یوسف سرمست (1936-2019 )معاصر اردو فکشن کے ناقدین کی صف میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے اب تک ان کی متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔بیسویں صدی میں اردو ناول (1973)، عرفان نظر (1977)، پریم چند کی ناول نگاری (1986) ، تحقیق و تنقید (1999)، نظری اور عملی تنقید (2002) وغیرہ ان کی قابل ذکر کتابیں ہیں۔ جن میں انھوں نے فن پاروں کی تفہیم میں ہر ممکن زاویہ کو سامنے رکھ کر بغور جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ مذکورہ بالا تمام کتابیں اس ضمن میں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ان کی کئی کتابیں ملتی ہیں،جن میں ادب نقد حیات (1996)، نظری اور عملی تنقید(2002)،دکنی ادب کی مختصر تاریخ(2006)وغیرہ۔
بیسویں صدی میں اردو ناول:
’بیسویں صدی میں اردو ناول‘ کی فہرست پر سرسری نگاہ ڈالنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب میں یوسف سرمست نے بیسویں صدی میں اردو ناول نگاری کے ارتقا کا بھرپور جائزہ پیش کیا ہے۔ یہی نہیں انھوں نے ابتدا میں پس منظر ‘ اور ’ادبی پس منظر‘ جیسے نام سے چند عنوانات قائم کیے ہیں۔ جن میں ناولوں کے پس منظر کے ساتھ ساتھ انھیں داستانوں سے ممیز بھی کیا ہے۔ اور بیسویں صدی کے حیرت انگیز معجزاتی ایجادات کا ذکر کرتے ہوئے عام انسانوں کے ساتھ ساتھ حساس ادیبوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جنھوں نے زمانے کے حسب حال اپنے فن پاروں کو پیش کیا ۔ ناول کی تعریف بیان کرنے کی غرض سے انھوں نے مغربی ادبا وناقدین کی آرا بھی پیش کی ہیں۔ ناول کی مختلف تعریف کرتے ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں:
’’اصل میں ناول کی کوئی جامع اور مانع تعریف کا نہ ہوسکنا اس فن کی غیر معمولی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، جس کو محصور نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ 1؎
مذکورہ بالا عبارت کے مطالعہ سے ناول سے متعلق یوسف سرمست کے خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی بات بڑی حد تک درست بھی معلوم ہوتی ہے۔ بہرکیف بیسویں صدی میں اردو ناول کتاب میں انھوں نے کل سات ابواب ملتے ہیں۔ جن میں ناول کے پس منظر اور ابتدائی صورت حال کے ساتھ ساتھ ناول نگاروں اور ناولوں کا بھرپور تفصیلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ اس کے بعد اس فن میں آنے والی تبدیلیوں اور مختلف رجحانات و رویوں کو بھی بخوبی گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تاریخی اعتبار سے ناولوں پر گفتگو کی ہے۔
عرفان نظر(1977):
یہ کتاب یوسف سرمست کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے، جو 1960 سے 1970 کے دوران مختلف رسائل میں شائع ہوئے۔ اس میں نثروشاعری میں مختلف موضوعات پرمضامین شامل ہیں۔ فکشن کی تنقید سے متعلق ابن الوقت اور مغربی تہذیب، نذیر احمد کا ایک اہم ناول ایامیٰ ،مرزا رسوا اور ان کا فن ؛ سماجی ناول کی اصطلاح، داستان گو اور ناول نگار کا تخیل اور جدید نفسیاتی ناول یا شعور کی رو کے ناول، وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر مضامین ملتے ہیں۔
ابن الوقت اور مغربی تہذیب، مضمون میں یوسف سرمست نے نذیر احمد کے مغربی تہذیب سے متعلق افکار و نظریات پر روشنی ڈالی ہے۔ ناول ابن الوقت میں اس کے مرکزی کردار ابن الوقت کی زندگی سے متعلق مختلف پہلوؤں کی طر ف تو جہ دلاتے ہوئے ان مغربی اثرات کے منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ جس سے سائنس یا منطق کاجواز نہیں ملتا، یعنی انھوں نے مغربی تہذیب کے تحت پائی جانے والی تعلیم اور سائنسی علوم کو اہم تو قرار دیا ہے لیکن ان کی اندھی تقلید کرنے سے احتراز کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس کی مثال جگہ جگہ ابن الوقت کے کردار سے دی ہے۔ یوسف سرمست نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ انسان مغربی تمدن کی اندھی تقلید کے سبب دین سے کنارہ کش ہونے لگتا ہے۔ اور ساتھ ہی مغربی طرز کی زندگی کافی مہنگی بھی ہوتی ہے جسے عام ہندوستانی برداشت نہیں کرسکتا۔ ابن الوقت ایسی ہی زندگی گزارنے کی کوشش میں مقروض ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوںنے یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ انسان جب غیر فطری زندگی گزارنے لگتا ہے تو وہ سماج سے کٹ جاتا ہے۔ اور ابن الوقت بھی اسی طرز کی زندگی گزارنے کی کوشش کرنے لگا جس کاوہ عادی نہیں تھا۔ اسی وجہ سے وہ غیر ضروری بوجھ تلے دب گیا۔ ان تمام باتوں سے متعلق لکھا ہے: ( یہ بھی پڑھیں انتظار حسین اور افسانے کی تنقید- ڈاکٹر نوشاد منظر)
’’نذیر احمد نے ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات سے ابن الوقت کی شخصیت کے انتشار کو واضح کیا ہے جس نے بالآخر اس کی زندگی کو گھن لگادیا اور باوجود ذہانت، بردباری، گورنمنٹ میں اثر و رسوخ، دیانت داری، قابلیت و لیاقت کے وہ زندگی میں زک اٹھاتا ہے اور ناکام ہوتا ہے۔‘‘ 2؎
اسی طرح یوسف سرمست نے نہ صرف کردار کا جائزہ پیش کیا ہے بلکہ انھوں نے اس وقت کے دوسرے مسائل کو پیش نظر رکھ کر بھی ناول کا احاطہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی سماجی نقطۂ نظر سے بھی اس ناول کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے تمام مغربی چیزوں پر تنقید نہیں کی ہے بلکہ تعلیم اور دیگر علوم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انھیں سراہا بھی ہے، ہر معاشرے میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں بھی پائی جاتی ہیں ،جن پر غور وفکر کے بعد ایک با شعور شخص اپنی رائے ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے ناول ’ابن الوقت ‘ کے کردار کو بطور مثال پیش کرکے ایک بے خبر شخص کی اندھی تقلید کو بطور عبرت پیش کیا ہے۔
’نذیر احمد کا ایک اہم ناول۔ ایامیٰ ‘کے عنوان سے ایک اہم مضمون ملتا ہے۔ اس ناول کویوسف سرمست نے خود نوشت ناول نگاری سے تاویل کیا ہے۔ ، تکنیک کے حوالے بھی انھوں نے اس ناول کو جدید تکنیک کاتجربہ کہا ہے۔ انھوں نے شعور کی تکنیک کے حوالے سے لکھا ہے:
’’ظاہر ہے کہ یہ ٹکنک بالکل جدید ہے اور نذیر احمد سے ہم توقع نہیں کرسکتے کہ وہ اسے پوری طرح برت سکے ہوں گے ۔ لیکن خواہ یہ کتنی غیر ترقی یافتہ اور مبہم صورت میں نذیر احمد کے پاس ملے اس سے نذیر احمد کی ذہانت واضح ہوجاتی ہے۔‘‘ 3؎
درج بالا اقتباس کے مطالعہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یوسف سرمست کے نزدیک نذیر احمد کے یہاں شعور کی رو کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے اس کے کردار’ آزادی بیگم ‘کے خیالات و نفسیات کو بہتر طریقہ سے پیش کیا ہے۔ ’آزادی‘ کے بیوہ ہونے کے بعد اس کی نفسیات اور دوسری شادی سے متعلق اس کے خیالات کو پیش کیا ہے۔
’سماجی ناول کی اصطلاح‘ نظریاتی قسم کا مضمون ہے۔ جس میں انھوں نے سماجی ناول سے متعلق اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں ۔ لکھا ہے کہ یوں تو سبھی قسم کے ناولوں میں سماجی عناصر پائے جاتے ہیں لیکن بطور خاص اس بات پر توجہ دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
سماجی ناول کے لیے پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ وہ روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے سماجی واقعات کو پیش کرے روزمرہ کی سماجی زندگی کو پیش کرتے وقت سماجی ناول کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ ناول کے تمام عناصر ترکیبی میں اس اثر کوملحوظ رکھے۔‘‘ 4؎
درج بالا اقتباس میں یوسف سرمست نے سماجی ناول میں کیا خصوصیت ہونی چاہیے۔ اس کا اظہار کیا ہے۔جدید نفسیاتی ناول یا شعور کی رو کے ناول کے عنوان سے کتاب میں شامل آخری مضمو ن ہے۔ جس میں انھوں نے فکشن میں نفسیاتی صورت حال کاجائزہ پیش کیا ہے۔ مغربی ماہرین نفسیات کے خیالات و نظریات کوپیش کر کے ناول میں نفسیات کی نوعیت پر روشنی ڈالی ہے۔ جن میں انھوں نے ولیم جیمس ، ڈیکارٹ، برگساں اور فرائڈ کے نظریات کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ اس کی مثالیں انھوں نے انگریزی ناول نگاروں ہنری جیمس ، مارسل پروسٹ ، ڈورتھی رچرڈسن، جیمس جوائس وغیرہ کے ناولوں سے دی ہیں۔ اردو میں شعور کی رو کے ناولوں میں قرۃ العین حیدر کے ناول ’آگ کا دریا‘ کابطور خاص ذکر کیا ہے۔
پریم چند کی ناول نگاری:
’پریم چند کی ناول نگاری‘ (1986) پریم چند شناسی میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ اس کتاب میں مختصراً مگر جامع طور پر پریم چند کے ناولوں کو گفتگو کا موضوع بنایا گیا ہے۔ فہرست کچھ اس طرح دی گئی ہے۔
پریم چند کے موضوعات، پریم چند کا نظریۂ ادب، پریم چند کے ناولوں کی اہم خصوصیت، پریم چند کے ناولوں کا فنی ارتقا اور ہندوستان کا سماجی، سیاسی اور معاشی پس منظر، اس کے علاوہ ان کے ناول اسرار معابد،ہم خرما و ہم ثواب، جلوۂ ایثار، بازار حسن، گوشۂ عافیت، چوگان ہستی، پردۂ مجاز، بیوہ، غبن، میدان عمل، اور گئودان۔ ان کے علاوہ پریم چند کی ناول نگاری پر ایک اعتراض ، پریم چند کے ناولوں کی بعض اہم کمزوریاں، کرداروں کی نفسیاتی پیش کش اور ان کی جنسی محبت۔ ہندوستان کا بالزاک اور پریم چند کا کارنامہ۔
درج بالا مضامین کی فہرست میں شامل مضامین کے عناوین سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف سرمست نے پریم چند کے ناولوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان کے مطابق پریم چند کا انفرادی اور امتیازی مقام اس وقت تک متعین نہیں کیا جاسکتا جب تک ان کی ناول نگاری کو ہندوستان کے اس خاص پس منظر میں نہ دیکھا جائے جو ان کے ناولوں میں ملتا ہے۔ ساتھ ہی ان کی غیر افسانوی کتابوں کے مطالعہ کو اس حوالے سے ناگزیر قرار دیا ہے۔ پریم چند کی ناول نگاری کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں:
’’پریم چند کی ناول نگاری اردو ناول میں ایک ایسی انفرادیت ، عظمت و وقار رکھتی ہے جس کا جواب اردو کی ساری ناول نگاری میں ملنا ممکن نہیں۔‘‘ 5؎
کتاب میں ان کے تمام ناولوں کے ساتھ ساتھ ان کے نظریہ ، ان پر کیے جانے والے اعتراضات وغیرہ پر اپنے خیالات رقم کیے ہیں۔ ساتھ ہی یوسف سرمست نے پریم چند کی عظمت کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ادب —نقد حیات:
’’ادب — نقد حیات‘ یوسف سرمست کی اہم کتاب ہے۔ اس میں فکشن کی تنقید کے حوالے سے چند مضامین شامل ہیں۔ جن میں نظری تنقید کے ساتھ ساتھ عملی تنقید پر بھی مبنی مضامین ہیں۔ مثلاً پریم چند، ترقی پسندی اور جدیدیت، کفن اور نئی حقیقت نگاری، بیدی کی نفسیاتی بصیرت، جدیدیت اور عصری تنقید کا بحران اور نقاد اور تخلیق وغیرہ۔
’کفن اور نئی حقیقت نگاری‘ مضمون میں انھوں نے ’کفن‘ پر کی جانے والی تنقیدوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر از سر نو دیکھنے اور سمجھنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔لکھتے ہیں:
’’ایک ایسا افسانہ جس میں فکری اورفنی اتنی خامیاں ہوں پریم چند کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔۔۔ کفن کا شمار اصل میں پریم چند کی کمزور تخلیقات میں ہونا چاہیے تاکہ پریم چند کے دوسرے عظیم افسانوں کا ہر صحیح طور پر اندازہ کرسکیں اور ان کی فنی اور فکری عظمت کوحقیقی معنوں میں خراج تحسین پیش کرسکیں۔‘‘ 6؎
مندرجہ بالا اقتباس کے مطالعہ کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوسف سرمست پریم چند کے افسانہ ’کفن‘پر دوسرے ناقدین سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ان کے مطابق اس افسانہ پر ناقدین نے جتنی توجہ صرف کی ہے،ان کے باقی افسانے اس کے مقابلے کمزور نہیں ہیں۔ وہ ادب کی تفہیم کے لیے کسی ایک خاص نظریہ کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے۔بلکہ آزادانہ طور پر ادب کے مطالعہ کو اہمیت دیتے ہیں۔
تحقیق و تنقید(1999):
’تحقیق و تنقید‘ یوسف سرمست کی اہم تصنیف ہے۔ کتاب میں تقریباً تمام مضامین ہی اردو فکشن سے متعلق شامل کیے گئے ہیں۔ جیسے فکشن ، ناول اور سوانحی ناول، ناول کافن، نشتر پہلا ہندوستانی ناول؟ غالب اور ناول، اردو ناول اور جدو جہد آزاد، ہم عصرناول اور چائے کے باغ وغیرہ۔ان مضامین میں یوسف سرمست نے جہاں ناول اور اس کے فن و تراکیب پر گفتگو کی ہے وہیں تحقیقی نگاہ سے بھی کام لیا ہے۔ اور ’نشتر‘ کے پہلے ہندوستانی ناول ہونے پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں شمیم حنفی کے ایک مضمون سے ان کی رائے پیش کرتے ہوئے اسے مسترد بھی کیا ہے۔ غالب اور ناول مضمون میں یوسف سرمست کے مطابق غالب نے اپنے خطوط کے ذریعہ ناول نگاری کی بنیاد فراہم کی۔ اسی طرح اردو ناول اور جدو جہد آزادی مضمون میں ناولوں میں اس پہلو کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ اسی طرح ہم عصر ناول میں انھوں نے مختلف ناولوں جیسے میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غم دل، آگ کا دریا، چائے کے باغ، اداس نسلیں، آنگن، ٹیڑھی لکیر، معصومہ ، عجیب آدمی اور آئینے اکیلے ہیں جیسے ناولوں پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں وارث علوی کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری )
نظری اور عملی تنقید(2002):
کتاب میں بیشتر مضامین شاعری اور نظری تنقید پر مشتمل ہیں۔ فکشن کی تنقید کے حوالے سے ’آگ کا دریا— تاریخی ،علامتی اور وجودی ناول‘ اور’ ابن الوقت کی عصری معنویت ‘کے حوالے سے دو مضامین ملتے ہیں۔ یہ مضامین اپنی نوعیت کے لحاظ سے کافی اہم ہیں۔ انھوں نے ابن الوقت کی عصری معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے اس ناول کی خصوصیات کاذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا دریا، سے متعلق مضمون میں انھوں نے ناول میں پیش کیے جانے والے تاریخی، تہذیبی، معاشرتی اور زبان و بیان کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اس ناول کی خصوصیت یعنی شعور کی رو کی تکنیک کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’قرۃ العین حیدر اس ناول میں جگہ جگہ شعور کی رو کی تکنیک سے کام لیتی ہیں۔‘‘ 7 ؎
’’آگ کا دریا‘‘ میں قرۃ العین نے مختلف ادوار میں ہندوستان کی تہذیبی زندگی میں جو تبدیلیاں آئیں ہیں ان تبدیلیوں کے باوجود ہندوستانی تہذیب و تاریخ کا جو تسلسل رہا ہے اس کو بھی پیش کیا ہے۔ اس ناول کی تخلیق کا محرک ہی ہندوستانی تہذیب کی پیش کش ہے۔‘‘ 8؎
مذکورہ بالا اقتباسات کے مطالعہ سے یوسف سرمست کے خیالات سے واقفیت ہوتی ہے۔ انھوں نے قرۃ العین حیدر کے فن پاروں کا بغور جائزہ پیش کیا ہے۔ اس میں پائی جانے والی خصوصیات کی جانب توجہ دلائی ہے۔
فکشن تنقید کے حوالے سے یوسف سرمست کی کتابوں میں جو مضامین ہمیں ملتے ہیں ۔ ان میں نظریاتی تنقید کے ساتھ ساتھ عملی تنقید کا خاصہ مواد موجود ہے۔ اس مضمون میں اس حوالے سے پیش کی گئی کتابیں اس سلسلہ میں کافی اہمیت رکھتی ہیں اور یہ ہمیں فن پارے پر دوسرے زاویوں سے بھی سوچنے کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ یہ کارنامہ یوسف سرمست کو بہ حیثیت فکشن نقاد کے زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوگا۔
1:بیسویں صدی میں اردو ناول، یوسف سرمست، نیشنل بک ڈپو، حیدر آباد، 1973، ص:11
2:عرفان نظر، محمد یوسف سرمست،مینار بکڈپو چارکمان، حیدر آباد، 1977، ص:73
3:ایضاً، ص:81
4:ایضاً، ص:157
5:پریم چند کی ناول نگاری، یوسف سرمست، الیاس ٹریڈرس پبلشراینڈ بک سلیر، حیدر آباد، 1986، ص:255
6:ادب— نقد حیات،یوست سرمست، آل انڈیا اردو ریسرچ کونسل ،1996، ص:74
7:نظری اور عملی تنقید یوسف سرمست، آل انڈیا اردو ریسرچ اسکالر کونسل ، حیدر آباد،2002، ص:233
8:ایضاً، ص:233-234
Dr.Aysha Parveen
ShaheenBaghAbulFazalEnc.II
Okhla Jamia Nagar New Delhi.110025
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

