مصور فطرت ،مناظر قدرت کے دلدادہ،اقلیم تحریر کے بے تاج بادشاہ ، سحر طراز ادیب اور البیلے انشاء پرداز خواجہ حسن نظامی کا شمار اردو کے بلند پایہ انشاء پردازوں اور انشائیہ نگاروں میں ہوتاہے ، انھوں پوری زندگی اپنے دلکش ودلربا اسلوب بیان سے اردو کے گیسوئے برہم کی مشاطگی کی ،اپنی لازوال تصنیفات سے اردو ادب کو مالا مال کیا ،خواجہ صاحب بسیار نویس تھے ،بیسیوں کتابیں ان کے قلم گہر بار سے نکلی ،ہزاروں مقالات سپرد قلم کیے ،لیکن سلاست و روانی کہیں ان سے منھ نہیں موڑتی ،ادبیت وجادوبیانی ان کا ساتھ نہیں چھوڑتی ، دلی کی ٹکسالی زبان کبھی ان سے منھ نہیں پھیر تی ، خیال آفرینی ہر دم ساتھ ،مضامین کی آمد ہر لمحہ ،جب کہ اکثر زود نویسوں کی تحریر میں ادبیت وشگفتہ بیانی باقی نھیں رہتی -خواجہ صاحب کا یہی کمال ہے کہ وہ بسیار نویسی کے باوجود اپنی تحریروں میں ادبیت اور شگفتہ بیانی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے -ان کی ایک ایک کتاب پڑھ ڈالیے ،ایک ایک مقالہ کا جائزہ لے لیجئے ،کھیں آپ تحریروں میں جھول نہیں پائیں گے ،بے ترتیب جملوں سے ملاقات نہیں ہوگی ، بلکہ لڑی کی طرح بروۓ جملے آپ کا استقبال کریں گے ،جملوں کی بندش طبیعت کو خوش کرے گی ، سلاست وروانی ،جادو بیانی وسحر طرازی آپ کو اپنے سحر میں گرفتار کر لے گی ،اور اشعار کا بر محل استعمال آپ کے کام ودہن کو شاد کام کرے گا،اس البیلے اور نرالے انشاء پرداز کی شان میں ممتاز صحافی ،نامور انشاء پرداز ، صاحب طرز ادیب ،مولانا عبد الماجد دریابادی کی شہادت سنیے اور سر دھنیے :”ان کی بزرگی کا حال تو کوئی بزرگ ہی بتا سکتا ہے ، اپنا ایمان تو ان کی انشاء پردازی پر ہے ،صاحب قلم یا انہی کی زبان میں قلم کار کی حیثیت سے فرد تھے اور اس کی شہادت یہاں سے لے کر عالم آخرت تک دے سکتا ہوں کہ ان سا البیلا انشاء پرداز اردو میں نہ کوئی ان کے زمانہ میں پیدا ہوا اور نہ آج تک ہواہے ،وہ صحیح معنوں میں انشاء پرداز تھے” (یہ بھی پڑھیں یوٹیوب کے ذریعہ اردو کی اشاعت – مہر فاطمہ)
خواجہ صاحب نے ١٩١١ءمیں حجاز ، شام ، مصر ، فلسطین اور لبنان کا سفر کیا تھا ، اس سفر کے مشاہدات و تجربات اور پیش آمدہ واقعات کو اپنے روز نامچہ میں لکھ لیا کرتے تھے ، ہندوستان واپسی پر اس روز نامچہ کو "سفرنامہ حجاز ،مصر ،شام ،فلسطین ولبنان "کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا ، یہ اردو کا ایک بیش قیمت سفر نامہ ہے ، یہ گلہاۓ رنگا رنگ سے معمور ہے ، کہیں تلخ تجربات کی روئیداد ہے ، تو کہیں عربوں کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کا ذکر پر بہار ،کھیں "بنانی کی دھوکہ دہی کا تذکرہ ہے ،تو کہیں مصری ہوٹل کے مالکان کی پھوہڑ پن کا گلہ، کبھی اس کا مصنف فراعین مصر کی ممیوں کو دیکھ فراعین پر لعنت بھیجتا ہے ،تو کبھی عظماۓ اسلام کے مزارات پہ عقیدت و محبت کا پھول چڑھاتاہے روتا بلبلاتا اور حال دل تمام سناتاہے ، سفر نامہ کا یہ حصہ "مزارات پر حاضری”اس کتاب کی جان غزل اور ادب وانشاء کا شاہکار ہے ، سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مزار پر حاضر ہوکر جو عرض حال کیا ہے ، ذرا اس کو پڑھئے اور لطف لیجئے "اٹھو بلال ،اٹھو بلال ،بابا جان تک لے چلو ، جاگو بلال ،جاگو بلال اذان کا وقت آگیا ہے ، میں تمہاری چادر کھینچ لوں گا ،میں تمہارے پاؤں میں گدگدیاں کروں گا ،اب تمہارا سونا دشوار ہے ، آنکھ کھولو -تمہارے "کسی”کا نواسہ تم کو آواز دیتاہے -اس کا ہاتھ پکڑو اور اس گھر تک پہنچا دو ، جہاں پچھلی رات نور کے تڑکے دیا کرتے تھے الصلاۃ الصلاۃ یا رسول اللہ !
میرے آقا بلال ! میرے مولی بلال !میرے سید بلال !قدم دو چوموں ،جوتیوں کی خاک دو سر پر رکھوں ، ایک دفعہ اذان سنادو ،تکبیر کا نعرہ توتلی زبان میں بلند کرو اور پھر کچھ کہو ،وہ کان میں سن لو "سفر نامہ حجاز ص١٩٣)
مرزا غالب کو روش عام سے سخت نفرت تھی ، تقلید سے کوسوں دور تھے ، یہی وجہ ہے کہ جس کوچہ میں قدم رکھا اپنی الگ راہ نکالی ، انھوں نے اپنی یہ امتیازی شان فارسی واردو دونوں شاعری میں قائم رکھی ، خط کی طرف آۓ تو مراسلہ کو مکالمہ بنادیا -خواجہ صاحب بھی اسی کوچہ کے یار نکلے ، ان کو بھی ادب وانشاء کے میدان میں تقلید سے بیر تھی ، یہی کج کلاہی اور البیلا پن ان کی تحریر کی آن اور شان ، ان کی نثر کی جان ہے ٠
ملا واحدی نے بجا فرمایا ہے "خواجہ صاحب مقلد ہیں اور حنفی مشرب رکھتے ہیں ،لیکن انشاء پردازی میں ان کو تقلید سے اتنی ہی چڑھ ہے ٠٠٠٠٠٠٠٠٠خواجہ صاحب نے اردو میں جو نئ راہ نکالی ہے ،جس کا ہر انشاء پرداز کو اقرار ہے ،اس کا راز یہی غیر مقلدی ہے "(سیپارۂ دل دیباچہ)
خواجہ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ گرے پڑے معمولی موضوع کو لیتے ہیں تو اور اپنے قلم کی جولانی ، فکر وخیال کی تابانی ،اور طرز ادا کی رعنائی سے اس موضوع کو دلچسپ اور سدا بہار بن دیتے ہیں ,اس باب میں وہ عربی کے مایہ ناز ادیب قابل انشاء پرداز ڈ اکٹر احمد امین مصری سے جا ملتے ہیں ،جنہوں اپنے سبک وسہل اور رواں دواں اسلوب بیان سے عربی ادب کو مالا مال کیا ہے –
اب ہم یہاں خواجہ صاحب کے کچھ مضامین کے عناوین ذکر کیے دیتے ہیں "مچھر ” "مٹی کا تیل ” "دیا سلائی ” "اینٹ چونے کا وصال ” "جھینگر کا جنازہ ” "گلاب تمھارا کیکر ہمارا ” "مرغ کی اذان ” یہ تمام عناوین ہلکے پھلکے اور معمولی ہیں ،لیکن خواجہ صاحب کے قلم معجز نما نے ان میں وہ کر شمہ سازیاں ، گل کاریاں ، گل ریزیاں اور سحر طرازیاں کیں ہے کہ یہ معمولی موضوعات اردو ادب کے نگار خانہ کے حسین گلدستے بن گئے ہیں –
مضون "دیا سلائی”سے دو نمونے آپ کی ضیافت طبع کیلیے پیش کر تے ہیں جن سے خواجہ صاحب کی اس خوبی کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا "آپ کون ؟ناچیز تنکہ -اسم شریف ؟دیا سلائی کہتے ہیں -دولت خانہ ؟جناب دولت ہے نہ خانہ اصلی گھر جنگل ویرانہ تھا مگر چند روز سے احمدآباد میں بستی بسائی ہے اور سچ پوچھئے تو یہ ننھا سا کاغذی ہوٹل جس آپ بکس کہتے ہیں اور آپ کی انگلیوں میں دباہوا ہے میر موجودہ ٹھکانہ ہے –
حضرت آپ ہزاروں لاکھوں سجدے کرتے ہیں مگر آپ کا سر کش وجود ویسا کا ویسا ہی باقی رہتاہے -مجھے دیکھئے کہ ایک ہی سجدہ میں مقبول ہوجاتی ہوں اور بجلی اس چھوٹی سی شکل کو جلا کر خاک کر دیتی ہے ”
اردو ادب وانشاء کے شائقین کو خواجہ حسن نظامی کی کتابیں ضرور پڑھنی چاہیے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

