مونگیر: پریس ریلیز
جامعہ رحمانی مونگیر کے شعبہ معہد الریادہ میں بعد نماز عشاء اساتذہ جامعہ رحمانی پر مشتمل ایک شاندار شعری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ حدیث و فقہ و نائب ناظم تعلیمات برائے امور طلبہ جناب مولانا سیف الرحمن سیف ندوی نے فرمائی، نشست کا آغاز مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی تلاوت سے ہوا اور مولانا مفتی نشاط احمد قاسمی ندوی مشرف و استاذ دارالحکمت جامعہ رحمانی مونگیر نے اپنی خوب صورت آواز میں نعتیہ کلام اور بزم کی مناسبت سے ڈاکٹر کلیم عاجز مرحوم کی مشہور’دعا‘ پیش کر کے محفل کو زینت بخشی۔
نعتیہ کلام کے بعد سب سے پہلے مولانا محمد شاہد سنگار پوری (رکن فکر و نظر ٹی وی و استاذ جامعہ رحمانی مونگیر ) نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے داد و تحسین وصول کی۔
پھر جامعہ رحمانی کے استاذ مولانا محمد مزمل رحمانی صاحب نے سادگی کے ساتھ اپنا کلام پیش کیا جس سے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے اپنا کلام پیش کیا جو نہایت ہی عمدہ تھا ، پھر جامعہ رحمانی کے استاذ فقہ و فلسفہ و عربی زبان و ادب مفتی زبیر احمد قاسمی ثانی نے اپنا کلام پیش کیا جسے سامعین نے بھرپور پزیرائی سے نوازا، اور عمدہ کلام پر سراہا۔ پھر جامعہ رحمانی کے مؤقر استاذ حدیث و فقہ و ناظم شعبہ تخصص فی الافتاء جناب مولانا مفتی جنید احمد قاسمی جنید صاحب نے اپنے والد ماجد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی یاد میں ایک دل گداز نظم پیش فرمائی۔ جسے سامعین نے پوری توجہ سے سنا اور موصوف کی شیرینی گفتار پر بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ بعد ازاں جامعہ رحمانی کے استاذ اور امارت شرعیہ کی ریسرچ ٹیم کے ذمہ دار مفتی قیام الدین قاسمی(کاوش سیتامڑھی) نے اپنا کلام پیش کیا، جو بہت ہی معنی خیز اور سنجیدہ تھا۔اخیر میں اس ادبی و شعری نشست کے صدر اور میر بزم مولانا سیف الرحمن ندوی نے اپنا کلام پیش کیا جس سے سامعین کافی متاثر ہوئے۔ بزم کے اختتام سے قبل تمام شرکاء کے اتفاق سے کئی تجاویز منظور ہوئیں۔ اس نشست کی نظامت کے فرائض مولانا مفتی زبیر احمد ثانی قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
حاضرین میں جامعہ رحمانی کے چند معزز و مؤقر اساتذہ کرام جناب مولانا مفتی شمشیر حیدر قاسمی، مولانا عماد الدین اصلاحی، مولانا ڈاکٹر محمد شہاب الدین ندوی ازہری، مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری، مولانا ڈاکٹر شمشاد بشیر قاسمی، مولانا محمد صبا حیدر ندوی، مولانا محمد اکرام الدین قاسمی، مولانا محمد زید رحمانی، مولانا نور عالم رحمانی، مولانا محمد اوصاف اشاعتی، مولانا محمد راغب رحمانی، اور مولانا نہال رحمانی وغیرہ شریک رہے، اختتام پر نشست کے کنوینر مفتی قیام الدین قاسمی نے تمام شعراء و حاضرین کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
پسندیدہ اشعار نذر قارئین ہے:
*خود دار کا کہنا ہے بھوکا ہی میں بہتر تھا*
*راشن جو دیا اس نے تصویر چھپا دی ہے*
سیف سہرساوی
*اولاد کی جس درجہ خدمت ہو مگر ناصح*
*ماں باپ نے قربانی جو دی ہے سوا دی ہے*
جنید احمد ناصح
*خوش حالی ہو بد حالی تنگی ہو کہ آسانی*
*ہر حال میں ملت پر جاں اپنی لٹا دی ہے*
قیام الدین کاوش سیتامڑھی
*غنچوں کو چٹخنے کی آتی تھی ادا لیکن*
*پھر طرز نئی ہم نے اک اور سکھا دی ہے*
زبیر احمد ثانی
*یہ بھی تو کرامت ہے اس دور کے رہبر نے*
*کرسی تو بچا لی ہے، غیرت ہی گنوا دی ہے*
حفظ الرحمن حفیظ
*جس شخص کو بخشا تھا رتبہ مہ دلبر کا*
*اس شخص نے جینے کی ہر آس مٹا دی ہے*
مزمل بھاگل پوری
*منصف کی نگاہوں میں گر فرق نظر آئے*
*تو سمجھو عدالت کی توقیر گھٹا دی ہے*
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

