قبل فرشتوں نے انسان کی فسادی اور خوں ریز طبیعت کا اعلان کر دیا تھا۔’جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے‘کے الٰہی بیان نے فرشتوں کو خاموش کر دیا تھا۔آزمائش میں فرشتوں کی شکست نے تسلیم بھی کر لیا کہ ’ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے تعلیم کر دیا ہے‘۔خون کے دریا کو پار کر کے ہی انسان اپنی اس حقیقت کو حاصل کر سکتا ہے جس کی اساس پروہ مسجود ملائک بنا تھا۔اگر وہ دریا کی شناوری اور غواصی ہی کرتا رہے اور عبور نہ کر سکے تو وہ حیوان بلکہ اس سے بھی زیادہ مضل ٹھہرے گا۔
انسان حیوان کی سطح پر کیوں آ جاتا ہے؟انسان میں حیوان ہونے کا تخم ہوتا ہے اوروہ تخم ہے خواہش کا پرستار ہونا۔انسان کو فقط اپنی خواہش کی تسکین ہی عزیز نہیں ہے بلکہ وہ تسکین کی اشیا پر اپنا قبضہ بھی بنائے رکھنا چاہتا ہے اور دوسروں کی محرومی سے اسے کوئی سروکار بھی نہیں ہوتا۔اس کو بس اس بات کی فکر ستاتی رہتی ہے کہ اس کی ذات کے علاوہ، دوسر ا کوئی ان اشیا سے فائدہ نہ اٹھانا شروع کر دے اور ہمارے ہم پلہ ہو جائے۔ اس کے لئے وہ گروہ بندی،نسل پرستی،تعصب پرستی ،فرقہ بندی کو اپنی طاقت بناتا ہے۔اس طاقت کے بل پر وہ ظلم و زیادتی ،کشت و خون اور فتنہ و فساد وغیرہ کا کھیل کھیلتا رہتاہے۔انسانی تاریخ اسی کھیل کی کہانی ہے۔
’راکھ سے لکھی گئی کتاب‘اولاد آدم کی کہانی تو ہے لیکن آٹھ سو سال اور بادشاہی و جمہوری دور کو محیط ہے۔بادشاہ پوری دنیا پر حکومت کا خواب دیکھتا تھا لیکن اب حکومتیں سرحدوں سے باہر قدم نہیں نکال سکتیں۔بادشاہ اپنی موت تک حاکم تھا اب حکومت پانچ سال یا اس سے بھی کم مدت میں مقید ہے۔اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے انتخاب کا میدان سر کرنا لازمی ہے۔پہلے حکومت فوج کی بنیاد پر ہوتی تھی اب فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں مشغول ہے۔حکومت سازی رائے دہندگان کے قبضے میں ہے۔ ووٹروں کو متحد رکھنا ہی اقتدار کی کلید ہے۔ووٹوں کا کھیل شطرنج کی بساط ہے،جہاں چالوں سے بازی جیتی جاتی ہے۔
خواہش کی کہیں کوئی انتہا نہیں ہوتی ،یہ ایک متعدد ی مرض ہے جس کا مقدر سمٹنا نہیں پھیلنا ہے۔لوگوں کی خواہشات کو تسکین پہنچا کر ان کو متحد تونہیں البتہ منتشر ضرور کیا جاسکتا ہے۔تجربات بتاتے ہیں خوف وخطر پیدا کر کے اکثریتی طبقے کو کسی خاص نقطے پر جمع کیا جا سکتا ہے ۔ ہر ملک میں اکثریت اپنی حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے لہٰذا خوف کا ماحول دنیا کی سرشت بن چکا ہے۔
افسانہ نگار کے ملکی حالات بھی اس سے مختلف نہیںہیں۔اکثریتی فرقے کو متحد رکھنے کے لئے اقلیت پر ظلم کی داستان وہاں بھی رقم کی جا رہی ہے۔یہ کہانی کسی ایک شہر کی نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی ہے۔اس کا اظہار اس نے راوی نے ان بیانات سے کیاہے جن میں اس نے کہا ہے کہ کتابیں جلنے کے واقعات اس کے شہرمیں اکثر ہوتے رہتے ہیں اور اس کو اس بات پر حیرانی ہے کہ اس کو اتنی دور جلے اوراق سے کتاب ترتیب دینے کے لئے کیسے عارضی ملازمت دے دی گئی۔کتاب جلنے کے واقعات صرف اسی کے شہر میں نہیں ہو رہے ہیں دوسرے شہروں میں بھی یہ دھواں موجود ہے۔
کتب خانہ جل گیا ،اسے کیوں جلایاگیا ؟اس کی خبر بھی ہو گئی لیکن اس کا سبب صاف صاف بیان نہیں کیا گیا ہے ،بس اتنا کہہ دیا گیا ہے کہ’’کوئی آگ اتفاقاً نہیں لگتی ،کتابوں کو تو بالکل نہیں‘‘ کسی مقصد کے تحت کتابوں کو جلایا گیا تھا، تو بچے ہوئے اوراق میں دوبارہ آگ کیوں نہیں لگائی گئی؟ اس کا جواب ہوگا کہ کتاب جلانے کے مقصد کے دائرے میں بچے اووراق کی نئی ترتیب بھی آتی ہے۔کتابوں کو جلانا کاغذ کا جلانا نہیں ہے ،کتاب لکھنے والے ذہن اور ذہنیت کو راکھ کرناہے۔ادھ جلے اوراق ذہنوں کی آزمائش کا ذریعہ ہیں۔
کتابیں ہر رخ سے حاکم کے حق میں لکھی جاتی ہیںلیکن ہر کتب خانے کا تخاطبی حاکم ایک نہیں ہوتا ہے۔یہی خطرہ ہے کہ کہیں یہ کتابیں پھیل کر اپنا حاکم نہ بنا لیں،اکثریت اقلیت نہ بن جائے اور اقتدار کی زمام کسی اور کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ اکثریت کو یہی خوف باندھے اور اپنے مسائل سے نادیدہ بنائے ہوئے ہے۔ایک فرقے کے مکان کو جلا کر پلازہ بنایا جاتا ہے تو بیس دیگیں تقسیم ہوتی ہیں ،ظاہر ہے ان دیگوں کو کھانے والے پلازہ بنانے والے فرقے کے غریب لوگ ہوں گے۔ان کی غربت کوئی مسئلہ نہیں ہے امن کے ساتھ رہنے والے ایک ادھ جلے کاغذ کی اساس پر بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں۔حکومت،انتظامیہ اور سرمایہ دار طبقے کا مثلث ہے جووقت کا ہابیلوں کے ساتھ قابیلی کھیل کھیل رہا ہے۔
حکومت کے سامنے سوال یہ ہے کہ ادھ جلے اوراق اور جسم کے ٹکڑے نئی کتاب اور نیا جسم اختیار کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب ہے کہ جب تک فطرت کا مطالعہ قائم رہے گا شکستہ اور جلے ہوئے اوراق کی راکھ سے نئی کتاب ترتیب دیتے رہیں گے۔ فرعونیت موسیٰ کو تو نہیں ما رسکتی لیکن اپنی تسکین کے لئے معصوم بچوں کو قتل ضرور کرا سکتی ہے۔یہی فیصلہ ہوا ہے،آخری روز حاکم کا نمائندہ کتاب کو سنتا ہے اور وقتی اطمینان کے بعد کتاب کا مرتب غائب ہو جاتا ہے او رراکھ کا ایک نیاڈھیر بن جاتا ہے،جس کے متعلق کہا گیا کہ ’وہ کہیں نہیں تھا کمرے میں ایک جگہ راکھ کا ڈھیر تھا ‘۔
فطرت کے نظام سے ٹکرانا کسی شہنشاہی قوت کے بس میں نہیں ہے۔کسان کو مزدور بنا کر مضبوط قلعے بنانے والوں کا انجام کیا ہوا؟ان کے انجام کو کھنڈر نما قلعہ کی صورت حال سے اجاگر کیا گیا ہے۔جس میں محل کی چھت گری ہوئی ہے۔قلعہ تماش بینوں کے لئے سرمۂ عبرت ہے۔ضعیف بادشاہ اپنی مردانہ موچھوں پر تاؤ دیتا ہے تو کنیزوں کا طنز فطرت کا عکاس ہے اورفطرس پر قابو پانے کی کشش بوڑھے بادشاہ کو ملک عدم پہنچا دیتی ہے۔
جذبات،خواہش اور فطرت میں، فطرت تو سب پر حاوی ہے لیکن جذبات کی دنیا خواہشات کا مقالہ نہیں کر سکتی ہے۔ ساری بستی لاشوں میں بدل گئی ایک بوڑھا بچا ،پہلے وہ جذبات میں رویا پھر اس خیال سے کہ میں اکیلا ہوں اور سب کچھ میرا ہے وہ ہنسنے لگا،ہنستے ہنستے وہ گریہ تک پہنچ گیا ،یہ گریہ فطرت سے شکست کے سبب وجود میں آیا ہے کیوں کہ سب کچھ اس کا تو ہے لیکن بڑھاپے کا کیا کرے جو اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہے ۔خواہش کی سر بلندی کا ایک منظر اور ملاحظہ فرمائیے، بادشاہ کے صندوق کو قبر کے قریب رکھا جاتا ہے بیٹا باپ کا چہرہ دیکھتا ہے آنکھیں ڈاڑھی بھگودیتی ہیں،میت کے قریب آ کر بیٹا کہتا ہے کہ جب تک تم زندہ تھے میں عذاب میں تھا،یہ بادشاہ بننے کی خواہش تھی جو باپ کو بھی بادشاہ کی شکل میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔
قلعہ اور غار دونوں کو یکجا کر کے غور کیجئے تو ایک خارجیت اور دوسرا باطنیت کی علامت ہے۔خارجیت مادہ پرستی اور خواہش کی دنیا ہے جو فطرت کو نظر انداز کرتی ہے۔مضبوط قلعے بتاتے ہیں کہ اس کو بنانے والے یہ سمجھتے تھے کہ جیسے وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اورزوال ان کے یہاں بے معنی ہے۔باطنیت خواہش کے برخلاف حقیقت کا انکشاف ہے اور وہ قبر نما غار ہی کو اصل حقیقت تصور کرتی ہے۔وہاں آغاز سے انجام ایک ہی کڑی میں اجاگر ہوتا ہے۔انسان کی حقیقت موت ہے اور اس کے بعد ایک طویل خاموشی۔یہ دونوں متضاد حالتیں ہیں،قلعے کو غار سے کوئی پریشانی نہیں ہے اور غار زمین کے نیچے کی بات کرتا ہے۔یہ غیر متصادم زمین کے اوپر اور نیچے کی کیفیتیں ہیں ان کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔غار کی حقیقت اس طرح آشکار ہوتی ہے،’دنیا غار نہیں ہے،غار دنیا نہیں ہے،آدمی غار سے نہیں نکلا ،غار آدمی سے نہیں نکلا،کوئی غار میں ہے نہ غا ر میں کچھ ہے۔جو کچھ ہے وہ کچھ نہیں ہے۔‘ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اصل دنیا غار اور قلعے کے درمیان ہے۔وہ دنیا فطرت ہے جس کا مشاہدہ اور مطالعہ ایک آوارہ گرد طبیعت ہی کر سکتی ہے۔ قلعہ خواہش کی ،غارتجربے کی اور اپنے اندر کی آواز فطرت کی حقیقت اور آئینہ دارہے۔
فطرت اپنے اندر ربط و تسلسل رکھتی ہے۔ربط تو مشاہدے کے دائرے میں آجاتا ہے لیکن تسلسل کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا مخاطب کون ہے؟یا کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ادھ جلے اوراق کا مطالعہ فطرت کا مشاہدہ کرنے والے کو یہ بتادیتا ہے کہ اس کا مخاطب کون ہے۔ ہر کتاب کا مخاطب بادشاہ ہے،اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد اس نے اپنی آوارہ گرد طبیعت کے مشاہدات کو قلم بند کرنے کا ارادہ ترک کردیا کیوں کہ اس سے خیال کی دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا وجود میں نہیں آتی۔وہ کسی خیال کی دنیا یا بادشاہ کے لئے کتاب نہیں لکھنا چاہتا ہے ، وہ کچھ لکھنے سے بہتر، فطرت کے مشاہدہ کو سمجھتا ہے۔اس ذہنیت کا شخص جب ادھ جلے مربوط اوراق کو تسلسل دے گا تو اس کا مخاطب انسان کی فطرت ہی ہوگی۔مختلف خواہشات کو فطرت کی بنیاد پر اس نے تسلسل بخشا ہے۔اس کی مثال بادشاہ کا آئینہ دیکھنا اور لونڈیوں کے مسکرانے والا ادھ جلا کاغذ اور جنگ میں سب مارے گئے اور ایک بوڑھے کے بچ جانے کے واقعے کا تسلسل ہے۔
حکومتیں جھوٹی حقیقتوں کے سہارے باقی رہتی ہیں،حق کا ظاہر ہونا باطل کا مٹنا ہے۔فطرت کا بیان حق کا بیان ہے، فطرت کی اساس پر ترتیب دی گئی راکھ کی کتاب کسی آگ سے کم نہیں ہو سکتی جو انسانیت سوز حکومت کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔ایسا انسان یا ایسی نسل جو حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی جویا ہو اور فطرت کا مشاہدہ ہی نہیں بلکہ واقعات کی تحقیق بھی اس کی سرشت کا حصہ ہو تو وہ نسل حکومت کے لئے کسی آگ کے گولے سے کم نہیں ہے ،اس سے نمٹنے کے لئے دو ہی راستے حکومت کے سامنے ہیں ایک یہ کہ وہ خود راکھ بن جائے دوسرے یہ کہ ان شعلوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دے۔راکھ سے لکھی گئی کتاب کی یہی حقیقت ہے۔
ٌٌٌ*****
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

