ارم ندیم دہلی
آٹزم محض کسی ایک بچے کی انفرادی حالت یا کسی طبی کتاب میں درج ایک بیماری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا طویل، گہرا اور صبر آزما سفر ہے جس میں پورا خاندان شامل ہوتا ہے۔ ہمارے ارد گرد کی دنیا میں آٹزم کا لفظ اب بہت زیادہ سننے کو ملتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی اصل حقیقت، اس کی گہرائی اور اس سے جڑے خاندانوں کی روزمرہ کی جدوجہد سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ عام طور پر لوگ اسے ایک ایسی بیماری سمجھ لیتے ہیں جس کا کوئی نسخہ یا دوا مارکیٹ سے مل جائے گی اور کچھ عرصے کے استعمال کے بعد بچہ بالکل عام بچوں کی طرح ہو جائے گا، حالانکہ یہ سوچ حقیقت سے بالکل دور ہے۔ آٹزم دراصل دماغ کی نشوونما اور اس کی ساخت سے متعلق ایک مخصوص اور منفرد حالت ہے جو کسی بھی انسان کے سوچنے، سمجھنے، دنیا کو دیکھنے، دوسروں سے بات چیت کرنے، اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں سے تعلقات قائم کرنے کے پورے نظام کو تبدیل کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹزم کا شکار ہر بچہ اپنی ذات میں ایک الگ کائنات ہوتا ہے اور اس کی علامات، اس کی طاقت اور اس کی کمزوریاں دوسرے آٹسٹک بچے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔
اس دنیا میں کوئی بھی دو آٹسٹک بچے ایک جیسے نہیں ہوتے، جہاں ایک بچہ شاید زندگی بھر ایک لفظ بھی نہ بول پائے، وہیں دوسرا بچہ بہت زیادہ بولتا تو ہو مگر اپنی بات کو صحیح طریقے سے دوسروں تک پہنچانے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قاصر ہو۔ کچھ بچوں کے لیے اپنا نام سن کر پلٹ کر دیکھنا یا جواب دینا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے کیونکہ ان کا دماغ ارد گرد کی آوازوں کو ایک مختلف انداز میں پروسیس کر رہا ہوتا ہے۔ ان بچوں کی حسیات یعنی دیکھنے، سننے، چکھنے اور چھونے کی صلاحیتیں عام انسانوں سے بہت مختلف ہوتی ہیں، اسی لیے بہت سے بچوں کو تیز یا اچانک پیدا ہونے والی آوازیں، تیز چمکدار روشنیاں، لوگوں کا ہجوم، نئی اور ناواقف جگہیں، یا یہاں تک کہ کسی خاص کپڑے کی چبھن بھی شدید ذہنی اور جسمانی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس کیفیت میں وہ اکثر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے اور ایک ہی حرکت کو بار بار دہرانے لگتے ہیں جیسے ہاتھوں کو تیزی سے ہلانا، گول گول گھومنا یا ایک ہی لفظ کی تکرار کرنا۔ بعض اوقات ان بچوں میں شدید غصہ، بے چینی، روکے نہ رکنے والے رویے اور اچانک کسی بھی طرف بھاگ جانے کی خطرناک عادت بھی دیکھی جاتی ہے جو والدین کو ہر لمحہ چوکنا رہنے پر مجبور کرتی ہے۔
جب والدین اپنے معصوم بچے میں اس طرح کی غیر معمولی علامات دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر تشویش اور خوف کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں، لیکن ایسے نازک وقت میں سب سے اہم قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ توہمات یا لوگوں کے مشوروں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی تجربہ کار چائلڈ نیورولوجسٹ، ڈویلپمنٹل پیڈی ایٹریشن یا آٹزم اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔ آٹزم کے معاملے میں ابتدائی تشخیص یعنی جتنی جلدی بچے کی حالت کو سمجھ لیا جائے، اتنی ہی جلدی اس کی زندگی کو بہتر بنانے کا راستہ کھلتا ہے۔ وقت پر شروع کی جانے والی مختلف تھراپیز جیسے کہ اسپیچ تھراپی جو بچے کو بولنا اور سمجھنا سکھاتی ہے، آکوپیشنل تھراپی جو اسے روزمرہ کے چھوٹے بڑے کام خود کرنے کے قابل بناتی ہے، اور بیہیویئرل تھراپی جو اس کے سخت رویوں کو اعتدال میں لاتی ہے، بچے کی سماجی مہارتوں اور بات چیت کی صلاحیت کو نمایاں طور پر نکھار سکتی ہیں۔ یہ تھراپیز کوئی جادوئی علاج تو نہیں ہوتیں جو آٹزم کو جڑ سے ختم کر دیں، لیکن یہ بچے کو اس قابل ضرور بنا دیتی ہیں کہ وہ دنیا کے ساتھ کسی حد تک قدم ملا کر چل سکے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکے۔
لیکن اس پورے عمل میں جو سب سے بڑی سچائی چھپی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ آٹزم صرف اس بچے کی زندگی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ یہ پورے گھرانے کے نظامِ زندگی کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتا ہے۔ ایک آٹسٹک بچے کے والدین کی صبح سے لے کر رات تک کی پوری روٹین ہسپتالوں کے چکروں، تھراپی سیشنز کی بھاگ دوڑ، کسی اچھے اور مناسب خصوصی اسکول کی تلاش، اور بچے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کی نذر ہو جاتی ہے۔ اس مسلسل اور تھکا دینے والی جدوجہد میں والدین اپنی ذاتی صحت، اپنی پرسکون نیند، اپنی سماجی زندگی، اپنے کیریئر کے سنہرے مواقع اور یہاں تک کہ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور تفریحات کو بھی ہمیشہ کے لیے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا محور صرف اور صرف ان کا وہ بچہ بن جاتا ہے جس کے مستقبل کا خوف انہیں اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے کہ ان کے بعد اس معصوم کا کیا بنے گا۔
ان والدین کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب وہ اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے معاشرے کے عام اسکولوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں آج کے اس جدید دور میں بھی اکثریتی تعلیمی ادارے ایسے بچوں کو داخلہ دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں یا مختلف حیلے بہانے تراشتے ہیں۔ والدین کو معاشرے کے ہر موڑ پر، ہر استاد اور ہر پرنسپل کے سامنے جا کر بار بار یہ وضاحتیں دینی پڑتی ہیں کہ ان کا بچہ ذہنی طور پر معذور یا پاگل نہیں ہے، وہ صرف دنیا کو ایک مختلف نظر سے دیکھتا ہے، وہ بے ضرر ہے اور اگر اسے تھوڑی سی توجہ، پیار اور مناسب سپورٹ مل جائے تو وہ بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ اس مسلسل رد کیے جانے کے عمل، لوگوں کے طنزیہ جملوں اور معاشرتی بے حسی کے نتیجے میں والدین شدید قسم کے ذہنی دباؤ، مسلسل تناؤ، گہری تنہائی، افسردگی اور ایک ایسی دائمی تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان کے جسم کے ساتھ ساتھ ان کی روح کو بھی نچوڑ لیتی ہے۔ اس سب کے دوران گھر کے دوسرے عام بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں وقت دینا اور ان کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہونے سے روکنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا اور کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین سالہا سال تک روزانہ اپنے اندر ایک جنگ لڑتے ہیں اور خود سے یہی ایک سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ آخر میرا بچہ کب بالکل ٹھیک ہو جائے گا، وہ کب دوسرے بچوں کی طرح عام زندگی گزارے گا اور کب یہ سب کچھ ختم ہوگا۔ اس مسلسل اور مایوس کن سوچ کے چکر میں وہ اکثر اپنی موجودہ زندگی کو جینا ہی بھول جاتے ہیں اور ہر لمحہ ایک نامعلوم مستقبل کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت کو تسلیم کرنا اگرچہ تلخ ہے مگر سچ یہی ہے کہ آٹزم ایک لائف لانگ کنڈیشن ہے یعنی یہ زندگی بھر ساتھ رہنے والی حالت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک آٹسٹک بچہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا یا وہ ایک کامیاب اور بامعنی زندگی نہیں گزار سکتا۔ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ ہم سب بطور معاشرہ اور بطور والدین اپنی اس فرسودہ سوچ کو تبدیل کریں اور بچے کی خامیوں کو گننے کے بجائے اس کی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کریں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کی تھراپی، اس کی تعلیم اور اس کی مہارتوں کو نکھارنے کے لیے اپنی کوششیں ضرور جاری رکھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی شروع کریں کہ وہ آج کے دن، اس موجودہ لمحے میں اپنے بچے کے ساتھ خوش کیسے رہ سکتے ہیں۔ اپنے بچے کو لے کر گھر میں قید نہ ہوں بلکہ اسے پارکوں میں لے جائیں، اس کی پسند کے چھوٹے چھوٹے کھیل کھیلیں، اس کے ساتھ کھل کر ہنسیں، گنگنائیں، اس کی معصومانہ حرکتوں کی تصویریں کھینچیں اور اس کی اس منفرد شخصیت کے ہر رنگ سے لطف اندوز ہونا سیکھیں۔ اس بات کی فکر بالکل چھوڑ دیں کہ جب آپ کا بچہ سڑک پر یا کسی دکان میں کوئی عجیب حرکت کرے گا تو لوگ کیا سوچیں گے یا کیا کہیں گے، کیونکہ دنیا کی تنقید اور لوگوں کی باتیں کبھی ختم نہیں ہونی ہیں، لیکن آپ کا بچہ آپ کی دی ہوئی سچی محبت، آپ کے بے پناہ صبر اور آپ کے اس بے شرط ساتھ کو ہمیشہ اپنے اندر محسوس کرے گا جو اسے اس ظالم دنیا میں ایک تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔
اس پورے سفر میں قبولیت ہی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آتی ہے، اور آٹزم کو قبول کر لینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے حالات کے سامنے ہار مان لی ہے یا اپنے بچے کے بہتر مستقبل سے مایوس ہو گئے ہیں، بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کڑوی حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ جب آپ حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں تو آپ اپنے بچے کو کسی مقابلے کی دوڑ میں شامل کیے بغیر، اسے جیسا وہ ہے، اسی روپ میں پورے دل اور پوری روح کے ساتھ اپنا لیتے ہیں۔ تب آپ اس کی تعلیم اور تھراپی کو کسی مجبوری یا بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ اس کی ضرورت سمجھ کر چلاتے ہیں، اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی پر بھی، جیسے کہ اس کا پہلی بار آپ سے نظریں ملانا یا اپنی ضرورت کا ایک لفظ بول دینا، اس طرح خوش ہوتے ہیں جیسے اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ یہی وہ بے شرط محبت ہے جو کسی بھی بچے کی زندگی کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
آٹسٹک بچوں کو عام لوگوں کے ترس، ہمدردی کے کھوکھلے جملوں یا بیچارگی کی نظروں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ انہیں صرف اور صرف معاشرے کی طرف سے گہری سمجھ بوجھ، خلوص اور سچی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ایک ایسے پرامن اور سازگار ماحول کی ضرورت ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف، جھجک یا ملامت کے اپنے جذبات اور اپنی ذات کا اظہار کر سکیں اور جہاں انہیں اچھوتا نہ سمجھا جائے۔ اسی طرح ان بچوں کے والدین کو بھی صرف ڈاکٹروں کی مہنگی فیسوں اور طبی مشوروں کی ہی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انہیں اپنے ارد گرد کے لوگوں سے جذباتی سہارے، حوصلہ افزائی، داد اور ایک ایسی برادری کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے دکھ درد کو سمجھ سکے اور ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو سکے۔
اگر ہم ایک ذمہ دار معاشرے کے طور پر دیکھیں تو یہ صرف ان والدین کا اکیلا فرض نہیں ہے بلکہ اسکولوں، حکومت، فلاحی اداروں اور عام لوگوں کی بھی برابر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مل کر ان آٹسٹک بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے اس مشکل سفر کو آسان اور امید افزا بنائیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ خصوصی تعلیم کے جدید مراکز قائم کریں، عام اسکولوں میں آٹزم فرینڈلی ماحول کو لازمی قرار دیں، اساتذہ کو ایسی خصوصی تربیت فراہم کریں جس سے وہ ان بچوں کی نفسیات کو سمجھ سکیں، اور بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں سے آٹزم سے جڑی سماجی برائیاں اور غلط فہمیاں دور ہو سکیں۔ جب تک ہم پالیسی کی سطح پر ان خاندانوں کو سپورٹ فراہم نہیں کریں گے، تب تک یہ تبدیلی ممکن نہیں ہے، اور کسی بھی مجبور والدین کے لیے معاشرے کی طرف سے ملا ہوا یہ ایک چھوٹا سا جملہ کہ آپ اکیلے نہیں ہیں اور ہم ہر مشکل میں آپ کے ساتھ ہیں، ان کے مرجھائے ہوئے حوصلوں کو ایک نئی زندگی دے سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آٹزم کا شکار بچے بھی اسی معاشرے کا ایک انتہائی اہم اور خوبصورت حصہ ہیں اور ان کے سوچنے کا مختلف انداز اور ان کی منفرد نظر کبھی کبھی ایسی حیرت انگیز صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو عام انسانوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کئی عظیم سائنسدانوں، فنکاروں اور مفکروں میں آٹزم کی علامات پائی جاتی تھیں جنہوں نے اپنی منفرد سوچ کی بدولت پوری دنیا کا رخ بدل دیا۔ اگر ہم ان بچوں کو رحم کا کردار بنانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے برابر مواقع، عزت اور ایک مناسب ماحول فراہم کریں تو وہ اپنی مخصوص دنیا میں رہتے ہوئے بھی شاندار کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں اور معاشرے کی ترقی میں ایک انتہائی مثبت اور پائیدار کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آخر میں ہر اس ماں اور باپ کے لیے جن کا بچہ آٹزم کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کا بے پناہ صبر، آپ کی یہ بے مثال اور لازوال محبت اور آپ کی روزمرہ کی یہ مسلسل کوششیں ہی آپ کے بچے کی زندگی کی سب سے بڑی ڈھال اور سب سے بڑی طاقت ہیں۔ یہ سفر یقیناً بہت کٹھن ہے، اس میں آنسو بھی ہیں، تھکن بھی ہے اور مایوسی کے اندھیرے بھی ہیں، لیکن اس طویل سفر کو ایک خوبصورت، بامعنی اور یادگار تجربہ بنانا مکمل طور پر آپ کے اپنے عزم اور حوصلے کے ہاتھ میں ہے، اس لیے ہر نئے دن کا استقبال ایک نئی امید، ایک نئی مسکراہٹ اور ایک نئے جذبے کے ساتھ کریں کیونکہ آپ کا بچہ آپ کی محبت کا سب سے بڑا شاہکار ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

