بادۂ مغرب(کیٹس، شیلی، کولرج اور دیگر مغربی شعرا کے منظوم تراجم)/اشفاق احمد عمر، فردوسیہ خاتون – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
ترجمہ ایک ایسا فن ہے، جس سے نہ صرف ہم ایک دوسرے سے قریب آئے، بلکہ ایک ملک دوسرے ملک کی تہذیب و ثقافت سے بھی واقف ہوئے۔ ترجمے ہی کے ذریعے ہم اپنے مذہب کی بہت ساری باتوں سے واقف ہوئے۔ جب انسان ایک ایسے شخص سے مخاطب ہوتا ہے، جو اس کی مادری زبان سیکھی ہوتو سب سے پہلے ہم اس کی زبان کو ترجمے ہی کے ذریعے سمجھتے ہیں اور سامنے والے کی بات کا جواب دیتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے فن پاروں کا مختلف زبان میں ترجمہ کیا گیا اور اب بھی ہو رہا ہے۔ ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ ترجمے ہی کا مرہون منت ہے۔ کلیلہ و دمنہ کو ترجمے ہی کے ذریعے مختلف ممالک کے لوگ اس کی اہمیت سے واقف ہوسکے۔ اردو کے بہت سے ادیبوں نے دوسری زبان میں لکھے گئے شاہ کار کارنامے کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور اردو کے بہت سے قارئین ایسے لوگوں سے ترجمے ہی کے ذریعے جان سکے اور ان کے شاہکار سے مستفید ہوسکے۔ ایسے ہی مترجمین میں شبنم گورکھپور کا بھی شمار ہوتا ہے، جنھوں نے بہت سے شاعرو ادیب کے فن پارے کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔بنیادی طور پر شبنم گورکھپوری تخلیق کار ہیں، لیکن انھوں نے ترجمے میں غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب انھیں کے کیے ہوئے ترجمے کو مذکورہ مرتبین نے اکٹھا کر کے شائع کیا ہے۔
زیر نظر کتاب ’بادۂ مغرب(کیٹس، شیلی، کولرج اور دیگر مغربی شعرا کے منظوم تراجم)،میں کیٹس، شیلی، کولرج کے علاوہ متفرقین کے عنوان سے چنندہ مغربی شعرا کے کلام کو شبنم گورکھپوری نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دراصل یہ کتاب شبنم گورکھپوری کی تین کتابوں، پھول کانٹوں کی سیج پر(1988)، بادِ مغرب(1990)اور بوڑھا جہاز راں(2005)کے علاوہ ’متفرقات‘ کے عنوان سے کچھ نظموں کا مترجم نے بڑے خوبصورت پیرائے میں ڈھالا ہے۔ مرتبین نے یہ ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہے، کیونکہ عام طور سے مغربی مفکرین کے کلام سے بالواسطہ استفادہ کرنے والوںکی تعداد بہت کم ہے۔ ثانوی ماخذ کے استفادہ کرنے والوں کا عام چلن ہوگیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کام کا فی اہم ہے۔ کیونکہ اس کتاب کے ذریعے قارئین مذکورہ مغربی شعرا سے براہِ راست مستفید ہو سکتے ہیں۔ یقینا اس طرح کا کام کافی دقت طلب ہوتا ہے۔ لیکن علم کی چاہ رکھنے والے وہ آسانیوں کا سفر کم ہی کرتے ہیں۔ کسی بھی بیش قیمت شے کا حصول کانٹوں بھرا ہوتا ہے۔ اس کتاب کو اسی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’بادۂ مغرب(کیٹس، شیلی، کولرج اور دیگر مغربی شعرا کے منظوم تراجم)،کا پیش لفظ ڈاکٹر ابرار رحمانی نے لکھا ہے، حقانی القاسمی نے ’مغربی دریچے سے رومانی ہوائیں ‘کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے، وہ دراصل اس کتاب کے تعارف کے ساتھ ساتھ کیٹس، شیلی اور کولرج کے تعلق سے کافی اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اشفاق احمد عمر نے’ بادۂ مغرب‘کے عنوان سے تقریباً چوبیس صفحے کا مقدمہ لکھا ہے۔ انھوں نے جو مقدمہ لکھا ہے ، یہ موضوع کے اعتبار سے بہت معلوماتی ہے۔ مقدمے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشفاق احمد عمر نے مذکورہ کتاب کا بہت خوبصورت تعارف پیش کیا ہے۔ اپنے اس کام کی غرض و غایت سے بھی قارئین کو آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب سے پہلے اشفاق احمد عمر نے ڈاکٹر مشیر احمد(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ)کے ساتھ شبنم گورکھپوری کی کلیات شائع کی ہے۔ بادۂ مغرب کی اشاعت سے شبنم گورکھپوری کے ساتھ ساتھ مغربی ادبا و شعرا سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ کتاب کی قیمت بھی بہت مناسب ہے، جسے آسانی سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کتاب کی اشاعت کے لیے میں مرتبین کتاب بطور خاص اشفاق احمد عمر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کی قارئین اس کتاب کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

