پروفیسر ڈاکٹر عبد المغنی ہمارے عہد کے سب سے بڑے سربر آوردہ نقاد اور دانشور تھے۔آزادی کے بعد اردو ادب کی تنقید کو جن ناقدین نے اپنے علم اور اپنی بصیرت سے توانا کیا اور جس کے وزن اور وقار میں غیر معمولی اضافہ کیا ان میں ڈاکٹر موصوف کا نام خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی بصیرت افروز تنقیدی نگارشات اور تحریروں سے اردو تنقید کا دامن وسیع کیا۔ وہ اپنے عہدکے ایک دانشور اور نقاد تھے جن کی تحریر و تقریر ، دانشمندی ،ذہانت ،علمی بصیرت اور تنقیدی شعور کی کرنیں میدان ادب میں ضیاپاشی کرتی رہیں۔ موجودہ نسل کے ادبی ذوق کی تربیت اور نشوونما میں ان کے تنقیدی مضامین ومقالات کا بڑا حصہ ہے۔وہ انگریزی ادب کے شیدائی تھے ۔ زندگی بھر انگریزی ادب سے وابستہ رہے۔ اس کے درس و تدریس سے منسلک رہے۔ لیکن اپنی مادری زبان اردو سے کبھی بھی بے التفاتی نہیں کی بلکہ وہ اس کے عاشق رہے اور اس کی ترویج و اشاعت اوربہار میں دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اسے تسلیم کرانے میں اہم کردار ادا کیا جسے بہار میں اردو زبان و ادب کی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی ہے۔ پروفیسر موصوف مشرقی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے د لدادہ تھے۔ وہ اردو شعر و سخن کے رمز شناس اور صاحب طرز انشا پرداز ،ناموراقبال شناس اور بہت بڑے نقاد تھے ۔
پروفیسر عبدالمغنی نے فن تنقید نگاری کو ایک نئی سمت عطا کی ۔ جب اردو تنقید نگاری مختلف قسم کی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے دوچار تھی تو انہوں نے اس کی رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیا اور اس کو صحیح رخ پر لانے کاکام کیا ۔ جب ادب کو کسی نہ کسی خانے میں رکھ کر کسی ایک زاویے سے دیکھنے کا رواج عام تھا توانہوں نے ادب کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت کا احساس دلایا اور اپنے مضامین اور مقالات کے ذریعے اہل نظر اور صاحب فکر قلمکاروں میں یہ ذوق اور جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ سب سے پہلے شعر و ادب کے اغراض و مقاصد کو دیکھیں ۔اس کے بعد اس میں ادبی جمالیاتی عنصر کو تلاش کریں ۔ پروفیسر عبدالمغنی کی مطبوعہ 44سے زائدکتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جس کے ذریعے ان کی ذہنی پرواز کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نقطئہ نظر ، جادئہ اعتدال ، تشکیل جدید،معیار و اقدار، تنقید مشرق ،تصورات تنویر اقبال، اسلوب تنقید،تنقیدی زاویے،فروغ تنقید اور انداز تنقیدپروفیسر عبد المغنی کی تنقیدی نگارشات ہیںجن میں پروفیسر موصوف نے تنقید کو ایک جہت دینے کی سعی بلیغ کی ہے۔ انہوں نے تنقید لکھنے کے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی یہ واضح کردیا تھا کہ ان کی تنقید کاایک مقصد اور غرض و غایت ہے اور وہ ہے تعمیری ادب کی تشکیل ،ان کا کہنا تھا کہ جب تک ادب زندگی کا ترجمان نہ ہو اور زندگی کی بے راہ روی کو درست نہ کرتا ہواس وقت تک وہ ادب کہلانے کا حقدا ر نہیں ہے۔ ادب کا بنیادی مقصداخلاق و آداب اور روحانیت کی تشکیل و تعمیرہے۔ (یہ بھی پڑھیں جدیدیت:آغاز،عروج و زوال – پروفیسر ڈاکٹر محمد توقیر عالم )
پروفیسر عبدالمغنی ایک غیر جانبدار ، منصف مزاج اور کھلا ذہن رکھنے والے نقاد ہیں ۔انہوں نے کبھی کسی نظریہ کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا ،خود کو کسی گروہ سے وابستہ نہیں کیا اور کبھی آزادیٔ فکر ونظر کا سودا نہیں کیا ۔ اٹل عقیدہ عموما بہت جلدآئیڈیا لوجی یا ایک خاص نظریہ کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ اسی طرح تنقید نگار اگر کٹر پن کا راستہ اختیار کرلے تو اس کے لئے باقی تمام راہیں مسدود ہوکر رہ جاتی ہیں اور اس کی تنقید ایک رخی ہوکر رہ جاتی ہے۔ پروفیسر عبد المغنی صاحب اس نظریے اور رویے کے قائل نہیں تھے و ہ ایک وسیع المشرب اور وسیع الذہن انسان تھے اور اسی نظریے کے آئینے سے فن ادب کو دیکھنے کے قائل تھے۔ اس حقیقت سے بھلا کون ادیب ،نقاد اور اہل فکر و نظر انکار کرسکتا ہے کہ فن ادب زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق موضوعات سے مدد لیتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق سیاسیات سے ہو ، سماجیات سے ہو، اخلاقیات یا اقتصادیات سے ہو ۔ ادب ہر موضوع کا خادم ہے۔ وہ نہ سیاسیات کا نقیب ہے ، نہ اخلاقیات کا نائب ۔ بلکہ ادب کو ہر جائی کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی ۔ اس کا ہرجائی ہونا ہی اس کی دولت ہے۔ یہ معلومات نہیں تاثرات اور احساسات فراہم کرتا ہے۔ یہ علم نہیں عرفان عطا کرتا ہے۔ یہ نظر نہیں نظریہ بخشتا ہے ۔ یہ زندگی تغیر پزیر ہے اور سماج میں متواتر تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں ۔شعر و ادب او ر علم وفن کا کارواں بھی ہر لحظہ اپنا سفرجاری و ساری رکھتا ہے کہیں ٹھہر تا نہیں ہے۔اس لئے اس کو پرکھنے کے پیمانے بھی بدلتے رہتے ہیں اور بدلتے رہنے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر زوردیا کہ ادب برائے ادب نہیں ہونا چاہئے اور ادب کو تسکین قلب اور کام و دہن کے تلذذ اور تلطف ہی تک محدود رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیے بلکہ اس کو اعلی مقاصد اوربلند ترین اخلاقیات کی ترویج کے لئے استعمال کیا جانا چاہئیے۔ان کا تصور تھا کہ ادب کا مقصدنہ ذہنی عیاشی ہے اور نہ کسی خاص نظریہ کی تشہیر وپرچار بلکہ اس کا نصب العین عمدہ اخلاق ،بلند عادات اور اچھے اخلاقیات و کردار کو ادب کے سانچے میں سجاکر دوسرے کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ اس کے ذہن ودماغ میں اس کا اثر جاگزیں ہوجائے اور اس سے وہ تاثر لئے بغیر نہ رہ سکے۔ ادب میں حسن کاری کر کے مسرت اور مسرت کے ساتھ بصیرت پیدا کرنا ہے۔ صرف فکر کی روشنی سے فن کی محفل میں چراغ نہیں جلتاہے ۔ ادب ایک فانوس کی حیثیت رکھتا ہے جوشمع کی روشنی کو حسین اور دلپزیر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پروفیسر عبد المغنی نے ترقی پسندی کے زیر اثر لکھے جارہے بے ماجرا افسانوں اور ناولوں کے خلاف آواز بلندکی اور مسلسل مضامین لکھ کر نئے لکھنے والوں کو جادئہ اعتدال سے بھٹکنے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ اسی طرح انہوں نے آزاد غزل اور آزاد نظم نگاری کو بھی ادب کے لئے ناموزوں قرار دیا ۔پروفیسر عبد المغنی صرف ادیب و ناقد نہیں تھے ۔ وہ اسلام کے ایک سچے اور وفادار سپاہی اور ترجمان بھی تھے۔ اسلامی تعلیمات ان کی زندگی میں رچی بسی تھیں۔ ان کو اپنے مذہب اسلام سے بے حد محبت اور اٹوٹ عشق تھا ۔ اسلام پر ہونے والے کسی بھی حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے اور اس کا دندان شکن جواب دیتے تھے۔ انہوں نے بہت سے انگریزی میں مضامین لکھ کر اسلام اور مسلمان پر ہونے والے اعتراضات کا منھ توڑ جواب دیا ہے۔
٭٭٭
Prof.(Dr.)Md.Tauquir Alam
Former Pro-Vice Chanceller
Maulana Mazharul Haque Arabic & Persian University
34, Ali Imam Path, Harding Road, Near Haj Bhawan, Patna-800001
Mobile No.09934688879, E-mail: proftauqiralam@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

