Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسینصابی مواد

غالب کی خیال بندی – مہرفاطمہ

by adbimiras دسمبر 27, 2020
by adbimiras دسمبر 27, 2020 0 comment

 فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا

  ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار

جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار

تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار

تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

 زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں

تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

 نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر

محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر

          غالب کسی تعارفی جملے کے محتاج نہ تھے،نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔لیکن رسما دو جملے جو نہایت مشہور ہیں مثلا ،،غالب اردو دنیاکا پہلاجدید اور آخری کلاسیکل شاعر ہے، یا غالب کو فطرت نے ایک ایسا غیر معمولی ذہن عطا کیا تھا جو اس زمانے میں بھی نیا تھا،حال میں بھی نیا ہے اور ہر آنے والی دنیا کے لیے بھی نیا رہے گا۔گزرتے لمحوں نے ان کے فن کو گرد آلود کرنے کے بجائے مزید نکھار دیا ہے۔یا بقول آل احمد سرور غالب کے یہاں ماضی کا رچا ہوا شعور،حال کے پیچ وخم کا احساس اور آنے والی دور کی کرنیں سبھی کچھ موجود ہیں۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کم و بیش ہر ناقد اور محقق نے غالب کے حوالے سے کتاب  یا مضامین لکھ کر اپنی غالب شناسی کا ثبوت دیا ہے۔جس کو دیکھتے ہوئے نثاراحمد فاروقی ”تلاش غالب“  میں لکھتے ہیں:

”ہمارے نقادوں اور محققوں کاغالب پر کچھ نہ کچھ لکھنا ایسا  ضروری ہو گیا ہے جیسے مناسک حج میں میدان عرفات کاقیام کہ اس کے بغیر حج ہی نہیں ہوسکتا“۔      (تلاش غالب:ص:۵)

نثار احمد فاروقی کی یہ بات بالکل درست ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ناقدین اور محققین غالب شناسی کا ثبوت دیتے آئے ہیں اور حال میں بھی دے دے رہے ہیں؟۔ان وجوہات میں سے ایک وجہ یا غالب کی صفات میں سے ایک صفت خیال بندی بھی ہے۔بلکہ مجھے یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ غالب سب سے بڑے خیال بند شاعر ہیں۔ہماری شعری روایت میں شعرگوئی کے مختلف طرز و اسلوب رائج رہے ہیں۔جن میں بنیادی طور پر مضمون آفرینی، معنی آفرینی،نازک خیالی اور خیال بندی وغیرہ کا ذکربار بار آتا ہے۔مضمون آفرینی ہو،معنی آفرینی ہو،نازک خیالی ہو یا خیال بندی ان سب کا تعلق شعر کے مضمون سے ہے۔شاعر اسی کے ذریعے  اپنی لیاقت، مہارت اور فنی چابک دستی کے کمال دکھاتا ہے۔ظاہر ہے کہ پہلے سے مروج مضامین میں کوئی نئی بات یا کوئی نیا پہلو پیدا کرنا آسان کام نہیں،اس کے باوجود ہمارے کلاسیکی شعرا نے اس میدان میں جا بجا اپنی فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔مشرقی تہذیب میں ایک مضمون کو نیا اور تازہ کر کے پیش کرنا یا اس میں کوئی نیا پہلو پیدا کرنا یا اس کو اس طرح سے باندھنا کہ وہ بالکل نئی صورت اختیار کرے،بڑی قدر کا حامل ہے۔بقول میر انیس”اک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں“۔

ناسخ نے اپنے دیوان اول کے ایک شعر میں ”خیال بندی“ کی اصطلاح وضاحت کے ساتھ استعمال کی ہے۔کہتے ہیں:

ہے بیت ہی میں معنی  بیت خیال  بند

نزدیک ہے بہت جسے سمجھے ہیں دورہے

خیال بندی کی اصطلاح زمانہ قدیم سے رائج ہے۔فارسی میں بھی اس طرز کاخوب رواج تھا۔جلال اسیر،شوکت بخاری،ناصرعلی سرہندی اورمرزا عبدالقادربیدل اس طرز کے نمائندہ شعرا میں سے ہیں۔اردوتذکروں میں خیال بندی کی اصطلاح اٹھارہویں صدی کے نصف آخرمیں رائج ہو چکی تھی۔ عہد جدید کی ابتدا میں جس شخص نے سب سے پہلے خیال بندی کاذکر کیا وہ محمد حسین آزاد ہیں۔اور جس شخص نے سب سے پہلے اس کی تعریف متعین کی اوراس کے نکات واضح کئے وہ شبلی ہیں۔شبلی ”شعرالعجم“ کی(جلد سوم)میں خیال بندی اور مضمون آٖفرینی کے ذیلی عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

”یہ وصف تمام متاخرین میں ہے لیکن اس طرزخاص کو نمایاں کرنے والا جلال اسیر ہے،جو شاہ جہاں کا ہم عصر ہے۔شوکت بخاری، قاسم دیوانہ، وغیرہ نے اس کو زیادہ ترقی دی اور ہمارے ہندوستان کے شعرا بیدل اورناصرعلی وغیرہ اسی گرداب کے تیراک ہیں“۔ (شعرالعجم، جلدسوم از شبلی نعمانی،ص: 20,21)

یہاں پر”گرداب کے تیراک“ لائق توجہ ہے۔شبلی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے خیال بندی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:

”متاخرین کا خاص ا نداز ہے کہ جو بات کہتے ہیں پیچ دے کر کہتے ہیں، یہ پیچیدگی زیادہ تراس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ جو خیال کئی کئی شعروں میں ادا ہو سکتاہے اس کو ایک شعر میں ادا کرتے ہیں“۔

(شعرالعجم، جلدسوم ازشبلی نعمانی،ص: 21)

اس کے بعد صفحہ 23 پر یوں رقم طرازہیں:

”اس سے زیادہ کہ ایک بڑا ٰ خیال ایک چھوٹے لفظ میں اداہوجاتا ہے“۔

(شعرالعجم، جلدسوم از شبلی نعمانی،ص: 23)

اس کے ساتھ ساتھ شبلی  یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ:

”کبھی یہ پیچیدگی اس وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے کہ کوئی مبالغہ یا استعارہ یا تشبیہ نہایت دور از کار ہوتی ہے، اس لئے سننے والے کا ذہن آسانی سے اس طرف منتقل نہیں ہوسکتا“۔

یعنی شبلی کے مطابق خیال بندی کی اصطلاح دوراز کار تشبیہات واستعارات اور خیالی استدلال کا مفہوم لیے ہوئے ہے۔اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کئی کئی شعروں میں ادا ہونے والے خیال کوایک شعرمیں بیان کردیاجاتاہے۔جس کی وجہ سے شعر میں پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔شبلی کایہ اہم کارنامہ ہے کہ انہوں نے  صفات کی اور کیفیتوں کی حتی الامکان وضاحت کردی حالانکہ محمد حسین آزاد اور شبلی خودخیال بندی کے قائل نہ تھے۔آزادا نے تو خیال بندی پرروشنی ڈالتے ہوئے ”آب حیات“ کے پانچویں دورمیں لکھاہے:

”بعض بلند پرواز ایسے اوج پر جائیں گے جہاں آفتاب تارا ہو جائے گااوربعض ایسے اڑیں گے کہ اڑہی جائیں گے اوراپنے آئین کا  نام خیال بندی اورنازک خیالی رکھیں گے“۔

(آب حیات، محمد حسین آزاد،ص:339)

اسی طرح خیال بندشعراکے متعلق آزاد کاخیال ملاحظہ فرمائیں:

”خیال بندطباع اور مشکل پسند لوگ اگرچہ خیالوں میں مست رہتے ہیں،مگرچونکہ فیض سخن خالی نہیں جاتا اور مشق کو بڑی تاثیرہے،اس لیے مشکل کلام میں بھی ایک لطف پیدا ہوجاتاہے، جس سے ان کے اوران کے طرفداروں کے دعووں کی بنیادقائم ہوجاتی ہے“۔

(آب حیات، محمد حسین آزاد،ص:344)

(یہ بھی پڑھیں  ذرا سی بات پہ آنگن کا کٹ گیا تھا درخت [راشد انور را شد کا شاعرانہ اجتہاد]- ڈاکٹر صفدر امام قادری )

یہ خیال بندشعرا اپنے خیالوں میں مست رہتے ہیں،سے صاف ظاہر ہے کہ آزادکے خیال میں ایسی شاعری کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔لہٰذا ان کی شاعری میں بھی ایسی کوئی خاص بات نہیں کیونکہ ان کاحقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ کلاسیکی شعراء میں اس طرزکو اختیارکرنے اور درجہ کمال تک پہچانے والے سب سے بڑے شاعر غالب ہیں۔غالب پرجتنا کچھ شرح و بسط سے ساتھ لکھا جا چکاہے اس کا اندازہ ادب کے ہر طالب علم کوہے۔لیکن خیال بندی کاذکر شاذ ونادر ہی کہیں ملتا ہے۔ملتا بھی ہے تو ایک دو جملوں میں۔جس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ ایک طرف تواس طرزکو ہی سرے سے مسترد کیاجارہاہے تو دوسری طرف غالب کو بڑاشاعر یا میر کے بعد بڑا شاعر ماناجاتاہے جو اس طرز کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کوغالب سے جوڑتے ہوئے سوچنا پڑتا ہے۔بالکل یہی مشکل حالی کو”مقدمہ شعروشاعری“ اور”یادگارغالب“ کے وقت درپیش تھی۔وہ جن شعری خصوصیات کی طرف توجہ دلا رہے تھے یا جن اصولوں کی تلقین کررہے تھے ان میں سے بیشتر کا غالب کے کلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔غالب نے خیال بندی کے طرز کوجس نہج سے برتا اور اس میں جودیگرفنی اور فکری پہلوداخل کیے وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔اوران کی عظمت کی بنیاد انہی خصوصیات پر قائم ہے۔ اگرچہ ہماری شاعری میں خیال بندی کاآغازشاہ نصیرسے ہوا۔اس سے انکارنہیں کہ ہمیں سودا، میر سوز، خود میر اور مصحفی کے یہاں اس کے نشانات مل جاتے ہیں۔ناسخ وآتش نے اس کو ترقی دی،لیکن غالب نے اس کو درجہ کمال تک پہنچایا۔اور ساتھ ساتھ یہ نکتہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ غالب نے اپنی تعقل پسندی اورتجریدیت کی بنا پر خیال بندی کی راہ آئندہ آنے والوں کے لیے دشوارگزار ہی نہیں بلکہ معدوم کر دی۔اس کی تفصیل میں نہ جاتے ہوئے خیال بندی کی دو مختصر اور جامع تعریفیں دیکھیں:

نیر مسعود نے اپنے مضمون ”اردو شعریات کی اصطلاحیں“ میں نازک خیالی اور خیال بندی کا فرق واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

”حقیقت کا بالواسطہ اظہار شاعری کا خاص وصف ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ جس واسطے کی مدد سے حقیقت کو ظاہر کیا جاتاہے اگر مبینہ حقیقت سے اس کا تعلق بہت نازک ہوتو شعرمیں نازک خیالی کا وصف پیدا ہوجاتا ہے۔اگر اس واسطے ہی کو شعرکے اصل موضوع کی طرح برتا جائے اور متعلقہ بنیادی حقیقت کی حیثیت ضمنی یا صفر رہ جائے تو شعر خیال بندی کے ذیل میں آ جائے گا“۔

(مضمون بعنوان ”اردو شعریات کی اصطلاحیں“ از نیرمسعود، مشمولہ سوغات،ص:415)

عبدالرحمن دہلوی  ”مراۃ الشعر“ میں خیال بندی کے تعلق سے لکھتے ہیں:

”کبھی خیال(تخیل) عالم حقیقت کی سیرسے سیر ہوکرذہن کی موجودہ صورتوں میں اپنی اپنی طرف سے نئی ترتیب وترکیب شروع کر دیتا ہے۔کسی کاسرلیتا ہے اورکسی کاپاؤں اورایک نئی مخلوق بناکر کھڑی کر دیتا ہے۔اورایسی ایسی صورتیں سا منے لاتا ہے جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہوں اورنہ کانوں نے سنی ہوں۔اسی طلسم کاری کو دیکھ کر شعرتخیلی کہلاتاہے۔اور یہی وہ شاعری ہے جسے خیال بندانہ اورتخیلانہ کہتے ہیں“۔(بحوالہ مراۃا لشعراز عبدالرحمن بجنوری،ص:199)

طرزبیدل میں ریختہ کہنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

جس طرزبیدل میں ریختہ کہنے کوغالب قیامت قرار دے رہے ہیں وہ دراصل خیال بندی ہے۔غالب کے دیوان پرنظرڈالیں تو پہلی ہی غزل میں شعر ہے:

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپا

موئے  آتش دیدہ ہے حلقہ  میری زنجیرکا

اس شعر کا تعلق توبراہ راست جذبات عشق سے نہیں ہے۔لیکن اس کے سرچشمے اسی زمین سے پھوٹے ہیں۔چونکہ عاشق کو جنون و دیوانگی لاحق ہے جس کے نتیجے میں اس کو قید کر دیا گیا ہے اور جنون و دیوانگی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اس کو زنجیروں سے باندھ دیا گیا ہے۔پابند سلاسل ہونے کے باوجود اس کی کیفیت   ”آتش زیر پا“ ہے یعنی اس قدر اضطراب یا بیتابی ہے کہ جیسے آتش زیر پاہو۔آتش زیر پا کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں ”موئے آتش دیدہ“کا استعمال ہوا ہے۔چونکہ جلا ہوا بال حلقہ کی طرح گول ہو جاتا ہے یعنی زنجیر کے حلقے کے مانند۔ظاہر ہے اس لیے یہاں پر موئے آتش دیدہ کا استعمال کیا گیا اور چونکہ جلنے کے بعد بال حلقہ کی صورت اختیار کرنے کے ساتھ کمزور بھی ہو جاتا ہے۔اس شعر کا بنیادی تصور عاشق کی اضطرابی کیفیت اور اس کے سامنے قید و بند کی صعوبتیں یا پابند سلاسل ہونے کے باوجود جنون و دیوانگی کی بڑھتی ہوئی صورت دکھانا مقصود ہے یعنی اس زنجیر کی اہمیت موئے آتش دیدہ کی سی ہے۔موئے آتش دیدہ کا استعمال کر کے غالب نے اپنی قوت متخیلہ کا ثبوت دیا ہے۔

دوسرا  شعر ہے:

 

چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے

سرمہ  تو کہوے کہ دود شعلہ آواز ہے

شعر کی بنیاد اس بات پر قائم ہے کہ معشوق کی یا حسینوں کی آنکھیں بولتی ہیں۔آنکھوں کا بولنا محض ایک خیال ہے۔پہلے مصرعے میں اس خیال کو حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے،دوسرے مصرعے میں آواز کو شعلہ قرار دیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ شعلے کے ساتھ دھوئیں کا بھی گزر ہے۔دھوئیں سے شعلہ چھپ بھی جاتا ہے،سرمہ کا بھی ذکر آیا۔سرمہ کے کھا لینے سے آواز چلی جاتی ہے یعنی بیٹھ جاتی ہے  اور سنائی نہیں  دیتی ہے۔یعنی اگر چشم خوباں کی آواز سنائی نہیں دیتی تو اس کا سبب یہ ہے کہ چشم خوباں میں سرمہ لگا ہواہے۔سرمے کی وجہ سے چشم خوباں کی آواز دب گئی ہے۔یعنی ایک خیال قائم کیا گیا کہ چشم خوباں نوا پردازہے۔آواز کو شعلہ کہاگیا اورشعلہ سے دھوئیں کاتصور اوردھوئیں اورسرمے میں مناسبت اورسرمہ کھالینے سے آواز کا دب جانا یعنی سنائی نہ دینا۔اورسرمہ،آواز شعلہ اور دود کی مناسبت سے یا ان کی مدد سے یہ ثابت کر دیاگیا کہ چشم خوباں نوا پرداز ہے۔یہی شعر کا اصل موضوع ہے جوکہ ایک خیال پرمبنی ہے۔اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ شعر خیال بندی کی عمدہ مثال ہے۔

ایک شعراور جس کو خیال بندی کی عمدہ مثال کہا جا سکتا ہے:

خیال سادگی ہائے تصور نقش حیرت ہے

پرعنقا یہ رنگ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں

اس شعر میں وہ کیفیت بیان کی گئی ہے کہ جب تصورمیں کچھ نہیں ہوتاذہن ایک سادہ ورق کے مانند ہوتا ہے۔یعنی جب حیرت و استعجاب کی کیفیت ہوتی ہے اس صورت میں نہ کوئی خیال ہوتا، نہ تاثیر اور نہ کوئی ردعمل اورنہ کسی جذبے کی کارفرمائی ہوتی ہے۔اسی کوحیرت کی تصویر کہتے ہیں۔

شعرکے پہلے مصرعے میں شاعر تصورمیں کچھ نہ ہونے کا تصور کرتاہے۔اس کے سامنے حیرت کی تصویرآجاتی ہے اور اس میں بھی کچھ نہیں ہے۔جس چیزپر تصویر بن رہی ہے یعنی ”پرعنقا“وہ بھی معدوم ہے۔اورجس چیز سے تصویربنائی جارہی ہے یعنی رنگ رفتہ وہ بھی کچھ نہیں ہے۔تصور،نقش حیرت، پرعنقا،رنگ رفتہ اور تصویریں سب ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔لیکن شعر کی بنیاد خیالی باتوں پر ہے۔ اور انہیں چیزوں کا استعمال کیا گیا ہے جو خود معدوم ہیں۔ شاعرنے ان سب کا استعمال کر کے خیال حیرت و استعجاب کی کیفیت دکھائی ہے اور وہیں خیال بندی کی عمدہ مثال قائم کر دی ہے۔

بزم  وحشت کدہ ہے کس کی  چشم  مست کا

شیشے میں نبض پری پنہاں ہے موج بادہ سے

پری کے نظر آنے اور غائب ہو جانے کی وجہ سے یہ مضمون باندھا جاتا ہے کہ پری میں وہ وحشت ہوتی ہے دوسرے شعرا کے یہاں بھی اس مضمون کا استعمال ملتا ہے۔چونکہ پری کا کام دیوانہ بنانا ہے اور دیوانگی کی صورت میں بے سکونی آتی ہے  یعنی وحشت ہوتی ہے۔وحشت میں اضطراب کا مضمون اس سے قبل غالب کی پہلی غزل  کے ”موئے آتش دیدہ“ والے شعر میں آ چکا ہے۔آتش زیر پا سے شاعر کی یہی مراد تھی۔

جو بات اس شعر میں کہی گئی  وہ مکمل تجریدیت کی حامل ہے کہ شیشے میں شراب کا ابلنا مثل نبض پری ہے۔یعنی پری کی وحشت شراب میں آ گئی ہے۔موج مئے کا اضطراب نظر نہیں آ رہا ہے چونکہ وحشت بھی ہے۔نبض صرف دھڑکتی ہے اور دکھائی نہیں دیتی ہے گویا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ نبض پری کی وحشت شراب میں آ گئی ہے۔یہاں پر ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ شراب کو لال پری بھی کہتے ہیں۔یعنی پری کی وحشت شراب کے ذریعے سے لوگوں میں آ گئی ہے اور اسی لیے وہ بہک رہے ہیں اور مئے  خانے میں وحشت کی حالت میں ہیں۔ شراب اور چشم مست میں مناسبت دیکھیے۔اسی لیے شاعر یہ فرض کرتا ہے کہ یہ سب کسی چشم مست کا کرشمہ ہے۔ظاہر ہے کہ موج بادہ کاشیشے میں نبض کی طرح دھڑکنا اور موج بادہ میں وحشت کا ہونا اور دکھائی نہ دینا اور نبض پری ساری باتیں خیالی ہیں۔جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ساری قوت متخیلہ کی کار فرمائی ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس طرز کے اشعار سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی قوت تخیل کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ اشعار خیال بندی کی عمدہ مثالوں میں سے ہیں۔

غالب کے یہاں پیچیدہ سے پیچیدہ مثالوں کے ساتھ ساتھ سہل ممتنع میں بھی خیال بندی کی مثال مل جاتی ہے۔مثلا:

مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیال

تا  باز گشت سے رہے  نہ مدعا  مجھے

کہا جا سکتا ہے کہ یہ شعر سادگی کے ساتھ ساتھ خیال بندی کا عمدہ نمونہ ہے۔اس شعر میں تو خود ”خیال“کا لفظ موجود ہے۔ظاہر ہے کہ خیال بندی کے اشعار غالب کے دیوان میں کثرت سے ملتے ہیں۔کہیں مضمون میں پیچیدگی ہے تو کہیں سہل ممتنع سے کام لیا گیا ہے۔وقت کی حد بندی یا قلت کے باعث مزید تفصیل کی گنجائش نہیں۔فاروقی صاحب کی اس قول کے ساتھ بات ختم کرتی ہوں کہ:

”ہم خیال بندی کے اصول اور غالب کی اس پر عمل پیرائی کو ہم اردو غزل کا وہ سب سے اہم موڑ کہ سکتے ہیں جو اٹھارہویں صدی کے بعد ظہور پذیر ہوا،جس نے اقبال کی غزل کے علاوہ جدید غزل کے لیے بھی راہ ہموار کی“

ذکر آ گیا اقبال کا تو اقبال کی نظم ”مرزا غالب“ کے جن اشعار کے ساتھ میں نے گفتگو کا آغاز کیا تھا اسی نظم کے ان اشعار کے ساتھ رخصت چاہتی ہوں:

  لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں

ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں

 شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر

خندہ زن ہے غنچہ دہلی گل شیراز پر

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثشاعریغالب کی شاعریغزلمرزا غالب
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
تخلیق کائنات کی حقیقت سائنس اور مذہب کے تناظر میں – ڈاکٹر انیس الرحمن

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں