Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن تنقید

گوپی چندنارنگ کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

by adbimiras جون 16, 2022
by adbimiras جون 16, 2022 0 comment

اردو فکشن تنقیدمیں گوپی چندنارنگ کی اہمیت ایک نظریہ ساز کی ہے۔ انھوںنے نہ صرف نظری بلکہ اردو فکشن کی عملی تنقید کے بھی نہایت عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ اپنے بیش ترتنقیدی سرمایوں سے اردو کی ادبی تنقیدمیں اضافہ کیا ۔نارنگ نے ابتدامیں نئی کہانی میں نئے اسلوب اورعلامت نگاری کی حمایت کی تھی لیکن بہت جلدہی ان کو علامت ،ابہام اور لایعنیت کااحساس ہوگیا اور انہوں نے پریم چند، بیدی، منٹواورعصمت چغتائی کی روایت سے ۱۹۷۰ کے بعدکے افسانے کوقریب لانے کی کوشش کی، جسے روایت کی بازیافت بھی کہہ سکتے ہیں۔ فکشن تنقیدمیں ۸۰۔۱۹۷۰ کے بعداردوافسانے کی تشکیل نو میں گوپی چندنارگ جہاں ایک طرف بطور نقاد تنقیدی مضامین لکھ رہے ہیں تودوسری طرف عملی طورپرسرگرم بھی دکھائی دیتے ہیں۔ گوپی چندنارنگ نے بڑے اہم سمینار قومی سطح پر منعقد کیے۔جن میں اردو افسانے اورناول کی روایت، اس روایت کی توسیع اورناول اور افسانے کے فن پرگفتگو ہوئی۔ ان سمیناروں میں بطورخاص نئے لکھنے والوں کو افسانہ ،افسانے کی روایت، فن کے مسائل اورفن کاری پر کھل کربات چیت کرنے اوراپنے شبہات دورکرنے کاموقع ملا۔ فکشن پر منعقد یہ سمینار اردوفکشن کی تاریخ میں یادگار شمارکیے جاتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے مضامین میں ’افسانہ نگار پریم چند(تکنیک میں Ironyکا استعمال)،منٹوکی نئی پڑھت:متن ممتااور خالی سنسان جڑیں، بیدی کے فن کی استعاراتی اوراساطیری جڑیں ، انتظارحسین کافن:متحرک ذہن کاسیال سفر اورنیاافسانہ ـعلامت ،تمثیل اور کہانی کاجوہر،خاصے اہم مضامین ہیں جوادب کے طالب علموں کے لیے مباحث کے دروازے کھولتے ہیں۔

پروفیسر گوپی چندنارنگ کااختصاص تھیوری ہے تاہم وہ نظریہ سازی کے عمل کومتن کے حساس اورخیال انگیز تجزیاتی مطالعے سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ تھیوری کے تعارف اورپھراس کی اطلاقی جہت کی نشان دہی میں پروفیسر نارنگ بھی یک رخے یا ٹکنیکل نہیں ہوتے اورادق ونامانوس اصطلاحات کے بے محابا استعمال سے قارئین کو بدحظ نہیں کرتے۔ نظری مباحث خواہ کتنے ٹکنیکل کیوں نہ ہو نارنگ صاحب کی تحریر اردو کے مخصوص تنقیدی محاورہ سے بہرصورت منسلک رہتی ہے۔ افسانہ کارد تشکیلی مطالعہ کس طرح کیا جائے ،تانیثی افسانہ کے امتیازات کیاہیں، تخلیقی تحریرکی صنفی درجہ بندی پراصرارکیوں غیر تنقیدی سرگرمی ہے اورافسانہ کے ثقافتی خلقیہ (Pefit)سے کیامرادہے، افسانہ میں مصنف کی آواز کے علاوہ دیگرآوازوں کاتفاعل کیا ہے۔

گوپی چندنارنگ کامضمون منٹوکی نئی پڑھت ۔فن ،ممتا اورخالی سنسان جڑیں، اصلابیانیات کے نئے تناظرمیں منٹوکے فنی امتیازات کو واضح کرتاہے۔ منٹوکے موضوع سے متعلق رقم طرازہیں:

’’منٹوکاموضوع پیشہ ورطوائف یاآرائشی گڑیاہرگزنہیں بلکہ منٹوکاموضوع پیشہ کرنے والی عورت کے وجودکی کریہ یااس کی روح کاالم یاس کے باطن کاسوناپن ہے جس کوکوئی بانٹ نہیں سکتاہے۔‘‘۱؎

گوپی چندنارنگ کے مطابق کیاسوگندھی کاکردار’کرونا‘کے وشال روپ کا،یاممتایعنی عورت کے ترفع یافتہ تخلیقی وجودکاچہرہ نہیں جو کائنات کے بعد بھرے سنگیت کاحصہ ہے۔ جوکانوں میں اسی وقت آتا ہے جب ہم ظاہری یامعمولی حقائق کی آلائشوں میں گھری آنکھوں کو بندکرلیتے ہیں اور اندرکی آنکھوں سے متن کی روح میں سفرکرتے ہیں۔’کرونا‘کہ یہ تہہ تشین لہرپورے بیانیہ کی Ironyمیں جاری رہتی ہے جوسوگندھی اورمادھوکے رشتے کو قول محال کی صورت میں تشکیل کرتی ہے۔

نارنگ نے منٹو کے افسانوں کے مطالعہ میں ان امورکو موضوع بحث بنایاہے جویقینا منٹوکی نئی پڑھت ہے۔ جس میں سوچ کی کئی تہیں یاکئی آوازیں ایک ساتھ ابھرتی ہیں اور مصنف کرداروں کے مختلف نقطہ ہائے نظرکو آزادانہ ابھرنے دیتاہے ۔یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ منٹو مختلف آوازوں کوکسی ایک مرکزی آوازکے تابع نہیں رہنے دیتا۔ اس کے تمام کرداراپنے نقطہ نظرسے داخلی ارتکاز کی کسی نئی اورغیر متوقع جہت کوپیش کرتے ہیں۔ نارنگ کے مطابق بابوگوپی ناتھ میں واقعتاکرداروں کانگارخانہ رقصاںہے ۔عبدالرحیم سینڈو، غفار سائیں، غلام علی، کشمیری کبوتری زینت ،بیگم ،ٹین پیٹوٹی،فل فل فوٹی، مسزعبدالرحیم عرف سرداربیگم، محمدشفیق طوسی، محمدیٰسین ،غلام حسین وغیرہ چھوٹے بڑے سب کرداراپنااپنا رویہ ،اپناانداز، اپنے اطواراوراپنی نفسیات رکھتے ہیں اور اپنے نقطہ نظر ،اپنی زبان اور اپنے محاورے میں بات کرتے ہیں ۔یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس سے بہترین کثیرالاصوات Poly Phony اردو افسانہ شایدہی ملے۔

پریم چند کے مشہورافسانہ ’کفن‘ کی موضوعاتی تفہیم کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں۔ ترقی پسند اورجدید نقادوں کے افسانہ کے عنوان کوبھی موضوع بحث بنایاہے اورعام طوپر اسے بدھیا کا کفن ٹھہرایاگیا ہے۔ ترقی پسند ناقدوں نے کفن کی تمثیلی قرأت پراصرا رکیاہے اورلکھاہے کہ ولادت سے مرادنئی نسل دردزہ میں کراہتی عورت ۔نارنگ صاحب کے مطابق اس نوع کی تنقید ایک غیر علمی معصومانہ کوشش سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ۔

گوپی چندنارنگ کے مطابق کفن کابنیادی اسٹرکچر آئرنی پراستوارہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’کفن کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اس میں حقیقت کی ترجمانی نہایت بے رحمی اورسفاکی سے کی گئی ہے ،لیکن جوحضرات اس کہانی کوتمثیلی سطح پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، یعنی ولادت سے مرادآنے والی نسلیں یازمانہ ہے ،دردِ زہ کراہتی ہوئی عورت افریقی ایشیائی سماج ہے یاتاڑی کانشہ انقلاب جنوں ہے، توایسی تنقید سے زیادہ سے زیادہ ہمدردی یہ کی جاسکتی ہے کہ اسے غیرعلمی معصومانہ کوشش سمجھ کر نظرانداز کردیاجائے۔ دراصل کہانی کی جان حالات کی وہ Irony (ستم ظریفی) ہے جس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا۔‘‘۲؎

گوپی چندنارنگ کے مطابق کہانی کامرکزی نقطہ بدھیاکی موت ہے ۔اس بے بس ونادار عورت کی موت کاالمیہ ایک تاریک سایہ بن کرپوری کہانی پرچھایارہتاہے،لیکن سوائے کراہنے کی آوازکے جورہ رہ کر درد کی ٹیس بن کرابھرتی ہے، بدھیاکے کسی عمل کی کوئی تفصیل پیش نہیں کی۔ کہانی کے بیچ میں موت کاالمیہ اوربیانیہ کی Ironyپوری طرح گرفت میں لے لیتے ہیں۔بعدکاحصہ اسی تاثرکی شدت اورکیفیت کومزید گہرا کرتاہے۔ کرداروں کی بے حیائی اوربے حسی اورکھل کر سامنے آتی ہے۔ نارنگ لکھتے ہیں:

’’پوری کہانی کی فضاطنزیہ ہے ۔پریم چند ایک سنگین سچائی سے پردہ اٹھاتے ہیں،اورآخری وارایسا بھر پورکرتے ہیں کہ پوری کہانی نام نہاد انسانیت اورشرافت کے منہ پر زبردست طمانچہ بن جاتی ہے۔ کفن میں دراصل دوکفن ہیں ایک وہ جس کے پیسوں سے یہ تاڑی پیتے ہیں، دوسرا کفن وہ ہے جسے مرنے والی نے اپنی لاش سے اس بچے کوپہنایا ہے جواس کے پیٹ کے اندرمرگیا ہے۔‘‘۳؎

گوپی چندنارنگ نے اپنے اس مضمون’’افسانہ نگار پریم چند(تکنیک میں Irony کااستعمال) ،میں پریم چندکے متعددافسانوں میں آئرنی کے خلاقانہ استعمال کی مختلف صورتوں کی نشان دہی کی ہے۔ ان کے مطابق معروضیت اورحقیقت کی بے لاگ ترجمانی اورآئرنی کافنکارانہ استعمال پریم چند کی بظاہر حقیقت پسندانہ کہانیوں مثلادوبیلوں کی کہانی ،عیدگاہ، مس پدما، شطرنج کے کھلاڑی، دودھ کی قیمت ،سواسیر گیہوں ،نئی بیوی، پوس کی رات اور جرمانہ وغیرہ کی تشکیل سازی دیکھی جاسکتی ہے۔

نارنگ کی تنقیدی تحریروں کاخاص وصف معروضیت ہے اوراگرکسی بڑے سے بڑے فن کارمیں بھی انہیں کوئی فنی عیب نظرآتاہے تووہ اس کی برملا نشان دہی کرنے میں کوئی تکلف نہیں کرتے ۔عیدگاہ کی عام طورپر پذیرائی کی جاتی ہے ۔مگرنارنگ کے نزدیک یہ کہانی Over Writtenہونے کی بھی مثال ہے کہ اصل کہانی انسان کے خلقی Doxaکوخاطرنشان کرتی ہے۔ عیدگاہ میں (یعنی عقیدہ کی سطح پر) تومساوات کاسماں نظرآتاہے مگربازارمیں آتے ہی عدم مساوات یاامیری غریبی کافرق پوری طرح واضح ہوجاتاہے ۔ کھلونوں کی خریداری سے یہ عمل ظاہرہوتاہے ۔نارنگ کے مطابق جب تک سارے لوگ عیدگاہ میں تھے ،سب ایک تھے لیکن جیسے ہی میلے کے بازارمیں آئے، بڑے توبڑے، چھوٹے چھوٹے بچوں تک میں اونچ نیچ کافرق پیداہوگیا۔ کہانی تودراصل کھلونوں کی خریداری کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے، پریم چند اپنی اچھی سی اچھی کہانی میں بھی کچھ نہ کچھ زیادتی توکرتے ہیں۔ چنانچہ اسے خواہ مخواہ دادی امینہ تک پہنچادیا ہے اورچھوٹے حامد کے فطری انسانی عمل کوبڑھاپے میں اوربوڑھی امینہ کے عمل کوبچپن مین تبدیل کرنے کی غیرضروری کوشش کی ہے ۔

پروفیسر نارنگ نے بلونت سنگھ اورانتظارحسین ان دونوں فن کاروں پرتفصیلی مضمون لکھے ہیں۔ انتظار حسین کے موضوعاتی شعور اورفنی ارتکاز کے مراحل کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مصنف نے چار ادوار کی صراحت کی ہے ۔بقول نارنگ پہلادور گلی کوچے اورکنکری، کے افسانوں کاہے جوماضی کی یادوں اورتہذیبی معاشرتی رشتوںکے احساس پرمبنی ہیں۔دوسرادورآخری آدمی،کے افسانوں کاہے جس میں ان کا بنیادی سابقہ انسانی وجودی نوعیت کاہے۔ تیسرادورشہر افسوس کے افسانوں کاہے جوزیادہ ترسماجی ،سیاسی نوعیت کے ہیں۔ جن میں گہراسماجی طنزہے۔ چوتھے دورکے افسانوں کے موضوعات یاتونفسیاتی ہیں یابودھ روایت ،دیومالا اورمختلف النوع اساطیری روایتوں کوباہم آمیز کرکے آج کے انسانی یاتہذیبی تناظر میں کوئی نیا سوال اٹھانے یانئی بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نارنگ نے انتظار حسین کے افسانوں کی عصری صورت حال سے تطبیق اور ان کے فنی طریقہ اور ان کے امتیازات کو نشان زد کرنے کے لیے ان کے بعض مشہور افسانوں ’’ آخری آدمی‘‘ ، سیڑھیاں، وہ جو کھوئے گئے‘‘، کایا کلپ، ’’ کٹا ہوا ڈبہ‘‘ ، ’’ شہر افسوس‘‘، دوسرا گناہ، ’’ وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے‘‘، پرچھائیں‘‘ ٹانگیں‘‘ سوئیاں وغیرہ  کے فن سے نہ صرف براہ راست استنباط کیابلکہ بعض ناقدوں کے اعتراضات کا بھی معروضی انداز میں محاسبہ کیا ہے۔ پروفیسر نارنگ سیاسی المیوں اور سماجی زوال کی مختلف شکلوں پر انتظار حسین کے تاسف انگیز ردعمل کوتخلیقی رد عمل کو تخلیقی شخصیت کی فوت کے مترادف ٹھہرانے والوں کے بجانب شکوہ سنج ہیں اور سوال اٹھاتے ہیںکیا سماجی صورت حال پر تنقید یا طنز احتجاج کی شکل نہیں ؟ شاید یہ لوگ فنکار سے کسی حل کی توقع رکھتے ہیں یا راہ نجات جاننے کے خواہش مند ہیں۔ یہ رویہ بہت کچھ اس تنقید سے ملتا ہے جو ادب سے صرف سچائی یا پیغمبری کی توقع رکھتی ہے یا پھر اس سے فارمولہ زدہ سماجی خدمت کا کام لینا چاہتی ہے۔ نیک خواہشات کا احترام ضروری ہے لیکن کیا کیا جائے کہ صدیوں سے منطقی علوم ، سماجی علوم اور سائنس و تکنا لوجی انسان کی فلاح و بہبود کے نیک کام میں لگے ہوتے ہیں، لے دے کے ایک اہم بحث ہے جو انسانی فطرت کی سر نگیوں اور بوالعجبیوں ، ذہنی الجہنوں اور کشمکش اور خانہ روح کی پرچھیائیوں کی آماجگاہ ہے۔ یہی اس کی سماجی خدمت ہے۔

نارنگ کی فکشن تنقید کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان افسانہ نگاروں کے فن پر تفصیلی اظہار کیا ہے جو ہمارے ادب کاکسی نہ کسی وجہ سے حصہ نہیں بن سکے ہیں۔ ہر چند کہ ان کی تخلیقات فن کی نئی منزلوں کا پتہ دیتی ہیں۔ اس نوع کے افسانہ نگاروں میں بلونت سنگھ کا ’’ گلزار، جابر حسین اور ساجد رشید شامل ہیں۔ بلونت سنگھ پر اپنے جامع تجزیاتی مضمون ’’ بلونت سنگھ کا فن‘‘ سائستگی اور ثقافت اور شکست رومان، میں نارنگ نے لکھا ہے کہ دیہاتی جڑوں کو اجتماعی شائستگی سے مردانگی اور بہادری کی جو خوفناک لیکن نیک خوب شکلیں بلونت سنگھ نے تراشی ہیں، وہ ان کے معاشرے کا وہ نقش ہے جو خود ان کی سائستگی میں آباد تھا۔

نظریہ یا آئیڈیالوجی کس طرح تخلیقی اظہار میں راہ پاتی ہے اس سلسلے میں نارنگ صاحب نے بلونت کے ایک مشہور افسانے دیش بھکت‘‘ کے تجزیاتی مطالعہ میں لکھا ہے دیش بھکت ایک حد تک سیاسی کہانی ہے۔ آئیڈیا لوجی فکشن میں بیانات یا تقریر کی راہ سے نہیں آتی بلکہ کرداروں اور سچویشن اور کرداروں کے برتاؤ میں در آئی ہے۔ ایسا ہی دیش بھکت میں ہوا ہے۔ بلونت سنگھ نے براہ راست کچھ نہیں کیا۔ بھر پور بیانیہ جو گندی بستیوںرہنے والوں کی سماجی نفسیات پر بھی ہے۔ اور تحریک آزادی پر بھی یعنی ایک طرف گرے پڑے لوگ یا حاشیاتی کردار ہیں تو دوسری طرف کھدر پوش اور ٹوپی برادر نام نہاد سیاست داں جن کا شیوہ ہی استحصال ہے۔ نارنگ کا بلونت سنگھ پر یہ مضمون بلونت سنگھ کو اردو کے ایک انتہائی اہم فکشن رائٹر کے طور پر Establish کرتا ہے۔

غرض یہ کہ گوپی چند نارنگ کے مذکورہ مضامین نہ صرف یہ کہ فکشن کی شعریات مرتب کرتے ہیں بلکہ اردو میں مروجہ فکشن تنقید کی نارسائیوں اور حدود کو بھی واضح کرتے ہیں۔

حواشی

۱۔فکشن شعریات ، تشکیل و تنقید ،گوپی چند نارنگ ، ص ۱۵

۲۔ص۴۹ تا ۵۰،ایضاً

۳۔ص۵۴،ایضاً

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
چور – عقبہ حمید
اگلی پوسٹ
گوپی چند نارنگ جیسی نابغہ شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر دیبا ہاشمی کی منٹو شناسی :”احتجاجی ادب...

ستمبر 2, 2024

بہار میں اردو فکشن کی تنقید: روایت اور...

مئی 9, 2022

وارث علوی کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

اگست 27, 2021

افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد...

اگست 3, 2021

وارث علوی کی فکشن تنقید : جدید افسانہ...

جولائی 30, 2021

فکشن تنقید اور وہاب اشرفی – ڈاکٹر آس...

مارچ 17, 2021

فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی –...

مارچ 5, 2021

 عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر...

فروری 3, 2021

یوسف سرمست کی فکشن تنقید – ڈاکٹر عائشہ...

نومبر 2, 2020

انتظار حسین اور افسانے کی تنقید- ڈاکٹر نوشاد...

اکتوبر 20, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں