درویشوں کا ڈیرہ: ایک مختصر تجزیہ – حمیراعالیہ
"درویشوں کا ڈیرا” نام سنتے ہی ذہن تصوف و طریقت کی راہوں میں نکل پڑتا ہے۔ لیکن یہ کتاب تصوف کے ساتھ مرد و زن کے تعلق، جنس، محبت اور شعروادب کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
کتاب کے مرتبین میں ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء جیسی ادبی شخصیات شامل ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان دونوں افراد کے درمیان لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے جسے انہوں نے ‘خواب نامے’ سے تعبیر کیا ہے۔ان خطوط میں زندگی اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ گزرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
درویشوں کے اس ڈیرے میں درویش ہیں خالد سہیل اور رابعہ بصری کو استعاراتی طور پہ استعمال کیا ہے رابعہ الرباء نے۔ ان کی نظر میں رابعہ عشق کا دوسرا نام ہے۔ وہ رابعہ بصری کو ایک متھیکل پرسنالٹی کے نظریے سے دیکھتی ہیں اور ان کی تحاریر میں اس کا عکس صاف طور سے دکھائی دیتا ہے۔
کتاب میں شامل خطوط میں ادبی و تخلیقی رنگ بے حد نمایاں ہے۔ خصوصا درویش یعنی خالد سہیل کے خطوط میں الفاظ و جملے کی بے ساختگی و روانی قابل دید ہے۔ انہوں نے بیچ بیچ میں کچھ آزاد نظمیں بھی شامل کی ہیں جو بہت گہری معنویت رکھتی ہیں۔ان نظموں میں ‘خون کے آنسو’،’سرخ دائرہ’،’بوڑھی آنکھیں’ اور ‘درویشوں کا ڈیرا’ نامی نظم فکری و فنی اعتبار سے بہت متاثر کرتی ہیں۔ چونکہ خالد سہیل پیشے سے ڈاکٹر بھی ہیں لہذا ان کے خطوط میں نفسیات کی کئی اصطلاحات بھی موجود ہیں جن سے انسانی ذہن اور ردعمل کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے فلسفہ اور روحانیت کے موضوع پہ بھی گفتگو کی ہے۔ ان کا لہجہ نرم اور پرسکون ہے جیسے واقعی کوئی صحرا میں کوئی درویش کسی بھوکے پیاسے آبلہ پا مسافر کو اپنے مشکیزے سے پانی کے گھونٹ پلا رہا ہو۔ ان کے تمام خطوط میں مثبت روئیے کی جانب خوبصورت اشارے ملتے ہیں۔
"درویش کا عورت سے رشتہ بنیادی طور پر دوستی کا رہا ہے۔درویش نے عورتوں کی دوستی اور محبت سے بہت کچھ سیکھا۔”
"درویش سمجھتا ہے کہ انسانی دل بھی دو طرح کی محبت کرسکتا ہے۔ سطحی محبت جس میں غصہ نفرت،تلخی اور حسد کی آلائشیں ہوتی ہیں اور گہری محبت جس میں دوستی،امن،سکون،خلوص اور اپنائیت ہوتی ہے۔”
"اے رابعہ! درویش کا مشاہدہ اور تجربہ کہتا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور محبت کے دیے جلتے رہتے ہیں ان کے چہرے اور آنکھیں روشن ہوتے ہیں اور وہ خوبصورت دکھائی دیتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں نفرت اور تعصب کی آگ جلتی رہتی ہے وہ چہرے آہستہ آہستہ کرخت اور بدصورت بن جاتے ہیں۔”
"مرد اور عورت کی نفسیات بہت مختلف ہے۔ بہت سی عورتیں محبت کی گلی سے ہوکر جنس تک جب کہ بہت سے مرد جنس کی گلی سے ہوکر محبت تک پہنچتے ہیں۔””
وہیں دوسری طرف رابعہ کے خطوط میں جارحانہ پن ہے۔ وہ مرد اساس معاشرے سے نالاں نظر آتی ہیں اور اس کا اظہار وہ کھل کر کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک مرد عورت کو محض جنسی تسکین کا سامان سمجھتا ہے جبکہ محبت کے اصل مفاہیم سے صرف عورت واقف ہے۔ رابعہ نے کہا ہے مرد عمل ہے اور عورت ردعمل۔ یعنی وہ یکطرفہ فیصلہ صادر کردیتی ہیں جو کہ ایک طرح سے جانبداری پر محمول لگتا ہے۔ وہ درویش سے تلخ اور چبھتی ہوئی باتیں کہتی ہیں ۔ رابعہ کے خیالات میں منفی رویے برتری حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
"جس معاشرے کی وہ باسی ہے وہاں افسوس کے ساتھ وسیع ذہن کے انسان نہیں ہوتے،مرد ہوتے ہیں۔عورت کو وہ صرف جسم کے مقام پہ رکھتے ہیں۔”
"رابعہ تو بس اتنا سمجھ سکی مرد کے لئے محبت جسمانی لذت کے سوا کچھ نہیں۔اس کو رومانس اور سیکس کا فرق بھی معلوم نہیں۔ وہ صرف محبت کے نام پہ سیکس پارٹنر چاہتا ہے۔ رابعہ کے لئے محبت دکھ اور سکھ کا مکمل پیکج ہے۔سارے موسموں کی مشترکہ کہانی ہے۔اس لئے وہ مرد کی محبت پہ اعتبار کرنے کے قابل نہیں رہی”
رابعہ کی ان تلخیوں سے محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں مرد کی اصلی محبت سے واسطہ ہی نہیں پڑا۔ وہ مرد جسے اگر عورت سے واقعی محبت ہوجائے تو وہ اسے تمام تر عیوب کے ساتھ قبول کرلیتا ہے۔ حتی کہ بعض واقعات میں عورت کی جسمانی معذوری کے باوجود مرد نے اس کے ساتھ مکمل وفاداری کے ساتھ تعلق نبھایا۔ رہی بات جنسی تعلق کی تو اس معاملے میں عورت بھی مرد سے انتہا چاہتی ہے اور اپنی تشنگی کی صورت میں وہ بھی بے وفائی کی مرتکب ہوجاتی ہے۔ چنانچہ محبت اور جنس دو الگ پہلو ہیں جنہیں رابعہ کا الجھا ہوا ذہن خلط ملط کردیتا ہے۔ اس بات کی تصدیق ان کے ایک جملے سے ہوتی ہے
"رابعہ کے من مندر کی گھنٹیاں بھی آسانی سے نہیں بجتی تھیں،سومحبت نام کی کشش بھی ٹین ایج میں خوشبو نا بن سکی۔رنگ نا بکھیر سکی۔”
عین ممکن تھا کہ اگر رابعہ کو اوائل عمر میں ایک ایسی محبت ملتی جو جنس سے اوپر اٹھ کر اس کی روح سے ہمکلام ہوتی تو آج رابعہ کے خیالات مرد کے لئے اتنے سخت نہ ہوتے۔ انہیں ایک ایسا محبوب ملتا جو ان کی جمالیاتی حس کی تسکین کرتا۔ ایک ایسا مرد جسے لطافتوں کی پہچان ہو۔ جو عورت کو کانچ کی گڑیا کی مانند سنبھال کر رکھے۔ لیکن شاید رابعہ کے ذاتی تجربے کے سفر میں ایسے مرد سے ملاقات نہیں ہوسکی اسی وجہ سے انہیں مرد میں محبوب کے بجائے ایک حاکم نظر آتا ہے جو ممکن ہے ان کے کسی تلخ تجربے کی دین ہو۔
"یہاں آج بھی مرد کا رویہ انسانی نہیں حاکمانہ نہیں،ظالمانہ ہے،وہ جذباتی و جسمانی درد کو تو درد سمجھتا ہی نہیں۔ محبت اور سیکس آج بھی اس کا کھیل ہے۔خواہ کوئی اس کی چاہت میں اپنی جان سے ہی کیوں نہ چلا جائے۔”
"ایک اور افسوس ناک بات کہ یہاں مرد ایک بیوی کے علاوہ سب کے ساتھ وفادار ہے کیوں کہ اس نے اسے لائف پارٹنر سمجھا ہی نہیں۔ وہ اسے صرف ایکس پارٹنر سمجھتا ہے۔”
لیکن درویش جو نفسیاتی معالج بھی ہیں وہ ان تمام باتوں کا رسان سے جواب دیتے ہیں۔درویش کے پاس صرف اپنی بات نہیں بلکہ ان کے پاس دلائل بھی موجود ہیں۔ وہ نفسیات اور فلسفے سے ہر بات کا منطقی جواب دیتے ہیں۔ جبکہ رابعہ ڈار سے بچھڑی کونج کی مانند پریشان سی اپنی منزل کا سراغ تلاش کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
اختتامیہ تک آتے آتے رابعہ کے انداز میں واضح تبدیلی آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی تلخی میں درویش کے الفاظ کی مٹھاس گھلنے لگتی ہے اور وہ جیسے پرسکون ہونے لگتی ہیں۔ اس مکمل سفر میں ہمیں درویش ہر اعتبار سے سبقت لے جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو اپنی محبت اور اپنے علم سے راہِ عشق کی ایک مسافر کو ایک ‘سیف زون’ فراہم کرتا ہے جہاں ایک الجھی ہوئی اور زندگی کا مشکل سفر طے کرنے والی تھکن سے چور لڑکی دم لینے کو رکتی ہے۔ اپنی سانسیں بحال کرتی ہے اور تازہ دم ہوکر پھر سے نئی راہوں پہ نکل پڑتی ہے۔
حمیراعالیہ
ریسرچ اسکالر،لکھنو یونیورسٹی
(تبصرے میں پیش کردہ آرا مبصر درکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
Thanks Humaira Aalia for your insightful and thoughtful review. You are such a scholar. I am impressed…dr khalid sohail
The review is unique in a way because it compares the feelings, opinions and approaches of the two co-authors and derived conclusion that I could not see when I wrote a review on this wonderful book.