Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن تنقیدنوشاد منظر Naushad Manzar

 عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر نوشاد منظر

by adbimiras فروری 3, 2021
by adbimiras فروری 3, 2021 0 comment

عابد سہیل کا شمار ان ناقدین میں ہوتا ہے جنھوں نے تنقیدی اور تخلیقی دونوں میدانوں میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔ عابد سہیل کے متعلق عام خیال یہ بھی ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے آخری علمبردار تھے۔ میرے پیش نظر ان کی کتاب ’’فکشن کی تنقید: چند مباحث‘‘ ہے۔اس کتاب کی پہلی اشاعت 2000ء میں ہوئی اور دوسرا ایڈیشن 2002ء میں منظرعام پر آیا۔ میرے پیش نظر دوسرا ایڈیشن ہے۔

’’فکشن کی تنقید: چند مباحث‘‘ کو عابد سہیل نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصے میں افسانے کی تنقید، مباحث، مسائل اور رجحانات پر مضامین شامل ہیں جبکہ دوسرے حصے میں سات افسانوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔عابد سہیل کاخیال ہے کہ ادب میں فوقی درجہ بندی (Hierarchy) اچھی چیز نہیں۔ انھوں نے شمس الرحمن فاروقی کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فاروقی نے افسانہ کے اوزاروں پر گہرائی سے غوروخوض کیا مگر انھیں فاروقی کی تنقید سے چند اختلاف بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ علامت اور بے معنویت کو فروغ دینے میں فاروقی نے اہم رول ادا کیا۔ عابد سہیل مزید لکھتے ہیں کہ فاروقی کے اس نظریے نے بعد میں ناقدین کے ایک ایسے طبقے کو فروغ دیا جس نے افسانہ کو دوم درجے کی صنف بتایا۔

’’فکشن کی تنقید: چند مباحث‘‘ میں ’’افسانے کی تنقید: چند مباحث‘‘کے عنوان سے تین مضمون شامل ہیں۔ عابد سہیل نے اپنے مضمون کا آغاز افسانہ اور شاعری کے مقدار سے کیاہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاعری کی تاریخ افسانے کی تاریخ سے کوئی دو ڈھائی سو برس زیادہ کے عرصے پر محیط ہے۔یہی سبب ہے کہ شاعری کی تعداد افسانے کے مقابلے زیادہ ہے، ان کا خیال ہے کہ مقدار کے اعتبار سے بھی شاعری کی تنقید افسانوی ادب کی تنقید سے زیادہ ہے۔ ان دونوں کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے عابد سہیل نے چار نکات درج کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’(۱)افسانوی ادب کے مطالعہ کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اس لیے نقاد اس کی جانب کم توجہ کرتے ہیں۔

(۲) شاعری نے فن کی جن بلندیوں کو چھولیا ہے، افسانوی ادب کی ان تک رسائی نہیں ہوسکتی ہے۔

(۳)  افسانہ، ناول اور ڈرامہ وغیرہ (یعنی افسانوی ادب)، اپنے نوع کے اعتبار سے شاعری کے مقابلہ میں کم تر درجہ کے اصناف ہیں۔

(۴)ادب کو پرکھنے کی جو کسوٹیاں بنائی گئی ہیں، ان کا اطلاق صرف شعری تخلیقات پر ہی ہوتا ہے اور افسانوی ادب کے معیار کو آنکنے کے لیے اس کے اپنے معیاروں کی ضرورت ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:18)

عابد سہیل نے مذکورہ چار نکات کو شاعری اور افسانے کے تنقید کے درمیان فرق بتایا ہے۔ ان چار نکات میں سب سے اہم آخرالذکر نکتہ ہے۔

عابد سہیل نے فکشن (افسانوی ادب) اور غیر افسانوی ادب سے بحث پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ عابد سہیل نے William Podhorets کے اس نظریہ کو پیش کیا ہے، جس میں William Podhorets نے Factive کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ تخلیقی ادب بالخصوص ناول سے زیادہ تنقیدی مضامین اور تبصرے کو اہم قرار دیتے ہیں، گویا William Podhoretz کے مطابق ادب سے اہم وہ تحریریں ہیں جن میں تفتیشی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یعنی Fiction کے مقابلے Fact پر قاری کی توجہ مرکوز ہے۔ پودھوریز اپنے خیالات کو تقویت پہنچاتے ہوئے لکھا ہے کہ اخبارات ورسائل تفتیشی مضامین میں افسانوں کے مقابلے زیادہ اخلاق واطوار کا عنصر ہوتا ہے۔ Podhertz کے مذکورہ نظریے پر گفتگو کرتے ہوئے عابد سہیل لکھتے ہیں:

’’ہندوستان کے پس منظر میں اس دلیل کے عملی ثبوت کے (Demonstertion) کے طور پر پچھلے دوبرسوں میں انگریزی، ہندی اور دوسری زبانوں کی ایسی کتابوں کی مقبولیت کو پیش کیا جاسکتا ہے، جن میں 1975 سے 1977 کے شروع تک کے حقیقی واقعات کو ’’تخئیلی لبادہ‘‘ اڑھاکر پیش کیا گیا ہے۔ ’’تخئیلی لبادہ‘‘  پر مجھے اصرار ہے۔ سچ پوچھئے تو یہ ’’تخئیلی لبادہ‘‘ ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ اس طرح کی جو کتابیں ایمرجنسی کے دوران کے واقعات اور اندراگاندھی کے طریق کار اور افعال واعمال پر بازار میں آئیں، کیا وہ تخئیلی اور افسانوی (Fictive) عنصر سے خالی ہیں؟ یہ کتابیں اگر افسانوی عنصر سے خالی ہوتیں تو ایک ہی واقعہ کا حقیقت کی مرکزیت کی بنیاد پر صرف ایک ہی بیان ممکن ہوتا۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:24)

عابد سہیل نے فکشن اور غیرفکشن کے درمیان کے فرق کو بہت واضح طور پر بیان کیا ہے۔انھوں نے تخلیقی صلاحیت اور اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ غیرافسانوی نثر میں بھی تخلیقیت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی خبر ہونے کے باوجود اس کا اظہار مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔

عابد سہیل نے شمس الرحمن فاروقی کے ان خیالات پر تبصرہ کیا ہے جو انھوں نے افسانے کی حمایت میں بیان کیا ہے۔ عابد سہیل کا خیال ہے کہ فاروقی نے افسانے کے متعلق اسی رویے کو اختیار کیا جو کلیم الدین احمد نے غزل کے متعلق اختیار کیا تھا۔ فاروقی کی تنقید کو عابد سہیل یکسر مسترد نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس تنقیدی نظریے پر غوروفکر کیا جانا چاہئے۔ شمس الرحمن فاروقی نے افسانے کے بیانیہ کو اس کی کمزوری بتایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ افسانے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ افسانہ نگار مسلسل اور ہر جگہ بیانیہ سے گریز کرسکے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مذکرہ نظریے پر گفتگو کرتے ہوئے عابد سہیل لکھتے ہیں:

’’بیانیہ سے ان کی چڑکا سبب یہ ہے کہ اس میں تسلسل، حسب توقع پیش رفت اور تجزیاتی عصر کی آمیزش نہ صرف ممکن ہوتی ہے بلکہ غالب رہتی ہے اور یہ اجزا ان کی شعریات اور ان کے تصور کی شاعری کے ہاتھ نہیں لگتے کیوں کہ ان کے نزدیک شاعری میں موزونیت اور اجمال کے ساتھ ساتھ ایک ہی لفظ کے بیک وقت استعارہ اور پیکر بننے کی خصوصیت یا ابہام یا دونوں لازمی ہیں، جب کہ بنیادی طور سے شاعری کا مایۂ افتخار صوتی موزونیت ہے اور افسانوی ادب کا مایۂ افتخار معنوی موزونیت، اجمال شاعری کی خصوصیت یوں ہے کہ اس میں تفصیل میں جانے کی گنجائش ہی نہیں…‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:30-31)

عابد سہیل کا اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے بیانیہ کو افسانے کی کمزوری تو بتایا ہے مگر اس کے وجوہات نہیں بیان کیے حالاں کہ بیانیہ کی ایک شکل شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔ عابد سہیل نے خلیل الرحمن اعظمی کی کتاب ’’نئی نظم کا سفر‘‘ سے، چند اشعار پیش کیے ہیں اور ان کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شاعری میں بھی بیانیہ موجود ہوتا ہے۔

افسانے پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ افسانہ وقت کے چوکٹھے میں قید ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی کون سی شے وقت کے حصار سے باہر ہے۔عابد سہیل لکھتے ہیں:

’’افسانوی ادب وقت سے انکار نہیں کرتا بلکہ اس کے جبر سے، جس کے سبب افسانوی تخلیق میں یکسانیت پیدا ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے، خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی بیانیہ کے ذریعہ یہی ممکن ہو پاتا ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:37)

عابد سہیل نے جگہ جگہ شمس الرحمن فاروقی کی کتاب’’ افسانے کی حمایت ‘‘سے اقتباسات پیش کیے ہیں اور ان کا تجزیہ بھی کیا ہے، وہ فاروقی کے چند باتوں سے اتفاق ضرور کرتے ہیں مگر بنیادی طور پر افسانے کی حمایت کی خامیوں کو بیان کرنے سے گریز بھی نہیں کیا۔ عابد سہیل نے جدید افسانے کے تعلق سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ نہایت اہم ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ادھر ایک عرصہ سے یہ آواز بار بار اٹھ رہی ہے کہ نیا افسانہ شاعری کے نزدیک آگیا ہے، یہ آواز بیشتر صورتوں میں یا تو جدیدیت کے حامیوں کے اس حلقہ کی طرف سے اٹھائی گئی ہے جو اپنی شعریات سے افسانوی ادب کے Phenomenonکا جواز نہیں فراہم کرپاتا یا ان نئے افسانہ نگاروں کی طرف سے جنھیں بے معنویت، تنہائی، انسانی بے بسی، موت اور ذات کا کرب ایسے موضوعات کو اپنے افسانوں میں برتتے وقت انسانی زندگی سے اور اپنی ذہنی زندگی میں ان کی تخلیقی تشکیل نہ کرسکنے کی وجہ سے بار بار شعری زبان کا سہارا الینا پڑتا ہے۔ اس پریشان کن حالت کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے اب تک شعر کی شعریات سے افسانے کو پرکھنے کا کام بھی لیا ہے۔ یہ دعویٰ کہ جو ’’شعریات شعر کو شعر ثابت کرتی ہے، وہی افسانہ کو افسانہ، ناول کو ناول، ڈرامہ کو ڈرامہ، مثنوی کو مثنوی اور مرثیہ کو مرثیہ بھی ثابت کرتی ہے‘‘ غلط ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:45-46)

جب اردو میں جدیدیت کا اثر بڑھا، تو شاعری اور فکشن کے رشتے پر بھی گفتگو کا نیا سلسلہ شروع ہوا، بلراج کومل نے ’’اردو شاعری اور فکشن کی ٹوٹتی حدبندیاں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا، جس میں انھوں نے فکشن اور شاعری کو ایک میزان پر پرکھنے کی کوشش کی تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے اور یہ بات دہرائی جارہی ہے کہ جب دو صنف اپنی ساخت، اپنے اسلوب اور فنی تراکیب کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہے تو پھر دواصناف کا موازنہ کیسے مناسب ہوسکتا ہے۔ عابد سہیل نے لکھا ہے کہ جو Toolsشاعری کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، ان کی روشنی میں افسانے کو پرکھنا بالکل بھی مناسب نہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ اس بات کا اظہار کریں کہ افسانے کو پرکھنے کے لیے کوئی اصول وضع نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے افسانے کو شاعری کے Parameter پر پرکھا جاتا ہے، یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ افسانے کے Tools نہ ہونے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے لیے اصول وضع کیے جائیں نہ کہ شاعری سے اس کا موازنہ کیا جائے۔

کتاب کا دوسرا عنوان ’’افسانہ کی تنقید: چند مباحث‘‘ ہے۔ مضمون کا آغاز عابد سہیل نے ان جملوں سے کیا ہے:

’’ہرافسانہ کو دو سوالوں کے جواب ضرور دینے ہوتے ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ اس کا ہرکردار، ہر واقعہ، ہر موڑ، ہر مکالمہ اور سارا پس منظر تخلیق کی داخلی منطق ہیں، اپنی تعبیر اور اپنا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ افسانہ کے ہر جزو کا دوسرے اجزا اور ان اجز کے مجموعی تاثر سے تعلق، ہم آہنگی اور ناگزیر ربط کا دوسرا نام ہی افسانہ کی داخلی منطق ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:48)

عابد سہیل نے افسانہ کے ان مسائل کو موضوع بحث بنایا ہے، جس کا ذکر پہلے کے مضمون میں آگیا ہے۔ عابد سہیل کے مطابق تمام افسانوں کا جائزہ ان بنیادوں پر لیاجانا چاہئے کہ کیا وہ افسانہ کردار، مکالمہ اور پس منظر کے ذریعے تخلیق کا جواز پیش کرتا ہے یا نہیں۔ عابد سہیل نے جس داخلی منطق کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ دراصل ہے کیا؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب عابد سہیل نے نہیں دیا ہے مگر عابد سہیل نے افسانے کا جو ایک تصور پیش کیا ہے وہ بہت خوبصورت اور پرمعنی ہے۔ ان کا خیال ہے:

’’افسانہ آزاد ہے لیکن اپنی آزادیوں میں پابند۔ افسانہ پابند ہے، لیکن اپنی پابندیوں کے باوجود آزاد۔ آزادیوں میں پابندی اور پابندیوں میں آزادی اسے امکانات کی دنیا سے ملتی ہے جو اس کے ہاتھ پائوں ہوتے ہیں، امکانات کی دنیا لامحدود ہے لیکن ہر امکان وقت اور مکان پر اسیر بھی ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:50)

عابد سہیل کے مذکورہ اقتباس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عابد سہیل کے نزدیک افسانہ بطور صنف اپنے اندر پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانہ آزاد ہے۔ موضوعات کی سطح پر بھی اور دائرے کے حساب سے بھی، یہ صنف وسیع ہے۔ عابد سہیل نے افسانے کے بیانیہ اور مکان بلکہ حدامکان پر بھی اس مضمون میں گفتگو کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زمان ومکان کے بغیر کوئی واقعہ قائم نہیں ہوسکتا۔

مضمون ’’افسانہ کی تنقید: چند مباحث3-‘‘ میں عابد سہیل نے بنیادی طور پر افسانے کی زبان پر گفتگو کی ہے۔اس ضمن میں انھوں نے فاروقی کے نظریے کو بھی پیش کیا ہے، جن اقتباسات کو عابد سہیل نے پیش کیا ہے، اس کی روشنی میں ایک بات واضح ہوتی ہے کہ فاروقی کے نزدیک شاعری اور نثر کی زبان نہ صرف مختلف ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے برعکس ہے۔ عابدسہیل اپنے مضمون میں فاروقی کے نظریے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’زبان کے بارے میں فاروقی کے نظریے نے بہت سی الجھنیں کھڑی کردی ہیں، خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی۔ وہ علامت، استعارہ اور پیکر کو زبان کے باہر کی چیز سمجھتے ہیں، جن کے ذریعہ زبان اپنی نوعی کمزوری پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو جاتی ہے۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:61)

عابد سہیل نے بونے می ڈابری (Bonomy Dobree)کی کتاب Modern Prose Style سے ایک اقتباس درج کیا ہے۔ یہ کتاب 1964میں شائع ہوئی تھی۔ عابد سہیل کا خیال ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کی تحریروں میں بونے می ڈابری کی تحریر کی بازگشت نظر آتی ہے مگر عابد سہیل کا خیال ہے کہ ڈابری نے جن خیالات کا اظہار Modern Prose style میں کیا ہے، وہ دراصل ہوریس کی کتاب Poetics(فن شاعری) میں تقریباً دوہزار سال قبل کردیا تھا۔ گویا ڈابری اور شمس الرحمن فاروقی کے خیالات ہوریس نے دوہزار قبل اپنی کتاب میں کیا تھا۔ زبان کا معاملہ اکثر متکلم کے انداز بیان سے بھی طے ہوتا ہے، مثلاً کسی جملے کو ادا کرتے ہوئے متکلم کا جو لہجہ ہوتا ہے، اس سے بھی معنی اور مفہوم میں تبدیلی آتی ہے، اس ضمن میںعابد سہیل نے کئی حوالے بھی پیش کیے ہیں۔ عابد سہیل کا خیال ہے کہ زبان معمولی اور ادنی چیز کو بھی پوری طرح بیان کرنے سے قاصر ہے اور یہی زبان کی خوبی ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’…زبان کا عجزہی اسے اعجاز بناتا ہے کیوں کہ اگر زبان مکمل اور نپے تلے اظہار پر قادر ہوتی تو تخلیق میں تہہ داری ناممکن ہو جاتی۔ تشبیہ، استعارہ، علامت وغیرہ زبان کا حصہ ہیں اور ان کے استعمال میں نثر اور نظم کی تخصیص غلط ہے لیکن زبان کے بعض اوزاروں کی حمایت شاعری کو زیادہ حاصل ہے اور بعض کی نثر کو اور اس حمایت کی تقسیم کی بنیاد پر نثر یا نظم کی فوقیت مستحکم نہیں ہوتی۔‘‘

(فکشن کی تنقید: چند مباحث ۔ عابد سہیل :صفحہ:70)

عابد سہیل نے اپنے موقف کی تائید میں کئی حوالے پیش کیے ہیں، انھوں نے اپنے موقف کی بنیاد جس چیز پر قائم کی ہے۔ اسے نظریہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ کسی چیز کو دیکھنے کا نظریہ مثلاً انھوں نے اپنے مضمون میں ایک مثال پیش کی ہے کہ اگر ٹیبل کے درمیان ایک سرخ بال رکھ دیا جائے اور اس کے اردگرد کھڑے لوگوں سے اس بال کی کیفیت یا اس بال کی متعلق دریافت کیا جائے تو ہر آدمی کا جواب دوسرے مختلف ہوگا۔ یہ حقیقت ہے اور اس کا تعلق جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ناظرین کے نظریے سے ہے، زبان کی مداخلت یہاں نظر نہیں آتی۔ عابد سہیل تشبیہ، استعارہ، علامت اور تمثیل وغیرہ کو زبان کے اوزار بتایا ہے، ان کا خیال ہے کہ جس طرح ایک ماں اپنے بچوں کو اس لیے اچھالتی ہے تاکہ اس کو اچھی طرح اپنے سینے سے چمٹاسکے ۔ ٹھیک اسی طرح زبان، تشبیہ، استعارہ، علامت اور تمثیل کی شکل میں بظاہر خود سے دور کرتی ہے مگر اس کا مقصد اسے خود سے زیادہ قریب کرنا ہے۔

عابد سہیل نے واقعہ نگاری پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کسی واقعہ کو اپنے واقع ہونے کا جواز افسانہ کے داخل سے فراہم کرنا ہوتا ہے، جس کے بغیر حقیقی دنیا کا واقعہ بھی افسانہ کا واقعہ نہیں بن پاتا۔(صفحہ:76)۔ افسانے میں واقعہ کی اہمیت ہے اور اگر ہے تو کس صورت میں اور اگر نہیں تو کیوں؟ ان سوالات پر کافی بحث ہوچکی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے بھی اس ضمن میں بہت کچھ لکھا ہے، اس ضمن میں ان کا مضمون ’’افسانہ میں بیانیہ اور کردار کشمکش جو گوپی چند نارنگ کی مرتب کردہ تصنیف ’’نیا اردو افسانہ‘‘ میں شامل ہے کوپیش کیا ہے، انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کردار اور واقعہ کے آپسی ردعمل اور کردار نگاری کے ذریعے واقعات کے تانے بانے جوڑنا قدیم بیانیہ کی رسم نہیں۔‘‘(صفحہ:77)

عابد سہیل نے فاروقی کے متذکرہ خیالات سے اختلاف کیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس جانب بھی اشارہ کیا تھا کہ افسانے کا بیانیہ داستان سے قریب ہوتا ہے حالانکہ اس بات کو من وعن تسلیم کرنا مشکل ہے۔ عابد سہیل نے بھی شمس الرحمن فاروقی سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ داستان میں واقعہ کم، بیان زیادہ ہوتا ہے اور دونوں کے کردار اور واقعات مختلف ہوتے ہیں۔ دراصل واقعہ کے ظہور پذیر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی باہر کی چیز ہے بلکہ واقعات ہماری اپنی زندگی سے منضبط ہوتا ہے اور انسانی زندگی کے ساتھ لازم وملزوم ہوتا ہے۔

عابد سہیل کا ایک مضمون ’’تہذیب، ثقافت اور افسانہ‘‘ ہے۔ افسانے کی تنقید چند مباحث میں ایک مضمون ’’تہذیب،ثقافت اور افسانہــ‘‘ ہے۔تہذیب و تمدن اور ثقافت کا استعمال مترادف کے طور پر کیا جاتا ہے حالانکہ اس میں بنیادی فرق ہے۔انگریزی میں تہذیب کا لئےCivlization اور ثقافت کے لیے Cultureکا لفظ استعمال ہوتا ہے۔کسی بھی رسم و رواج کی ابتدائی شکل کو ہم تہذیب اور اس کی اعلی صورت کو ثقافت کہہ سکتے ہیں۔جہاں تک ادب کا تعلق ہے تومسلم شعرا کے وہ اشعار جس میں ہندو رسم و رواج،تہواروں اور عقائد کا ذکر ہو یا کسی غیر مسلم شعرا کے کلام میں عید، بقرعید، محرم یا دوسرے مذہبی رسوم کے ذکر کو تہذیب و ثقافت کے زمرے میں رکھتے ہیں، یہ پوری طرح درست نہیں، عابد سہیل اسے سہل پسندی اور مصنوعی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پریم چندکے افسانوں کی قرأت کرتے ہوئے ایسے بہت سے کردار مل جاتے ہیں جن کا تعلق دوسرے مذاہب سے ہے مگر اس سے تہذیب و ثقافت کی تلاش میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اگر خوش گوار رشتے کو کسی افسانے یا دوسرے فن پارے میں پیش کیا گیا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔افسانے کے لیے ضروری اجزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عابد سہیل لکھتے ہیں۔

’’افسانے کا خمیر واقعات سے تیار ہوتا ہے اور واقعات کرداروں کے افعال ، اتصال اور تصادم کے توسط سے امکانات کے بروئے کارآنے سے اعتبار حاصل کرتے ہیں ۔واقعے کو اعتبار کسی مذہبی یا اخلاقی عقیدے کی پشت پناہی سے نہیں بلکہ داخلی ہم آہنگی اور خارجی دنیا سے مطابقت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے ۔ خارجی دنیا سے مطابقت کے معنی ہمیں افسانے میں کسی مخصوص صورت حال میں واقعے کا بعید ازقیاس نہ ہوتا ۔‘‘

(تہذیب، ثقافت اور افسانہ۔ عابد سہیل۔ افسانہ اور افسانہ نگار ۔مرتب نوشاد منظر)

عابد سہیل نے واقہ کو اہم قرار دیتے ہوئے پریم چند کی کہانوں سے چند مثالیں بھی پیش کی ہیں۔عابد سہیل کا مضمون دراصل افسانوں میں پیش تہذیبی و ثقافتی مسائل سے ہے،لہذا انھوں نے ان افسانوں کی نشاندہی بھی کی ہے جس میں ہماری مشترکہ تہذیب کی علامتیں موجود ہیں۔ان کہانیوں میں ’’پوس کی رات‘‘،’’ شطرنج‘‘ اور’’کفن‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔افسانہ ’’کفن‘‘ کے کرداروں کا جائزہ لیتے ہوئے عابد سہیل لکھتے ہیں کہ مادھو اور گھیسو کی جگہ ان دونوں کردار کا نام جمو اور جمن بھی ہوتا توکہانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ لکھتے ہیں:

’’ افسانے کے اپنے مطالبات کچھ ایسے ہیں کہ ان میں مشترکہ تہذیب اور ثقافت کی اعلیٰ سطح کے اظہار کی صورتیں ہی جگہ پاتی ہیں ۔کسی قسم کی کٹھ پتلی ملّا ئیت کسی دوسری ثقافت وتہذیب سے نفرت کا اظہار افسانے کے بنیادی مطالبات کے اعتراف کے بغیر ممکن نہیں ۔‘‘

۱۲۱۔ (تہذیب، ثقافت اور افسانہ۔ عابد سہیل۔ افسانہ اور افسانہ نگار: مرتب۔ نوشاد منظر)

عابد سہیل کا یہ مضمون کئی اعتبار سے اہم ہے،اگر انہوں نے اپنے اس مضمون میں چند دوسرے افسانہ نگاروں کی تخلیقات کا جائزہ بھی لیا ہوتا تو اس کی اہمیت اور زیادہ ہوتی۔

’’فکشن تنقید: چند مباحث‘‘ میں عابد سہیل نے احتشام حسین کے افسانوی مجموعے ’’ویرانے‘‘ کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ سید احتشام حسین کا شمار ترقی پسند ناقدین کی فہرست میں صف اول کے ناقد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، احتشام حسین کی شناخت بھی ناقد کی ہے حالاں کہ انھوں نے تخلیقی کارنامے بھی انجام دیے مگر تنقید کے مقابلے یہ تخلیقی سرمایے بہت کم اور مختصر ہیں۔ احتشام حسین کا ایک افسانوی مجموعہ بعنوان ’’ویرانے‘‘ شائع ہوا۔ احتشام حسین کی زندگی میں اس کے دوایڈیشن شائع ہوئے۔ عابد سہیل نے لکھا ہے کہ پہلے ایڈیشن میں پندرہ افسانے شامل تھے جبکہ دوسرے ایڈیشن میں دو افسانوں کا اضافہ کیا گیا ہے یعنی کل 17افسانے۔ (یہ بھی پڑھیں قاضی عبد الستار اور افسانے کی تنقید – نوشاد منظر )

جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا احتشام حسین کی شناخت ایک ناقد کی ہے، وہ خود کو بھی ایک ناقد ہی مانتے ہیں، اس بات کا اظہار انھوں نے اپنے مقدمے میں بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جب اچھے اچھے افسانے پڑھنے کو ملتے ہوں تو ’’کم اچھے‘‘ افسانے لکھنے کی کیا ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے زیادہ افسانے نہیں لکھے ہیں۔ میرا زیادہ وقت تنقیدی مضامین میں لگ جاتا ہے، اس لیے افسانہ لکھنے کے لیے جس سکون اور دماغی تازگی کی ضرورت ہے وہ کم میسر آتی ہے۔‘‘

(دیباچہ، ویرانے، سید احتشام حسین، صفحہ:11، اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ)

اس وضاحت کے باوجود ایک بڑے اور اردو کے اہم ناقد کی تخلیقات کا مطالعہ کرنا بے حد اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ عابد سہیل نے اپنے مضمون میں احتشام حسین کے افسانوں پر گفتگو کی ہے حالاں کہ اس کے مطالعے سے ہمیں تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔

عابد سہیل نے احتشام حسین کے افسانوی زندگی کا آغاز 1930 بتایا ہے۔ جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ اس زمانے کے افسانوں کو احتشام حسین نے شائع نہیں کروایا مگر انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ابتدا میں انھوں نے نیاز فتح پوری کے طرز نگارش کو اختیار کیا، انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ نیاز فتح پوری کے اسلوب پیروی کے چلتے ساری طاقت عبارت آرائی پر صرف ہوتی تھی اور افسانہ بے جان ہو جاتا تھا۔‘‘ عابد سہیل نے اپنے مضمون میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ 1930 کے افسانوں جس پر نیاز فتح پوری کا اسلوب حاوی ہے، اس کو احتشام حسین نے رد کردیا۔ دراصل احتشام حسین کو ادب میں آرہی تبدیلی کی آہٹ کا احساس ہوگیا تھا۔ یہ آہٹ چند برسوں بعد تیز آواز میں تبدیل ہوگئی۔احتشام حسین کے افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے عابد سہیل لکھتے ہیں:

’’ان [ویرانے میں شامل] افسانوں میں مصنف تصادم سے بچتا ہے، کشمکش کو اپنی انتہائوں تک نہیں پہنچاتا، کرداروں کی نکیل اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ ان افسانوں کے سارے کردار ایک طرح کے آدرش واد کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، یہ پریم چند کے آخری دور سے قبل کے افسانوں کا اثر ہے۔ ان میں عمل اور حرکت ہے لیکن جنس ان کے لیے ’’شجر ممنوعہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کردار نیاز اور یلدرم کی زبان نہیں استعمال کرتے، جنس کو محبت کے لیے سم قاتل بھی نہیں قرار دیتے لیکن عملاً اسے پس پشت ضرور ڈال دیتے ہیں اور کہانی کوئی نہ کوئی ایسا موڑلے لیتی ہے، جہاں جسمانی قربت کی یا تو ضرورت ہی نہیں رہتی یا کوئی مجبوری اس کی راہ میں آجاتی ہے۔‘‘

(’’فکشن تنقید: چند مباحث۔ عابد سہیل ۔ص:96-97)

عابد سہیل نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ احتشام حسین کے افسانوں پر صادق نظر آتا ہے۔ احتشام حسین کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہ احساس بار بار ذہن میں آتا ہے کہ انھوں نے جنس اور جنسی موضوعات سے دانستہ طور پر خود کو الگ رکھا ہے۔ احتشام حسین کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں موضوعاتی سطح پر نیاز فتح پوری اور سجاد حیدر یلدرم کا خیال بھی آتا ہے۔ عابد سہیل نے احتشام حسین کے چند کرداروں کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ مضمون احتشام حسین کے افسانوں پر مختصر تجزیہ ہے، خود موصوف نے لکھا ہے کہ چند افسانے ایسے ہیں جس پر تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ جہاں تک احتشام حسین کے افسانوں کا تعلق ہے تو ان کی تعداد گرچہ بے حد مختصر ہیں مگر فنی اعتبار سے کمزور نہیں۔ ’ویرانے‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کاش احتشام حسین نے افسانوں کے تعلق سے اتنی بے توجہی نہ برتی ہوتی اور چند افسانے مزید تخلیق کیے ہوتے تو بہتر ہوتا۔

’’فکشن تنقید:چند مباحث‘‘ کے دوسرے حصے میں عابد سہیل نے سات افسانوں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان تجزیوں میں ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘، ’’افق‘‘ اور ’’عمود‘‘، ’’تین مائیں، ایک بچہ‘‘، ’نیا قانون‘، ’مراسلہ‘، ’کھیل کا تماشائی‘ اور ’ٹیبل لینڈ‘‘ ہیں۔ عابد سہیل نے اپنے تجزیے میں افسانے کے فن پر بھی گفتگو کی ہے۔ یہ تمام مضامین مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ قاضی عبدالستار کے افسانے پر گفتگو کرتے ہوئے عابد سہیل نے لکھا ہے:

’’قاضی عبدالستار کا قلم حرکت کرتا ہے تو تشبیہیں اور استعارے کا غذ کے دونوں طرف سرجھکائے، ہاتھ باندھے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ نہ جانے کس وقت کس کی طلبی ہو جائے لیکن افسانہ میں انھوں نے خود دیر خاصی روک لگائی ہے اور اپنے قلم کی اس طاقت کو زنجیر نہیں بننے دیا ہے۔‘‘

(فکشن تنقید: چند مباحث۔ عابد سہیل ۔ ص:140)

ان چند جملوں سے قاضی عبدالستار کے افسانوں کو سمجھنا مشکل ضرور ہے مگر اتنی وضاحت تو مل ہی جاتی ہے کہ انھوں نے خود کو (افسانوں کی حد تک) تشبیہات واستعارات سے بڑی حد تک دور رکھا۔

عابد سہیل نے اپنے تجزیے میں افسانوں کے فن، افسانہ نگار کے اسلوب اور موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان تجزیات کے مطالعہ افسانے کی قرأت اور اس کی تفہیم میں پیش آنے والی دشواریوں سے قاری کو بڑی حد تک مدد ملتی ہے۔

جہاں تک عابد سہیل کے افسانہ تنقید کا تعلق ہے، نظریاتی اور عملی دونوں ہی جگہ ان کا اسلوب واضح ہے۔ وہ مبہم اور پیچیدہ زبان کے استعمال سے بڑی حد تک خود کو دور رکھتے ہیں۔عابد سہیل نظریہ ساز ناقد تھے، حالانکہ یہ بات بھی سچ ہے کہ ناقدین نے ان کے مرتبے کو نہیں پہچانا یا دوسرے لفظوں میں ان کے قد کے برابر ان پر توجہ نہیں دی گئی۔عابد سہیل ترقی پسند فکر کے ترجمان ضرور تھے مگر وہ ادب میں آرہی تبدیلی کو بھی قوب کرنے کو تیار تھے، یہی وجہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کی تنقید سے جہاں وہ ایک طرف اختلاف کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ان کے بہت سے خیالات کی تائید بھی کرتے ہیں۔ایسی کئی اور مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جہاں عابد سہیل دوسرے ترقی پسند ناقدین سے الگ اور منفرد نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عابد سہیل کی تخلیقات اور تنقیدات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تاکہ ادب میں ان کے مرتبے کا تعین ہو سکے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
abid sohailadabi meerasadabi miraasadabi mirasafsana aur afsana nigarnaushad manzarادبی میراثافسانہافسانہ اور افسانہ نگارافسانہ تنقیدتنقیدعابد سہیلنوشاد منظر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
تحفظ اردو:سرکاری سطح سے کرنے کرانے کے کچھ کام – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
اگلی پوسٹ
معاصر اردو  غزل کی شعریات – پروفیسر قدوس جاوید

یہ بھی پڑھیں

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

ڈاکٹر دیبا ہاشمی کی منٹو شناسی :”احتجاجی ادب...

ستمبر 2, 2024

رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

دسمبر 30, 2023

قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں...

مارچ 11, 2023

اردو کا پہلا عوامی اور ترقی پسند شاعر...

نومبر 2, 2022

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی: ایک فکشن –...

اکتوبر 5, 2022

گوپی چندنارنگ کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

جون 16, 2022

بہار میں اردو فکشن کی تنقید: روایت اور...

مئی 9, 2022

اپریل 14, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں