یقین نہیں آتا کہ راجندریادو جی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ راجندر جی کو محض ہندی کا ادیب کہنا قطعی مناسب نہیں وہ پورے ہندوستانی ادب کے نمائیندہ تھے۔ ان کا ناول سارا آکاش اکیلے ہی ان کو زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ پریم چند کے مشن کو آگے بڑھانے میں سب سے اہم رول اداکرنے والے راجندر یادو کے انتقال کی خبر جب ادبی دنیا کو ہوئی تو اس ناقابل تلافی نقصان کو پورے ہندوستان نے محسوس کیا۔ وہ ادب کے سچے خادم تھے ایمانداری اور اخلاق کا مرقع تھے ۔ وہ روایتوں پر آنکھ بندکرکہ چلنے ،روایت کوبغیر سوچے سمجھے برقرار رکھنے اور قدامت پسندی کے سخت مخالف تھے ۔ ادب میں نئے تجربوں کی اکثر پذیرائی کیا کرتے تھے۔ ان کی طنز آمیز گفتگو کا ایک الگ مزہ تھا۔ وہ گفتگو کا فن جانتے تھے۔ جو بھی ان سے ایک دفعہ بات کر لے ان کا دیوانہ ہو جاتا تھا۔ جب میں ان سے ملنے پہلی دفعہ ہنس کے دفتر گیا تو مجھے اس شخص کے اندر دو بڑی اہم خصوصیات نظر آئیں ایک تو یہ کہ ان کو اس بات کا علم بخوبی تھا کہ کس سے کتنی اور کس تعلق سے باتیں کرنی چاہیے۔ ان کو پڑھنا اور ان کو سننابالکل ایک جیسا تھا۔ جو ان کا انداز تحریر ہے وہی ان کا اندازِ بیان بھی تھا۔ دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب بھی بات کرتے سامنے والا ان کی قابلیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ ادھر کچھ دنوں سے وہ بیمار چل رہے تھے ۔
راجندر یادو کی شخصیت ہمہ جہت تھی وہ شاعر بھی تھے افسانہ نگار اور ناول نگار بھی تھے۔ ماہنامہ ’ہنس‘ جس کی شروعات پریم چند نے 1930 میں کی تھی جو 1953 میں بند ہو گیا تھااور اس کو راجندر یادو نے دوبارہJuly 31, 1986 میں دوبارہ زندہ کیا۔ اور تب سے لے کر اپنی آخری سانس تک اس میگزن کو ایک تحریک کی طرح چلاتے رہے۔ ہنس کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے صحافت کی دنیا میں جو پہچان بنائی وہ لازوال ہے۔ ہندی میں ادبی میگزن کی کوئی کمی نہیں اس بھیڑ میں کسی میگزن کی شناخت اس طرح سے قائم کر دینا کہ وہ ہندوستانی ادب کی پہچان بن جائے کوئی آسان کام نہیں۔ راجندر یادو اکثر اپنے بیانوں کی وجہ سے میڈیا میں اختلافات کا موضوع بنے رہتے ۔ آخری سانس تک انھوں نے فرقہ واریت سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ عام روش یہ ہوتی ہے کہ لوگ وقتی فائدے کے لیے اپنے قلم کے ساتھ کیسے کیسے سمجھوتے کر لیتے ہیں۔ ہنس کے اداریے میں ان کا قلم فرقہ واریت کے خلاف ہمیشہ شعلے اگلتا رہا۔
یادو جی کی پیدائش 28 اگست 1929 کو آگرہ میں ہوئی ۔انھوں نے آگرہیونیورسٹی سے 1951 میں ایم اے ہندی کیا۔ ان کی شائع شدہ تخلیقات میں ان کے افسانوی مجموعے دیوتاؤں کی مورتیاں، کھیل کھلونے، جہاں لکشمی قید ہے، ابھیمنیو کی آتم ہتیا، چھوٹے چھوٹے تاج محل ، کنارے سے کنارے تک، ٹوٹنا، چوکھٹے توڑتے تریکون،شریشٹھ کہانیاں، پریے کہانیاں، پریم کہانیاں،چرچت کہانیاں، میری پچیس کہانیاں ، اب تک کی سمگر کہانیاں۔ یہاں تک: پہلا پڑاؤ دوسرا پڑاؤ، وہاں تک پہونچنے کی دوڑ، حاصل اور دوسری کہانیاں، ناولوں میں سارا آکاش، اکھڑے ہوئے لوگ، کُلٹا ،شہ اور مات، ان دیکھے انجانے پل، ایک اِنچ مسکان، منترا ویدھ اور ایک تھا شیلیندر وغیرہ۔ ایک شعری مجموعہ آوازتیری ہے اور روسی کہانیوں کے ہندی تراجم کاایک مجموعہ نرک لے جانے والی لِفٹ وغیرہ ہندی ادب میں ان کے بیش بہاتخلیقی و علمی کارنامے ہیں۔
چونکہ راجندرجی نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی ہنس کی ادارت میں گذاری اس لیے یہاں ہنس کے متعلق بات کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ہنس کو پریم چندنے قائم کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے امرت رائے نے ہنس کے ادارت کی ذمہ داری سنبھالی جو خود بھی ایک اچھے کہانی کار تھے۔بنیادی طور پر افسانوں کا یہ پرچہ خواص میں بے حد مقبول ہوا۔ لوگوں نے اس میں شائع ہونے والی کہانیوں کو ہندی کہانی کے لیے سند تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ اس کے سر ورق میں یہ خاص بات ہے کہ اس پر ملک و بیرون ملک کے بڑے بڑے معروف پینٹروں اور آرٹسٹوں کے فن پارے اس کے سر ورق کی زینت بنتے رہے۔ ان کے اداریے بے باک آرا کے لیے بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی ادارت کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایک بڑی تعداد قارئین کی ایسی تھی جس کو ہندی ادب سے کوئی دلچسپی نہیں ہونے کے باوجود ہنس کے پرچے کا انتظار صرف اداریہ پڑھنے کے لیے رہتا تھا۔
زندگی کی رنگینیوں کے عاشق اور بہت شوقین مزاج انسان تھے۔ عمرکے آخری و قت میں بھی تصویر کھچوانے کے لیے ہاتھ میں پائپ لے کرپوز دیتے تھے۔ ہاتھ میں پائپ کچھ اس انداز سے ہواکرتا جیسے ستراور اسی کی دہائی کے مقبول اداکار راج کمار کافیشن تھا۔زندگی کے ایک حادثے نے ان کو پیرسے معزوربنادیاتھا۔ ممکن ہے کہ ان کی کہانیوں میں معزور کردارجن کاتعلق اوسط طبقہ سے ہوتا ہے شاید اسی وجہ سے بہت مضبوطی سے سامنے آتے ہیں۔نوجوان اورجوشیلے لڑکے لڑکیوں کا کرداران کے یہاں بہت مؤثر اندازسے سامنے آتا ہے۔ انہیں ہندوستان اورہندی سے محبت تھی۔ انھیں اوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سماج کی فکرتھی۔ پریم چند کی نئی کہانی کی مہم کی روح بھی یہی تھی کہ کہانیاں صرف حویلیوں کے ارد گرد چکر نہ لگائیں۔ بدلتی ہوئی اس دنیا کے مطابق ادب کامعیار بھی بدلنا چاہیے۔پریم چند کا مشہور قول کہ اب حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔ راجندر یادو جی کی پوریادبی زندگی پریم چند کے اسی قول کی تشریح معلوم ہوتی ہے۔ اندھی سماجی اور تہذیبی روایتوں کے خلاف بولتے وقت نہ ان کی زبان میں کبھی لکنت ہوئی اور نہ ہی ان کا قلم کبھی جھجکا۔ انھوں نے اپنے میگزن کے ذریعہ ہمیشہ نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ عورتوں اور دلتوں کے استحصال کے خلاف بلند اوربے باک آواز ان کی تخلیقات کی روح ہیں۔
ادیب کا فرض منصبی کیا ہونا چاہیے۔ ادب کی سمت کیاہونی چاہیے ؟ایک ادیب کوکس حدتک سماج کی پروا کرنی چاہیے؟ ان سب سوالوں کا جوابات راجندر یادو جی کی تخلیقات میں موجود ہیں۔اپنی بے باک اور بے لاگ تبصروں کے لیے مشہور رہے اور ہمیشہ سرخیوں میں بھی رہے۔یارباش طبیعت کے مالک تھے خواہ مخواہ کی روایت کی پیروی کبھی نہیں کرتے تھے۔ راجندر یادو جی کے والد متھرا میں ڈسٹرکٹ بورڈ میں ڈاکٹر تھے۔ لکھنے کی تحریک ان کو کہاں سے ملی اس تعلق سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پیر کے ساتھ جو حادثہ پیش آیاتھااس نے انھیں لکھنے کیطرف راغب کیا۔ قریب چودہ سال کی عمر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہاکی کھیلتے ہوئے لڑائی جھگڑے میں ان کے پیرمیں چوٹ آئی اور اس کا علاج نہیں ہو سکا ان کی بچپن کی تعلیم اردو میں ہوئی۔انہوں نے عالم اور فاضل کی ڈگریاں حاصل کیں ان کے والدبچپن میں انہیں داستانِ امیر حمزہ اور حاتم طائی کے قصے سنا یا کرتے تھے۔ راجندر یادوجی نے بہت کم عمری اردو کی کلاسک کہانیاں پڑھ لی تھیں۔ والد صاحب ڈاکٹر ہونے کے باوجود ادب کے بڑے دلدادہ تھے۔ دس بھائی بہنوں میں عمر میں سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے ذمہ داری کا احساس بھی یادو جی کوزیادہ تھا۔
جس وقت اورجس زمانے میں راجندر یادو لکھ رہے تھے اس وقت پرگتی شیل لیکھک سنگھ ہندوستان میں عروج پر تھا۔ اسی زمانے میں ان کامعاشقہ بھی ہوا ۔ عشق کے متعلق راجندر جی کچھ چھپاتے نہیں انھوں نے جس سے محبت کی اس سے ان کی شادی نہیں ہو پائی اور جس سے شادی کی وہ بھی ایک مشہور کہانی کار تھیں۔منو بھنڈاری ان کا نام تھا۔ ان کی شادی کامیاب نہیں رہی۔ وہ صاف صاف اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ان بیوی کے ان کی زندگی میں آنے سے پہلے سے ان کا رشتہ کسی اور سے تھا اور وہ دونوں ہاتھوں سے لکھتی تھیں جس سے وہ بہت متاثر تھے۔ ایک اچھی بات یہ تھی کہ اپنے معاشقہ کے تعلق سے انہوں نے اپنی بیوی سے کبھی کچھ نہیں چھپایا اور ان سے شادی کرنے سے پہلے سب کچھ صاف صاف بتا دیا تھا۔ انھوں نے منو بھنڈاری سے شادی تب کی جب ان کی محبوبہ نے ان سے شادی کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیاکہ وہراجندرجی کی دوست بن کر تو رہ سکتی ہے لیکن ان کیبیوی بن کر نہیںاورتب انہوں نے منو بھنڈاری سے شادی کی۔
سن انیس سواسّی میں ایک ایسا وقت آیا جب راجندر یادو جی کویہ محسوس ہونے لگاکہ اب ان کے اندر کہنے کوکہانی نہیں رہی۔ ان کے اندر کا تخلیق کار اب مر چکا ہے۔اس کے بعد جب انھوں نے ہنس کی ادارت شروع کی تو پھر اس کے بعد انھوں نے کہانیاں یا ناول نہیں لکھے اور بطور ایک نظریہ ساز کہ اختلافی مسائل کو ہوا دینے کے لیے ہمیشہ سرخیوں میں رہے۔ وہ خود کہتے تھے کہ انھو ں نے ان لوگوں کوزبان دی جن کی باتیں سنی نہیں جاتی تھیں۔ دلت ،عورتیں، اقلیت اور آدیباسیوں کے حقوق کی آواز اٹھانا ان کو بہت محبوب تھا۔ پچھلے پچیس سالوں میں کہانیوں میں جو تبدیلیاں آئیں اس کے متعلق راجندر جی کا یہ خیال تھا کہ اب جو کہانی کار ہیں وہ کہانی کوکچے مال کی طرح بچھا دیتے ہیں ۔آج کی کہانیوں میں تفصیلات زیادہ ہوتی ہیں جوکہانی پن کو زخمی کردیتی ہیں اور یہ کہانیوں کے لیے بہت نیک فال نہیں۔ ان کے مطابق شخصیت کی تعمیر سماج کا انکار کرنے اور سماجی روایات کی نفی کرنے سے ہوتی ہے۔ اور یہ باتیں اب ختم ہو رہی ہیں اس لیے کہانی مجروح ہو رہی ہے۔
نئی کہانی کے بدلتے رنگ اور اقدار پر گفتگو کرتے ہوئے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران راجندر جی نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے یہ باتیں کہی تھیں۔ ہندی میں نئی کہانی کوجلا بخشنے والے ایسے سب سے بڑے ادیب جنھوں نے نئی کہانی کی شروعات سے لے کر اکیسویں صدی کے تیرہ سال تک ہندی کتھا کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں بلکہ زمانے کے بدلتے رنگ کے ساتھ کہانی کا بدلتا رنگ بھی دیکھا اور اس کی ترقی میں خود بھی لاثانی کردار ادا کیا۔
ظاہر ہے کہانی بدلی ہے۔لیکن اس میں خوبیوں نے جگہ لیا ہے یا خامیوں نے۔ کہانیوں کی رفتار تیز ہوئی ہے یا مدھم۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کہانیوں کی خوبی یا خامی کی بات ہی نہیں بلکہ پرانی نسل اور نئی نسل کے اقداری افتراق کی وجہ سے پرانے لوگوں کی نظر میں نئی کہانی زوال پذیر لگ رہی۔ ممکن ہے کہ اچھے برے کا وہ پیمانہ ہی اب بدل گیا جس پر فکشن کی خوبیاں اور خامیاں طے کی جاتی رہی تھیں ۔ زمانے کے ساتھ ساتھ کہانیوں کا بدلنا فطری عمل ہے۔ مگر سوال عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ یہ تبدیلیاں آیا مثبت ہیں یا منفی۔اگر مثبت ہیں تو کہانی ترقی کی راہوں پر گامزن ہے اور اگر منفی ہیں تو ظاہر ہے کہانیاں رو بہ زوال ہیں۔ یہ ایک بے حد فطری عمل ہے کہ پرانی نسل کا انسان اپنی پرانی اقدار کی پابندی میں نئی نسل کی محسوسات کو اس طرح سے کبھی نہیں سمجھ سکتا ہے جس طرح نئی نسل کے لوگ نئی نسل کو سمجھتے ہیں۔ راجندر یادو جی کہانییوں کے معاملے میں ان اقدار کے پاسدار تھے جن کی بنا پریم چند نے بیسویں صدی کے اوائل میں ڈالی تھی یا جن روایتوں کے امین ٹیگور تھے۔اب وقت بدل رہا ہے کہانیاں بدل رہی ہیں اقدار بدل رہے ہیں نئی نسل کی سوچ بدل رہی ہے تو ایسے حالات میں نئی نسل کی کہانیاں ہو بہ ہو پرانی نسل کی تکنیک میں نہیں کہی جا سکتیں،تکنیک بھی بدلے گی ۔مثال کے طور پر پرانے نسل کے لوگ اپنے بزرگوں کے سامنے اپنی باتیں بلا واسطہ نہیں رکھتے تھے۔ سیدھے سیدھے اپنی باتیں کہنے کے بجائے تمہید، اشاروں اور کنایوں میں اپنی باتیں کہنا اور ان کو سمجھنا علمِ بیان کا حسن ہوا کرتا تھا۔ اب وقت بدل گیا نئی نسل روایتوں کی امین نہیں نا ہی تمہید اور اشاروں کنایوں میں باتیں کرتی ہے تو کہانیوں پر اس نئی تہذیب کا اثر فطری ہے۔ چونکہ راجندر یادو جی اس وچاردھارا کو آگے بڑھا رہے تھے جو پریم چند نے شروع کیا تھا اور بدلتے ہوئے زمانے کو بھی دیکھ رہے تھے ۔ اس طرح سے انکی شخصیت اس لحاظ سے بہت قیمتی تھی کہ انھوں نے کہانیوں کے بیسویں صدی کے اوائل سے لے کر اکیسویں صدی کے اوائل تک کا دور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔
آج کا فنکار ان روایتوں کی پاسداری کرنا تو چاہتا ہے مگر اس کے سامنے حالات اور ہیں۔مشرف عالم ذوقی کے مطابق نئی نسل کے تقاضے اور ہیں۔آج حقیقت نگاری سے آگے کی دنیا ہے۔ جادوئی حقیقت نگاری(Magic Realism) اور موہوم حقیقت نگاری (Hallucinatory Realism) کی دنیا میں نئی نسل کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ نئی نسلکے ساتھ ساتھ نئی کہانیوں کی بھی راہیں کسی اور منزل کی طرف گامزن ہیں۔ کہانیوں کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان میں پوشیدہ حسن کے معیار کی پرکھ کرنے کے پیمانے بھی اب بدل چکے ہیں۔ اور آج کے تنقیدی پیمانے ظاہر ہے پرانے پیمانوں سے مختلف ہیں اور ایسا ہونا کچھ عجیب نہیں ۔ چونکہ نئی کہانی کی بنیاد پڑتے ہی فکشن کی تنقید کا معیار بدل گیا تھا۔ اور اس زمانے میں بھی نئی کہانیوں پر ان کی سمت و رفتار پرتنقیدیں ہوئی تھیں۔ہاں! مگرایک اہم بات یہ ہے کہ کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو زمان و مکان کے حدود سے باہر تمام تنقیدی پیمانوں پر کھری اترتی ہیں۔ ٹیگورکی کہانیا ں آج بھی relevant محض اسی وجہ سے ہیں کہ وہ ہر زمانے کے تنقیدی پیمانوں پر کھری اترتی ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں ہر زمانے میں لکھی گئی ہیں جن میں مندرجہ بالا کسی بھی حقیقت نگاری کے پیمانے پران کی تنقیدکی جائے وہ ہمیشہ اولیت رکھتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر نوشاد منظر )
بلا شبہہ راجندر یادو نے کچھ ایسی کہانیاں لکھیں جو all time hit کے درجے میں شمار کی جا سکتی ہیں اور کسی بھی تنقیدی آلہ کوبروئے کار لاکر ان کہانیوں کو پرکھا جا سکتا ہے۔ 1999 سے 2001 تک راجندر یادوپرساربھارتی بورڈکے ممبر رہے۔ اس درمیان NDA کی حکومت تھی ۔یادوجی کانظریاتی تعلق بائیں بازوسے تھا ۔اس کے باوجود انھوں نے کبھی بائیں بازوکی کسی سیاسی پارٹی کا کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ اس کامطلب یہ قطعی نہیں کے انھوں نے اپنے نظریے کوادب تک محدود رکھا۔ان کے ادبی نظریے کی کڑی اس سماجی نظریہ سے ملتی ہے جس کی بنیاد پریم چندنے ڈالی تھی۔ راجندر یادوکی سب سے بڑی خوبی سیکولرزم کے لیے ان کی شدت پسندی تھی۔ وہاس قدر شدید تھے کہ کبھی کبھی تو خودکوبھی نہیں بخشتے تھے۔ انہوں نے اپنے میگزن ہنس میں مسلمانوں ، دلتوں، عورتوں اور آدیواسیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ جس زمانے میں راجندریادو لکھ رہے تھے اس زمانے میں ان کو ایسے قلمکاروں کا ساتھ ملا جن کو ادب اور فکشن پر پورا بھروسہ تھا۔ موہن راکیش ،کملیشور، دھرم ویر بھارتی، نامور سنگھ اورمنو بھنڈاری، نرمل ورما ، بھیشم ساہنی وغیرہ اس زمانے کے ان مشہور قلمکاروں میں تھے جنھوں نے راجندر یادو جی کے ساتھ مل کر نئی کہانی کی تحریک کو آگے بڑھایا اور ادب میں خود بھی بڑا مقام پیدا کیا۔
کملیشورکی تخلیق ’کتنے پاکستان‘ کی شہرت سے ادب سے سروکار رکھنے والا شایدہی کوئی شخص ہوگا جو واقف نہ ہو۔ پدمبھوشن کملیشور جی کے علاوہ ان تمام لوگوں کی ایک خاص بات تھی کہ یہ سب لوگ بڑے تخلیق کار تھے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی اخبار یا میگزن کیادارت سے بھی وابستہ رہے لہذا انہیں نئی کہانی کے لیے کام کرنے کا بھرپورموقع ملا۔ ایک اہم بات یہ کہ راجندر یادو جی کا قد شاید بحیثیت فکشن نگار اپنے ان مذکورہ بالا معاصرفکشن نگاروں سے اونچا بھلے ہی نہ رہاہو ،کیوں کہ انھوں نے فکشن کی تخلیق کو1980 ہی میں الوداع کہہ دیا تھا،مگرانھوں نے نظریاتی سطح پرنئی کہانی کی مہم کو جس طرح آگے بڑھا یا وہ مثالی تھا۔ ان کی کاوشوں نے نئی کہانی کو اکیسوی صدی کی دہلیز تک لاچھوڑا جہاں نئی نسل کے نوجوان اس تحریک کو نئے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے کھڑے ہیں۔ ان سب کے باوجود راجندر جی کا اس طرح اس دنیا سے گذر جانا ذراعجیب لگتاہے۔ مذہبی شدت پسندی کی عار میں اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے والوں کو دھول چٹانے والا اب راجندر یادو جیسا کوئی دمدار شخصیت ادب کی دنیا میں باقی نہیں۔ با باک ، مصلحت سے عاری، کھری کھری باتیں اب کون کریگا۔ اپنے اداریے میں تمام سیاسی چالوں کی قلعی اب کون کھولے گا۔
سیاسی مفاد کے لیے قلم کا سودا کرنے والے ہی کیا اب ادب کے نصیب میں رہ گئے ہیں یا اب کوئی ادب کا بے لوث خادم ہماری نسل سے بھی اٹھے گا جو راجندر یادو کی طرح بے خوف ہو کر بولے گا۔ یہ تو اب وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اب اس طرح کا بے باک شخص اس مصلحت پرستی کی دنیا میں ملنا بہت مشکل ہے۔ راجندر یادو کی موت پر پورے ہندوستانی ادب کے قافلہ سالاروں ،قلمکاروں،تحقیق کاروں، شاعروں اور فکشن نگاروں کی آنکھیں نم ہیں اور کیوں نہ ہوںکہاب اس طرح کا جنون رکھنے والے کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔
راجندر یادو جسکوسچ سمجھتے تھے لکھ دیتے تھے اور بول دیتے تھے۔ ادبی اعزاز و اکرام کا کوئی لالچ ان کو کبھی نہیں تھا۔ہنس کی ادارت کے قریب قریب پچیس سالوں میں کوئی ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ انہوں نے کسی سیاسی یاسماجی فائدے کے لیے کسی کی بے جا تعریف یا چاپلوسی کی ہو۔ انھوں نے جب بھی قلم اٹھایا سچ لکھنیاورسماج کی بہتی ہوا کے خلاف چلنے کے لیے اپنے قلم کا استعمال کیا۔ کسی کی ہاں میں ہاں ملانا انہیں بے حد ناگوار تھا۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے بندشوں یا سیماؤں میں بندھے رہنا بالکل پسند نہیں میں سماجکے رتی رواجوں میں بندھ کر نہیں رہ سکتا۔ سماج کی بندشیں ہماری پرواز کو روکنے کے لیے بنائی جاتی ہیں ہمارا کام ہے کہ ہمان بندشوں کو توڑ کر آگے نکلیں۔ وہ کسی چاپلوس ذہن کے شخص کو جسکی اپنی کوئی سوچ نہ ہو بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ یار باش اور مجلسی تھے ہمیشہ دوستوں کے بیچ رہنا انہیں پسند تھا،اس کے باوجود بھی وہ ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کوبالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ بھلے ہی ان کی آئیڈیولوجی سے کوئی اتفاق نہکرے وہ ان کی نظر میں عزیز ہواکرتا تھا بنسبت اس کے کہ کوئی ایسا شخص جس کا اپنا کوئی ویژن نہیں۔
ہندوستانی کہانیوں کی تاریخ میں ہنس کاسفربے حد اہم سفر ثابت ہوگا۔ہنس کی ہندی خدمات پر ریسرچ کی ضرورت ہے۔ ہنس کے اب تک کے اداریے کتابی صورت میں لانے کی ضرورت ہے۔ نئی کہانی کے اس سپاہی کو اگرہم سچا خراجِ عقیدت دینا چاہیں تو ہمیں ہنس کی خدمات کا اعتراف کرنا ہوگا۔
راجندر یادو کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان کے چاہنے والے صرف ہندی زبان کے ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے ادیب اور ادب فہم حضرات ان کے چاہنے والوں میں تھے۔ راجندر یادو کو ہمیشہ ان کی ادبی خدمات کے لیے یاد رکھا جائے گا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

