شعاعِ شبلی: ایک نئی ادبی روشنی – فائزہ عظیم احمد
نامِ رسالہ: شعاعِ شبلی
سرپرست: پروفیسر محمد طاہر، صدر شعبۂ اردو، شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ
صفحات: 96
شمارہ: اوّل، اکتوبر تا دسمبر 2026ء
مبصر: فائزہ عظیم احمد
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں ترے دور کا آغاز ہے
اردو زبان و ادب کی تاریخ میں بعض ادارے محض درس گاہیں نہیں ہوتے، بلکہ وہ علمی و ادبی روایت کے ایسے مراکز بن جاتے ہیں جہاں نسلیں علم و فکر کی روشنی حاصل کرتی ہیں۔ شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ بھی اسی علمی و ادبی روایت کا ایک روشن باب ہے۔ اسی ادارے کی علمی و ادبی فضا سے پھوٹنے والی ایک نئی کوشش ’’شعاعِ شبلی‘‘ کے نام سے ہمارے سامنے آئی ہے، جس کا پہلا شمارہ ایک خوش آئند علمی و ادبی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔
17 اکتوبر، یومِ سرسید کے موقع پر شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ میں منعقدہ ’’سید سر احمد خان: افکار و نظریات‘‘ کے سیمینار میں شعاعِ شبلی کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ سرسید احمد خان کی تعلیمی، اصلاحی اور فکری جدوجہد سے وابستہ اس موقع پر ایک ایسے رسالے کا آغاز یقیناً معنویت رکھتا ہے جس کا مقصد بھی نئی نسل میں علم، مطالعے، فکر اور تحریر کا ذوق پیدا کرنا ہے۔ یوں یہ اجرا محض ایک رسالے کی اشاعت کا اعلان نہیں بلکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کے ایک نئے سفر کا آغاز محسوس ہوتا ہے۔
ابھی تو صبحِ اول ہے، ابھی تو دن نکلنا ہے
ابھی تو زندگی کے راز کا پردہ بھی اٹھنا ہے
96 صفحات پر مشتمل ’’شعاعِ شبلی‘‘ بنیادی طور پر ایک سہ ماہی برقی رسالہ ہے، جو شبلی نیشنل کالج سے وابستہ طلبہ و طالبات اور اردو زبان و ادب سے شغف رکھنے والے احباب کی مشترکہ کاوش کا ثمر ہے۔ اس کے پس پشت وہی جذبہ کارفرما ہے جو نوجوانوں کو محض تماشائی بنے رہنے کے بجائے علم و ادب کی تخلیقی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل عہد میں، جب نوجوانوں کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کی سطحی مصروفیات میں وقت صرف کرتا ہے اور کتاب و مطالعے سے اس کا تعلق کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے علمی و ادبی پلیٹ فارم کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جو انہیں مطالعہ، تحقیق اور تحریر کی طرف متوجہ کرے۔
اردو زبان کے موجودہ منظرنامے میں جب نئی نسل کی اردو سے دوری اور مطالعے کے کم ہوتے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے، ایسے وقت میں نوجوانوں، خصوصاً طلبہ طالبات کے ہاتھوں ایک ادبی رسالے کا وجود میں آنا یقیناً حوصلہ افزا بات ہے۔ شکایت کرنا آسان ہے کہ اردو زوال پذیر ہے، نئی نسل کتاب سے دور ہے اور ادبی ذوق کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اس صورتِ حال کے درمیان اگر چند نوجوان قلم اٹھا کر اپنے حصے کی ایک علمی و ادبی شمع روشن کریں تو یہ محض شکایت کا جواب نہیں بلکہ امید کی ایک عملی صورت بن جاتی ہے۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ اسی امید کی ایک خوب صورت مثال محسوس ہوتی ہے۔
اس رسالے کی معنویت صرف اس کے شائع ہو جانے تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے موجود نوجوانوں کا جذبہ، محنت اور کچھ نیا کرنے کی خواہش بھی قابلِ توجہ ہے۔ آج مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں چند لمحوں میں بہت سا مواد تیار کیا جا سکتا ہے، لیکن مختلف موضوعات پر مطالعہ کرنا، اپنے خیالات کو تحریر میں ڈھالنا، مضامین کی تیاری اور ایک مکمل ادبی رسالے کی صورت میں انہیں پیش کرنا اب بھی وقت، محنت اور ذوق کا تقاضا کرتا ہے۔ اس اعتبار سے ’’شعاعِ شبلی‘‘ کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ سہولتوں کے اس دور میں بھی قلم، مطالعے اور تخلیقی محنت کی اہمیت باقی ہے۔
یہ رسالہ اپنے نام کی معنویت بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ ایک ایسی روشنی کی علامت محسوس ہوتا ہے جو شبلی کی علمی روایت سے پھوٹ کر نئی نسل کے ذہنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شبلی نیشنل کالج کی ادبی تاریخ میں رسائل و مجلات نے اپنے عہد کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو محفوظ کرنے اور نئی نسل کو اظہار کا موقع دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بزمِ شبلی کو تاریخی حیثیت حاصل ہے، اس نے عام شماروں کے ساتھ ساتھ ماضی میں علامہ شبلی نعمانی اور کبیر احمد جائسی پر خصوصی شماروں کا اہتمام بھی کیا ہے۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ اسی سلسلے کو ایک نئے، عصری اور برقی انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔
شبلی نیشنل کالج کی علمی و ادبی تاریخ بھی اس رسالے کے پس منظر کو معنویت عطا کرتی ہے۔ اس ادارے نے عرصۂ دراز سے علم و ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور یہاں کے اساتذہ و طلبہ کی علمی و ادبی سرگرمیاں اس روایت کو زندہ رکھتی آئی ہیں۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ اسی روایت کو ایک نئے عہد اور نئے وسیلے کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ اس اعتبار سے یہ رسالہ ماضی سے رشتہ قائم رکھتے ہوئے نئی نسل کو مستقبل کی طرف متوجہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس سلسلے میں استاد محترم پروفیسر محمد طاہر، صدر شعبۂ اردو، شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ کی سرپرستی بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی استاد کی عظمت صرف اس کے علمی مرتبے یا تدریسی خدمات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کی صلاحیتوں اور ان کے خوابوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ استاد اگر طالب علم کے اندر موجود صلاحیت کو پہچان لے، اسے اعتماد دے اور اس کے تعمیری عزائم کی تکمیل میں رہنمائی کرے تو تعلیم کا اثر درس گاہ کی حدود سے کہیں آگے تک پہنچتا ہے۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ کے پس منظر میں موجود یہ سرپرستی اسی اعتماد اور رہنمائی کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔
اس رسالے کی سب سے قابلِ قدر خصوصیت نئے قلم کاروں کو اظہار کا موقع فراہم کرنا ہے۔ کسی نوخیز قلم کے لیے اپنی تحریر کو کسی ادبی رسالے کے صفحات پر دیکھنا محض اشاعت نہیں بلکہ ایک حوصلہ، ایک اعتماد اور ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتی ہے۔ ’’شعاعِ شبلی‘‘ نے ان نوخیز آوازوں کو جگہ دے کر ایک اہم ذمہ داری اپنے سر لی ہے۔ ان تحریروں میں کہیں تازہ فکر کی جھلک ہے، کہیں مطالعے کی جستجو، کہیں تحقیق کا ابتدائی ذوق اور کہیں اظہار کی بے ساختگی موجود ہے۔
البتہ رسالے کے پہلے شمارے کی حیثیت سے بعض مقامات پر تدوین، پروف خوانی، املا اور حوالہ جاتی ترتیب کے حوالے سے مزید احتیاط کی گنجائش محسوس ہوتی ہے۔ یہ چیزیں کسی بھی نئے ادبی منصوبے کے ابتدائی سفر میں غیر معمولی نہیں، تاہم رسالے کو مستقبل میں ایک معتبر علمی و ادبی پلیٹ فارم بنانے کے لیے ان پہلوؤں پر خصوصی توجہ یقیناً مفید ہوگی۔ خصوصاً جب رسالے کا مقصد اردو زبان و ادب کی خدمت اور نئی نسل کی تربیت بھی ہو تو زبان و بیان کی صحت خود ایک اہم ادبی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
امید ہے کہ ’’شعاعِ شبلی‘‘ کی یہ شعاع وقت کے ساتھ پھیلتی جائے گی، نئے قلم کاروں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے گی اور شبلی نیشنل کالج کی علمی و ادبی روایت کو نئے عہد کی نئی آوازوں کے ساتھ آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

