اردو کے ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر شارب ردولوی کے انتقال کی خبر نے ادبی معاشرے میں غم کی فضا قائم کر دی ہے۔ مختلف ادارے اور ادبی انجمنیں مرحوم کی یاد میں تعزیتی نشستوں کا اہتمام کر رہی ہیں۔ اردو کے ممتاز ادبی ادارے نے بھی پروفیسر شارب ردولوی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے اس موقع پر کہا کہ شارب ردولوی اردو کے اہم نقاد ہی نہیں میرے پرانے ساتھی اور دوست بھی تھے۔ ان کی تحریریں طلبا کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ خصوصاً ترقی پسند نظریات کو انھوں نے اس دور میں جدید تقاضوں کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی۔ گذشتہ چند برسوں سے ان کی صحت سے متعلق اچھی خبریں موصول نہیں ہو رہی تھیں اور آخر کار یہ افسوسناک خبر سننا ہمارا مقدر ٹھہرا۔ میں اپنی اور ادرے کی جانب سے ان کے تمام پسماندگان، احباب اور شاگردوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہوں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ شارب ردولوی اودھ کی پرانی تہذیب کا مرقع تھے۔ ہم ان سے گفتگو کے آداب اور نشست و برخاست کا سلیقہ سیکھتے تھے۔ میں اپنی اور ادارے کی جانب سے ان کے پسماندگان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور مغفرت کے لیے دعا گو ہوں۔ اس مشکل گھڑی میں ادارے کا ہر رکن ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

