Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

ابن کنول کا افسانہ’’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘‘ – شاہد اقبال

by adbimiras اکتوبر 15, 2020
by adbimiras اکتوبر 15, 2020 0 comment

افسانوی نثر میں اندازِ بیان کے مختلف النوع آہنگ اور موضوعات کی بہت اہمیت ہے۔ اسی وجہ سے ہر افسانہ نگار کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ ابن کنول کااندازِ بیان اور موضوعات ان کے ہم عصروں سے مختلف ہے۔ ابن کنول آج بھی داستانوی اندازِ بیان کی اس قدیم ہندوستانی قصّہ گوئی کی روایت کو زندہ وجاوید کیے ہوئے ہیں جس کا ماضی بہت تابناک تھا۔وہ داستان جس میں کسی بھی ملک کی تاریخ، تہذیب ، رسم ورواج وغیرہ کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ محمد حسن نے کہا تھا کہ ’’افسانہ ملک وقوم کی بنیادی حقیقتوں کو ایک دل نشیں پیرایے میں ذریعہ اظہار بخشتا ہے‘‘۔’’ہمار اتمھارا خدا بادشاہ‘‘ بھی ملک وقوم کی بنیادی اوراندرونی حقیقتوں کو پیش کرتا ہے کہ جس میں حکومتِ وقت کی گندی سیاست اور اس کی عیاری ومکاری کوموضوع بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ افسانہ داستانوی رنگ میں ہے۔یعنی داستان افسانے کاتحت متن ہے اوراس کے اندر بہت کڑوی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابن کنول آج بھی اس افراتفری دور میں جس میں انسان کو سانس لینے کی فرصت نہیں ہے کیوں داستانوی رنگ کے قصّے کی طرف قاری کے ذہن کوراجع کررہے ہیں؟ شاید ابن کنول اس دنیا کو پسند کرتے ہیں جہاں انسانوں کی قدر ہو، جہا ں امن وسکون ہو۔

ابن کنول کا نام اردو افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ محقق ،ناقد، افسانہ نگار،ڈرامہ نگار، مفکر کے ساتھ ہردلعزیز استاد بھی ہیں۔ لیکن ابن کنول دنیائے ادب میں بحیثیت افسانہ نگار ہی مشہور ومقبول ہیں جن کے کئی افسانے اردو ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔جیسے نیا درندہ، تیسری دنیاکے لوگ، لکڑبگھا زندہ ہے،وغیرہ ۔ ابن کنول کے اب تک چار افسانوی مجموعے منظرِ عام پرآچکے ہیں پہلامجموعہ تیسری دنیا کے لوگ(1984)، بندراستے (2000)خانہ بدوش (2014)اور پچاس افسانے(ان کے افسانوں کا انتخاب ہے) (2015)زیرتبصرہ افسانہ ’’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘‘ چوتھے مجموعے میں شامل ہے۔یہ افسانہ واحد غائب راوی کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں زیادہ کردار نہیں ہے۔یہ افسانہ علامتی افسانہ ہے۔جس کی کہانی میں کوئی پیچ وخم نہیں۔ کہانی یہ ہے کہ ایک شہر ہے جہاں کے لوگ ایک آسمانی عذاب کا شکار ہیں،عقاب آئے دن شہر پر منڈلا تا ہوا دکھائی دیتا ہے جس کے پنجے میں سانپ لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ جوکسی نہ کسی کے اوپر گرکرڈس لیتا ہے۔ پہلی بارجب یہ واقعہ ہوا تو اتفاق سمجھا گیا لیکن بار بار جب یہ واقعہ رونما ہونے لگا تو لوگوںمیں خوف وہراس پیدا ہوا۔اس آسمانی عذاب سے نپٹنے کے لیے شہر کے دانشوران ایک ساتھ بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے، جس میں عقاب کومارنے کامشورہ ہوا۔ایک دن ایک نوجوان کے ہاتھوں عقاب مارا گیا، شہر میں خوشیاں منائی گئیں،لیکن اگلے روز ایک نہیں بلکہ کئی عقاب آسمان میں اڑتے ہوئے نظر آئے اور سب کے پنجے میں سانپ تھا۔ اس واقعہ سے شہر کے افراد جہاں پناہ کی رہائش پر گئے اوراپنا حال بیا ن کیا۔ جہاں پناہ نے آسمانی عذاب سے چھٹکارا دلانے کا وعدہ کیا جہاںپناہ کی اس بات سے سب خوش ہوئے مگر اچانک جہاں پناہ کی عالیشان محل میں چارعقاب سانپوںکو دبائے ہوئے داخل ہوئے اورمجمع پر چھاگئے۔ رعایا نے عالم غیض وغضب میں جہاں پناہ کی طرف دیکھاوہ اب بھی کہہ رہا تھا تم سب میری اولاد کی طرح ہو ، تمھارے لیے فکر مند ہیں ہم۔

بظاہریہ کہانی بہت آسان اور سہل معلوم ہورہی ہے۔ لیکن جب ہم افسانے کابغور مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ راوی موجودہ زمانہ اور داستانوی عہد کا تقابل کررہاہے۔ یہ افسانہ سپاٹ بیانیہ یا سیدھے سادے اندازمیں بھی لکھا جاسکتا تھا مگر یہاںافسانہ نگار افسانے کی بنت میں داستانوی اندازِ بیان اختیار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ راوی اس افسانے میں افسانہ نگار کم اور داستان گو زیادہ معلوم ہورہا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کی تشکیل میں اساطیر کابہت اہم رول ہوتا ہے اسی لیے levis strauss نے کہا ہے کہ "Myth Thinks into the man”دنیا کے ہر مذہب میں مذہبی اساطیر ی واقعہ ملتا ہے اورمذہب کے علاوہ اساطیری واقعہ داستانوں میں خوب ملتے ہیں۔ عموماً داستانوں میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی رعایا کا ایک بادشاہ ہوتا ہے جہاں کے لوگ عیش وعشرت کے ساتھ رہتے ہیں اگر کسی طرح کے آفات آتی ہیں تو اس کامقابلہ کرکے آخر میں پھرسے سکون قائم ہوجاتا ہے۔ مگر ’’ہمارا تمھارا خدا بادشاہ‘ ‘میں شروع سے آخر تک پورا شہر پریشان حال نظر ہے۔ یعنی کہ راوی زمانے کے بدلتے ہوئے رنگ کو پیش کیا ہے اور موجودہ حکومت پر بہت بڑا سوال کھڑا کیا ہے کہ کب تک سیاست کی بھنور میں عوام کوپریشان رہنا ہوگا؟ یہاں عوام سے مراد صرف وہ لوگ ہیںجو مزدور اور غریب طبقے سے ہیں۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’سانپ انہیں کی گردنوں  پر کیوں گرتے ہیں جن کے سروں پر اونچے مکانوںکی چھتیں نہیں ہوتیں۔ جن کوزندگی کا تمام سفر پیدل طے کرنا ہوتا ہے۔جوموسموں کی تبدیلیوں کواپنے جسموں پربرداشت کرتے ہیں ۔‘‘ص63

اس اقتباس میں بہت بڑا سوال پوشیدہ ہے جو ہرزمانے کے لیے باعث فکر بنا رہتا ہے۔ اس طرح کے سوالات مارکس اور لینن وغیرہ نے بھی اٹھائے تھے۔ملک گیر سطح پر جوبھی واقعات حادثات ہوتے ہیں چاہے وہ فتنہ وفساد ہویا جبر وظلم کی کوئی بھی صورت، اس آگ کا شکار عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سروں پر اونچے مکان نہیں ہوتے اور وہ پوری زندگی پیدل سفر طے کرتے ہیں۔یعنی وہ جومزدورہیں کسان ہیں یا مفلس۔ ایک اقتباس اور ملاحظہ ہو جس سے حکومت کی اس گندی سیاسی کھیل سے پردہ  فاش ہوجائے گا جس سے بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں۔ وہ اس دعوے کا شکار ہوجاتے ہیں:

’’اور جب تیسرے روز بھی یہ حادثہ پیش آیا تو تمام افراد شہر کواپنی گردنوں پر سانپ اور سروںپرعقاب اُڑتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ صاحب دانشور غور وخوض میں مبتلا ہوئے کہ اب اتفاق نہیں ہے۔ اتفاق مسلسل نہیں ہوتا۔ پورے شہر میں اجتماعی مشورے ہونے لگے، مفتیان شہر نے اعلان کیا کہ اس شہر میں گناہ بڑھتے جارہے ہیں۔ شاید یہ خدا کے عذاب کی ایک شکل ہے کہ اس سے پہلے بھی آسمانی پرندوں نے کنکڑیا ں برسائی تھیں اور جولوگوں کے سروں میں اتر گئی تھی۔‘‘ص60

مذکورہ بالا اقتباس سے قاری کا ذہن سب سے پہلے اسلامی اساطیر کے اس واقعہ کی طرف جاتا ہے جب ابابیل خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے ابرہہ کی فوجوں اور ہاتھیوں کو تباہ کرنے کے لیے ساتویں آسمان سے آئے تھے۔ لیکن یہاں ابابیل نہیں بلکہ عقاب نامی پرندہ ہے جواپنے پنجے میں سانپوں کو لے کرآتاہے بازار میں چھوڑ دیتا ہے۔عقاب آج کے ’’شرپسند عناصر‘‘ اورمارِسیاہ’’ ہتھیار یا پُرپیچ قوانین ‘‘ کی علامت ہے۔ سانپ کا گلے میں پڑنا اور لوگوں کو ڈسنا حکومتی طبقے کااپنے عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار کرنے کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اگر ہم اس اقتباس کو موجودہ تناظر میں دیکھیں تو حکومت کے اس ایجنڈے پرطنز معلوم ہوتا ہے جو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے بار بار عوام کومذہب،زبان، علاقہ،ذات اور برادری کے نام پر بانٹ کر اوران میں نفاق اورجھگڑے پیدا کرتے ہیں اورپھر یہی حکومتی طبقہ ان کے درد کامداوا کرنے کا دعویٰ کرتاہے۔

ابن کنول کے افسانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے یہاں متن کا صرف ایک مفہوم ادانہیں ہوتا بلکہ ہرمتن کا تحت المتن ہوتا ہے اس اقتباس کی گہرائی میں جاکر غور وفکر کرنے پر ایک مسئلہ اور بھی سامنے آتا ہے کہ جس طرح موجودہ دور میں اکثریت کی طرف سے اقلیت پر جبر وظلم و بربریت ہورہا ہے اسے اتفاق سمجھنے کی اب غلطی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس مسئلہ پر غور وخوض ضروری ہے۔

اس افسانے کے مطالعے سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں خودان کے آدمی یاان سے جڑے ہوئے لوگ فتنہ وفساد مچاتے ہیں توسرکار خاموش رہتی ہے یعنی دفاع کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اس کے برعکس دوسری تنظیم جب کوئی چہل قدمی کرتی ہے پھر حکومت کا تیور بے رخا ہوجاتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ہم جانتے ہیں کہ ہماری رعایا ایک عذابِ آسمانی میں گرفتا ر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے اورایسا کیوں ہورہا ہے۔ تم سب ہماری اولاد کی طرح ہو۔ ہم تمھارے لیے فکر مند ہیں۔اور کوشش کریں گے کہ تم لوگوں کوجلد اس مصیبت سے نجات ملے۔ ہم نے اپنے وزیروں کی ایک جماعت کو اس کی تحقیقات کے لیے متعین کیا ہے۔‘‘

اس اقتباس کوموجودہ حالات کے پس منظر میں دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ راوی نے اکثریت طبقہ کی اس تنظیم کی طرف اشارہ کیاہے جو موجودہ حکومت کے اہم رکن ہیں جو آئے دن حکومت کے کہنے یاپھر اپنی مرضی سے جبر وظلم وفسادات برپاکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حکومت سب کچھ جانتی ہے مگر وہ خود کوانجان ثابت کرتی ہے جیسے کچھ جانتی نہیں۔ اورجب اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے تو وہ صرف عوام کو تسلّی دینے کے لیے کہتے ہیں کہ ہم اس مسئلے پرقدم اٹھائیں گے۔ اورجب عوام کو حکومت کا اصلی چہرہ نظر آتا ہے تب تک وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔

ابن کنول کے افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ ’’تخصیص کو تعمیم کے رنگ میں پیش کرکے اپنی کہانیوں کو ہر طرف سے کھلا رکھا ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ابن کنول کے افسانے عوام میں مقبول عام ہیں۔ وہی تخلیق زندہ رہتی ہے جو ہر قرات میں قاری کو نئے معنوی ابعاد کااحساس دلائے۔ ابن کنول کا یہ افسانہ علامتی ہے جس کو کئی زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ’’ہمارا تمھار خدا بادشاہ‘‘ خالص (Pure)ہندوستانی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ اس افسانہ کا اندازِ بیان ہو یا پھر موضوع سب میں ہندوستانی عناصر موجودہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ راوی نے موجودہ ہندوستانی حکومت کے اس چہرے کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے جوبہت کم افسانہ نگار کرتے ہیں۔ یعنی اس سیاسی چال کو جوخود حکومت چلتی ہے اور عوام کو دھوکے میں رکھ کر ان کانقصان کرتی ہے اور پھرSympathyبٹورتی ہے۔ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں اب کوئی آپ کا نجات دہندہ نہیں یعنی آپ کو خود ہی خودکانجات دہندہ بننا ہوگا۔ یہی اس افسانے کی تھیم ہے جسے ابن کنول نے بڑے ہی فنکارانہ انداز میں تشکیل دی ہے۔ان کا یہ مختصر افسانہ دراصل صدیوں سے جاری مسئلے کی طرف ذہن کو راجع کرنے والی ایک بلیغ کہانی ہے۔

 

مضمون نگار شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

 

ابن کنول کے افسانےادبی میراثافسانہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بہار میں اردو صحافت – صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
کلاسیکی رویے اور نئی تخلیقی فکر کا شاعر : شہپر رسول – خان محمد رضوان

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں