Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقیدنصابی مواد

جدیدیت:آغاز،عروج و زوال – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم

by adbimiras جنوری 14, 2021
by adbimiras جنوری 14, 2021 1 comment

جدیدیت ادب کی ایک مسلمہ اصطلاح ہے۔ لیکن اس کے مضمرات، نقطۂ آغاز، صحیح مفہوم، سیاق و سباق اور نتائج کے متعلق اختلافات ہیں۔جدیدیت کے سلسلے میں سرسری گفتگو بھی ملتی ہے اور گہرا فلسفہ بھی۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ جدید اضافی اصطلاح ہے اور قدیم کے مقابل ہر شے جدید ہے اور ہر جدید وقت گزرنے کے ساتھ قدیم ہوجاتا ہے۔ زمانی حد بندی کے ضمن میں بھی اختلافات ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق جدید شاعری کا نقطۂ آغاز انیسویں صدی عیسوی ہے ۔ اس دور میں افکار اور ہیئت دونوں کے اعتبار سے نیا موڑ آیا لیکن یہ جدتیں اس جدیدیت سے مختلف تھیں۔حالیؔ وغیرہ کا دور اپنے دور ماسبق کے بالمقابل جدتوں کا دور تھا لیکن یہ مواد کی اہمیت کا دور تھا اور ادب میں مقصد کی بالادستی کا دور تھا۔

جدیدیت؛ مواد کی فوقیت اور مقصد کے وجود سے یکسر انکار کرتی ہے۔ان دونوں جدید ادوار میں ہیئت کے تجربات مشترک ہیں۔ جدیدیت نے ہیئت کے تجربات کو اور آگے بڑھایا۔ معریٰ اور آزاد نظموں تک تجربے پہلے بھی ہوچکے تھے لیکن نثری نظم کے علاوہ کچھ اور شعری تجربے جدید تر دور میں ہوئے۔ ہیئت کے تجربے ترقی پسندی کے دور میں بھی ہوئے لیکن حلقۂ اربابِ ذوق اس میدان میں پیش پیش رہے اور جدیدیت نظریاتی سطح پر حلقۂ اربابِ ذوق سے قریب ہے۔جدیدیت نے شاعری میں ریاضی کی صورتوںکو بھی رواج دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً ایک نظم مثلث کی شکل میں یا دائرہ یا مربع کی شکل میں۔ آخر الذکر تجربے ناکام رہے۔

جدیدیت کی ابتدا کے سلسلے میں التباسات ہیں اور اس کی تردید کرنے والے زیادہ التباسات کے شکار ہیں۔ بعض جدیدیت کو حالیؔ سے شروع ہونے والے جدید دور سے جوڑتے ہیں، بعض ترقی پسند تحریک کو بھی جدید کہتے ہیں۔بعض لوگوںکے نزدیک ہر نئی تخلیق نئی اور ترقی پسند دونوں تھی۔ اس دھوکے میں مبتلا وہ بھی ہوئے جو ترقی پسند تھے۔رشید احمد صدیقی نے جو ترقی پسندی پر اعتراضات کیے اور احتشام صاحب نے جو جواب دیا اس سے اس سلسلے میں پائے جانے والے التباسات کا علم ہوا اور اس وقت کے اعتبار سے جدید چیزوں میں ترقی پسند اور غیرترقی پسند کا فرق واضح ہوا۔ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ترقی پسندی کے دور میں جو غیرترقی پسندی تھی وہی جدیدیت کا سرچشمہ ہے۔ اس کے مطابق حلقۂ اربابِ ذوق جدیدیت کی وراثت ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو جدیدیت ترقی پسندی کا ردِ عمل ہے۔

ایک نظریہ یہ ہے کہ جدیدیت ترقی پسندی کی توسیع ہے۔ ہر تحریک کا ردِ عمل موافقت اور مخالفت دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی طرح سرسیّد کی تحریک کے دور میں بھی ردِ عمل ہوا تھا اور سرسیّد اور حالیؔ کے مقابلے میں قدیم اندازِ فکر اور اسلوبِ بیان کو ترجیح دی جاتی رہی۔ترقی پسندی کے مقابلے میں حلقۂ اربابِ ذوق کا وجود ہوا اور ادب برائے زندگی کے مقابلے میں ادب برائے ادب کا نعرہ لگایا گیا۔

ایک نظریہ یہ ہے کہ جدیدیت ان سب سے علیحدہ ادبی میلان یا تحریک ہے۔ یہ بھی متنازعہ فیہ ہے کہ جدیدیت میلان ہے یا تحریک۔جدیدیت کو تحریک کہنے والے اسے منصوبہ بند سازش تک کہتے ہیں جس کا مقصد ادب کو نشہ آور بنانا اور مقصدیت سے دور کرنا ہے۔

تحریک کی جو بھی تعریف پیش کی جائے، اس کی روشنی میں جدیدیت تحریک قرار نہیں پاتی۔ البتہ جدیدیت کے ہمنوا بڑی تعداد میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور یہ ایک میلان ہونے کے باوجود اس کی حمایت کرنے والے اتنی کثرت سے میدان میں آگئے جیسے یہ ایک تحریک ہو۔جدیدیت صرف اردو میں نہیں بلکہ ہندوستان اور دنیا کی بیسیوں زبانوں میں پہلے یا بعد میں بحیثیت میلان سامنے آچکی ہے۔مغرب میں جدیدیت کا میلان پہلے پیدا ہوا ہے۔ یورپ میں صنعتی انقلاب نے جدیدیت کے عوامل و محرکات پیدا کیے۔ مشرق میں صنعتی انقلاب دیر سے آیا اس لیے جدیدیت کے آثار دیر سے رونما ہوئے۔پروفیسر آل احمد سرور یورپ میں جدیدیت کی عمر ایک جگہ چار سو سال اور ایک جگہ ساڑھے چار سو سال بتاتے ہیں اور ہندوستان میں اسے ڈیڑھ سو سال اور دوسری جگہ پونے دو سو سال کی پیداوار بتاتے ہیں۔سرور صاحب ہندوستان میں جدیدیت کو نوعمر قرار دیتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیںکہ ہندوستانی ذہن ابھی پورے طور پر جدید نہیں ہوسکا۔زمانے کے اعتبار سے سرور صاحب کا اندازہ قطعیت سے دور ہے۔ جدیدیت کی عمر نہ یورپ میں اتنی زیادہ ہے اور نہ ہندوستان میں۔(یہ بھی پڑھیں کچھ تخلیقی عمل کے بارے میں -محمد عامر سہیل )

جدیدیت کا رشتہ بہت دور رونما ہونے والے صنعتی انقلا ب سے جوڑا جاسکتا ہے لیکن دراصل اس کا نقطۂ آغاز صنعتی زندگی کا وہ نقطۂ عروج ہے جب قدروں اور تہذیبوںکا زوال شروع ہوگیا۔تہذیبوںکا یہ زوال دوسری جنگِ عظیم کے بعد آیا لیکن ہندوستان میں ملک کی آزادی اور تقسیم سے شروع ہوا۔

جدیدیت کی پہچان کے لیے چند پیمانے بنائے گئے ہیں جو مختصر طور پر حسبِ ذیل ہیں:۔

(الف) روایتوں سے انحراف

(ب)   ناوابستگی

(ج)     اقدار، مثالیت اور اصول وضوابط سے انکار۔

(د)      معروضیت، راست اظہار، بیان کی وضاحت وغیرہ کو رد کرنا۔

(ہ)       نظم و ضبط اور اداروں سے بے تعلقی۔

(و)      فرد کا احساس، تنہائی، حقیقت کی چٹان سے تصورات کا ٹکرانا، سماج کی چیرہ دستی اور روزِ حشر سے پہلے نفسی نفسی کے عالم کا احساس۔

(ز)      اظہار کی سطح پر ابہام۔

(ح)     اشارات کی نجی ترسیل۔

(ط)     لفظوںکا تخلیقی استعمال۔

(ے)   نئے الفاظ کی تراش۔

(ک)   قدیم اظہارات سے گریز۔

(ل)     بندشوں، محاوروں اور مروجہ اوزان و بحور سے وحشت۔

(م)      فنکار کی انفرادیت کو ترجیح اور اجتماعیت کا مردود ہونا۔

ان تمام مذکورہ خصوصیات کے باوجود جدیدیت کو کسی ایک پہچان کی بنیاد پر اسی کی حد تک محدود کردینا ممکن نہیں۔لفظ جدیدیت کا استعمال بھی موضوعِ بحث بنا ہے۔انگریزی اصطلاح Modernityکا ترجمہ اردو میں جدیدیت کیا گیا ہے۔ اس ترجمے کو اردو کے اہلِ قلم کی سند بھی حاصل ہے۔ مقالہ نگار کی نظر میں جدیدیتModernismکا ترجمہ ہے اور اس کی دلیلیں ہیں ۔ اس کے باوجود سرور صاحب نے بھی جو Modernityکا ترجمہ جدیدیت سمجھتے ہیں، یہ اعتراف کیا ہے کہ بعض حلقوںمیں انگریزی کے دونوں الفاظ کو مترادف سمجھا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو مقالہ نگار بھی جدیدیت کو Modernityکا مترادف تسلیم کرنے میں تامل نہیں کرتا۔

جدیدیت ایک طرزِ فکر ہے، صرف نئے زمانے میں پیدا ہونے اور لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔عہدِ حاضر کے ادیب و شاعر طرزِ فکر کے اعتبار سے جدیدیت پسند یا روایت پسند ہیں۔عصری حسیت یا معاصریت بھی جدیدیت نہیں ہے۔ ہر چیز اپنے زمانے میں جدید ہوتی ہے، یہ صحیح ہے لیکن ایسی ہر جدید چیز کو جدیدیت کا نمونہ نہیں کہہ سکتے۔پھر بھی ن۔م۔ راشد نے بھی حالیؔ اور آزادؔ کے زمانے کو اپنے دور کی جدیدیت کہہ کر وہی غلطی کی ہے جو جدیدیت کے مخالفین کرتے ہیں۔

موجودہ صورتِ حال سے بے اطمینانی، روایت کے فرسود ہ حصے سے انحراف اور افکار کی جدت ہر دور میں ممکن ہے لیکن جدیدیت خالصتاً عہدِ حاضر کی پیداوار ہے اور انسانی تاریخ کے جبر سے پیدا ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آگے چل کر خود ایک روایت بن جائے۔عہدِ حاضر کی زندگی کے مختلف عوامل و عناصر جدیدیت کے ذمہ دار ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور مشینوں کی حکومت سے انسان گھٹ گیا ہے، احساسات مردہ ہوگئے ہیں ، ہر فرد اپنے کو تنہا محسوس کرتا ہے اور معاشرہ کا شیرازہ اندر سے بکھرا بکھرا ہے۔یہ صورتِ حال ساری دنیا میں بیک وقت یکساں نہیں ہے یورپ اور ہندوستان کا فرق اپنی جگہ پر ہے، شہروں اور دیہاتوں کا فرق بھی اپنی جگہ پر ہے۔ اسی طرح بڑے شہروں اور چھوٹے شہروں کا فرق ہے۔ لیکن سائنسی ترقی سے فاصلے سمٹ رہے ہیں، ایک ملک کے مسائل عالمی مسائل بنتے جارہے ہیں۔ نیوکلیائی ہتھیاروں کا خطرہ ساری دنیا کو یکساں ہے اور اس میں شہر اور دیہات میں کوئی فرق نہیں۔مواصلاتی نظام اور خبر و نشر کے وسائل ساری دنیا کو ایک دوسرے سے قریب لارہے ہیں۔ اب کوئی بھی بات ایک جگہ ہو تو وہیں تک محدود نہیں رہتی، ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔جدیدیت بھی پہلے مغربی ادبیات میں منظرِ عام پر آئی اور پھر دنیا کی ساری زبانوں میں پھیل گئی۔ اس کے رجحانات مشرق و مغر ب کی حدوں میں بند نہیں ہیں۔جدیدیت کے پس پشت دانشوروں اور فلسفیوں کے اقوال و افکار ہیں۔ دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے سے لے کر شعر و ادب کی تفہیم اور زبان و بیان کے مسائل تک فلسفیوں اور دانشوروں کی حکومت ہے۔

ان موضوعات پر جو افکار عام ہوئے، ان کا اثر شعر و ادب کے جدید رجحان پر پڑا۔اس سلسلے میں وہائٹ ہیڈ، ہیڈگر، بری کلے، برگساں اور سارترے وغیرہ کے فلسفے جدیدیت کی فلسفیانہ بنیاد بن گئے ہیں۔

ان سب میں سارترے کے فلسفۂ وجودیت نے جدیدیت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ شعر و ادب میں زبان کا استعمال بھی فلسفیوںکی موشگافیوں کا موضوع بن گیا ہے۔ آج کے ماہرین لسانیات فلسفی ہیں۔ فلسفیوں نے زبان کو جادوئی کلمہ کہا ہے، جس سے افراد کے باطن کا دروازہ کھلتا ہے۔

زبان صرف ماضی کا ورثہ نہیں ہے اور نہ صرف اجتماعی زندگی کا عطیہ، فرد کی زندگی پر زبان کے کلمات و فکریات کا اثر پڑتا ہے۔ انسان کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کے باطن میں باہر کی دنیا سے زیادہ پُرپیچ کائنات پوشیدہ ہے لیکن الفاظ کا رشتہ خارجی دنیا سے بھی ہے اور یہ فرد کو معاشرہ کا عطیہ ہے۔ہر لفظ کا تہذیبی پس منظر ہوتا ہے اور ہر لفظ اپنے ساتھ اجتماعی لاشعور کو فرد تک منتقل کرتا ہے۔ اس طرح لفظوں کی حیثیت اجتماعی اور انفرادی دونوں ہے۔

جدیدیت لفظوں کے انفرادی استعمال پر زور دیتی ہے اور اسی کو تخلیقی استعمال بھی کہتی ہے۔زبان کے اس تخلیقی استعمال سے اور شعور کی دنیاؤں میں فرق ہونے سے ابلاغ و ترسیل کا المیہ پیدا ہوتا ہے۔لفظوں کا ادبی استعمال سائنسی اصطلاحوں کی طرح متعین معنی میں نہیں ہوتا اس طرح ابہام کو ہونا یقینی ہے۔یہ بات فلسفی وٹ جین سٹائن کے فلسفے میں بھی بیان کی گئی ہے جو یہ کہتا ہے کہ تمام الفاظ مبہم ہوتے ہیں۔

اردو ادب میں جدیدیت تقسیمِ ملک کے بعد شروع ہوئی۔ اس سیاسی واقعہ سے بہت سے انسانی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی مسائل پید اہوئے۔برِ صغیر میں کئی جنگیں لڑی گئیں اور ملک میں صنعتی ترقی کا جال بچھایا گیا۔ان حالات نے ملک کو ترقی پذیر ممالک کی صف سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کی دوڑ میں شامل کردیا ہے۔

ایک ادبی یا ذہنی رویے کی حیثیت سے جدیدیت کی جانب جو لپک ابتدائی برسوں میں دکھائی دی تھی اب باقی نہیں ہے۔ ممکن ہے یہ جدیدیت کا زوال ہو، پھر بھی صنعتی زندگی کی انسانیت کش صورتِ حال ہمارے ملک میں سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔مادی ترقی کی چمک دمک سے آدمی ہوس کا پتلا بن گیا ہے۔ مادی خوشحالی کے لیے جائز اورناجائز ہرممکن ذریعہ کا استعمال ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ قدروں کا فقدان اور اخلاقی دیوالیہ پن، تاجرانہ بددیانتی، چور بازاری، منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، رشت ستانی، دفتر شاہی، بدکرداری، اہلِ سیاست کی جنگ زرگری، فرقہ واریت، لسانی اور مذہبی تنگ نظری، اقتصادی نابرابری، کشت و خون، انتظامیہ کی ناانصافی اور لاقانونیت اس دور کی معاشرتی اور سیاسی زندگی کی خصوصیات ہیں۔ان کے علاوہ جھوٹ، ریاکاری، نمود ونمائش، ظاہر و باطن کا تضاد، نفرت و عداوت، سازشی ذہنوں کی فساد انگیزیاں، عقائد و نظریات سے محرومی، تربیت یافتہ مذہبی زندگی کا فقدان اور اعتدال و توازن میں کمی، وہ حالات ہیں جو انسانی معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔

اصلاح کی چند ناکام اور کمزور کوششوں کے باوجود ہرفرد اپنی اچھی یا بڑی زندگی انفرادی طور پر گزار رہا ہے۔جدیدیت شعر و ادب کی سطح پر مختلف رنگوں اور رویوں سے عبارت ہے۔ان رنگوں اور رویوںمیں عصری اور مکانی اور ابدی و آفاقی دونوں طرح کے جوہر ہیں۔مخصوص معاصر ذہنی اور جذباتی ماحول سے بھی جدیدیت کا تعلق ہے اور انسانی کرب اور ذات و کائنات کے مسائل سے متعلق فکر کی لہر بھی جدیدیت میں نمودار ہوتی ہے۔

انسانی کرب اور ذات و کائنات کے مسائل مختلف ادوار کی شاعری میں جلوہ گر ہوئے ہیں لیکن جدیدیت کے دور میں سوچنے اور محسوس کرنے کا انداز جداگانہ ہے کیوں کہ بیسویں صدی کے مسائل جن سے بیسویں صدی کے بہت سے فلسفے وجود میں آئے اور جنھوں نے معاصر شعر و ادب کو متاثر کیا، قطعی مختلف ہیں۔

جدیدیت کوئی دستور العمل فراہم نہیں کرتی۔فکری سطح پر اس کا منظرنامہ وسیع و بسیط ہے جس میں متضاد افکار اور عقائد اور ذہنی و جذباتی رویوں کے لیے یکساں گنجائش ہے۔فنی سطح پر نئی شعری جمالیات کثیر الجہت ہے اور اظہار و بیان کی مختلف ہیئتیں بیک وقت اس سے مربوط ہیں۔ پروفیسر آل احمد سرور جدیدیت کو سائنسی عقلیت اور جمہوریت کے فروغ کی وجہ سے فرد کی آزادی اور فرد و سماج کے ایک واضح رشتے کے عرفان کا سلسلہ کہتے ہیں۔ڈاکٹر وحید اختر، ڈاکٹر شمیم حنفی اور پروفیسر سرور کی رایوںکے برعکس ہر عہد میں جدیدیت کے سراغ پائے جاتے ہیں۔ان کے مطابق جدیدیت ہمعصر زندگی کو سمجھنے اور برتنے کے مسلسل عمل سے عبارت ہے اور یہ ایک ایسا مستقل عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے اورہر عہد میں حقیقی زندگی گزارنے والے لوگوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ بہرطوروحید اختر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ہر عہد کی جدیدیت کے عناصر مختلف ہوتے ہیں اور غالب کے عہد کی جدیدیت ہمارے عہد کی جدیدیت سے الگ ہے۔جدیدیت کے زیر اثر جو ادب پیدا ہوا ہے وہ معاصر ادب ہے اور معاصر ادب کی تعینِ قدر تحفظات اور تعصبات کی بناپر دشوار ہے۔

جدید شاعری میں کارفرما داخلیت پر ڈاکٹر وزیر آغا نے زور دیا ہے۔شاعری فنکار کی داخلی دنیا اور خارجی دنیا کے تصادم اور تعامل سے وجود میں آتی ہے۔ترقی پسندی کے بالمقابل غزل کی تہہ داری اور اشاریت نے جدیدیت کے دور میں فروغ و ارتقاء کی منزلیں کچھ زیادہ ہی طے کی ہیں۔جدیدیت کے زیر اثر اردو نظموں میں بھی اشاریت پیدا ہوگئی جس سے مفہوم کے ابلاغ میں رخنے پڑے۔

جدید شاعری نے داخلیت کے بڑھتے ہوئے منظر کی بدولت نجی حوالوں کو راہ دی ہے۔اس شاعری میں علامتوں اور پیکروں کا اچھوتاپن اور استعاروں اور تلمیحوں کا نیا مزاج وجود میں آیا۔اظہار کے معروف اور مروجہ پیرائے متروک و مردود ٹھہرے اور انفرادیت کی لَے تیز ہوئی۔انفرادیت کی کوشش جدیدیت میں اجتماعی کاوش بن گئی اور فیشن کے طور پر ایک جیسی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اس طرح جدیدیت میں بھی ترقی پسندون کی طرح تقلید کی بھیڑچال پیدا ہوئی۔

شاعری میں نجی حوالے درآئے اور تلمیحوںکو اساطیر کا رنگ دیا گیا۔ بعض پیش پا افتادہ اشیاء سے پیکرتراشی کا کام لیا گیا ہے۔یونانی اور ہندو دیومالا سے اثرات قبول کیے گئے۔ قدیم و جدید فلسفیوں سے خوشہ چینی کی گئی۔لفظوںکے تخلیقی استعمال پر اس طرح زور دیا گیا کہ ہر لفظ ہردواشخاص کے درمیان بھی مشترک نہیں ٹھہرا اور مختلف جہتوںکی نمائندگی کرنے کی بناپر نئی شاعری میں ابلاغ دشوار قرار پایا۔

راست اظہار کا اسلوب جدید شاعری کے منافی سمجھا گیا۔جدید شاعری میں مفہوم کی جدت اور انفرادیت کے باوجود اشکال اور الجھاؤ ہے۔ نئی غزل میں بانی اور ظفر اقبال سے محمد علوی اور احمد ہمیش تک انفرادیتوں کے ہجوم میں یکسانیت دیکھی جاسکتی ہے۔ نظموںمیں ن۔م۔ راشد اور میراجی سے عمیق حنفی، بلراج کومل اور مخمور سعیدی تک اردو نظموںکا جدید تخلیقی رنگ تقریباً یکساں جھلکتا ہے۔

لیکن اس محاکمے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سارے شعرا ایک دوسرے کا مثنّیٰ ہیں۔ان سب میں کہیں کہیں اور الگ الگ انفرادیتیںنمایاں ہوتی ہیں لیکن بہت سی باتیں سب میں مشترک ہیں۔ان مشترک باتوں کو مختصراً یوں پیش کیا جاسکتا ہے:۔

(الف) جدید تر شاعری میں معاشرہ معدوم ہے اور فرد نمایاں۔

(ب)   فنکار کا ذاتی کرب و نشاط یا محرومیاں اور الجھنیں یا مسرتیں، حسرتیں، سکھ اور دکھ، دیومالائی تناظر میں یا نئے اور نجی حوالوں کے ساتھ ملتے ہیں۔

(ج)     غزل ہو یا نظم وضاحت کی جگہ رمزیت ہے۔

(د)      غزل کی اشاریت کچھ اور بڑھ گئی ہے اور اس کا کیف و کم کلاسیکی دور سے بھی کچھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔جدیدیت کے زیر اثر غزل نے ترقی پسندی کے مقابلے میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ لیکن جہاں جدتوں سے تقلید پیدا ہوئی ہے اور نجی حوالوںنے فیشن کی صورت اختیار کی ہے، غزل میں بھی انحطاط پیدا ہوا ہے۔غزل کے اشعار میں بھی لاقدریت، بے کیفی یا سطحی جدت کے عناصر ملتے ہیں۔

جدید غزل میں لفظیات کا ایسا سرمایہ داخل کیا گیا ہے جو بالکل نیا ہے لیکن اس کا ایک حصہ کوئی قابلِ قدر اضافہ قرار نہیں پاتا۔جدید شاعری میں افراط و تفریط کی مثالیں پائی جاتی ہیں اور جدیدیت میں سب کچھ خوشنما نہیں ہے۔جدید شاعری نے بعض نئے مفاہیم کو اردو میں روشناس کرایا۔ اس کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے فنکار کی انفرادیت کو اس کی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ نمایاں کیا ہے۔

جدید شاعری میں علامتوں نے اپنی جگہ اس طرح بنائی ہے کہ اس کے دو رُخ سامنے آتے ہیں۔

(الف) تخلیقی سطح پر پہلی بار استعمال اور

(ب)   تقلید کے طور پر انھیں دہراتے رہنے کا عمل

بیشتر جدید شعرا تقلید کے شکار ہیں لیکن بعض وہ بھی ہیں جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والوں میں ہیں۔ جدید شاعری نے شعری لفظیات میں تبدیلیاں پید کی ہیں۔ان لفظیات میں نئے پیکر، نئے استعارے اور نئے نئے الفاظ اور ان کے تلازمے ہیں۔ان الفاظ میں یونانی اور ہندوستانی دیومالا سے استفادہ کرنے کا پہلو بھی موجود ہے۔

جدید شاعری میں لفظیات کے اعتبار سے نظم کا دائرہ وسیع تر ہے لیکن غزلوںمیں بھی وہ الفاظ داخل ہوگئے ہیں جو غزل کی روایات کی نزم و نازک اور لطیف فضا میں اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔چند ناقابلِ قبول الفاظ اور تراکیب سے قطعِ نظر نئی شاعری کے لفظی سرمائے کو انفرادیتوں اور تخلیقی جدتوں کے باوجود غریب اور نامانوس نہیں کہا جاسکتا۔نئی شاعری کی لفظیات کی فہرست مختلف جدید شعراکے کلام کو سامنے رکھ کر مرتب کی جاسکتی ہے اور اس باب میں نمونے کے طور پر نئے استعاروں اور نئے پیکروں سے بننے والی لفظیات نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہے جن سے نئے شاعروں کی تخلیقی قوت اور ابلاغ و ترسیل میں کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس باب میں ان شاعروں کے نام دیے گئے ہیں جن کے اشعار سے لفظیات کی مختصر سی فہرست مرتب کی گئی ہے لیکن ان کے کلام نقل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے۔جدید شاعری کی لفظیات دلکش اور غیردلکش دونوں زمروں سے تعلق رکھتی ہیں۔چند کریہہ الصوت الفاظ کو چھوڑ کر جدید شاعری کی لفظیات میں روز مرہ کے الفاظ وقار و اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جس طرح رشید احمد صدیقی کے بقول اکبرؔ الٰہ آبادی نے ہریجن الفاظ کو وقار و اعتبار کی کرسی پر بٹھایا تھا۔

جدید شاعری میں غزلوں کے ساتھ ساتھ نظموں نے بھی ارتقا کی منزلیں طے کی ہیں۔ اسلوبیات، لفظیات اور مفہوم و معنی کے اعتبار سے جدید نظموںکا سرمایہ بڑی وسعت اور ہمہ گیری رکھتا ہے۔ نظموں میں بھی اجتہادی اور تقلیدی دونوں رنگ ہیں۔ غزلوںکی طرح نظموںمیں بھی تخلیقی جوہر یہاں وہاں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن جدیدیت کی اس بھیڑ میں مجتہد کم ہیں اور مقلد بے شمار۔ فی الوقت مقلدوں اور مجتہدوںمیں امتیاز دشوار ہے لیکن آنے والا زمانہ صحیح فیصلہ کرے گا۔ جدید نظم نگار شعرا خیال و احساس اور اظہار و بیان کے اعتبار سے مختلف خانوںمیں بٹے ہوئے ہیں۔

خیال و احساس کی جدت سے اپنا مقام بنانے میں بعض جدید نظم نگار شعرا کامیاب ہیں۔ ان کے یہاں اسلوب و اظہار میں کلاسکیت ہے اور ہیئت میں شرر اور نظم طباطبائی کے دور تک جدتیں ملتی ہیں لیکن خیال و احساس میں یہ سب سے الگ ہیں۔فکر و احساس کی جدتوں سے ان شعرا نے لفظیات میں بھی اضافے کیے ہیں جو معقول اور متوازن ہیں۔

ایسے نظم گو جدید شعرا میں وزیر آغاز، خورشید الاسلام، وحید اختر، عمیق حنفی، ندا فاضلی، شمس الرحمن فاروقی وغیرہ ہیں۔یہ مروجہ اوزان و بحور میں تبدیلی بھی فن کے اسرار و رموز کے واقف کار کی حیثیت سے کرتے ہیں۔

جدید شاعری میں نثری نظم بھی پھلی پھولی ہے لیکن یہ ترقی پسند شاعری میں بھی ملتی ہے۔نثری نظم کا مستقبل ہنوز مشکوک ہے۔ جدید نظموں میں وزن و آہنگ سے بے نیازی بڑھ چلی ہے۔ شعری آہنگ اور نثری آہنگ کا فرق جدید دور میں اور زیادہ بحث طلب ہوگیا ہے۔

جدید شاعری میں لفظوں کی تربیت کو تخلیقی برتاؤ کے نام پر اوزان و بحور سے جدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بعض جدید نظموںمیں مثبت تاویلوں کے ساتھ فرد کی انفرادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ انفرادیت حساسیت اور مریضانہ داخلیت کی غماز ہے۔ نیا شاعر کبھی کبھی انفرادیت میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ وجودیت کے فلسفے کی براہِ راست یا سنی سنائی معلومات کا پرتو اسے اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے اور یہ گمان ہوتا ہے کہ شاعر اپنے وجود کی تلاش میں گم ہے۔شمس الرحمن فاروقی ایسے شاعروںمیں ہیں جو وزن و آہنگ کا سلیقہ جانتے ہیں اور کلاسیکی شاعری پر نظر رکھنے کی وجہ سے اور جدتوں کے باوجود قادر الکلامی کا ثبوت دیتے ہیں۔جدید شاعری میں فرد کے وجود کا احساس طوفان کی طرح سراٹھاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے علاہو مخمور سعیدی بھی وزن و آہنگ اور قدرتِ کلام کا بھرپور ثبوت دیتے ہیں۔

جدید نظم نے اپنی گھلاوٹ، لوچ اور اپناپن کی فضا سے گیت کو ایک شعری صنف کے طور پر اپنے آپ سے قریب کرلیا ہے اور گیت بھی اعتبار و وقار حاصل کرتا جارہا ہے۔عمیق حنفی جیسے مانے ہوئے جدید شاعر بھی گیت لکھتے ہیں ۔ ندا فاضلی، عمیق حنفی اور کمار پاشی بھی اردو میں گیت نگار کہے جاسکتے ہیں۔کمارپاشی نے چھوٹی چھوٹی نظموںکی شکل میں گیت نما تخلیقات پیش کی ہیں۔ یہ جدید شاعری کا ایک پہلو ہے جس کی نشاندہی ضروری تھی۔

نئی شاعری میں یونانی صنمیات اور ہندو دیومالا کے جو حوالے ملتے ہیں، انکا ایک حصہ نظم میں بھی دکھائی دیتا ہے۔نئی شاعری فرد کی آزادی پر زور دیتی ہے اور حقیقتوں کے ادراک کے لیے ایک تیسری آنکھ کو نمایاں کرتی ہے۔عمیق حنفی نظموںمیں انسان کو پتھر جُگ کی بھٹکی ہوئی آتما قرار دیتے ہیں اور یہ ہندو دیومالا کا اثر ہے۔

جدید نظم گو شعراء میں ندا فاضلی، عمیق حنفی، شمس الرحمن فاروقی اور وزیر آغاز کا شمار بڑے ناموروں کی فہرست میں کیا جاسکتا ہے۔وزیر آغاکے یہاں سنجیدگی، ربودگی اور از خود رفتگی ملتی ہے۔وزیر آغا کی نظموںمیں جدید شاعروں کی علامتوں کے خوشگوار نمونے پائے جاتے ہیں۔ جدید نظم گوئی میں فکر کے اعتبار سے عہد حاضر کا ذہنی دیوالیہ پن بھی جھلکتا ہے اور فن کے اعتبار سے مختصر نویسی کے نمونے بھی وجود میں آئے ہیں۔اس کوتاہی کے باوجود جدید شاعری میں تخلیقی اپج ہے اور زبان و بیان پر بے پناہ قدرت کے شواہد بھی موجود ہیں۔ اس باب میں ایسے استعارے اور پیکر نمونے کے طور پر نقل کے گئے ہیں جن سے جدید شاعری کے تخلیقی پہلو کا روشن حصہ دکھائی دیتا ہے

مختصر نویسی میں جدید نظموں نے علم ریاضی کی مختلف صورتوں کو متعارف کرایا ہے اور اب نظمیں تین تین مصرعوں کی صورت میں بھی لکھی جانے لگی ہیں۔جدید نظم گوئی نے ابہام کو اہمال کے درجے تک پہنچا دیا ہے اور ایسے جدید شاعروںمیں عادل منصوری بھی ہیں جن کے یہاں ذہنی الجھاؤ اہمال کی حد تک پایا جاتا ہے۔جدید نظموںمیں لفظوں سے بے توجہی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ معنی سے عاری الفاظ کو تخلیقی اپج کے نام پر بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اس باب میں ایسے الفاظ کی ایک چھوٹی سی فہرست بھی پیش کی گئی ہے۔

جدید شاعری میں مختصر نظموں کے بالمقابل طویل نظموں کی صورتیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔یہ طویل نظمیں موضوع اور تکنیک دونوں کے اعتبار سے بھرپور ہیں۔ ان نظموں میں عمیق حنفی کی نظم ’سند باد‘ اور وزیر آغا کی نظم ’آدھی صدی کے بعد‘ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔خورشید الاسلام کی ایک طویل نظم بعنوان ’نظم‘ ایک فرد کی طویل حیات اور اس کی بے سمتی کا المیہ ہے۔

جدید علامتوںکا استعمال تقریباً سارے جدید شعرا نے کیا ہے۔ ان میں تکرار بھی ہے اور تقلید بھی۔ ایسی علامتوں مین سے چند جو کثرت سے استعمال ہوئی ہیں، اس باب میں نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔

افسانہ:۔

جدیدیت میں مختصر افسانہ بھی اسی آب و تاب اور کر و فر کے ساتھ دکھائی دیتا ہے جو جدید شاعری کو میسر ہے۔جدید افسانہ اور جدید شاعری میں ایک فرق ضرور ہے کہ جدید افسانے کو اتنے ہمنوا اور حامی میسر نہیں ہوئے جو جدید شاعری کے نصیب میں لکھے ہیں۔جدید افسانے کے باب میں وہی ناقدین جو جدید شاعری کے ہم نوا رہے ہیں اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے حامی نقاد شمس الرحمن فاروقی جدید شاعری کی وکالت اور مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے لیکن جدید افسانے کے سو فیصد حامی نہیں ہیں۔جدید افسانے کی تکنیک اور اس کے اجزائے ترکیبی پر بھی اختلافِ رائے ہے۔

افسانے میں افسانویت اس کی روح ہے یا نہیں اس پر جدید ناقدین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کا کہنا ہے کہ بیانیہ کے بغیر افسانہ لکھا ہی نہیں جاسکتا کیوں کہ افسانویت یا کہانی پن جو بیانیہ کی دین ہے، افسانے کے لیے لازمی ہیں اور بیانیہ افسانے کے ہاتھ پاؤں کا کام کرتا ہے۔جدید افسانے کی افسانویت کردار کے بغیر اور زمان و مکان کی کسی حد بندی کے بغیر بھی لکھا جاتا ہے۔جدید افسانہ اختصار سے اس قدر معمور ہوگیا ہے کہ چند سطروں میں بھی افسانے لکھے جاتے ہیں۔کبھی کبھی مشہور کہاوتیں، لطیفے اور چٹکلے بھی چند سطری تخلیق کے طور پر افسانوں کے نام سے پیش کیے جاتے ہیں۔

جدید افسانے کا آغاز کب ہوا، اس باب میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک جدید افسانے کا سال پیدائش ۱۹۵۵ء ہے جو سعادت حسن منٹو کا سالِ وفات ہے اور بعض کے نزدیک جدید شاعری کی طرح ۱۹۴۰ء جدید افسانوں کے پھلنے پھولنے کی ابتدا کا سال ہے اور بعض ۱۹۷۸ء کو جدید افسانے کا نقطۂ آغاز مانتے ہیں۔ اس طرح جدید افسانہ گذشتہ سولہ سترہ سالوں سے وجود میں آیا ہے۔ جدید افسانے میں پہلا نام اگر پاکستان کے افسانہ نگار وںکو شامل کیا جائے تو انتظار حسین کا ہے اور ہندوستان میں اس کی داغ بیل ڈالنے والے بلراج کومل ، احمد ہمیش، بڑراج منرا اور سریندر پرکاش وغیرہ ہیں۔ جدید افسانہ اس احساس سے پیدا ہوا ہے کہ اب کہانی کرشن چندر، بیدی اور منٹو کا راستہ چھوڑکر نئے مسائل، نئے احساس اور فکر کے اندر تپنے والے لاوے کو ایک انداز سے پیش کرنے مامور ہے۔

نئے احساس اور نئے مسائل کے اعتبار سے نئی کہانی ۱۹۵۰ء کے بعد سے شروع تو ہوئی لیکن اس کے خد وخال ۱۹۶۰ء کے بعد ہی واضح ہونے لگے۔جدید ذہن اپنے اظہار کے لیے جس جذباتی اور فکری انتشار سے دوچار ہوتا ہے، اس میں ابہام اور اشاریت ناگزیر ہے اور جدید افسانہ جدید شاعری کی طرح اس ابہام اور اشاریت کو اوڑھنے پر مجبور ہے۔جدید افسانے میں سماجی اور اخلاقی قدروںکا فقدان اسی طرح ہے جس طرح جدید شاعری میں اور تہذیب کی وہی بے سمتی اس میں بھی نمایاں ہے جو جدید شاعری میں۔

جدید افسانہ تکنیک کے اعتبار سے روایتی اور ترقی پسند افسانے سے قطعی مختلف ہے اور جدید افسانے میں اشاریت حد سے بڑھ چلی ہے۔جدید افسانے میں بھی استعارات بڑھتے جاتے ہیں اور تقریباً اسی طرح کے استعارات ملتے ہیں جو جدید شاعری کو عہد ماقبل کی شاعری سے الگ کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جدید شاعری اور جدید افسانوں میں مشترک استعارات ہیں لیکن لفظوں کا استعاراتی اور خلاقانہ استعمال یکساں طور پر شاعری اور افسانوںمیں ہورہا ہے۔

استعاراتی استعمال کثرت کی بناپر لفظ کو علامت کا درجہ عطا کردیتا ہے اور انتظام حسین کو علامتی افسانہ نگاروںکا پیش رو قرار دیا جاتا ہے۔استعارہ کب علامت بنتا ہے اور اس بات میں ناقدین کے درمیان اختلافِ رائے ہے کہ ایک ہی فنکار کے یہاں جب وہ بہ کثرت اور متعین معنوںمیں یکساں برتا جائے تو وہ علامت کی صورت اختیار کرلیتا ہے لیکن جب اسے عمومیت کے ساتھ استعمال کیا جانے لگے تو اس کی علامتی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔

جدید افسانہ رویہ اور برتاؤ یعنی Treatmentدونوںکے اعتبار سے کلاسیکی اور ترقی پسند افسانوں سے ممیز ہے۔۱۹۷۰ء کے بعدکا افسانہ شاعری کے بہت قریب آگیا ہے اور اب افسانے میں بھی بات واشگاف انداز میں نہیں کی جاتی جس طرح شاعری میں غیر ضروری تفصیلات حذف کردی جاتی ہیں، اسی طرح افسانے میں بھی تراش و خراش کے بعد صرف جوہر یا عطر پیش کیا جاتا ہے۔

ناقدین اور مفکرین کے بیانات کی روشنی میں جو افسانے تقسیمِ ہندوستان کے بعد تقریباً دس پندرہ سالوں بعد وجود میں آئے ان میں تقسیمِ ہند کا المیہ جدید تر افسانوں کی پیش رو تخلیقات میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن جدید افسانوںمیں قدروںکا فقدان اور ذہن انسانی کا کرب زیادہ نمایاں ہے۔جدید افسانے میں حالات اور محرکات سے قطعِ نظر انسان کی داخلی کیفیات اور اس پر طاری ہونے والی قنوطیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔شرافت کا استحصال اقتصادی لوٹ کھسوٹ ، مختلف طبقوں اور فرقوں کی رسہ کشی اور اس طرح کے دیگر موضوعات جدید افسانوں کے مواد کے طور پر بروئے کار آئے ہیں۔

جدید افسانوں کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ نسبتاً قدیم افسانوں سے انحراف یا انہدام یا نئے موڑ کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہیں۔جدید افسانوںکی جھلکیاں ترقی پسند تحریک کے ہراول مجموعہ ’انگارے‘ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

علامت نگاروں اور تجریدیت، تکنیک اور اسلوب کے اعتبار سے جدید افسانوں کے دو نہایت اہم پہلو ہیں۔جدید افسانوںمیں اخلاق و شرافت کے معیاروں سے ناآشنائی، تہذیب اور اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت اور ان کا فقدان نمایاں موضوعات کی حیثیت رکھتے ہیں۔نئے افسانوں میں جنسیت کو بھی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

علامت نگاری اور تجریدیت کو مترادف سمجھنا غلط ہے کیوں کہ علامتی افسانے بھی جدید ہیں اور تجریدی افسانے بھی۔ اور ظاہر ہے کہ علامت اور تجریدیت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جدید افسانوں میں تکنیک کے تجربے کہانی پن سے گریز کی صورت میں Anti Story یا اَکہانی بھی بن گئے ہیں۔کہانی پن سے گریز کے لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ افسانہ نہ تو داستان ہے اور نہ حکایت اس لیے اس میں بیانیہ انداز سے گریز چاہیے۔ جدید افسانے میں انسانی ذہن میں چلنے والی تصویری صورت کو فلم کی ریل کی طرح سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس طرح انسانی ذہن میں شعور کی رو ہمیشہ منطقی اور تجزیاتی طور پر کام نہیں کرتی ہے، اسی طرح جدید افسانے میں تجزیاتی تسلسل اور منطقیت کو دور رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہ مشورہ فنکار اپنے عمل تخلیق سے دیتے ہیں۔

فاروقی کہانی پن کے باب میں جیسا پہلے بھی پیش کیا گیا عام جدید ناقدین سے مختلف خیال رکھتے ہیں۔فاروقی افسانے کے لیے اس فکرمندی کو ضروری سمجھتے ہیں جو قاری میں ہونی چاہئے۔یہ فکرمندی تجسس سے ممیز ہے۔تجسس کو افسانے کی دنیا میں پھر کیا ہوا سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن فاروقی یہ کہتے ہیں کہ اگر قاری یہ کہے کہ مجھ سے کیا مطلب کچھ بھی ہو تو ، اس سے اس کی عدم دلچسپی اور بیزاری کا پتہ چلتا ہے اور یہ صورتِ حال نئے افسانوںکے لیے خطرناک ہے۔فاروقی یہ چاہتے ہیںکہ افسانہ تجسس انگیز اور دلچسپ ہو۔

جدید افسانوں میں اشاریت اور ابہام کو راہ دی گئی ہے چونکہ جدید افسانہ کہانی پن سے گریز کرتا ہے اس لیے اشاریت کے ساتھ ابہام کا ہونا بھی فطری ہے۔جدید افسانہ بعض جہتوں سے جدید شاعری کے قریب پہنچ گیا ہے اور جس طرح عہدِ حاضر میں صنفوںکا اور مختلف چیزوںکا خط امتیاز مٹ رہا ہے، اسی طرح جدید شاعری اور جدید افسانوں کے درمیان خط فاصل کا تعین کرنا مشکل ہے۔

اس باب میں چند جدید افسانے جو شاید جدید شاعری یا نثری نظم کی صورت لکھے گئے ہیں اور چند نظمیں جن میں افسانویت ہے نقل کرکے مقالہ نگار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دو طرح کی صنفوںمیں بظاہر نام کا فرق ہے لیکن حقیقی فرق مطلق نہیں۔ کبھی کبھی جدید افسانوں میں چند ٹکڑے نثری نظم کی طرح ادھورے اور پھر پورے فقروںکی صورت میں ملتے ہیں۔ نثری نظم کی یہ کیفیت افسانوں میں عام ہوتی جارہی ہے اس کی مثال کے طور پر اقبال متین کا افسانہ’کون تھا وہ‘ پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح سہیل احمد کی نظم جو نثری ہے افسانوی رنگ رکھتی ہے۔

افسانوں میں علامت نگاری مختلف ماخذوںسے در آئی ہے اور یہ ماخذ علمی، تہذیبی، ادبی اور روایتی ہیں۔ افسانوںمیں تجریدیت، علامتیت سے بھی دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے اور مفہوم و معنی کے حصار کو منہدم کردیتی ہے۔

جدید افسانوں کا تجریدی پہلو ترسیل و ابلاغ کو ایک مسئلہ بناکر رکھ دیتا ہے۔ ڈاکٹر نارنگ کا خیال ہے کہ جدید افسانوں میں جو علیحدگی اور تنہائی ملتی ہے وہ مغرب کی نقالی نہیں بلکہ اپنے تجربات کی بھٹی میں تپنے کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر نجم الہدیٰ کا خیال ہے کہ ادب بلاشبہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ کسی طوفان کی تصویرکشی کرنی ہو تو نظر آنا بھی شرط ہے،رنگوںکا پیالہ کینوس پر انڈیل دینے سے طوفان کی تصویر نہیں بنتی ہے۔ زندگی کے بحران کی عکاسی کے لیے بھی فنی نظم وضبط کی ضرورت ہے۔

تنقید:۔

ہر عہد کا ادب اپنے ساتھ تنقیدی میزان و معیار لے کر آتا ہے۔ادبی اقدار کی عہد بہ عہد تبدیلیاں فن کو پرکھنے کے نئے سانچے مہیا کرتی رہتی ہے۔اردو ادب میں جدیدیت ایک رجحان یا تحریک بن کر ابھری اور اپنے جلو میں ان تمام افکار و نظریات کو لائی جو جدیدیت کے ساتھ مختص ہے۔

جس طرح جدید تخلیقی اصناف کے آغاز کا تعین ماہ و سال کے اعتبار سے دشوار ہے، اسی طرح جدید تنقید کے آغاز کا فیصلہ بھی قطعیت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔جدید اردو تنقید جدیدیت کے بنیادی نظریات پر مبنی ہے اور جدیدیت کے سارے مزعومات اور مطالبات کی ترویج و توثیق کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر وحید اختر کی رائے ہے کہ ترقی پسند تحریک اور حلقۂ اربابِ ذوق کے امتزاج کی صورت میں جدید ادب اور اس کی تنقید کا وجود ہوا۔اس طرح ان کے نزدیک جدید تنقید ترقی پسند تنقید اور مارکسی تنقید کی توسیع ہے۔ دوسری طرف جدید تنقید کو ترقی پسند تنقید کی ادعائیت کا ردِ عمل کہا گی اہے۔

جدید تنقید میں فنکار کی ذات اور اس کی داخلیت کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور فن برائے فنکار جو ایک زمانے میں کروچے کا نعرہ تھا ایک بار پھر جدید تنقید میں نمایاں حیثیت کرگیا ہے۔جدید تنقید میں کسی منشور کی گنجائش نہیں ہے اورجدید تنقید فنکاروں سے کسی ضابطے کی توقع نہیں کرتی۔جدید تنقید کے مطابق فن پارہ فنکار کی ناآسودگی اور بے اطمینانی کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے لیکن کبھی کبھی سرخوشی اور انبساط بھی تخلیق کے تاروں کو چھیڑنے والے عناصر ہوتے ہیں۔ جدید تنقید ان تمام باتوں کا لحاظ کرتی ہے۔جدید شاعری نے جس تنہائی کو اپنا موضوع بنایا ہے، جدید تنقید بھی فرد کی اسی تنہائی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔جدید تنقید میں فنکار کی ذات اور اس کی معرفت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔جدید تنقید میں اصنافِ ادب کی مروجہ تقسیم اور حد بندیاں ہیں اور جدید تنقید نے آزادی کو اس حد تک روا رکھاہے کہ نثری نظمیں اور آزاد غزلیں اور آزاد رباعیاں بھی وجود میں آچکی ہیں۔نئی تنقید نے بعض پرانے تنقیدی دبستانوں کو از سر نو تقویت پہنچائی ہے اور یہ اس طرح ثابت ہے کہ جدید تنقید کے اہل قلم مختلف دبستانوں سے نظریاتی اختلاف اور وابستگی رکھتے ہیں۔جدید ناقدین نظریاتی اعتبار سے کبھی کبھی قطبین کے فاصلے پر نظر آتے ہیں اور ایک دوسرے سے بہت دور دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو جوڑے رکھنے والی جو قدریں ہیں وہ صرف یہ رسمیت، معروضیت اور روایت پرستی سے انحراف و اعراض میں سب متفق ہیں۔نئی تنقید نئے تجربوںکی اور نئی ہیئتوںکی حماتی کرتی ہے اور نئے استعاروں اور نئی علامتوں اور اچھوتے پیکروں کی تحسین اور ابہام کی ہردل عزیزی پر زور دیتی ہے۔ نئی تنقید زبان کے تخلیق استعمال کے قائل ہیں اور لسانی اور خالص ادبی اصطلاحوں پر فکر ونظر کے وہ دروازے کھولتی ہے جو اَب تک بند تھے۔

جدید تنقید مغربی ادیبوں، فلسفیوں، ناقدوں اور دانشوروں سے استفادہ کرتی ہے۔جدید تنقید کے اہلِ قلم میں فلسفیانہ تنقید لکھنے والے بھی ہیں اور نفسیاتی تنقید لکھنے والے بھی، یہاں ہیئتی تنقید بھی مقبول ہے اور ہیئتی تنقید کی مذمت بھی۔

مجموعی طور پر جدید تنقید بہرحال ادی پیمانوں کو اختیار کرتی ہے اور خارجی اور سماجی پیمانوںکو رد کرتی ہے۔ جدید تنقید میں جمالیاتی اور تاثراتی تنقید بھی ملتی ہے۔ جدید تنقید جن مفکروں اور دانشوروں سے استفادہ کرتی ہے ان میں بیشتر مغربی اہلِ فکر و نظر ہیں اور خاص طور پر سارترے، کافکا، رینیٹ اور رین سمر وغیرہ کو جدید تنقید نے اپنے لیے مشعلِ راہ بنایا ہے۔جدید تنقید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ تخلیقی فنکار بھی ناقدین بن بیٹھے ہیں۔

جدید تنقید کے اسالیب میں بھی رنگارنگی پائی جاتی ہے۔ فلسفیانہ تنقید میں عالم خوندمیری، جیلانی کامران اور وحید اختر اردو کے جدید ناقدین ہیں۔جدید اردو تنقید کے ممتاز نمائندوں میں وحید اختر، شمس الرحمن فاروقی اور وزیر آغا ارکانِ ثلاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی طرح نفسیاتی تنقید میں وزیر آغا، محمد حسن عسکری، پروفیسر شکیل الرحمن، پروفیسر شبیہ الحسن وغیرہ نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اور ڈاکٹر سلام سندیلوی نے بھی بہت سے نفسیاتی مباحث پر تنقیدی نگارشات پیش کی ہیں ۔ جدید تنقید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وہی لوگ منظرِ عام پر آئے ہیں جو تخلیقات کی دنیا میں بھی روشناسِ خلق ہیں۔

اس باب میںجدید ناقدین کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی گئی ہے جو جامع و مانع تو نہیں ہے لیکن جدید ناقدین کی نمائندگی کرنے والی کہی جاسکتی ہے۔ خارجی دنیا کے مسائل، افادیت اور مقصدیت سے بیزاری اور بے تعلقی جدید تنقید کا مزاج ہے اور ادب کو خالص ادبی اقدار سے اور فن کو فنی پیمانوں سے جانچنے اور پرکھنے کی کوشش اس کا مزاج و منہاج رہے گا۔

ڈاکٹر شمیم حنفی اور شمس الرحمن فاروقی نے جدید تنقید کو نئے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ جدید تنقیدان اصطلاحوں کے چکر میں نہیں پڑتی جو ترقی پسندی کے دور کی پیداوار ہے ۔ مثال کے طور پر صحتمند اور غیر صحت مند اصطلاحیں فاروقی کے نزدیک کارآمد اور غیرکارآمد کے معنی میں ہیں اور ان سے ادب کو کوئی سروکار نہیں۔

مجموعی طور پر جدید اردو تنقید نے شعر و ادب کی تفہیم کے لیے نئے زاویے فراہم کیے ہیں اور تنقید کی کہنگی پر ضرب کاری لگائی ے۔ نئی تنقید تقلید سے بظاہر بیزار ہے لیکن اس میں بھی مقلدین کی ایک جماعت نے از سر نو تقلید کی بنائے کہنہ ڈال دی ہے۔جدید تنقید کا مستقبل کیا ہوگا یہ کہنا مشکل ہے لیکن اس میں ابھی تکمیل کی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی کوتاہیاں اور نارسائیاں مسلم ہیں اور اسالیب کے تنوع کے باوجود مستقبل کا مؤرخ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ تنقید کس حد تک اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوسکی ہے۔

 

 

٭٭

 

غیر مطبوعہ…برائے اشاعت

 

 

 

Prof. Dr. Md. Tauquir Alam

Former Pro-Vice Chancellor

  1. M. H. Arabic & Persian University,

34, Harding Road, Patna, PIN – 800001

E-mail-proftauqiralam@gmail.com

Mobile :  9934688876

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثجدیدیت
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

رولاں بارتھ،غالب  اور شمس الرحمان فاروقی – ڈاکٹر...

فروری 25, 2024

مابعد جدیدیت، اردو کے تناظر میں – پروفیسر...

نومبر 19, 2023

1 comment

پروفیسر عبدالمغنی پر ایک نظر - پروفیسر(ڈاکٹر) محمد توقیر عالم - Adbi Miras جنوری 21, 2021 - 6:36 صبح

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں