سر سید کے قومی ،ادبی، علمی اور اصلاحی کار نامے آب زر سے لکھنے لائق ہیں:پروفیسر جمال احمد صدیقی
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں دوروزہ جشن سر سید کاشاندار آغاز
میرٹھ20؍ اکتوبر2023ء
’’تعلیم ہی معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے۔بغیر تعلیم کے انسان کچھ نہیں ہے ۔اسی وجہ سے مفکر قوم سر سید نے بھی تعلیم کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی اورخاص کرجدید تعلیم کو۔ وہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کی ترقی کے خواہاں تھے اور یہ سب تعلیم سے ہی ممکن تھا۔سر سید کو تعلیمی ماحول بچپن ہی سے ملا تھا اور انہیں مسلمانوں کی اصلاح کا خیال بھی شروع سے ہی تھا۔اسی سبب انہوں نے انگلستان جاکر وہاں کی تعلیم و تربیت،اخلاق ومعاشرت کا مطالعہ کیا۔پھر ہندوستان واپس آکر قوم کی اصلاح کی کمان سنبھالی۔ سر سید کے لیے سچی خراج عقیدت یہی ہو گی کہ ہم ان کی دکھائی راہ پر چلتے ہوئے ان کے مشن یعنی تعلیم کو خوب پھیلا ئیں اور جہا لت کے اندھیروں کو دور کردیں‘‘یہ الفاظ تھے پرو فیسر زین الساجدین کے جو مہمان خصوصی کی حیثیت سے شعبۂ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی کے مشترکہ اہتمام میں مفکر قوم،معروف دانشور اور ماہر تعلیم سرسید احمد خاں کے یوم پیدائش کے مو قع پردو روزہ جشن سر سید کے افتتاحی اجلاس میں شعبے کے پریم چند سیمینار ہال میں ادا کررہے تھے۔
واضح ہو کہ سالہا ئے گذشتہ کی طرح امسال بھی محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یوم پیدا ئش کے مو قع پر دو روزہ جشن سر سید کا اہتمام کیا گیا۔جشن کے پہلے روز دوپہر 3:00؍ مقابلۂ بیت بازی کا انعقاد عمل میں آیا۔شام4:00؍ بجے سے دوروزہ قومی سیمینار بعنوان ’’سر سید فکرو فن کے آئینے میں‘‘کا افتتا حی اجلا س عمل میں آ یا۔پروگرام کی صدارت کے فرائض صدر شعبۂ اردو پرو فیسراسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔مہمانان ذی وقار کے بطورسید معراج الدین(سابق چیئر مین پھلائودہ اور معروف سماجی کار کن ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی(صدر،سرسید ایجوکیشنل سوسائٹی،میرٹھ) نے شر کت کی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی،نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دی۔اس سے قبل پرو گرام کا آغازایم۔اے سال دوم کے طالب علم محمد طلحہ نے تلا وت کلام پاک سے کیا ۔ہدیۂ نعت فرحت اختر نے پیش کیا۔اور مہمانان کاپھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی مقررپروفیسر جمال احمد صدیقی(صدر، شعبۂ لائبریری سائنس اورمعروف اسکالر)نے کہا کہ سر سید کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ایسا شخص صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے ۔سر سید کا تعلیمی مشن بڑا کانٹوں بھرا رہا ہے،دنیا بھر کی مخالفتوں کا سامنا کیا۔سر سید اپنے مشن سے ذرا بھی ڈگمگائے نہیں بلکہ عزم مصمم سے نہ صرف مسلمانوں اور اپنے مخالفوں کو اپنا ہم نوا بنا یا اور اپنی تحریروں سے انہیں جدید تعلیم کے لیے قائل بھی کیا اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ سر سید کے قومی ،ادبی، علمی اور اصلاحی کار نامے آب زر سے لکھنے لائق ہیں۔ انہوں نے سماج کے ہر پہلو پر جو کمزور تھے ان پر کام کیا۔انہوں نے جو ادارے قائم کیے نہ صرف وہ تعلیم گاہ ہیں بلکہ تربیت گاہ بھی ہیں۔ اس سے فیض یاب افراد آج پوری دنیا میں اپنا لوہا منوارہے ہیں اور دنیا کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں اور یہ سب کچھ تعلیم کے زیور سے ہی ممکن ہو سکا۔آپ بھی سر سید کے مشن کو آگے بڑھائیے۔یقینا جتنا یہ تعلیمی مشن آگے بڑھے گاملک و قوم بھی اتنی ہی ترقی کی راہ پر آگے بڑھیں گے۔
سید معراج الدین نے کہا کہ سر سید نے نہ صرف قوم کی فلاح و بقا کے لیے اعلیٰ تعلیم کو فروغ دیابلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی ان کے ذریعے لکھے گئے مضامین نے کلیدی کردار اداکیا۔ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے مادری زبان کی ترقی بھی ضروری ہے تبھی مسلمانوں کی بھی ترقی ہو گی۔سر سید کی تحریروں میں سچائی،بے باکی اور سلاست پائی جاتی ہے۔ الفاظ نہایت سیدھے سادے اور روز مرہ کے استعمال کرتے ہیں۔ الفاظ کی شگفتگی ان کی خو بی ہے۔ سر سید اپنے جوش اصلاح اور اظہار خیال میں آزادی کے ساتھ سادگی کو اہمیت دیتے تھے۔ سر سید کی اس خوبی اور اس منفرد انداز سے اردو نثر کو عام فہم بنانے میں مدد ملی اور یہ سر سید کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔
ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی نے کہاکہ سر سید نے تعلیم کے حوالے سے ایک نئی سمت دی ہمیں چاہئے کہ تعلیم کو گھر گھر تک پہنچا ئیں۔بنا تعلیم کے ترقیات ممکن نہیں۔سر سیدنے اپنی پوری زندگی تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کردی، ہمیں سر سید کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا تبھی ہم ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر پائیں گے اور صحیح معنو ںمیں انہیں سچی خراج عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کے کام کو آگے بڑھائیں یعنی قوم کو تعلیم کے زیور سے آ راستہ کریں،ان کی طرح ادارے کھولیں۔ صحیح معنوں میں تبھی ترقی کے راستے کھلیں گے۔
اپنی صدارتی تقریر میں پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ اس پر آشوب دور اور حالات میں فرد واحد کاایسا عظیم کار نامہ واقعی ایک مہتمم بالشان اورمتحیر کن واقعہ ہے۔ عصری تعلیم کے حوالے سے سر سید نے جو عظیم کار نامہ انجام دیا وہ لائق تحسین اور قابل تقلید ہے ۔والدین بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ اپنے بچوں کو نئے علوم یعنی سائنس، سماج،کمپیوٹر،ٹیکنالوجی، انٹر نیٹ، وغیرہ کی تعلیمات سے سر فراز کریںتو یقینا معاشرے میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔اور اس سے سماج بھی ترقی پذیر ہوگا۔
مقابلۂ بیت بازی میں اسماعیل نیشنل مہیلا پی جی کالج سے مدیحہ رحمن،کشش خان،اریبہ اور اقراء نے حصہ لیا اور شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ سے ایم۔اے سال دوم کے طالب علم محمد طلحہ، فرحت اختر،نزہت اختر اور لائبہ نے حصہ لیا۔طلبہ و طالبات کی شاندار پیش کش نے حاضرین کو تالیاں بجانے پر مجبور کردیا۔پرو گرام میں ڈاکٹرفرقان سردھنوی ،محمد خالد، سردھنوی،آفاق خاں،ذیشان خان، انجینئر رفعت جمالی ،طاہرہ پروین ،ڈاکٹر شبستاں آس محمد،محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری، مرزا منہاج ،اطہر خان،عرفان عارف، شہناز پروین،سیدہ مریم الٰہی،عظمیٰ سحر، ماہِ عالم،شاہِ زمن اور کثیر تعداد میں طلبہ وطالبات نے شر کت کی۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

