Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسینصابی مواد

معاصر اردو  غزل کی شعریات – پروفیسر قدوس جاوید

by adbimiras فروری 3, 2021
by adbimiras فروری 3, 2021 1 comment

شاعری محض موضوع ہے نہ صرف ہئیت بلکہ تحریر کا کون سا لسانی ،سماجی ،ثقافتی ، اور فنی یا جمالیاتی پہلو تحریرکو شعر بنادے گاکچھ کہا نہیںجا سکتا،کیونکہ آج بھی اگرشاعری،میکانکی نہیں ہے تو دائرہ در دائرہ،ذوق اور وجدان،جذبہ اور احساس کے مرحلوں سے گزر کر سامنے آنے والے ،ذات زندگی اور زمانہ کے جمالیاتی تجربات کے اظہار کا ہی دوسرا نام شاعری ہے۔چنانچہ غزل ہی نہیں کسی بھی صنف شاعری کے فنی و جمالیاتی اسراراور معیا ر کی شناخت کے لئے ،اس صنف کی شعریات کی تفہیم نا گزیر ہے۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرہ ،ثقافت زبان یا صنف میں شعر کہنے ،شعر کو بطور شعر قبول کرنے اور شعر کا معیار متعین کرنے کے لئے جن اقدار،شرائط اور اصولوں کو اجتماعی طور پربرتا اور تسلیم کیا جاتا ہے ان کے مجموعے کو ہم اس معاشرہ ،ثقافت،زبان یا صنف کی شعریات کہتے ہیں۔شمس الرحمن فاروقی نے ’’شعریات‘‘ کی اس تعبیر کی شرح کرتے ہو ئے لکھا ہے:

’’شعریات صرف ان اصولوں کا نام نہیں جن کی روشنی میں ہم کسی تحریر کو فن پارہ قرار دیتے ہیں ،اس کی صنف متعین کرتے اور اس کی اچھائی برائی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔شعریات ان اصولوں  کا بھی نام ہے جن کی روشنی میں کوئی تحریر بامعنی ہوتی ہے مثلاً غزل کی شعریات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس میں ایک متکلم بطور مرکزی کردار یا عاشق ہوگا اور ایک ذیلی لیکن بہت اہم کردار ’’غیر‘‘ کا ہوگا۔اس ’غیر ‘‘ کو رقیب ،دشمن ،غیر لوگ ،دنیا والے ،سیاسی مخالف یا مخالفانہ سیاسی سماجی کلام (Discourse) کسی بھی معنی میں پیش کر سکتے ہیں۔اس طرح کے اصولوں کو رسومیات (Convention) کہتے ہیں۔ان میں فی نفسہ کوئی جمالیاتی اصول نہیں  لیکن اس کو پیش ِ نظر رکھ کر جو شاعری ہوتی ہے اس جمالیاتی اصولوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔‘‘

(تعبیر کی شرح ،ص92)

اسی طرح گوپی چند نارنگ بھی مانتے ہیں:

’’وہ چیز جس کی بدولت شاعری بطور شاعری پڑھا جاتا ہے،فی نفسہ شاعری نہیں ،نہ ہی اس کے پڑھنے کا تجربہ ہے بلکہ شاعری کے بارے میں وہ علم ہے جس کو’ شعریات ‘ کہا جاتا ہے اور جس کا کچھ نہ کچھ تصور ہر زمانے میں موجود رہا ہے لیکن ادبی تنقید اس کے اصول و قوانین تمام و کمال منضبط نہیں کر سکی۔’ادبی قابلیت‘ یا ’ادبی نظام ‘ کا تصور بعض معترضین کے نزدیک نا پسندیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی اب بھی کمی نہیں جو کسی  بھی طرح کے نظم یا ضابطہ بندی کو ادب کی آزادہ روی اور بے روک ٹوک تخلیقیت کے منافی سمجھتے ہوں۔ان کی روسے،اگر ادب کے ’صحیح‘ مطالعے کا کوئی طریقہ آج تک وضع نہیں ہو سکا  تو ’ادبی قابلیت‘ اور ادبی عدم قابلیت کا تصور بھی منطقی اعتبار سے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔‘‘

(ساختیات،پس ساختیات اور مشرقی شعریات،ص119)

غزل کی شعریا ت کو بھی انھیںخطوط کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔

سبھی جانتے ہیں کہ غزل مخصوص لسانی و ادبی روایت کے اندر ، آزاد خود رو تخلیقی تجربات کا فطری تکثیری اور رمزیہ شعری اظہار سے عبارت ہے یہ وہ صنف سخن ہے جس میں مضمون و معنی آفرینی کی ندرت تمام تر ہنر مندیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو کر شاعری کے لسانی و شعری اور جمالیاتی و تعبیراتی امکانات کو وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے اور چونکہ غزل ہر نئے دور میں زندگی ، زمانہ اور ثقافت کی نئی لہروں کو اپنے اندر سمیٹ کر انھیں کمال فنی و جمالیاتی در وبست کے ساتھ بیان کرنے کی بھر پور صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرتی رہی ہے۔اس لیے غزل صرف ایک صنف شاعری ہی نہیں ہے بلکہ دیدہ و نادیدہ انسانی علائق سے متعلق جذبات اور احساسات اور فکر و آگہی کی مظہر مسلسل بھی ہے ۔ طبعی آمد اور بے محابہ اظہار کی سب سے زیادہ گنجائش رکھنے والی صنف غزل میں یوں تو ہر شعر خود اپنے وجود کا منفرد جواز رکھتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی بھی کسی غزل کے تمام اشعار غزل کے صنفی، فنی اور جمالیاتی تقاضوں (ردیف وقافیہ بحر و وزن ، لسانی تہہ داری، مضمون و معنی آفرینی ،ایمائیت،ایجاز،اختصار، رمزیت ، شعریت اور غنائیت وغیرہ) کے حوالے سے ایک دوسرے کے وجودی جواز کی حمایت بھی کرتے ہیں تصدیق بھی اور توسیع بھی۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کے الگ الگ اشعار میں ، معنی و مفہوم کا ظاہری فرق یاالتوا ) Differentiation ) اور انتشار تو ہو سکتا ہے، ہو تا بھی ہے، لیکن غزل میں اشعار کے معنوی ربط یا انتشار سے ماورا ایک منزل کیفیت و معنی اور نغمہ و موسیقی کی داخلی یکتائی کی بھی ہوتی ہے جو فکر و خیال کے ابعاد اور تضادات سے قطع نظر صرف، غزل کے ایک مجموعی تاثر سے عبارت ہے۔ (۔شفق سوپوری نے اپنی مشہور تصنیف ’’ اردو غزل اور ہندوستانی موسیقی‘‘ میںغزل کے اس پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے)

غزل کے یہ امتیازات ہی ہر دور میں غزل کے لیے ایک نئی ساخت کی تشکیل اور شعریات کی تازہ کاری کا جواز ثابت ہوتے ہیں، ویسے زندگی اور زمانہ کے ہر نئے دورانیے میں ہمہ جہت سماجی و ثقافتی حالات اور دیدہ و نادیدہ کوائف کے سبب غزل،تازہ کار لسانی ، شعری اور تعبیراتی رویوں کی بنا پر ’’ا جبنیت‘‘ کی حد تک نیا روپ ’’نئی ساخت‘‘ تو اختیار کر لیتی ہے لیکن اپنے بنیادی صنفی امتیازات ، لسانی و ادبی روایات اور شعریات سے صدفی صدلا تعلق نہیں ہو جاتی ۔الطاف حسین حالی نے کہا تھا:

زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے اس کو قدیم نمونوں سے کبھی استغنا حاصل نہیں ہو سکتا‘‘۔                                               ( یادگار غالب)

گوپی چند نارنگ بھی مانتے ہیں:

ہر نیا متن۔ ماقبل  کے کار ناموں کی زبان ،آہنگ  اور اصولوں (شعریات) کا ہی حصہ یا سایہ ہوتا ہے جو نئے متن میں نئے انداز میں نمایاں ہوتا ہے ‘‘۔

(ساختیات پس ساختیات)

غزل کی ساخت اور شعریات کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھائیں تو معلوم ہو گا کہ ہر دور میں بدلتی ہوئی ’’معاشرتی اور ثقافتی صورت حال‘‘ کے تناظر میں غزل کی مروجہ ساخت کے اندر، اِرد گرد موجود ، بنتے ٹوٹتے لسانی و شعری عناصر، غزل کی نئی ساخت اور شعریات کی تشکیل کے امکانات پالتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اُردو میں ابتدا سے آج تک اگرالگ الگ ادوار کی نمائندہ غزلوں کے متون اور ان کے توثیقی (Affirmative) یا متخالف (Oppositional) بین المتونی رشتوں کے زائیدہ معنی و مفہوم، کیفیت و تاثر پر غور کریں ،اور کرتے رہیں، تو ہر دور کی غزل کی ساخت کے اندر سے شگاف در شگاف غزل کی ایسی ساختیں سر ابھارتی نظر آئیں گی جنھیں ہم اینٹی ساخت یا پس ساخت کا نام دے سکتے ہیں ۔ امیر خسرو اور فائزؔ ، ولیؔ اور سراج، میرؔ اور سودا ، ؔ غالبؔ اور ذوقؔ،آتشؔ اورمصحفیؔ سے لے کر یگانہؔ، اقبالؔ ا ور جوشؔ اور شادؔ عظیم آبادی، ،جگرؔ اوراصغرؔ، حسرتؔ اور جمیلؔ مظہری،فیضؔ،مجازؔ،جذبیؔ اور مجروحؔ ؔسے بھی آگے مظہر امام اور شجاع خاور ،ظفر اقبال اوراحمد مشتاق تک اور اس سے بھی آگے عرفان صدیقی،اسعد بدایونی اور شہپر رسول ، سلطان اختر،عالم خورشید،عبدالاحد سازؔ،خورشید اکبر اورفرحت احساس سے لے کر رفیق راز،شفقؔ سوپوری ،مہتاب حیدر نقوی، راشد ا نور راشدؔ ،خالد عبادیؔ ،خالد کرار،رغبت شمیم ملک وغیرہ،مختلف ادوار کے شاعروں تک کی غزل کی ہر ساخت کی تہہ کے اندر سے ایک نئی ساخت کسمساتی اور با ہر آتی نظر آ تی ہے جو غزل میں مضمون و معنی آفرینی ،کیفیت طرازی اور اثر انگیزی کے علاوہ زبان اور رویہ کے اعتبار سے نئے ابعاد اور تازہ امکانات کے انجذاب اور اظہار کا پتہ دیتی ہے ، ذرا اور قریب سے دیکھیں اور سمجھیں کہ ہر دور کی غزل کی ساخت اگلے دور تک آکر کسی نہ کسی حد تک اپنی داخلی  (اوربعض اوقات خارجی بھی ) ’’ ہئیت‘‘ بدل لیتی ہے۔غزل کی داخلی اور خارجی ساخت کی یہ بتدریج تبدیلی ا صلاًً غزل کی شعریات کا ترفع ہے۔

’’ساختیات ‘‘کی رُو سے ’ بھی ’شعری ساخت‘‘ (Poetic Structure) سے مراد محض کسی شعری تخلیق کی خارجی اور اکہری ساخت ہی نہیں بلکہ تخلیق کی داخلی تہہ دار ساخت بھی ہے۔ خارجی ساخت، میں عام طور پر الفاظ و تراکیب کی فنی ترتیب کے حوالے سے طے شدہ ،اکہرا، اور وحدانی لغوی معنیٰ ہوتا ہے جبکہ تخلیق کی باطنی ساخت ، الفاظ کے غیر روایتی ، منفرد تخلیقی و جمالیاتی برتاؤ کے سبب آزاد اور فطری ، صدپہلو اور تکثیری معنی و مفہوم اور کیفیت و تاثر کا اخراج کرتی ہے ۔ اسی لیے کسی بھی تخلیق کے متن کی تفہیم اور توضیح و تعبیر کے عمل میں قاری کی شرکت کے امکانات اگر وسیع ہوتے ہیں تو اس تخلیق کی باطنی ساخت کی بنا پر ہوتے ہیں  خارجی ساخت کی بنا پر نہیں ۔یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہنگامی طور پر کسی نظریہ اور مقصد کے تحت وجود میں آنے والی شعریات کی عمر بھی بس چار دن ہوتی ہئے ترقی پسند اور جدید غزل کی شعریات  کے زوال کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ واقعہ تویہ ہے کہ پائدار شعریات دنوں اور مہینوں میں نہیں برسوں اور اکثر صدیوں میں تشکیل پاتی ہے ۔

تاریخی اعتبار سے ، اردو غزل کی منفرد ساخت کی تشکیل کاعمل پندرہویں سے سترہویں صدی عیسوی کے دوران دکن میں ہی شروع ہو چکا تھا ۔ہند اسلامی معاشرت  و ثقافت کے پیش نظر،ملک خوشنودؔ،رستمیؔ،صنعتی ؔاور حسن شوقیؔ وغیرہ نے ولیؔ دکنی سے پہلے ہی  فارسی غزل سے الگ، اردو غزل کی منفرد ساخت کے بیج بو دئے تھے ۔دکنی اردو کے ان مثنوی نگار شعرا کے یہاںاردو غزل کے علاوہ ،غزل کی  ہئیت میں نظمیں، مربعے،اور مرثئے بھی ملتے ہیں ۔ در اصل اس دور میں دکنی اردو شعرا کے نزدیک اہمیت ’’سخن‘‘(شاعری )ساخت ،یا لسانی نظام کی نہیں ۔اس کا اندازہ’’ سخن‘‘ سے متعلق رستمیؔ(خاور نامہ) وجہی (قطب مشتری ) غواصیؔ(سیف الملوک وبدیع الجمال) اور صنعتی ؔ(  قصہہ بے نظیر) وغیرہ میں فارسی مثنوی کی شعریات کی ر وشنی میں’’شاعری ‘‘کے اصول اور مقام و مرتبہ سے متعلق مثالیت پسندانہ خیالات بیان کئے ہیں ۔ رستمی ، وجہی اور غواصی سبھی شاعری کو ایک غیبی قوت مانتے تھے ۔ صنعتی کے یہ اشعار  اس دور کے نظریہ شعر کی ترجمانی کرتے ہیں.

سخن   گنج ہے  عالم الغیب  کا                      سخن موج زن ملک  لاریب کا

سخن   بادشاہِ  جہاں گیر  ہے                       سخن بس کے عالم کوں اکسیر ہے

سخن گر  نہوتا  تو اے نیک ذات                   نہوتا کدہی شش جہت شش جہات

سخن  کا سدا  سبز  گلزار   ہے                    سخن  کا  سدا  گرم  بازار  ہے

بحوالہ ،تاریخ ادب اردو ۔جلد اول  از ڈاکٹر جمیل جالبی ۔ص۔۲۷۸

یہ سبھی شعرا اصلاً مظنوی نگار ہی تھے غزلیں ،خال خال ہی شوقیہ طور پر لکھی ہیں ۔اس لئے غزل کی ساخت کی تشکیل کی جانب توجہ نہ ہو سکی۔   اردو غزل کی باضابطہ، منفرد ، اور شناختی ساخت کی آبیاری اصلاًً ولی دکنی کا کارنامہ ہے۔ لیکن ولیؔ کی انگلی پکڑ کر اردو غزل نے جب دکن سے نکل کر، دِلی میں قدم رکھا تو ، آبرو اور حاتمؔ وغیرہ نے ا س غیرمانوس شکل و صورت والی اردو غزل کے ساتھ لسانی کھیل کھیلنا شروع کردیا۔ گرچہ میرؔ نے عوام سے گفتگو کا انداز بیاں اپنا کر ،اور دردؔ اور سوداؔ نے غزل میں تصوف اوراخلاقیات ، اسرار حیات اور رموز کائنات کے مضامین داخل کر کے اس کھیل کو روکا تو سہی لیکن غزل کی سابقہ کنگھی چوٹی کی ساخت کو پورے طور پر توڑ نہ سکے اور نہ کوئی مستحکم دیرپا ساخت تشکیل دے سکے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ  میرؔ ؔکے عہدنے ان کی غزل کی شور انگیزی کی قدر نہیں کی،جیتے جی میر ؔاپنی غزل کے ساتھ ، تنہا،تنہا ہی رہے ۔ دوئم یہ کہ دردؔ اور سوداؔ قابل قدر تو ہیں لیکن ان کے لسانی اور شعری وژن ، فکر و نظر ، تخلیقیت، اظہار و بیان اور ترسیلیت میں ویسی غیر معمولی قوت اور انفرادیت نہ تھی جیسی میراور پھر ؔ ، غالبؔ اور اقبالؔ کے یہاںملتی ہے اور جس کی بنا پر ،ذرا دیر سے ہی سہی ، میرؔ ، غالبؔ اور اقبال کو اردو غزل کاساخت شکن بھی تسلیم کیا جاتا ہے اور ساخت ساز بھی ۔ ( یہ بھی پڑھیں غالب کی خیال بندی – مہرفاطمہ )

در اصل معاملہ یہ بھی ہے کہ زندہ زبانوں یا اضاف کی شعریات جامد نہیں ہوتی بلکہ اپنی اندرونی حرکیات کے سبب تغیر پذیر اور لچکدار ہوتی ہے اس لئے گونا گوں اسباب کی بنا پر ہر  نئے دور میں ہر صنف کی شعریات ایک نئی شکل میں سامنے آتی ہی ہے جو اس صنف کے مزاج اور معیاریعنی باطنی ساخت کی تشکیل جدید میں معاون ہوتی ہے۔لیکن جیسا کہ کہا جا چکا ہے نئی شعریات ،بنتے ،بنتے ،بنتی ہے اوربعض اوقات بننے سے پہلے ہی مٹ جاتی ہے یا کوئی اور شکل بھی اختیار کر لیتی ہے ۔ کلاسیکی ،رومانی اور ترقی پسند غزل کی شعریات کی وضاحت سے گریز کرتے ہوئے اگراس حقیقت کو ہی تسلیم کرتے چلیں کہ اُردو غزل جدیدیت سے آگے نکل کر مابعد جدید ثقافتی صورت حال کا سامنا اور اظہار تو ضرور کررہی ہے لیکن مابعد جدیدیت کی شعری جمالیات کے خط و خال واضح نہ ہونے کے سبب تخلیق کاریہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ موضوع ، زبان ،۔زندگی زمانہ اور اظہار و بیان کے ضمن میں کون سا رویہ اختیار کیا جائے اور شعر،غزل کس طرح کے لسانی ،فنی، اور جمالیاتی نظام کے تحت کہی جائے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج ترقی پسند ، جدیداور مابعد جدیدغزل کے مابین فرق کرنا،اور پھر معاصرغزل کی شعریات کے شناختی امتیازات کی نشاندہی کرنا آساں نہیں ہے ۔ بلکہ صرف غزل ہی نہیںکوئی بھی صنف ایسی نہیں ہے جس کی کوئی وحدانی ، حتمی اور مستقل شعریات یا ساخت باقی رہ گئی ہو۔ اس صورت حال کو مابعد جدید لسانی وادبی تھیوریز کے وفور نے اور زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ مابعد جدید تھیوری ،ادب کے حوالے سے جن نکات پر توجہ مرکوذ کرنے پر اصرار کرتی ہے وہ ہیں متن کی ساخت ، متن کی قرات، متن کے تفاعل میں قاری کی شرکت کے امکانات ، متن سے مصنف کا غیاب ، متن کا دوسرے متن یا متون سے رشتہ ، متن میں معاشرتی، سیاسی ،ثقافتی تار و پود اور متن سے اخذ معنی کے آداب و شرائط  وغیرہ ۔ اسکے علاوہ روسی ہئیت پسندوں ،رومن جیکبسن ،شکلووسکی وغیرہ کے مطابق فن پارے کی اصل شعری یا ادبی ساخت،اس کی باطنی ساخت ہی ہوتی ہے ۔ خار جی ساخت کا تعلق محض اظہار و بیان کی رسمیات  سے ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو ، دیگر اصناف کے مقابلے میں غزل پر اس کا زیادہ اطلاق ہوتا ہے لیکن غزل کی تاریخ ، رفتار اور معیار کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ غزل کی جو ساخت محض نقل، پیروی ، شعبدہ بازی پراپگنڈہ، اور شعری اظہار کے شوق یا مجبوری کی بنا پر وجود میں آتی ہے یا ’’لائی جاتی ہے‘‘ وہ غزل کی پائدار شعری ساخت کو نمایاں نہیں کر پاتی( ظفر اقبال ،محمد علوی اور ندا فاضلی وغیرہ کی بعض غز لیں سامنے کی مثالیں ہیں)۔ اس لیے ایسی ساخت نہ تو غزل میں کوئی گہرائی و گیرائی پیدا کر پاتی ہے اور نہ ہی اس سے غزلیہ شاعری کے سرمایہ میں کوئی دیرپا قابل قدر اضافہ ہو پاتا ہے ۔ اس کی ایک اور  مثال ، تاریخ میں حالی کی نسبت سے بھی ملتی ہے جس سے سبھی واقف ہیں۔ حالی نے کچھ تو غالب کی غزل کے اجتہادی رویوں کے شدید احساس اور کچھ قوم کی بیداری اور اصلاح کی غرض سے بھی غزل کی داخلی ساخت بدلنے کی کوشش کی تھی ۔ حالی (دوسرے درجے کے ہی سہی) غالب شناس تھے ساتھ ہی غزل (شاعری) کو قوم کی تہذیبی میراث بھی گردانتے تھے۔ حالی نے تقاضائے وقت کے تحت ، ابتذال ، رکاکت ، تصنع، لفاظی ، صنعت گری اور قافیہ پیمائی وغیرہ پر مبنی غزل کی روایتی اور تقلیدی ساخت کی رد کر کے صداقت ،جوش، سادگی، اصلیت ، اور اصلاح پسندی کے حوالے سے غزل کی نئی ساخت کی تشکیل کا ڈول تو ڈالا  لیکن کوئی خاطرہ خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہوا سوائے اس کے کہ سماجی ،ثقافتی اور قومی حالات کی بنا پر اثر مارہروی، عظمت اللہ خاں، اکبر اِلہٰ آبادی ، چکسبت اور عزیز ، صفی اور ثاقب لکھنوی وغیرہ نے اپنے طور پر غزل میں لسانی و شعری ، فنی وفکری اور تعمیری اعبتار سے غزل میں عا م ڈگر سے ہٹ کر ،مٹھی بھر قومی،سماجی ،سیاسی اور ایمانی موضوعات ضرور شامل کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے،لیکن اس سے غزل سے زیادہ نظم کو فائدہ پہنچا ۔ پھر بھی حالی وغیرہ      نے غزل کی ساخت کے جو نمونے پیش کئے تھے وہ  بالآخر اقبالؔ تک آکر ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں اردو غزل کی    داخلی ساخت اور شعریات میں ،تقدس، طہارت اورتعمیریت کی عطر بیزی اقبال کی غزل کے طفیل ہی ہوتی ہے۔

اب تک کی گفتگو سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ،  غزل کی جو ساخت کسی بھی مخصوص عصری لسانی،سماجی ؎اور ثقافتی صورت حال میں سنجیدہ اور مثبت تخلیقی شعور کے اندر سے، فطری اُپج اور اُبال کے نتیجے میں لفظ و پیکر کے آزادانہ ترکیبی عمل کے ساتھ وجود میں آتی ہے وہ ساخت دیر پا ہوتی ہے اور آخر کار اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔گویا ، خارجی اسباب و عوامل اور داخلی تغیرات کی بنا پر ہر نئے دور میں غزل کی مروجہ ساخت کے اندر سے ہی ایک نئی ساخت وجود میں آتی ہے جو سابقہ ساخت کو ایک طرف سرکاتے جانے کے تیور رکھتی ہے۔ لیکن غزل کی نئی ساخت ، سابقہ ساخت کو پورے کا پورا رد ، یا بر طرف کرہی دے یہ ضروری بھی نہیں ۔کیونکہ خود نئی ساخت میں بننے اور ٹوٹنے (Construction & Deconstruction) پیچھے لو ٹنے اور آگے بڑھنے کا عمل ساتھ ساتھ پُر اسرار طور پر چلتا رہتا ہے۔ ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ولی نے(سفر دلّی کے بعد) اپنی غزل سمیت پوری دکنی غزل کی ساخت کو ایک نیا روپ دیا اور غزل میں، لسانی و موضوعاتی ، فنی وجمالیاتی ہر ہر پہلو سے نئے رجحانات داخل کرنے کی شروعات بھی کی۔ یہ ایک اہم کارنامہ تھا جسے ولی نے کر دکھایا۔ابوالکلام قاسمی نے اپنی تصنیف ’’شاعری کی تنقید‘‘میں شامل اپنے مقالے ’’ولی کا شعری طریق کار ‘‘میں اس پر تفصیل سے جو بحث کی ہے۔ اس سے ولی کی شاعرانہ قدر و قیمت کے نئے پہلو تو سامنے آتے ہی ہیں ساتھ ہی اردو غزل کی شعریات کے ابتدائی معتبر خاکے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے ۔ ولی اردو کے پہلے بڑے شاعر ہیں، لیکن سترہویں صدی کے اخیر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل کے زوال آمادہ دور کے شاعرولیؔ، بس ولی ہی تھے میر ، غالبؔ یا اقبال نہ تھے پھر بھی ولی نے غزل کا لسانی نظام ہی نہیں بدلا ، ’’ اپنی ترقی یافتہ صورت میں تشبیہ و استعارہ ،تمثیل وتلمیح ،علامت  و پیکر اور دوسری متعدد شعری رعائتوں کے برتاو اورمضمون ومعنی آفرینی کی تازی کاری سے غزل کی نئی ساخت اور شعریات کے خط و خال بھی واضح کر دئے ۔ پھر بھی  ولی کو احساس تھا کہ ان کا کام مکمل نہیں ہواہے اسی لئے اپنے پیر ومرشد حضرت سعد اللہ گلشن کے مشورے پر جزوی طور پر عمل کرنے کے باوجود ،شعر کی تازہ کاری کے حوالے سے یہ بھی واضح کر جاتے ہیں کہ ۔

راہ مضمون  ِ تازہ بند نہیں

تاقیامت کھلا ہے باب سخن

اور ولیؔ دکنی کی یہ توقع جھوٹی بھی نہیں ثابت ہوئی ، ان سے تھوڑی ہی دوری پر کھڑے میر نے کنگھی چوٹی اور چوماچاٹی والی غزل کی ساخت کو ایک طرف سرکاکر ولی کی رکھی ہوئی بنیاد پر ہی اپنی تمام ترشور انگیزی کو بروئے کار لا کر غزل کی شعریات کی وہ بلند و بالا عمارت کھڑی کی جس پر غالب کیا آج بھی ایک زمانہ رشک کرتا ہے ۔گوپی چند نارنگ(اسلوبیات میرؔ)اور شمس الرحمن فاروقی (شعر شور انگیز )کے فرمائے ہوئے کو  مستند مانیں یا نہ مانیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے

غزل کی ساخت میں فرد اور معاشرہ کے رشتوں کی نوعیت ماحول اور ثقافت کے ساتھ مفاہمت یا مزاحمت کی نئی صورتیں ، محرکات اور رویے غزل کی زبان کے اندر ہی سے نئے  ، تشبیہات واستعارات علائم اور پیکر کی شکل میں رونما ہوتے ہیں۔ اور غزل کی ساخت کی شناخت قائم کرتے ہیں۔ دکنی دور کی غزل کی ساخت میں خاص طور پر ولی ؔکے یہاں دکن کے عصری ثقافتی مزاج اور رویوں کے ساتھ مفاہمت کا رجحان بھی ملتا ہے اور مزاحمت کا بھی۔

مت غصے کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا

ٹک مہر کے پانی سوں یہ آگ بجھاتی جا

ولیؔ دکنی

ولیؔ شعر میرا سراسر ہے درد

خط وخال کی بات ہے خال خال

محمد قلی، عبداللہ قطب شاہ، وجہیؔ ، شاہیؔ اور ہاشمیؔ سے لے کر ولی اور سراجؔ تک کے یہاں عصری ثقافتی صورت حال کے ساتھ  مفاہمت کے نتیجے میں غزل کی اولین ساخت کی تشکیل ، عیش کوشی اور حسی لذتیت  Sensuous Pleasure کی ایسی  ہی کیفیات سے ہوتی ہے۔ عورت سے گفتگو،حسن و عشق کا بیان ،معشوق کا وعدہ ، ناز و ادا ، عاشق کی بے خودی ،دیوانگی جیسے موضوعاتاس دور کی غزل کی ساخت ہی نہیں شعریات کے بھی حاوی امتیازات تھے ۔ گرچہ ولیؔ اور سراجؔ وغیرہ کے یہاں ایسی غزلیں یا اشعار بھی موجود ہیں جو دکنی غزل کے مروجہ اور رویوں کے یکسر خلاف ہیں مثلاً

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد  کا   اعتبار کھوتی ہے

ولیؔ دکنی

 

دریائے بے خودی  کوں نہیں انتہا  سراجؔ

غواصِ عقل و ہوش کوں واں بھول چوک ہے

سراجؔ اورنگ آبادی

یہاں یہ بھی سمجھتے چلیں کہ غزل کی شعریات کی تفہیم کے لئے کئی اور باتوں کا  بھی خیال رکھنا ضروری مانا جاتا ہے مثلاً، تخلیق ًشعر کے محرکات اور اکتسابات ، متن میں مضمون یا معنی کی تخم ریزی Dissemination) ( متن سے اخذ معنی اور معنی کی تشکیل یا رد تشکیل میں قاری کے لاشعور ،مطالعہ ،زبان دانی اور تہذیبی انسلاکات ، کے علاوہ متن میں معنی کی توسیع و تجدید اور تحدید والتو۔ الفاظ کا لسانی  و جمالیاتی برتاو ، متن کی معیناتی (Semantic) نحویاتی (Syntactical) اور لفظیاتی (Verbal) جہتیں وغیرہ، ظاہر ہے کہ عام بلکہ مخصوص ، باذوق اور سہردئے (Ecrivian) قارئین بھی شعر فہمی اور اور قدر سنجی سے متعلق ان ڈھیر سارے نکات کی بنا پر سخن شناسی کے عمل کو، ایک لسانی و نظریاتی کھیل ، ادبی گورکھ دھندہ ، علمی مشقت یا پھر فلسفیانہ دیدہ ریزی ہی سمجھیں گے۔ اسی لئے واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی قاری یا نقاد کسی بھی شعر، ادبی تخلیق کو سمجھنے سمجھانے کے لیے چند ایک نکات پر ہی تو جہ مرکوذ کر پاتا ہے ۔ کیونکہ کسی بھی جائزے میں تمام نکات کو بروئے کار لانا نا ممکن کی حد تک دُشوار ہے ۔لیکن معاملہ یہ ہے کہ آج کی غزل کے حوالے سے غزل کی ساخت اور شعریات کا جائزہ لیتے ہوئے ممکنہ حد تک مندرجہ بالا نکات کو ہی سامنے رکھنا ہو گا۔ یہی نکات غزل کی کائنات میں بھی داخل ہونے کے دروازے ہیں پھر بھی آسانی کے لیے رولاں بارتھ کے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ادبی متن کے اندرون  میں داخل ہونے کا سب سے اہم اور ہمہ جہت امکانات رکھنے والا دروازہ ’’زبان‘‘ کا دروازہ ہے ۔ چونکہ غزل میں بھی زبان ہی بولتی ہے۔ شاعر (Author) نہیں اور غزل یا غزل کے کسی شعر کے وجود میں آنے سے پہلے اور بعد ۔ غزل یا (شعر) کے اندر اور ارد گرد زبان ہی ہوتی ہے،اسی لئے کسی  شعر(غزل یانظم)  کے عمدہ اور اعلیٰ، پست یا ادنیٰ ہونے کا انحصار بھی اسی بات پر ہوتاہے کہ شعر میں زبان یعنی الفاظ و تراکیب کو کس طرح برتا گیا ہے ۔وہاب اشرفی کی رائے میں:

’’الفاظ۔۔۔۔شاعروں کے ہاں گیلی مٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔۔کوئی شاعر اگر الفاظ کے برتاو میں Conventional اور Refentaial رجحان کا پتہ دیتا ہے تو اس کی حیثیت ایک عمومی اور معمولی خالق کی ہو گی۔۔۔۔ ہر بڑا شاعر اپنے رویے میں جدید ہوتا ہے اور گھسے پٹے الفاظ میںبھی اپنی تخلیق روش سے نئی روح پھونکتا ہے ‘‘ ۔ ۱؎

میر ، غالب اور اقبال اور فیض کے یہاں جہاں الفاظ کو غیر روایتی طور پر منفرد تخلیقی صلاحتیوں اور فنی و جمالیاتی انفراد و اجتہاد  کے ساتھ برتا گیا ہے وہاں شعر میں الفاظ کے عمومی اور لغوی معنی کا التوا (Differntiation) ہوتا ہے اور ایک ایسی تہہ دار، استعاراتی ،اشاراتی اور رمزیہ تخلیق فضا وجود میں آتی ہے جو شعر کے معنیاتی امکانات کو وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے غزل کے اشعار کی اسی فضا کو غزل کی تخلیقی ساخت (Creative Construct)کہتے ہیں ، سوسیئر ، جیکب سن، لیوی اسٹراس اور جولیا کرسٹیوا بھی ادب میں زبان کے استعمال کے حوالے سے یہ مانتے ہیں کہ شعر و ادب میں زبان محض اشیا کو نام دینے والا نظام نہیں بلکہ زبان ، اشیا کے نادیدہ پہلووئں کو سامنے لانے ، معانی کے افتراقات کو ظاہر کرنے اور معانی کے لامحدود امکانات کی نشاندہی کرنے والے نظام کا نام ہے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ غزل کے کسی بھی عمدہ شعر کا صرف اور محض ایک ہی معنی و مطلب نہیں ہو سکتا۔ شعر سے کوئی ایک ہی طئے شدہ اور حتمی fixed & Final معنی بر آمد ہو تو وہ شعر لازماًً پست اور ادنیٰ ہو گا۔ اعلیٰ و عمدہ شعر میں یہ صفت ہونی ہی چاہئے کہ الگ الگ ماحول، مقام اور زمانہ میں ہر قاری شعر کی الگ الگ تشریح کر سکے۔ میر غالب اور اقبال جیسے بڑے شاعروں کے اشعار کی تشریح ہر نئے دور میں نئے انداز سے کئے جانے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔زبان کے برتاو کی بنا پر ہی اکثر ایک ہی موضوع پر لکھے گئے کسی ایک ہی شاعر کے مختلف اشعار میں معنی و مفہوم ، معیار و مقام کے مابین نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ مثلا میرؔ کے یہ دو اشعار دیکھئے۔

فرصت بود باش یاں کم ہے

کام جو کچھ کرو شتاب کرو

 

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

دونوں اشعار میں مضمون تقریباً ایک ہی ہے ۔حیات انسانی کی بے بضاعتی لیکن دوسرا شعر یقیناً پہلے شعر سے بڑا ہے کیونکہ دوسرے شعر میں میرؔ نے لفظ ’’مرگ‘‘ کو عمومی لغوی معنی سے الگ غیر روایتی مفہوم میں برتا ہے اور موت کو وقفہ سے تشبیہ دے کر سفر حیات کو ایک لامتنا ہی عمل میں تبدیل کردیا ہے جس کی راہ میں موت رُکاوٹ کا موجب نہیں بنتی ظاہر ہے کہ دوسرے شعر میں انفراد و عظمت کی یہ کیفیت مخصوص و منتخب الفاظ کے غیر معمولی تخلیقی برتاو ٔکے سبب ہی  پیدا ہوئی ہے۔

الفاظ(تشبیہ، استعارہ، پیکر اور علامت وغیرہ) کے غیر روائتی ،اجتہادی برتاو کے سبب ہی کبھی ایک شاعر کا شعر اسی مضمون کے کسی دوسرے شاعر کے شعر سے بلند ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرے شاعر کا شعر پہلے شاعر کے شعر سے بڑا۔مثلاً میر کہتے ہیں۔

بالیں پہ میرے گھر سے وہ آوے گا جب تلک

کر  جاؤں گا سفر ہی  میں دنیا سے  تب تلک

اور غالب کاشعر ہے

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن         خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

غالب نے میر کے مضمون کو تغافل ، خاک اور خبر جیسے روزمرہ کے الفاظ کو منفرد فن کاری اور تخلیقی شعور کے ساتھ برت کر شعر کو کہاں سے کہاں پہنچا  دیا ہے۔اسی طرح غالب کا یہ شعر دیکھئے۔

وہ نگا ہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دِل کے پار

جو  مری  کو تاہی قسمت  سے  مژگاں ہو گئیں

اس شعر کی عمدگی پر کس کوشبہ ہوسکتا ہے لیکن اب میر کے اس شعر پر غور کریں۔

اُٹھتی نہیں حیا سے تاہم فلک پہ پہنچیں

پھرتی ہیں وہ نگاہیں پلکوں کے سایہ سایہ

صاف ظاہر ہے کہ وہی مضمون میر کے شعر میں فلک ، حیا ، نگاہ اور پلک کے حوالہ سے ’’سایہ سایہ‘‘ کی ترکیب کے غیر معمولی برتاو کے سبب کہیں زیادہ با اثر اور ہمہ گیر شعری تجربہ کے سا نچے میں ڈھل گیا ہے۔ اسی طرح غالب کے اس شعر میں معنی آفرینی کی تازہ کاری سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔

عمر بھر دیکھا گئے مرنے کی راہ

مر گئے پر دیکھئے دکھلائیں کیا

اُستاد ذوق نے اسی خیال کو اپنے شعر میں اس طرح باندھا ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھرجائیں گے

غالب کا ذوق سے موازنہ بدمذاقی ہو گی لیکن کیا کیجئے کہ اس مقام پر الفاظ کے نادرونایاب برتاو کے سبب ذوق کا شعر ، غالب کے شعر سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ غزل کی قدیم وجدید ساخت ہو یا شعریات ۔ روایات ہوں یا اجتہادات ہر جگہ ان کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھنے ، ترمیم واضافہ کر نے اور آگے بڑھانے کا انحصار بھی زبان پر ہی ہوتا ہے رولاں بارتھ کے مطابق اگلوں کی تحریریں زبان کے حوالے سے پچھلوں سے ادب لکھوانے کا سبب بنتی ہیں اور شعر کی زبان ہی کے حوالے سے حالی نے  رولاں بارت سے بہت پہلے’’ یاد گارِ غالب‘‘ میں کہا تھا :

’’زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے اس کو قدیم نمونوں سے کبھی استغنا حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘۱؎

دراصل کسی بھی تازہ غزل یا غزل کے اگلے شعر میں ،سابقہ یا حالیہ غزل یا شعر کے اشارے کنائے ،تخلیقی رویّے فکری لہریں ، فنی اصول وضوابطہ (شعریات) اور لسانی و جمالیاتی محاسن کے اجزا (Tissues) زبان ہی کے ذریعے داخل ہوتے ہیں۔ ان اجزا کے پاؤں ردیف و قافیہ ، بحر و وزن ، مضامین ، روایات اور رجحانات اور غنائی عناصر کے علاوہ غزل کے لسانی اور تعبیراتی نظام Interpretive Grid اور نئے سماجی و ثقافتی حوالوں اور اکتسابات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی اجزا اور ان کے انسلاکات لفظ و پیکر کے ترکیبی عمل کے ساتھ بیان کردہ شعری تجربہ کی بنیادپر شعر کو ایک ساخت عطا کرتے ہیں گویا غزل گو شعر ا زبان کے روایتی یا اجتہادی برتائوکے ذریعے غزل کے عصری لسانی و شعری ، سماجی و ثقافتی تقاضوں کے مطابق جس مقام اور معیار سے غزلیں کہتے ہیں اسی سے کسی بھی دور میں غزل کی ساخت کا تعین ہوتا ہے۔

غزل (یا کسی بھی صنف) کی ساخت کا ثقافتی مظاہر کے ذیلی ساختیوں سے بھی گہرا تعلق ہوتا ہے جو اشعار کے پس منظر میں فعال و متحرک ہوتے ہیں اسی لیے کسی بھی دور کی غزل کی ساخت کی تشکیل میں اسکے ماحول اور ثقافت کے مزاج اور رویوں کا گہرا عمل دخل ہوتا ہے مثلاً میر اور غالب کے حوالے سے کلاسیکی غزل یا مظہر امام ، مخمور سعیدی ، ظفر اقبال اور شہریار کے حوالے سے جدید غزل کے اندر زبان کے دروازے سے اُتر کر غزل کی ساخت کا تجزیہ کیا جائے تو غزل یا غزل کے اشعار کے مختلف و متنوع مزا جوں اور رویوں کا انکشاف ہو گا۔ اور یوں غزل کی ساخت میں ثقافتی حوالوں کے ساتھ معنی کی تخم ریزی (Dissemination) معنی کے افتراق (Differentiation) اور تخلیقی معنویت کی نت نئی صورتیں سامنے آئیں گی۔ گوپی  چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی ، وہاب اشرفی، وزیر آغا ، اور حامدی کاشمیری نے اپنے مطالعات میں اس کی وافر مثالیں پیش کی ہیں۔  چنانچہ جدیدیت کے دور کے شعرا ناصر کاظمی ،شکیب جلالی،مظہر امام،وحید اختر ،خلیل الرحمن اعظمی ، شاذ تمکنت اور حسن نعیم مظفر حنفی کے بعد کے شعراعرفان صدیقی ،اسعد بدایونی ،رؤف خیر، فرحت احساس ،شہپر رسول ،عبد الاحد ساز ،رفیق راز ، شفق سوپوری ،عالم خورشید ،خالد بشیر وغیرہ شاعروں کی آج کی غزلوں کی ’’نئی ساخت‘‘ میں اجنبی آوازوں کے ساتھ ساتھ سابقہ غزل کی مانوس سرگوشیاں بھی اپنے وجود کا پتہ دیتی ہیں اس کی بنیادی وجہ حالیہ اور سابقہ غزل کی ساخت اور شعریات کے مابین موجود جدلیاتی رشتہ ہے۔مثلاً عرفان صدیقی کا شعر ہے:

ترے وصال سے کچھ کم نہیں امید ووصال

کہ ہم ہلاک ہوئے ہیں خوشی میں پہلے سے

 

اور غالبؔ نے کہا تھا:

ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ  خوشی سے  مر نہ جاتے  اگر اعتبار ہوتا

غالب ؔ کا آسان سا شعر ہے:

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں  اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

 

اسعد بدایونی نے کم و بیش اسی مضمون کو اس طرح پیش کیا تھا:

میں ایک شاخ کو تلوار کر کے لڑتا ہوں

میں  ایک گلاب کو اپنی سپر بناتا ہوں

معاصر غزل میں سابقہ غزل کے لب و لہجے کی نشاندہی اور بھی سینکڑوں اشعار میں کی جا سکتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کوئی بھی زندہ اور فعال صنف، مثلاً غزل_ عالمی ، لسانی وادبی ا ور جمالیاتی و نظریاتی اقدار اور رویوں کوقبول تو کرتی ہے لیکن مقامی معاشرتی و ثقافتی نشیب فراز کو بھی اپنے اندر سمیٹتی ہے  اور پھر شاعر کو نا محسوس طور پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ غزل کے فنی و جمالیاتی تقاضوں ،رسومیات اور اجتہادات کا ممکنہ حد تک لحاظ رکھتے ہوئے ، تازہ ترین شعری رویوں اور لسانی ومعنیاتی نظام کی رُو سے اپنے تخلیقی تجربات کا اظہار کرے۔ اس طرح داخلی اور خارجی ہئیت کے ساتھ غزل جس نئے روپ میں سامنے آتی ہے وہی اس صنف غزل کی نئی ’’ساخت‘‘  نئی شعریات ہوتی ہے۔اس کے بہترین نمونے شہپر رسول ،سلطان اختر،مہتاب حیدر نقوی ،فرحت احساس ،عالم خورشید، جمال اویسی ،شہناز نبی ، رفیق راز، عالم خورشید،عبد الاحد ساز شفق سوپوری راشد انور راشدؔ اور خورشید اکبروغیرہ کے یہاں ملتے ہیں مثلاً پہلے شہپر رسول کے یہ چند اشعار دیکھئے جن کو عصری سماجی و ثقافتی صورتِ حال کے حوالے سے اجتماعی کرب و اذیت کا اظہار ایک نئے لب و لہجے میں ہوا ہے۔

بس آنکھ ہی سے نہیں ،جان ودل سے روتے ہیں

مگر اُس  آن میں ہم کس جہاں کے ہوتے ہیں

 

ایک آنسو اجنبیت کا ،ندی بنتا گیا

ایک لمحہ تھا تکلف کا صدی بنتا گیا

 

روایت صاف گوئی کی ہمیں بھی یاد ہے لیکن

نہ چہرہ دیکھتا ہے  وہ نہ رشتا  دیکھتا ہے وہ

شہپر رسول کی طرح مہتاب حیدر نقوی کے بھی اشعار بھی لفظ و معنی کی طرحدار یوں کے سبب دل میں اتر جاتے ہیں۔ایک دو شعر سنتے چلیں:

سنتا ہی نہیں کوئی شرافت میں ہماری

کچھ اور کجی چاہئے عادت میں ہماری

 

ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں

کتنی  دہلیزوں  پہ  سجدہ  ایک  پیشانی کرے

مہتاب حیدر نقوی

ان شاعروں کا ذکر محض علامتی طور پر کیا گیا ہے۔ان سے کچھ آگے پیچھے چند اور شعرا بھی ہیں جنھیں معاصر غزل کے کسی بھی مطالعے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہاں چند ایک شاعروں کے ایک ایک دو دو شعر پیش کرنے کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔مثلاًً فرحت احساس کے یہ اشعار دیکھ لیں:

نہ جانے کس مسجد کی صورت بن رہی ہے خواب میں

نہ جانے کن سجدوں کی آہٹ  میری پیشا نی میں ہے

پانی سے الجھتے ہوئے  انسان کا یہ شور

اُس پا ر بھی ہوگا مگر اِس پار بہت ہے

فرحت احساس

کچھ ایسا ہی عالم ،عالم خورشید کے اشعار میں بھی نظر آئے گا ۔کہتے ہیں

اُٹھائے سنگ کھڑے ہیںسبھی ثمر کے لئے

دعائے خیر بھی مانگے  کوئی شجر کے لئے

 

اندھیروں کی طرف بڑھتے قدم کو کیوں نہیں زنجیر کر دیتا

خدا ہر سمت روشن ہے  تو میری گمرہی کا کیا  سبب آخر

عالم خورشید

شفق سوپوری کا اندازبیان دوسروں سے کچھ الگ ہے

پتہ ہے کس کو کب اپنا ہی خواب دیکھیں گے

ہم ، آئینے کی نظر سے  سراب دیکھیں گے

معاصر اردو غزل کی شعریات کی تشکیل میں خواتین کی حصہ داری سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔شہناز نبی کا یہ شعر سن لیں:

بدن کی آنچ میں پگھلے تو جان لے وہ بھی

پہاڑ  کاٹنا ہے  رات کو  سحر کرنا

اور ترنم ریاض نے عصر حاضر کی اخلاقیات کے حوالے سے بڑی سچی بات کہی ہے:

نبھائے رکھنا ترنمؔ کہ یوں نہ ہو جائے

کہیں پہ تم ہو،کہیں وہ ،اور کہیں بچے

رخسانہ جبیں کی غزل بھی عصری زندگی کی نارسائیوں کا درد بیاں کرتی ہے

ہمارے شہر پہ اب کس کی حکمرانی ہے

کہ  آفتاب  فسانہ ،کرن کہانی ہے

معاصر غزل کی شعریات کو معتبر بنانے میں 1980 کے بعد سامنے آنے والے شعرا اہم کردار ادا کر رہے ہیں نام کئی  ہیں لیکن ذہن میں ایک نام راشد انور راشدکا بھی آتا ہے۔’’شام ہوتے ہی‘‘،’کہرے میں ابھرتی پرچھائیں‘‘،اور ’گیت سناتی ہے ہوا‘‘ جیسے شعری مجموعوں کے خالق راشد انور راشد کا انفراد یہ ہے کہ وہ کھلی آنکھوں ،حساس دل اور زرخیز ذہن رکھنے والے شاعر ہیں۔عصری زندگی اور زمانہ کے زائیدہ جذبہ و احساس اور فکرودانش کو شعر کے سانچے میں ڈھالتے ہوئے راشد کے یہاں دریافت اور بازیافت ،تشکیل اور ردتشکیل کا عمل ایک ساتھ چلتا ہوا نظر آتا ہے۔’عالمیت‘ کے دبائو اور عصری ،مقامی سماجی و سیاسی اور ثقافتی بحران کی آئینہ داری،راشد کی غزل کا خاصہ ہے ۔راشد کی غزل ،کبھی عشق کے پردے میں تو کبھی فطرت پسندی کی آڑ میں کبھی ذاتی رنج و غم کی تحریک پرتو کبھی عالم انسانیت کے انتشار و بحران کے حوالے سے تمام تر لسانی ،فنی اور جمالیاتی محاسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔نگاہ شوق کی بینائی کے ساتھ شراکت کے سبب راشد کے یہاں تخلیقی تجربات و مشاہدات ،شعر کے سانچے میں ڈھل کر کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں۔تازہ ترین مجموعہ ’گیت سناتی ہے ہوا‘ کے یہ اشعار دیکھئے:

موت کے سوداگروں نے بھی کیا ہے اعتراف

منجمد ہر شئے جہاں ہو،زندگی لگتی ہے دھوپ

 

خاموش نہ رہ اپنی زباں کھول پرندے

سب سننے کو بے تاب ہیں کچھ بول پرندے

 

ذرا سی بات پہ آنگن کا کٹ گیا تھا درخت

تو سب نے خواب میں دیکھا کہ رو رہا تھا درخت

 

سہمی سہمی دل کی زمیں ہے،چلنے لگی ہے گرم ہوا

کوئی بھی اب محفوظ نہیں ہے،چلنے لگی ہے گرم ہوا

راشد انور راشد نے اپنے اشعار میں فطرت سے وابستہ–ہوا،دھوپ،برف ،درخت ،آسمان،چاند،ندی ،ریگستان،ریت،پہاڑ جیسے الفاظ کو استعاراتی اسلوب میں برت کر اصلاً عصری سماجی ،سیاسی،ثقافتی اور اخلاقی زوال کی تہوں کو کھولنے کی کوشش کی ہے جو مابعد جدید تصور ادب کے عین مطابق ہے۔

بہرحال معاصر غزل کی شعریات کی تفہیم و توضیح کے لئے مذکورہ بالا شاعروں کے علاوہ شفق سوپوری،عین تابش،شاہد کلیم ،آشفتہ چنگیزی جیسے معتبر شاعروں کے ساتھ ساتھ چند ایک تازہ واردان غزل گو مثلاً نعمان شوق،خالد عبادی ،کوثر مظہری، مشتاق صدف،رغبت شمیم ملک،نوشاد مومن ، خوشید طلب، لیاقت جعفری، عادل حیات،دانیال طریر،یاسر جیلانی ،حماد نیازی وغیرہ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ان کے چند اشعار دیکھئے:

ہمارے ساتھ رہو تم بھی جان جائوگے

کہ علم بکتا نہیں ہے ،کتاب بکتی ہے

نعمان شوق

گھر سے زندہ  تو مت نکال مجھے

اور  کتنی  حیات  رہ  گئی ہے

خورشید طلب

قطرۂ  شبنم  کے  بھی  احسان  یاد  آنے     لگے

ہونٹ سوکھے جارہے ہیں جب سے میں پانی میں ہوں

کوثر مظہری

یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے

کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے

مشتاق صدف

مکمل ہوگئی  قرأت  فضا  کی

پرندے اور دھواں لکھا گیا ہے

دانیال طریر

عہد رفتہ کے سکندر ہم تھے

عہد حاضر میں گداگر ہم ہیں

نوشاد مومن

مرے ضمیر کا سودا ہی ہو نہیں پاتا

امیرِ شہر تو سکّہ اُچھال  رکھتا ہے

رغبت شمیم ملک

میں سوچتا ہوں مرے بعد ان کا کیا ہوگا

تمام خواب سرِ دار چل پڑیں میرے ساتھ

یاسر جیلانی

خود کو ہر  دن  نیا  بناتا ہوں

شام ہوتی ہے ٹوٹ جاتا ہے

حماد نیازی

بحیثیت مجموعی ’منتھن‘کرنے پر معاصرغزل کی شعریات کے جو چند نمایاں امتیازات سامنے آتے ہیں وہ اس طرح ہو سکتے ہیں:

۱۔معاصر غزل کی شعریات میں قدرے غیر مانوسیت(unfamiliarity)تو ہے لیکن کسی نہ کسی پہلو سے کلاسیکی،ترقی پسند اور جدید غزل کی روایات اور اقدار سے مماثلتی اور توفیقی(affirmative)رشتے بھی ملتے ہیں۔

کوئی  نشان  لگاتے  چلو  درختوں  پر

کہ اس سفرسے تمہیں لوٹ کر بھی آنا ہے

رؤف خیر

تم بھی ذرا سی بات کو گھر لے کے آگئے

فٹ پاتھ پر جو مر گیا انسان ہی تو تھا

شکیل اعظمی

تری کڑوی کسیلی  چاہتوں سے

مرا   لہجہ  بتاشا   ہو گیا   ہے

رغبت شمیم ملک

۲۔معاصر غزل کی زبان میرؔ کی طرح عوام سے گفتگو کی زبان ہے۔فارسی الفاظ و تراکیب کے برتاؤ سے گریز اور ہندی الفاظ اور ہندو دیومالا کے استعمال کا عامیانہ رویہ آٹھویںدہائی میں ناصر شہزاد،ناصر کاظمی،صبا اکرام ،مظفر حنفی،مصور سبزاری ،سید احمد شمیم وغیرہ نے بڑی عمدگی کے ساتھ نظر آتا ہے لیکن معاصر غزل میں چند اچھے بھلے شعرا نے محض منہ کامزہ بدلنے کے لئے ہندی الفاظ استعمال کئے ہیں جو اردو غزل کی تہذیب، لطافت و نزاکت سے مناسبت نہیں رکھتے۔

مرگ ترشنا کچھ اتنی ادھک تھی،جھرنے کھوجے گلی گلی میں

چھاگل گھر سے لے کے چلے ،پیاس کے مارے بھول گئے

ستیہ پال آنند

 

میرے سواگت کے لئے  ہر موڑ پر

دھوپ  آئے گی  سمٹ کر  دیکھنا

جینت پرمار

 

۳۔معاصر غزل میں بر جستگی اور آزادہ روی تو ہوتی ہے لیکن بیان میں بلا واسطہ وضاحت کی جگہ اشاریت اور اساطیریت سے بھی کام لیا جاتا ہے۔

جو فطرت کا تقاضہ ہے ،وہ ہونا بھی ضروری ہے

بہت ہنستا رہا ہوں میں ،سو رونا بھی ضروری ہے

 

بہت گھنا ہے اندھیرا،چلو تلاش کریں

عجب نہیں کہ یہیں ہم کو آفتاب ملے

عالم خورشید

زندگی بن گئی ہے اک ہمت

یہ زمیں شق ہو تو سمائوں میں

شہناز نبی

وہی بچ کر نکل آیا ندی

اسی کے ہاتھ میں کچا گھڑا ہے

عنبر بہرائچی

بستی مری  جلا کے اجالا کیا گیا

پھر اس کے بعد سیر و تماشا کیا گیا

راشد طراز

جس شخص کو سلطان بنانے کی خبر ہے

یہ جشن نہیں ،سوگ منانے کی خبر ہے

خورشید طلب

۴۔حالی اور عظمت اللہ خاں نے غزل کے لئے قافیہ کو غیر ضروری قرار تھا لیکن مقدمہ خارج ہو گیا ترقی پسندوں اورجدیدیوں نے قافیہ بندی میں بعض تجربے ضرور کئے لیکن ردیف و قافیہ کو یکسر شعر بدر نہیں کیا ۔ عزیز احمد نے 1940 میں نثری غزل لکھی تھی،1945میں مظہر امام نے آزاد غزل کا تجربہ کیا۔ ساتویں آٹھویں دہائی میں کرشن موہن،فارغ بخاری، ظہیر غازی پوری،حنیف ترین،علیم صبا نویدی وغیرہ نے بھی غزل میں’’ آزاد غزل ‘‘او’’ر غزل نما ‘‘ کے نام سے ہئیتی تجربے کئے لیکن ایسے تجربے غزل کی ساخت اور شعریات کا مستقل حصہ نہ بن سکے ۔ معاصر غزل میں بھی نت نئے قافیے ایجاد کرنے یا نئے انداز میں برتنے کا رجحان ملتا ہے لیکن اس طرح کہ اس سے غزل کی سنجیدگی مجروح نہیں ہوتی۔

تنہاہیوں نے صاحب عرفاں کیا تو پھر

اسرار ذات مجھ پہ اچانک کھلا تو پھر

رفیق راز

شفق شب سے ابھرتا ہوا سورج سوچیں

برف کی تہہ سے کوئی کوئی چشمہ ابلتا دیکھیں

فاروق مضطر

آتش زنی ہے اور کہیں پر دھواں نہیں

وہ ہو رہا ہے جس کا کسی کو گماں نہیں

مقصود انور

۵۔شاعری میں تجربہ پسندی معیوب نہیں ادب پنپتا ہی ہے افتراق و اجتہاد سے لیکن نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر زبان اور اس کی شاعری کی ایک تہذیب بھی ہوتی ہے اور شعر میں لفظ کا انتخاب اور برتائو ،اگر شعری تراش خراش اور لسانی تہذیب و تطہیر کے بغیر ہو تو لفظ،شعر کے شعری ،معنیاتی اور جمالیاتی نظام کی شکستگی بلکہ بے حرمتی کا سبب بھی بن جاتا ہے۔اس کا اندازہ ظفر اقبال کے ایسے دواشعار سے لگایا جاسکتا ہے:

پرس  میں  رکھا نہ اس کی  جیب  میں  ڈالا

کسی نے خواب دنیا بس ہماری جیب میں ڈالا

 

تسلی اپنی ہوئی دیکھنے نہ بھالنے سے

اس آب زار سخن کو مگر کھنگالنے سے

 

معاصر اردو غزل میں ندا فاضلی اور محمد علوی وغیرہ کے یہاں بھی ایسے اشعار ملتے ہیں جن میں غزل کی مروجہ لفظیات سے باہر کے الفاظ و تراکیب کا ستعمال تو ہوا ہے لیکن غیر جمالیاتی برتائو کے سبب ایسے الفاظ و تراکیب نہ تو شعر میں معنی کے نئے امکانات پیدا کر پاتے ہیں اور نہ ہی اشعار سے شعریت ٹپکتی ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ معاصر غزل میں یہ رجحان عام نہیں۔اکثر و بیشتر معاصر شعرا  نئی لفظیات کو برتتے تو ہیں لیکن اس طرح کہ غزل کا مزاج مجروح نہیں ہوتابلکہ غزل کی شعریات میں امکانات کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔ مثلاً:

ہم اپنے  سر کے نیچے  آس کا  تکیہ نہیں رکھتے

ان آنکھوں کے کٹوروں میں کوئی شکوہ نہیں رکھتے

خورشید اکبر

کھلے تھے اندھے کنویں ،جنموں تک صدا نہ ہوئی

شعاعِ مہر  لئے  اندھکار  میں  تم  تھے

افضال نوید

 

میں تنگ آچکا آنکھوں کی جعل سازی سے

کسی کے آنسو ہیں ان میں کسی کا رونا ہے

نعمان شوق

۶۔معاصر غزل ذات کے باطن سے زیادہ خارجی دنیا کے معاملات سے دلچسپی رکھتی ہے۔اسے غزل کی سماجیات کا نام بھی دی جاسکتا ہے

صبح  آتی ہے تو اخبار  سے لگ جاتے ہیں

شام جو ڈھلتی ہے،بازار سے لگ جاتے ہیں

 

عزیز پریہار

شام تک کھنچے لئے  پھرتے ہیں اس دنیا کے غم

صبح تک  فرش ندامت  پر پڑا  رہتا ہوں میں

احمد مشتاق

اٹھ ہی جاتے ہیں کہ اس بھیڑ بھری  دنیا میں

بیٹھے  بیٹھے  نہ کہیں  کوئی  تماشا  ہو جائے

احمد محفوظ

آدمی  کی بستی  میں کیسی یہ  وبا  پھیلی

کم نصیب لوگوں کو آدمی نہ سمجھا جائے

طارق متین

معاصر غزل میں زبان ،فکر ،فکروتجربہ اور جذبہ و احساس کی تازہ کاری کے سبب غزل کی داخلی ہیئت یا یوں کہیں کہ جو نئی شعریات سامنے آرہی ہے وہ 1980 کے آس پاس سے آج تک آکر غیر مونوس تو نہیں رہ گئی ہے پھر بھی اساتذہ کی غزل کے شعری معجزات کی روشنی میں ابھی بھی لگتا ہے جیسے معاصر غزل میں کہیں کچھ کم ہے۔

۷۔ اکثرمعاصر غزل بندھے ٹکے موضوعات سے ماورا بھی نظر آتی ہے۔مختلف اور متضاد لسانی ،ادبی،تہذیبی اور مذہبی  عقائد کے سبب معاصر غزل کے موضوع اور مزاج میں رنگا رنگی ملتی ہے:

سب کی پوجا ایک سی،الگ الگ ہر ریت

مسجد جائے مولوی،کوئل گائے گیت

ندا فاضلی

زندگی ایسے گھروں سے تو کھنڈر اچھے تھے

جن کی دیواریں ہی اچھی تھیں نہ دراچھے تھے

زبیر رضوی

وہ بھیڑ ہے کہ شہر میں چلنا محال ہے

انگلی پکڑنا باپ کی ،بچہ نہ بھول جائے

کشور ناہید

یزیدوں کی سمجھ میں آج تک اتنا نہیں آیا

حسینی فوج کا ہر شخص کیوںضیغم  نکلتا ہے

زاہدالحق

۸۔معاصر غزل کسی بھی سکہ بند نظریہ ،رجحان ،ازم یا فلسفہ کی پابند نہیں ہے اور فکری تکثیریت اس شناختی امتیاز ہے:

تمہارے شہر میں کچھ بھی نہیں ہوا ہے کیا؟

کہ تم نے چیخوں کو سچ مچ سنا نہیں ہے کیا؟

 

میں اک زمانے سے حیران ہوں کہ حاکم ِ شہر

جو ہورہا ہے اسے دیکھتا نہیں ہے کیا؟

شہریار

اب اور جینے کی صورت نظر نہیں آتی

کسی طرف سے بھی اچھی خبر نہیں آتی

پروین شاکر

اپنی غزل کو خون کا سیلاب لے گیا

آنکھیں رہیں کھلی کی کھلی  خواب لے گیا

فاروق نازکی

کسی کسی کو تھما تا ہے چابیاں گھر کی

خدا ہر ایک کو اپنا پتا نہیں دیتا

پروین کمار اشک

لب اور طرح کے ہیں ،دعا اور طرح کی

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

محسن رضا

۹۔عصری معاشرت کا ایک اہم بلکہ سنگین مسئلہ اپنی زمین سے اکھڑنے کا مسئلہ ہے۔ہجرت،نقل مکانی ،غریب الوطنی اور اس کے نفسیاتی اور اخلاقی نتائج جیسے موضوعات پر معاصر شعرا نے بہت کچھ لکھا ہے۔ابوالکلام قاسمی نے اپنی کتاب’شاعری کی تنقید‘ میں شامل مضمون ’مہجری اردو غزل‘ میں معاصر غزل کے اس پہلو کا سیر حاصل تجزیہ پیش کیا ہے،مجبوری ،شوق، حرص و ہوس ،توقع اور اپنے ماحول سے بے زاری ،ہجرت کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں ابوالکلام قاسمی نے معاصر شعرا کے اشعار نقل کر کے یہ سمجھا دیا ہے ایک دو شعر آپ بھی دیکھ لیں:

اب گھر بھی نہیں،گھر کی تمنا بھی نہیں ہے

مت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے کبھی

ساقی فاروقی

کیا شئے تھی ایسی جو ہمیں گھر میں نہیں ملی

کس واسطے وطن سے بہت دور ہو گئے

سلطان اختر

 

خوابوں سے کبھی آنکھ کے دو گھر نہیں بھرتے

بارش کے برسنے سے سمندر نہیں بھرتے

خالد بشیر

 

گھر سے جب نکلا تھا میں سر سبز تھیں پگڈنڈیاں

اب مرے گھر کی طرف جاتی ہے سب راہیں اُداس

احمد شناس

 

لوٹ کر واپس چلے جانے کی بھی خواہش نہیں

پائوں سے لپٹی ہوئی مجبوریاں ہیں اورہم

اشفاق احمد

وہ  جا رہا تھا  تو روکا نہیں اسے تم نے

وہ جا چکاہے تو اب ہاتھ مل رہے ہو کیا

عزیز نبیل

بہر حال عصری سماجی و ثقافتی صورت حال کے دبائو میں زبان ،موضوع،فکر و دانش اور جذبہ و احساس کی تازہ کاری کے سبب معاصر غزل کی جو نئی شعریات سامنے آرہی ہے ،وہ 1980 کے آس پاس سے آج 2015-16تک پہنچ کر ایک سانچے میں ڈھل چکی ہے لیکن معاصر شعرا میں ابھی بھی چند ایک ہی نام ایسے ہیں جو معاصر غزل کی شعریات کو اعتبار بخش سکتے ہیں۔ غزل کی عمارت میں ترمیم کر سکتے ہیں کیونکہ غزل کے حوالے سے حالیؔ کی یہ تنبیہ آج بھی بے معنی نہیں کہ ’’یا عمارت میں ترمیم ہوگی یا عمارت خود نہ ہوگی‘‘ ۔ایسے میں میرؔ و غالبؔ ،داغؔ اور مومنؔ ،اقبال اور فیضؔ ،شادؔ اورفراقؔ کے حوالے سے گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی کے مشوروں اور ابوالکلام قاسمی اور شین کاف نظام کے تجزیوں کی روشنی میں معاصر غزل اپنی ہمہ جہت تازہ کاری کا سفر جاری رکھتے ہوئے اگر کلاسیکی غزل کی شعریات کے مسلمہ عناصر کو بھی ساتھ لے کر چلے تو اس سے معاصر غزل کی شعریات کے وقار میں اضافہ ہی ہوگا  اس لئے کہ غزل کی یہ عمارت، ہماری شاعری ہی نہیں ہماری تکثیری ثقافت(cultural pluralism)اور اخلاقیات کی بھی آبرو ہے۔لہٰذا وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی لسانی،معاشرتی اور صارفینی تہذیبی قدروں کے دبائو میں معاصر غزل کی عمارت میں ترمیم تو لازمی ہے لیکن اتنی ہی جس سے عمارت میں نیا پن بھی آئے اور اس کی صنفی کلاسیکی بنیادیں بھی متزلزل نہ ہوں اور غزل کو نچوڑ یں تو بہرحال تغزل ہی ٹپکے۔چنانچہ اس زاویے سے عرفان صدیقی،اسعد بدایونی ، سلطان اختر،فرحت احساس،احمد مشتاق،عالم خوشید،عبدالاحد ساز اور خورشید اکبر سے لے کر مہتاب حیدرنقوی راشد انور راشد،کوثر مظہری ،خالد عبادی،مشتاق صدف ،رغبت شمیم ملک وغیرہ تک کی غزلوں کے اندر سے معاصر غزل کی شعریات کو جھانکتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

 

پروفیسر قدوس جاوید

سابق صدر شعبۂ اردو

سینٹرل یو نی ورسٹی آف کشمیر

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعریغزلقدوس جاوید
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
 عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر نوشاد منظر
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

1 comment

شہناز فروری 5, 2021 - 12:10 شام

عمدہ مضمون..کلاسیکی شاعری پر گفتگو کے ساتھ نئی نسل کے شعرا کے کلام کا بھی جائزہ لیا گیا ہے یہ خوش آئند بات ہے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں