Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن تنقید

وارث علوی کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

by adbimiras اگست 27, 2021
by adbimiras اگست 27, 2021 0 comment

وارث علوی موجودہ دورکے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اورمتنازعہ فیہ نقادرہے ہیں۔ وارث علوی کاہرمضمون کسی نہ کسی نئی بحث کاپیش خیمہ ہوتاہے۔ فکشن اوراس کی تنقیدسے وارث علوی کوخصوصی دلچسپی تھی وہ یورپی ،امریکی اورروسی فکشن پر اچھی نظررکھتے تھے اوراسی تناظر میں اردو فکشن کو دیکھتے بھی تھے۔ یقینا عالمی/مغربی ادب سے واقفیت بلکہ ماہرانہ واقفیت بہت اچھی بات ہے۔ اس سے تکنیک اوراظہار کے مختلف اسالیب کے اسرار کھلتے ہیں اورذہنی کشادگی بھی پیداہوتی ہے لیکن فکشن میں جب تک مصنف کے دور اور اس کے آس پاس ہونے والی ہلچل شامل نہ ہوبات نہیں بنتی۔ ہمارے یہاں بیشترنقاد اپنی بات کو معتبربنانے کے لیے فرانسیسی ،انگریزی، امریکی اورروسی نقادوں اورمصنفین کے بڑے بڑے نام توگنواتے رہتے ہیں لیکن یہاں کے زمینی حقائق کی روشنی میں اپنے ادب کوکم کم ہی دیکھاجاتاہے۔ اوراسی وجہ سے ہمارے Ultra Modernنقادوں نے پریم چندی افسانہ ،جیسی اصطلاح بنالی بغیریہ سوچے سمجھے کہ پریم چندنے کس دورمیں افسانہ لکھااورکس سیاق وسباق میں لکھا۔ وارث اسی قسم کی تنقید کو کتابی فیک(Fake) اورPhonicقرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ناقد موضوع کونہ صرف ہرپہلو سے جانچنے کی صلاحیت رکھتاہو بلکہ اپنے علم وبصیرت سے حقائق اورصورت حال کا صحیح تجزیہ کرنے پربھی قادرہو ۔وارث علوی کاکہناہے کہ:

’’کسی کسی مضمون کالکھناتواس کے نقادہونے کی دلیل نہیں ہے۔ کوئی شخص، کیوں نقادنہیں، یہ جاننے کے لیے اس کی تنقیدوں کاتفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اتناکافی ہے کہ اس کی تنقیدوں میں جو کردارابھرتاہے وہ کیسے آدمی کاکردارہے۔ آدمی کی وضع قطع، بات چیت، لب ولہجہ، طرزبیان سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کہ آدمی Genuine ہے یا Fake۔‘‘۱؎

جب وارث علوی Genuineاورفیک میں فرق کی بات کرتے ہیں تودراصل نقادکی اندرونی شخصیت سے متعارف ہونے کی بات ہوتی ہے۔ کوئی نقاد محض لفظوں کے طوطامینابناکر بھاری بھرکم رائج الوقت علمی اورفنی اصطلاحات استعمال کرکے تنقیدکاحق ادانہیں کرسکتا۔

اگرہم اچھی تنقید کی بات کریں تواچھی اورسچی تنقید ادب پارے کی بازیافت ہے جب تک نقاد اپنے موضوع سے ذہنی طورپر پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہوتا جب تک ادب پارے کی قرات خود پوری دیانت داری سے نہ کرلے وہ کیفیت، سنسنی اورجذباتی فشارمحسوس نہ کرے جولکھتے وقت مصنف نے محسوس کیاہوگا تب تک تنقیدکاحق ادانہیں کرسکتا۔ وارث صاحب جب Genuineاورفیک نقادمیں فرق کرنے کے لیے اس کے کردارکوپرکھناچاہتے ہیں تودراصل ان کی مرادتنقیدی کردارسے ہوتی ہے۔ اسی لیے لب ولہجے ،طرزبیان اوروضع قطع کاذکرکرتے ہیں کہ انسان کی شناخت کے یہ وسیلے ہیں۔ جب انسان پورے وجود کے ساتھ اپنااظہارکرتاہے تواس کی پوری شخصیت اپنے علم وفن ،عیب وہنر کے ساتھ ظاہرہوتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں منٹو وارث علوی کی نظر میں – امتیاز احمد )

جب کسی ادب پارے کی تکنیک ،اندازبیان، استعاروں ،علامتوں وغیرہ کے وسیلے سے نقاداس کی روح تک پہنچتاہے توگویاوہ اپنے معمول کی ہراداکو اس کے ہررنگ کوہرکیفیت کوگرفت میں لینے میں کامیاب ہوجاتاہے۔ تب مواد، وسائل اظہار، بیانیہ کااندرونی آہنگ سب ایک ہوجاتے ہیں اورادب پارہ پوری طرح روشن ،واضح اور اپنے پوشیدہ اسرار کھولتا ہوا محسوس ہوتاہے۔ اسی کواصطلاحی زبان میں تنقید کہاجاتاہے۔ وارث علوی ایسی ہی تنقیدکے قائل ہیں۔ اسی لیے انہیں مکتبی، ادب پارے کی اوپری سطح کو چھوکر گزرنے والے الفاظ وعلامات اورہردوسری تیسری سطرمیں کسی بڑے نام کاحوالہ دیتی تنقید پسندنہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیئت فریم ہے جس کے اندرہم زندگی کی تصویرکوزیادہ معنی خیز، بصیرت افروز اورنشاط انگیز طریقہ سے دیکھ سکتے ہیں۔

اس فریم کی تعمیرکیسے ہو، فریم میں لگائی جانے والی تصویرکے کون سے خدوخال نمایاں کیے جائیں اور کن کوذیلی حیثیت دی جائے، ان تمام باتوں کووہ ناول یاافسانہ نگار کے ذوق وفنی صلاحیت پرچھوڑدیتے ہیں۔ البتہ یہ ضرورکہتے ہیں کہ نظم ونثر کے مسائل اظہار تقریباً یکساں ہیں ۔پھربھی ان کے استعمال کے طریقوں میں فرق ہوناضروری ہے۔ یہاں وہ مثنوی کی زبان اورمنزل کی زبان کے فرق کی طرف اشارہ کرکے اپنے مافی الضمیر کوواضح کرناچاہتے ہیں ۔ مثلاًیہ کہ مثنوی کی زبان میں جس طرح اشارے ،تمثیل وغیرہ زیادہ واضح اورصاف ہوتے ہیں، اسی قسم کی یاان سے بھی زیادہ روشن تشبیہیں استعارے ،افسانے کی نثرمیں استعمال ہونے چاہیں۔ یہاں کچھ مثالیں مغربی/یورپی ناول نگاروں ںیاافسانہ نگاروں سے لیتے ہیں لیکن اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ نثرپارے کاٹکڑانہ لیں بلکہ اس کتاب کانام لیتے ہیں جن میں وہ ٹکڑا مل سکتاہے یعنی وہ اپنے قارئین یااپنے خیالات سے مستفید ہونے والے فن کاروں کوتیار نوالہ کھلانے کے لیے تیارنہیں ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم فن کار خودباہرکے ادب کابغورمطالعہ کریں اوراس نثرکے تاثر کاسبب خود دریافت کریں۔ وہ شاعراورفکشن نگارکے فنی رویے میں فرق واضح کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ شاعر اپنے فن کارانہ تخیل میں اس حقیقت کوکم کردیتاہے جس کاوہ مشاہدہ کررہاہو بر خلاف اس کے فکشن نگار حقیقت سے کسی حال میں نظرنہیں چراسکتا۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ حقیقت میں اپنا تھوڑابہت تصوربھی شامل کرلیتا ہے۔افسانے میں شاہد ومشہور کی وحدت ممکن نہیں ہے اوراگرہو تویہ افسانوی نثرکاعیب ہے۔ اس سلسلے میں وہ فلابیرکے ناولٹ ’’نومبر‘‘ موپاساں کے افسانے ’’چاندنی‘‘ جوائس کی کہانی’’ دَڈیڈ‘‘کی مثال دیتے ہیں۔ جن میں بالترتیب خزاں، چاندنی رات اوربرف باری کے نظارے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ ان تمام تحریروں میں تصویر کشی کا ایساآرٹ ہے جس میں فن اورفن کار کافاصلہ بہرحال باقی رہتاہے۔ وہ اپنی بات ایک مثال سے واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فن کار خداکی مانند ہرجگہ موجودہوتاہے لیکن دکھائی نہیں دیتا۔یہی حضوروغیاب کافرق شاعری اورفکشن کی نثرمیں بنیادی حیثیت رکھتاہے۔ گہری نظر سے دیکھیں تو افسانوی طریقہ کارشاعرانہ کارسے بہت زیادہ مختلف بھی نہیں ہے۔ شاعری میں الفاظ جب آہنگ معنویت پرغالب آتاہے توہم صرف آوازیں سنتے ہیں ۔اشیا تودیکھ نہیں پاتے ،یہ شاعری کا عیب ہے حسن نہیں۔ بڑاشاعر وہی ہوتاہے جوآوازوں کے Hyphotic عنصر کوقابومیں رکھتاہے۔ اس لیے شاعری میں بھی حسی پیکر سازی کاعمل نثرکے عمل سے بہت مختلف ہے ۔شاعری اور نثردونوں میں استعاروں کی بھرمار اورصفات کی افراط سے امیج دب جاتاہے۔‘‘۲؎

مندرجہ بالااقتباس میں وارث علوی دراصل یہ کہناچاہتے ہیں کہ نثرہویانظم دونوں میں صنعتوں کابرمحل استعمال معنویت کے ساتھ ساتھ حس بھی پیداکرسکتاہے۔ ورنہ دونوں کاانجام ایک ہوگا۔ اسی لیے وہ اچھی مثنویوں کی مثالیں دے کریہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ جب قصہ بیان کیاجارہاہوتویہ نہیں کہ بالکل روکھی سوکھی ، نثراستعمال کی جائے۔ لیکن یہ بھی نہ ہوکہ صنعتوں میں اصل کہانی گم ہوجائے۔ دراصل اپنے مزاج کی انتہاپسندی کے باوجود وارث علوی فن میں اورخاص طورپر افسانہ نگاری کے فن میں ایک متوازن روش اورتہہ دار زبان کے استعمال پرزوردیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یقینی طورپرفکشن کی تعریف، اس کی زبان اورزبان کا تفاعل وغیرہ وغیرہ پوری طرح واضح ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی افسانہ طرازی یاکبھی طول بیانی بات کو پوری طرح واضح نہیں ہونے دیتی۔

اردوادب میں فکشن توبہت عمدہ لکھاگیا جبکہ فکشن کی تنقید عدم اعتباری کا شکاررہی ۔فکشن کی گذشتہ پچاس ساٹھ برسوں کی تاریخ خاص طور پر غیرازلی، نظریاتی سطح پر طرف داری کی شکار اور مطالعاتی اوصاف سے یکسرنہیں توبڑی حدتک محروم بھی ہے۔ ہمارے یہان پریم چند سعادت حسن منٹو، راجندرسنگھ بیدی ،عصمت چغتائی، غلام عباس ،کرشن چندر،قرۃ العین حیدر،عبداللہ حسین، انتظارحسین جسیے نامورتخلیقی فن کار ہیں جبکہ فکشن کی تنقیدمیں دوچارنام ہی قابل ذکر ملتے ہیں ۔ان میں ایک تواناآواز ممتازشیریں کی ہے۔ محمدحسن عسکری کے چندمضامین بھی فکشن کی تنقیدمیں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو پرحسن عسکری اورممتاز شیریں کے مضامین اردوفکشن کی تاریخ میں منٹوکے اولین سنجیدہ دماغ کے طوپر یادکیے جاتے ہیں۔ ممتاز شیریں اورمحمدحسن عسکری نے مغربی ادب کے مطالعے اورمغرب کے عمدہ فکشن پاروں کے مدمقابل اردوافسانہ نگاری کامحاسبہ کیااوربعض مقامات پرفکشن کی جمالیات پربحث کے امکانات روشن کیے۔ دوسری طرف ہمارے مذکورہ بالافکشن نگار ہماری ادبی روایت کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس ادبی روایت میں ہم بڑی حدتک اردوافسانے اورکسی حدتک اردو ناول کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یقیناعہدحاضرمیں ہمیں مغرب اورایشیائی ممالک کے فکشن کونئے سرے سے کھنگالنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ پریم چند سے انتظارحسین تک اردوفکشن کی جوروایت ہے اس کامختصراًاحاطہ ہم یوں کرسکتے ہیں کہ افسانہ اورناول سماجی ،معاشرتی ، انسانی اور سیاسی زندگی کی پیداوار ہے اورسماجی معاشرتی، نفسیاتی اورسیاسی زندگی کس طرح انسانی نفس اور انسانی افکار کو متاثرکرتی ہے۔ غرض یہ کہ ادب کہنے اور سننے والے کے درمیان کامواد ہے تحریرکاحسن اوربات کہنے کی ندرت بات کوآرٹ بناتی ہے۔ آرٹ اپنی تہذیب اوراپنے کلچر کااظہاربھی ہوسکتاہے اورنہیں بھی اوربعض صورتوں میں آرٹ اپنے کلچرکی ضد بھی ہوسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں آفتاب تنقید کی تخلیقی ضیا: وارث علوی – ڈاکٹرترنم ریاض )

جدیدیت کے بہت سارے مفروضات اورگمراہ کن پروپیگنڈے کاسب سے مدلل جواب وارث علوی نے دیا۔ وارث علوی نے پہلی مرتبہ جدیدیت کے گمراہی کے خلاف پرزور احتجاج کیااورتنقیدمیں پروپیگنڈے کے خلاف لڑنے کی توانا روایت کی بنیادرکھی۔ انہوںنے فکشن کی جمالیات کو شاعری کی جمالیات میں بدلنے کی کوشش کوغیرادبی اورغیرسنجیدہ قراردیا۔ وارث علوی نے فکشن کی قرات کے مقصداورمنشا پر مباحث قائم کیے اورکہا:

’’تنقید رابطہ ہے تخلیق اورقاری کے درمیان ،اپنی آخری شکل میں تنقیدگفتگو ہے اہل علم کی اہل علم سے اہل دل کی اہل دل سے ، خوش طبعی ہے یادوں کے بیچ، بے تکلفی ہے احباب کے درمیان، بحث وتکرار ہے ہم مشربوں سے، چھیناجھپٹی ہے مخالفوں سے، پھکڑ اورٹھٹھول ہے حریفوں سے۔‘‘۳؎

وارث علوی نے اپنے تنقیدی نظریے کے مطابق مذکورہ عناصرسے اپنے مضامین کوایساسجایاکہ اس کی مثال ہماری تنقیدی اورادبی تاریخ میں دوسری نہیں ملتی ۔وارث علوی کی تحریروں میں جوآنچ ،زندگی فہمی اورانسانی شعورکی بلندی ہے وہ نہ کتابوں سے حاصل کردہ ہے نہ سمپوزیم اورنہ سمینارسے ،نہ اخلاقیات کی بوطیقا سے ، نہ نظریات کی تفہیم سے بلکہ یہ شعوراور آگہی بقول وارث علوی اپنی کھال میں جینے اورزندگی کو ہررنگ میں قبول کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

وارث علوی واحد ایسے نقادہیں جنہوں نے بیک وقت تنقیدکو خوش کلامی اوراعلیٰ افکار کانمونہ بنادیا۔ نقاد کے جاگیردارانہ تصورکو ختم کیاجس میں ایک عالم وفاضل شخص قارئین کوکم علم سمجھ کر انہیں نصیحت کرتاپھرتا اورقاری کوکہتاہے، ’سرکار!آپ کی بات ہمارے پلے نہیں پڑی‘ توعالم وفاضل نقاد اپنے مصاحبوں کی طرف اشارہ کرکے کہتاہے:ترسیل کے المیے کاذمہ دار یہ جاہل خود ہے۔ اس منفی اورتکبرانہ رویے کے مقابل وارث علوی نے ایک ایسی تنقیدکی بنیاد رکھی جہاں نقادآرٹ کاعاشق ہے۔ ادب کاقاری ہے۔ پیرِگلستان ادب اس کی نخوت کی نمائش کے لیے سجافرضی پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ ایک ایساطلسمی جزیرہ ہے جہاں تحلیل کی اڑان میں شریک ہوکر اپنی روح کی تسکین کاسامان حاصل کرتاہے۔ وارث علوی تنقید کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے اس کے حسن کو یوں بیان کرتے ہیں:

’’عظیم تنقیدوں میں تخیل ،تخلیق اوربصیرت کاایک دھار ہوتا ہے جس کا سرچشم شعروادب کاپرکیف معاملہ رہاہے۔ تنقیدکایہی تخلیقی اوروجدانی جوہرخشک عالموں اوربے جان مدرسوں کواپنی طرف للچاتاہے، لیکن یہ جوہراس قت تک ہاتھ نہیں آتاجب تک ادبی تجربہ نشہ بن کرحواس پرنہ چھاجائے، اورشیریں دیوانگی کوجنم دے جو قاری کومدرسہ کی گھٹن آلود فضا سے باہرنکال کرادب کی دشت نوردی اورآوارگی کی وہ بے پایاں تمنا عطاکرے جس کی تشنگی بھی سمجھنے نہ پائے۔ ڈاکٹریٹ کے مقالوں اور مدرسانہ مضامین میں انھی کھلی فضاؤں کی روشنی نہیں ۔ازکاررفتہ معلوم اور علم بیان کی بوسیدہ کتابوں کی نم آلود روہانسی باس ہوتی ہے۔‘‘۴؎

فکشن تنقید کووارث علوی نے جوعلمی اورادبی بلندی عطاکی وہ ہمارے ادب کے عظیم فن کاروں نے نہیں کی۔ انہوں نے اپنی تحریروںمیں منٹو،بیدی ،کرشن چندر،بلونت سنگھ، قرۃ العین حیدر،عصمت چغتائی، انتظارحسین، اپندراشک، رام لعل، منشایاد اوردیگرادیبوں کی تحریروں میں پوشیدہ ادبی پہلوؤں کونمایاں کرنے کی کوشش کی۔ وارث علوی نے آرٹ کی جادوگری کے سامنے تنقیدکی علمیت کوبرترثابت کرنے کی روایت کی نفی اور مخالفت کی ہے۔ نظری تنقیدی کے مباحث میں خلوص نیت اور ایمان داری کی وہ نیورکھی ہے جس میں نقاد ادیبوں کی سرپرستی کا متمنی دکھائی نہیں دیتا۔

فن کارکی طرح وارث علوی نے بھی زندگی کے حسن اوراس کی گندگی کوقبول کیااوراپنی تحریروں میں دونوں کوجگہ دی اوراپنے معترض سے کہہ دیا:

’’میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جوگندے دنوں کاقصہ معطرزبان میں سناتے ہیں اورروح کے جہنم زار کابیان خس خانوں کی زبان میں کرتے ہیں تاکہ نفاست پسندوں میں نفیس کہلوا سکیں،میں تنقید کے بقراطوں کی طرح اس خوش فہمی میں مبتلانہیں رہتاکہ میرے قلم سے نکلاہواہر جملہ اپنے جبڑوں میں علم و عرفان کا سوکینڈل پاورکابلب دبائے طلوع ہورہاہے ۔یہ انکسار نخوت یہاں کانقاب نہیں بلکہ ثمرہے اپنی ذات پراعتماد کرنے کاگومیری ذات کی قیمت چھ پیسے سے زیادہ نہیں ۔‘‘۵؎

کسی خوش فہمی میں گرفتارنہ ہوکر ہرادبی مباحث پر اپنے اسلوب میں ایمانداری سے اپنے خیالات کااظہار کرناوارث علوی کی روایت کاخاص حصہ رہاہے۔ اس روایت میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ چندمعمولی فن کاروں پربھی انہوںنے بڑی فراغ دلی سے مضامین لکھے، لیکن مضامین طرف داری سے زیادہ تخلیقی فن کاروں کے لیے ان کے دل میں موجود نرمی کااظہارہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ادب یاادیب کاسرٹیفکٹ دلوانے کے لیے ایجینٹ کارول اداکرتے ہیں۔ اکثرایسے لوگ ادبی رسائل سے وابستہ ہوتے ہیں۔

وارث علوی نئے قلم کاروں کی تخلیقات کابھی مطالعہ کرتے تھے ۔سلام بن رزاق، انورخاں، شوکت حیات، منشایاد، ترنم ریاض، ثروت خان بھی ان کے مطالعہ کا حصہ ہیں۔ ایسے نئے فن کاروں کی تخلیقات چیخ چیخ کرکہتے ہیں کہ انہیں تخلیقی فن کارکی نفسیاتی وذہنی زندگی ،اس کے ادبی رویوں وتہذیبی تصورات سے محبت تھی وہ فن کارکی پرستش نفسیاتی طور پر کیاکرتے تھے۔ اسی لیے انہوںنے ایک عاشق ادب کی طرح شمس الرحمن فاروقی کے افسرانہ و پرفیسرانہ ادبی رویے کو اردو فکشن کے لیے ضرررساں قراردیا۔ وارث علوی نے ’’فکشن کی تنقیدکاالمیہ‘‘ فاروقی کی ناقص منطق کوفکشن کی معیاری کتابوںاوردنیاکے عظیم افسانہ نگاروں کی نگارشات کی روشنی میں کمزور اورغیرعلمی ثابت کیا۔ وارث علوی کی فکشن تنقید پر رحمن عباس رقم طراز ہیں:

’’وارث علوی کی تنقیدی فکشن کے مسائل، افسانے کے سروکار اورآدمی کی زندگی کی ترجیحات کو معاشی، سماجی اورنفسیاتی تناظرمیں سمجھنے کی کوشش ہے۔ وارث علوی کی روایت شعوری طورپر خاموشی اختیار کرکے کسی اہم کتاب کوقتل کرنے کی روایت نہیں ہے یہ وہ ہتھیار تھاجس کااستعمال وارث علوی کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وارث علوی نے شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’’شعرغیرشعر اورنثر‘‘ پراور شمیم حنفی کی کتاب ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس ‘‘پرطویل مضامین لکھ کرمصنفین کی محنت اورمشقت کااعتراف کیا۔اپنے اعتراضات پیش کیے۔ تعریف وتوصیف بھی کی۔ فکشن پر شمس الرحمن فاروقی اور جدید افسانے کی تفہیم وتعریف میں گوپی چند نارنگ سے اپنے اختلافات کابرملا اظہارکرنے کے باوجود وارث علوی، فاروقی اورنارنگ کو عہد حاضر کے سب سے بڑے ناقدین کے طوپر قبول کرتے ہیں اور ان کی علمی اورادبی صلاحیتوں کااعتراف اپنے مضامین میں کرتے ہیں۔ یہ ہے وارث علوی کی ادبی وتنقیدی دیانت داری۔ دوسری طرف سعادت حسن منٹو اور راجندرسنگھ بیدی پر جب وارث علوی کی کتابیں شائع ہوئیں تو ناقدین کوسانپ سونگھ گیاتھا۔ ۔۔۔آج وارث علوی کی یہ دونوں کتابیں ادب میں اپنامقام بناچکی ہیں اورمنٹو اوربیدی کی تفہیم وتحسین کے بارے میں ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔‘‘۶؎

وارث علوی نئی نسل کی نگاہ میں قابل احترام نقادہیں۔ ان کی ظرافت ،فقرہ بازی، صاف گوئی ان کی روایت کا خاص حصہ ہیں ۔ ان کی برملا فقرہ کہنے کی خوبی کے بارے میں فضیل جعفری نے کہاہے کہ سلیم احمد کے بعدوارث علوی نے فقرہ بازی کواس مقام تک پہنچایا جہاں اب کسی اورکاپہنچنا دشوار ہے۔ تنقید میں سچ اور حق بات کہنے کی روایت کوسب سے زیادہ استحکام بھی وارث علوی نے عطا کیا ہے۔ حق گوئی اورصاف گوئی کے اس مقام تک پہنچنا بھی دوسروں کے لیے ایک بڑاچیلنج ہے۔ وارث علوی کی تنقیدی روایت کامرکزی دھاراہی نظری، ادبی، علمی ،نظریاتی اورفنی مباحث میں حق گوئی، صاف گوئی اوراپنے اصولی موقف کر تعلقات سازی اوراقرباپروری جیسی خرابیوں سے اوپر اٹھ کربیان کرناہے۔ وارث علوی اگردوستی کی پاس داری کرتے توپھراردوتنقیدمیں ’’جدیدافسانہ اوراس کے مسائل‘‘ لکھتے وقت رقعہ لکھے گئے دفتر ’’فکشن کی تنقید کاالمیہ‘‘فاروقی کی کتاب شعرغیرشعر اورنثر اوردیگرمضامین معرض وجودمیں نہیں آتے۔

’’منٹو ایک مطالعہ‘‘ منٹوفہمی کے سلسلے میں وارث علوی کاایک قابل قدر کارنامہ ہے جس میں سعادت حسن منٹو کی تخلیقی بازیافت کی گئی ہے۔ انہوں نے منٹوکی سنجیدہ تفہیم کے لیے مختلف زاویوں کااستعمال کرتے ہوئے ایک قابل رشک کتاب تخلیق کی ہے ۔ وارث علوی نے منٹوکے تمام نمائندہ افسانوں کی روح میں اترنے کی کوشش کی ہے اورساتھ ہی ہرکردار کے باطن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس بنیاد پر جو تنقیدی نکات انہوںنے کتاب میں پیش کیے ہیں، وہ نہ صرف ہمیں چونکاتے ہیں بلکہ سنجیدگی سے غوروفکرکے لیے بھی مجبور کرتے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ وارث علوی نے منٹو کے تمام تحریروں کانہ صرف مطالعہ کیاہے بلکہ منٹوکے کرداروں کے ساتھ شب وروز بسرکیے ہیں۔ منٹو کے فن کامحاسبہ کرنے کے دوران انہوں نے افسانے کی تھیم اورپلاٹ کی باریکیوں پر گہری نظررکھی ہے ،تب جاکر افسانوں یاکرداروں کے تعلق سے کوئی بات بھرپور اعتماد کے ساتھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کسی مسئلے کوبیان کرتے ہوئے جگہ جگہ عالمی تناظر کابیان شروع کردیتے ہیں جس سے اندازہ ہوجاتاہے کہ کسی ایک مسئلے کو بیان کرنے کے دوران بہ یک وقت کتنی چیزیں ان کے ذہن میں گردش کرتی ہیں۔

منٹوکے فن پر وارث علوی کایہ تبصرہ دیکھیں:

’’اپنے بہترین افسانوں میں منٹوکابیانیہ حشووزوائد سے پاک ہوکر ایک تندرست بدن کی جلد کے مانند، کہانی کے ڈھانچے پرایسی تندہی سے کساہواہے کہ بیانیہ کاہر جزوپورے افسانوی ڈزائن کاجزو لاینفک بن گیاہے۔ اس حدتک کہ افسانوی معنویت افسانوی ڈزائن سے کوئی الگ چیز نہیں رہی۔ منٹوکے افسانوں میں ہرتفصیل کی وہی اہمیت ہے جوغنائی لفظوں کی آہنگ، شعری پیکر اورعلامت کی ہوتی ہے۔ جوباہم مل کر معنی کی تجسیم کرتے ہیں۔‘‘۷؎

وارث علوی نے سعادت حسن کی نئے سرے سے تخلیقی بازیافت کی ہے۔ وہ منٹوکے افسانوی متن سے گزرتے ہوئے لفظ کی روح میں اس کی گہرائی تک اترتے چلے جاتے ہیں اوریوں محسوس ہوتاہے کہ وہ منٹو کے تخلیقی عمل میں شریک ہوگئے ہیں۔ ظاہرہے اس درجہ وابستگی کے بعد جب کوئی جذبہ اظہارکے مختلف سانچوں میں ڈھلے گا تووہ عام ساردّ ِ عمل ہونے کے بجائے متن کی بنیادی روح کا غماز ہوگا۔ متوازن خیالات اگرمنطقی جوازپرمبنی ہوں توانہیں قبول کرنا ہمارے لیے آسان ہوجاتاہے۔ منٹوایک مطالعہ میں وارث علوی کے تنقیدی رویے اس کسوٹی پرکھرے اترتے ہیں۔ منٹوکی سنجیدہ تفہیم کے لیے انہوںنے تنقید کاجو نکھرا ہوا انداز اختیارکیاہے وہ اپنے اندربلاکی تخلیقی قوت رکھتاہے جس کی ہرسطرسے گزرتے ہوئے ہم تحریرکی روانی اورفطری بہائومیں بہتے چلے جاتے ہیں۔

پروفیسر ابوالکلام قاسمی وارث علوی کے منٹو تنقیدسے متعلق رقم طراز ہیں:

’’منٹوتنقید میں یوں تومحمدحسن عسکری سے لے کر آج تک کی تنقیدی کاوشیں کسی نہ کسی اعتبارسے منٹو کی تفہیم کاجزوی حق ضرور اداکرتی ہیں ،مگر منٹوفہمی کواگران کے افسانوں کی فکری اورفنی تعبیرات کی صورت میں دیکھا جائے تواس طریق کار کی عمدہ نمائندگی وارث علوی کی تحریروں سے ہوتی ہے۔‘‘۸؎

اسیم کاویانی وارث علوی کی منٹوشناسی پررقم طرازہیں:

’’وارث علوی افسانے ہی کے نہیں قوم کے بھی حاذق نباض ہیں،اسی لیے انہوںنے منٹوفہمی کے سفرمیں اپنے قلم کومنٹوکے افسانوں (اور خاکوں)کی جولان گاہ تک محدودرکھا،لیکن انہوںنے جوکچھ لکھااس قدرجی کھپاکر لکھاکہ ان کی فگارانگلیاں اورخوںچکاں خامہ اردوکی افسانوی تنقیدکاایک ناقال فراموش باب رقم کرگیا۔‘‘۹؎

وارث علوی کی تنقیدوں کاامتیازی وصف یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں بہت زیادہ ثقیل اوربھاری بھرکم الفاظ نہیں بلکہ بہت ہی آسان اورعام فہم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پڑھنے میں بہت دلچسپ معلوم ہوتی ہیں ان کے متعلق یہ بات صحیح کہی جاتی ہے کہ انہوںنے فلسفے کوپانی بنادیا۔سنجیدہ سے سنجیدہ اورمشکل سے مشکل موضوعات پرانہوںنے ایسے طریقے سے قلم اٹھایاکہ لگتا ہے گویاوہ بہت ساری دلچسپ باتیںکررہے ہیں ۔ لیکن اس دلچسپی کے پیچھے مشکل مسائل اوراپنی گتھیاں سلجھاتے ہیں۔انہوں نے اپنے ہم عصرناقدین کی تنقیدات پرجس حقیقت پسندانہ تجزیہ کااظہار عمل میں لایاہے، وہ ان کی عظمت کاایک ٹھوس اورزندہ جاوید ثبوت ہے۔ا پنی تنقید اورتجزیوں میں وارث علوی کسی تعصب کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے تجزیوں میں بے لوچ جذبہ کارفرما ہے۔ جوواقعی ان کے بڑے پن کی دلیل ہے۔ وارث علوی کی تنقیدات میں کہیں بھی کوئی من مانی، ریاکاری اورنمود ونمائش نہیں آنے والی نسل کے لیے ان کے تنقیدی تجزیے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں۔وارث علوی کے تنقیدی رویے سے متعلق شمیم حنفی لکھتے ہیں:

’’وارث کے یہاں مرکزی حیثیت نہ توکسی نظریے کی ہوتی ہے نہ کسی بیرونی تصورکی ہوتی ہے، نہ کسی فن پارے کے تئیں نقاد کی نجی ردعمل کی۔ ان کی تحریروں پریہ خیال ہمیشہ اورہرحال میں حاوی نظرآتاہے کہ تاریخیں اورزمانے اورواقعات گزرجاتے ہیں ،مگرتخلیقی لفظ باقی رہ جاتاہے اوریہ کہ ادبی اورتخلیقی اظہارکی زندگی، بہ قول پیوتوشنکو، کاغذپرشروع نہیں ہوتی، دراصل وہاں ختم ہوتی ہے۔‘‘۱۰؎

مندرجہ بالااقتباسات کی روشنی میں وارث علوی کی فکشن تنقیدکی اگربات کریں تووارث علوی نے تخلیق پر تنقیدکی بالادستی سے ہمیشہ انکار کیا اوراپنی تحریروں کے ذریعے سے جو نقاد کی امیج وضع کی ہے وہ ان کے تقریباً تمام پیش روئوں اورہم عصروں سے مختلف ہے۔ معاصر اردوتنقید کی دنیامیں ذہنی غلامی ،منافقت اور دنیوی مقاصدکے لیے ایک بے تہ ادبی سرگرمی کے بے جااستعمال نے تنقید کے پورے عمل کوبہت بے اعتبار اور پرفریب بنادیا ہے۔ بیش ترلکھنے والے یاتواپنے آپ سے بھرے ہوتے ہیں یاپھرشدیدعلمی قبض کے شکار ۔ ایسی صورت میں تنائو کی ایک مستقل کیفیت آج کی اردو تنقید کا شناخت نامہ بن گئی ہے۔ اس کے برعکس وارث علوی ہمیشہ مطمئن اورسرشار نظر آتے ہیں۔ وہ زندگی کی ہررونق اوررنگ کے رسیا ہیں اوربھری پری زندگی کے مظاہرے کے شیدائی۔ مگراپنے مزاج کی اس عنصری سادگی اوربے تکلفی کے باوجود، وہ بڑی حدتک اکیلے دکھائی دیتے ہیں تواسی لیے کہ انہیں موجودہ زندگی کی شرطوں کے ساتھ زندگی گزارنے کاہنرنہیں آتا۔ ایک فقیرانہ استغنا اوراسی کے ساتھ ایک شاہانہ لاتعلقی نے وارث علوی کوبالآخر زندگی کے جس راستے پر لگادیاہے، اس پر چلنے کایاراہرکسی کو تونہیں ہوسکتا۔پروفیسر بیگ احساس وارث علوی کی فکشن تنقید پررقم طرازہیں:

’’انہوں نے ترقی پسندنقادوں کی ساری خامیاں نمایاں کیں۔ ان کے اسلوب کے سقم کوواضح کیا۔ وارث علوی جدیدیت سے بھی بہت خوش نہیں رہے۔ جدیدیت کے دورمیں جب دوسرے نقادافسانہ اورشاعری کی نئی نئی تعبیریں کررہے تھے وارث علوی نے ہیئتی اوراسلوبیاتی تنقید کی مخالفت کی۔ جدیدافسانے کوانہوںنے مکمل رد کیا، اورپورے دلائل کے ساتھ ردکیا۔وارث علوی نے کسی آئیڈیالوجی، کسی خاص تنقیدی مکتب کوقبول نہیں کیا۔ انہوںنے زندگی کے تجربات ، مشاہدے ،مطالعے اورعلم کواپنی تنقید کا رہنما بنایا ۔وہ تنقید کو ابالی کھچڑی نہیں بلکہ دلچسپ بنانے کے قائل ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ تنقیدسے آدمی فرحت حاصل کرناچاہتا ہے جوایک مہذب اورشائستہ آدمی کی گفتگومیں ہوتی ہے۔ تنقید بھی وہی اچھی لگتی ہے جس میں بصیرت اور مسرت ہو۔ بے تکلفی، برجستگی اورخوش طبعی ہو۔ اوریہ سارے اوصاف وارث علوی کی تنقید میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی تنقید پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہم سے گفتگوکررہاہے۔ کوئی بات پورے استدلال کے ساتھ پیش کررہاہے۔ وہ جوکچھ محسوس کرتے ہیں اسے سمجھانے کے لیے خوب تشبیہات کاسہارالیتے ہیں ۔وہ بے تکلفی کی فضاقائم کرنے میں کامیاب ہیں ان کی تحریرمیں بے ساختگی اوربرجستگی ہے وہ برمحل فقرے چست کرتے ہیں۔ ان کی تنقید پڑھتے وقت اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ ان کے اندازکو انشاپردازی سے تعبیرکیاگیا۔ ان کی تنقید تاثراتی تنقید ہے لیکن پورے وثوق سے یہ کہنابھی مشکل ہے ان کی تنقیدپرکسی دبستان کالیبل لگانابے حد دشوارہے ۔ایک اچھے تاثراتی نقاد کے لیے جواوصاف وہ ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ صاحب فکراورصاحب ذوق ہو۔ اس کامطالعہ بے حدوسیع ہو۔ ادب کوپرکھنے اوراپنے خیالات کودل کش اورمؤثراسلوب میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔ ان سارے اوصاف کاانطباق وارث علوی کی تنقید پرہوتاہے لیکن کبھی کبھی انہوںنے انحراف بھی کیا۔ تنقید کے لیے وہ صرف تاثرات کااظہار ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اس کے تجزیے پربھی زور دیتے ہیں سماجی علوم سے ادب کی وابستگی کوتسلیم کرتے ہیں۔‘‘۱۱؎

کسی خاص مکتب یاآئیڈیالوجی کی اصطلاحوں کااستعمال کرنے کے بجائے وارث علوی نے خوبصورت تشبیہات سے کام لیا۔ وہ حسب ضرورت مغربی ادب سے تقابل اورمغربی تنقید سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن اردوادب کو انہوں نے مغرب کی وضع کردہ تنقیدی اصطلاحوں سے نہیں پرکھا۔ ان کی تنقیدفن پارے کے بطن سے پھوٹتی ہے اوردھیرے دھیرے فن کے اوصاف نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

وارث علوی نے اپنے ہم عصر ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان سے کھل کر اختلاف کیا۔ شمیم حنفی کی کتاب ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ پر آپ نے طویل مضمون لکھااور کسی مروت سے کام نہیں لیا۔ وزیرآغا کی تنقید نگاری پربھی تفصیلی مضمون قلم بند کیا اوردھجیاں اڑادیں۔ ایسانہیں ہے کہ بغیردلائل کے انہوں نے ایسی تنقید کو یکسر ردکردیاہو۔ جہاں جہاں انہیں اس کے اچھے نمونے نظرآئے ان کی تعریف کرنے میں بھی مخالفت سے کام نہیں لیا۔ یہی نہیں کہ فاروقی، گوپی چندنارنگ، محمودہاشمی اور قمررئیس کے علاوہ علی سردارجعفری، ممتازحسین اور محمدحسن سے بھی اختلاف کیا۔ ان کایہ اختلاف بے بنیاد نہیں ہے۔ جدیدیت کے دورمیں بعض نقادوں نے شاعری کے مقابلے میں افسانے کو کم ترثابت کرنے کی کوشش کی توان کوسخت جواب وارث علوی ہی نے دیا۔ فکشن کی تنقید کاالمیہ اس کی روشن مثال ہے۔ انتظارحسین کے افسانے ’’نرناری‘‘ اورراجندرسنگھ بیدی کے افسانے ’’کوارنٹین‘‘ کی جوتعبیریں علی الترتیب پرفیسرگوپی چندنارنگ اورقمررئیس نے پیش کیں آپ نے اس سے اختلاف کیا اورکہاکہ انتظارحسین کا اسطور سیاست کے چوکھٹ میں نہیں سماتا اور بیدی کی حقیقت نگاری علامت سے انکارکرتی ہے۔ اسی طرح سے ’بو‘،’بھولا‘اور’پانچ دن‘کا تجزیہ جوممتازشیریں نے کیااس سے بھی انہوں نے اختلاف کیا۔’بو‘ پر ان کاایک مکمل مضمون موجود ہے ۔پانچ دن کاتجزیہ انھوں نے بڑی عمدگی سے کیا۔ وہ افسانے کوشاعری سے کم ترنہیں سمجھتے وہ اس بات پراصرارکرتے ہیں کہ تخلیقی تخیل افسانہ نگار کے پاس بھی اتناہی ہے جتنا شاعرکے پاس۔ وہ لکھتے ہیں:

’’خیال فن کارکے ذہن میں استعارے کے پیکرمیں جلوہ افروز ہوتا ہے۔ زبان کے بغیرخیال کاوجودممکن نہین ۔تحت لسانی سطح پرخیالات محض واہمے یادھندلے احساس ہوتے ہیں۔تواگرخیال اورزبان کارشتہ روح اورجسم کارشتہ ہے۔ ذرادیکھیے کہ خودزبان کی ساخت ہی اپنی اصل اوراپنی فطرت میں استعاراتی اورعلامتی ہے لفظ شئے کی علامت ہی ہے۔ میں جب گھوڑاکہتاہو ںتومیرے منہ سے لفظ ہی نکلتاہے گھوڑادوڑتا ہوا باہرنہیں آتا ۔ذہن میں پوری کائنات بسی ہوتی ہے۔‘‘۱۲؎

مندرجہ بالااقتباس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ اقتباس وارث علوی کانہیں بلکہ کسی مابعدجدیدنقادکے الفاظ ہیںلیکن شعروافسانے کی بحث میں وہ اصل رنگ میں آجاتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی – ڈاکٹر آس محمد صدیقی )

’’کسی چیزکادوسرے سے مختلف ہونااس کے کمتر ہونے کی دلیل نہیں ہے عورت مرد سے مختلف ہے اس لیے یہ سمجھناکہ وہ کمترہے مردانہ پندارکی علامت ہے۔

نثرمیں استعارہ عموماً مردکے سینے کی مانندسپاٹ ہوتاہے اورنظم میں عورت کے سینے کی مانند ابھراہوا ۔ مردکاچوڑاسپاٹ سینہ ہی زیب دیتاہے اورعورت کا یہ کہناکہ شاعری کے مانند نثرکے پاس استعارہ کا ابھارنہیں ہے مضحکہ خیز ہے۔

اجمال اورابہام اس ’’نظم‘‘کے حسن کی نشانیاںاس کاپوراطریقہ کارحقائق بلندہوکرتجریدتعمیم اورافادیت کی دنیائوں میں بلندپروازی کاہے۔ افسانہ تجریدنہیں تزیل ہے خیال سے حقیقت کی طرف نزول ہے عالم خیال سے عالم مثال کی طرف۔‘‘۱۳؎

اردومیں شاعرانہ مزاج کی وجہ سے اردومیں بڑے ناول نہیں لکھے گئے وہ فکشن میں سفاک حقیقت نگاری کے طرف دار ہیں۔ وہ ناول کومذہبی حکایتوں ،جاتک کہانیوں اور داستانوں کی ارتقاکی شکل نہیں سمجھتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بالکل ایسی بات ہوئی کہ بیل گاڑی کو جدیدموٹرکی ابتدائی شکل کہاجائے۔ لیکن وہ نذیراحمد، مرزارسوا سے قرۃ العین حیدر اور انتظارحسین تک لکھے گئے ناولوں کوداستانوی خصوصیت کاحامل بتاتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں:

’’پریم چند اورعزیزاحمدنے ناول کے بیانیہ کوحقیقت نگاری سے قریب کیا۔ Narrationکے ساتھ ساتھ Description کواپنایا۔ کردارکی نفسیاتی اورجذباتی زندگی کی عکاسی کی راہ کشادہ کی ۔ گویاناول کو ضرورت تھی اس زبان کی اس لب وہجہ اوراسلوب بیان کی جواس کی شناخت قائم کرے۔ یہ اسلوب کوبڑی مشکل سے حاصل ہوا۔ اورابھی اس اسلوب سے اس نے پورا کام نہیں لیاتھاکہ اردومیں جدیدیت نے افسانہ کوماردیا اورناول کے تمام امکانات ختم کردیے۔‘‘۱۴؎

وارث علوی کو اردوکے اچھے ناولوں کی فہرست کولے کر بہت مایوسی رہی۔ اردوکے اچھے ناولوں کی فہرست میں وارث علوی کے پاس صرف تین چارنام ہیں۔ انہوںنے ’’آخرشب کے ہم سفر‘‘،’راجہ گدھ‘ اور ’’کسی دن‘‘ پرتفصیلی مضمون لکھے۔ قرۃ العین حیدر، بانو قدسیہ اوراقبال مجید کوئی بھی ان کے معیار پر پورانہیں اترا لیکن ان کاخیال ہے کہ بعض ناول مسلمہ ناولوں کے معیارپر پورانہ اترنے کے باوجو بڑے ہوتے ہیں، مس حیدرکے ناول بھی ان معنی میں عظیم ہیں۔ نئے ناول نگاروں کے ناول بھی اپیل نہیں کرتے۔ وہ الیاس احمدگدی کے ناول ’’فائرایریا‘‘کومعمولی قراردیتے ہیں۔’’آخری داستان گو‘‘ (مظہرالزماں خان)پانی (غضنفر) آخری درویش(عشرت مصفر) کوبے کیف اوربے بصیرت مصنوعی اورغیر تخلیقی سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ قاری کے لیے نہیں بلکہ نقادوں کے لیے لکھے گئے ہیں ۔وارث علوی کی اس حق گوئی سے سبھی ناراض ہیں ۔کیاترقی پسند کیاجدیداورکیامابعدجدیدلکھنے والے ۔ لیکن وارث علوی کواس کی پرواہ نہیں وہ لکھتے ہیں:

’’مجھے نئے لکھنے والوں کی خوشنودی نہیں چاہیے میں ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرناچاہتا لیکن حوصلہ افزائی کے تحت کھری تنقید سے گریزبھی پسندخاطر نہیں۔‘‘۱۵؎

اردوافسانہ وارث علوی کااصل میدان ہے۔ افسانے کی شعریات ان کی اپنی مرتب کردہ ہے جس پر سعادت حسن منٹو کھرے اترتے ہیں ان کے بعد راجندرسنگھ بیدی ۔۔۔کبھی کبھی وہ عصمت ،غلام عباس اورکرشن چندرکے بھی نام لیتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

’’افسانہ بنیادی طورپر Social Gossipکاآرٹ ہے اورغپ شپ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نئے کھنڈروں میں جھانکتارہے۔ کن سوئیاں لیتا رہے۔ پڑوسی کی دیوارپر چڑھ کر بالاخانہ میں چھپ کر کسی کے گھرکاحال دیکھے اور اسے افسانے میں طشب ازبام کرے۔ اسی لیے افسانہ کاآرٹ بنیادی طور پر زندہ انسانوں اوران کے تعلقات کے اور مسائل میں کانا پوسی کرتی ہوئی عورتوں کی طرح دلچسپی لینے کاآرٹ ہے۔ Social Documentationکے بغیرافسانہ وجودمیں آہی نہیں سکتا اورزندہ انسان ،مکانوں، خاندانوں، طبقوں ،فرقوں اورمذہبوں اورچھوٹی چھوٹی تہذیبی اکائیوں کی دلدل میں سرتک دھنسے ہوتے ہیں۔‘‘۱۶؎

حقیقت نگاری ہی اس کسوٹی پرکھری اترتی ہے ۔بطورخاص وہ افسانہ جومنٹو اوربیدی نے لکھا ،ان کا خیال ہے کہ دراصل جدید افسانہ کاپورا بحران حقیقت نگاری کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کانتیجہ تھا۔ وہ جدید افسانے سے کبھی مانوس نہ ہوسکے۔ وارث علوی نے سعادت حسن منٹو کو فکشن کی کسوٹی بنالیاہے۔ فکشن پرلکھے ہرمضمون میں منٹوکاذکرآجاتاہے اورتعریفی انداز میں چاہے وہ مضمون ناول پرہی کیوں نہ ہو۔ منٹوکو وارث علوی نے اپنے وجودکاحصہ بنالیاہے۔ ان کا سب سے بڑاکارنامہ بھی منٹوشناسی ہے۔ منٹوکے فن پر پوری کتاب لکھی۔ ممتازشیریں نے منٹوتنقیدکاآغاز کیااوروارث علوی نے اسے کمال تک پہنچادیا۔ دوسرے افسانہ نگاروں پربھی انھوں نے کتابیں اورمضامین لکھے لیکن ان میں اتنا خون جگرصرف نہیں کیا۔ وہ کسی پرمضمون لکھتے ہیں تواس کے سارے افسانے کوپڑھتے ہیں۔ ابتدا میں افسانہ نگارکے محاسن بیان کرتے ہیں پھر افسانوں کے تجزیے کے دوران وہ ہرافسانے کی قدروقیمت طے کرتے ہیں، فنی خامیوں کامحاسبہ کرتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ افسانہ کیوں اچھا ہے یا اچھانہیں بن سکا اورکیاکمی رہ گئی ۔ اختتام پر وہ دوبارہ محاسن بیان کرتے ہیں ۔اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اب ہم نے ادب میں قلعی گری کاہی دھنداشروع کیا ہے تومضامین کاپیٹ پالنے کے لیے برتنوں کی ضرورت توپڑے گی ،منٹو پرلکھاتو کرشن چندرپرلکھااب بیدی پرلکھیں گے۔ کرشن چندرنے فن کی دیگچی کا استعمال احتیاط سے نہیں کیا تو کچھ ٹھوکنابجانابھی پڑتا ہے، ہم پروہت توہیں نہیں کہ برتن کااستعمال عصری آگہی کا پرشادبانٹنے کے لیے کریں۔ کرشن چندرکے متعلق میرافیصلہ یہ تھاکہ وہ اردوکے بڑے افسانہ نگارہیں ان کانام ہمیشہ منٹو،بیدی، عصمت، غلام عباس وغیرہ کے ساتھ لیاجائے گا۔ وہ دوئم درجے کے لکھنے والے نہیں ہیں اول درجے کے لکھنے والے ہیں گوان کی تمام تخلیقات اول درجے کی نہیں بس اسی قسم کی داروگیراپنامعاملہ ہے جس فن کارمیں رطب ویابس زیادہ ہوتاہے اس پرمضمون بھی ایساہوتاہے ،جیساکہ رام لعل پرتھا، لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہم بغل گیر ہورہے ہیں یاگریبان گیر۔‘‘۱۷؎

بہت کم ہی ایسے نقادہوتے ہیں جوخود اپنے ہی فن کے بارے میں اتنی صاف گوئی ،بے رحمی اورسفاک سچائی سے یہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں۔ وارث علوی نے خوداپنی قلعی کھول دی۔ وہ بہت کم افسانہ نگاروں کوتسلیم کرتے ہیں۔ پسندیدہ افسانہ نگاروں کاوہ پوری طرح دفاع کرتے ہیں، حیات اللہ انصاری اورشمس الرحمن فاروقی نے بیدی کے افسانے ’’گرہن‘‘ کومعمولی درجے کاافسانہ قرار دیا تو وارث علوی نے ’’گرہن ‘‘ پرپوراایک مضمون تحریرکردیا۔ اس کا عنوان ’’اردوکاایک بدنصیب افسانہ ‘‘ رکھ کرا س کے نصیب کوحیات اللہ انصاری اورشمس الرحمن فاروقی کی تنقیدسے جوڑدیا۔ انہیں اپنے عہد کے ادبی رویے پرسخت ملال تھا۔ (یہ بھی پڑھیں جوش ملیح آبادی – پروفیسر وارث علوی )

وارث علوی فکشن میں کہانی پن کوضروری قراردیتے ہیں۔ وارث کے مطابق بہت سے تخلیق کاروں کوکہانیاں نہیں سوجھتی ہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں انشائی نگاری ،شاعرانہ پن ،میلوڈرامائیت،رومانیت، جذباتیت اورپلاٹ کے داؤں پیچ ملتے ہیں۔ ادب لطیف کے لکھنے والوں نے زبان کا کمال ہی دکھایا ۔پریم چندکے مقلدین نے پلاٹ پرزیادہ انحصارکیا۔ وہ پریم چندکوایسے فن کاروں میں شامل کرتے ہیں جنہیں زیادہ کہانیاں سوجھتی تھیں۔ ان کے نزدیک عصمت ،منٹو، بیدی، غلام عباس کوبھی وافرتعدادمیں معنی خیز کہانیاں سوجھتی تھیں ۔کرشن چندر کے یہاں سڈول کہانیوں کی تعدادکم ہے۔

وارث علوی انورسجاد اوربلراج مین را کوتوکہانی کارمانتے ہی نہیں ہیں۔ انتظارحسین ،قرۃ العین حیدر ،سریندر پرکاش اور محمد منشایاد کو ان فن کاروں کے زمرے میں رکھتے ہیں جنہیں کہانیاں سوجھتی تھیں۔ انھیں سریندرپرکاش کے یہاں صحافت کی پرچھائیاں نظرآتی ہیں اس معاملے میں وہ سب سے زیادہ تخلیقی فن کارمحمدمنشایاد کومانتے ہیں۔ راجندرسنگھ بیدی کے ’’بھولا‘‘ اورغلام عباس کا ’’ہمسائے‘‘ کووہ کہانی کااعلیٰ ترین نمونہ قراردیتے ہیں۔ ان کی تنقید کے مطابق کہانی کو بے ساختگی سے پلاٹ میں بدل کر پیچیدہ اور تہہ دار ناول بنانے کی سب سے اچھی مثال ’’ایک چادرمیلی سی‘‘ کے ذریعہ بیدی نے پیش کی ہے۔

وارث علوی کے مطابق آج کے افسانہ نگاروں کے پاس بے ساختگی نہیں ہے، بلکہ نقاد کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق افسانہ لکھناچاہتے ہیں ۔فن کارکانقادوں کی خوشنودی حاصل کرنا یاایوارڈ کی ریس میں شامل ہونے کی للک پر شدید طنز کرتے ہیں۔ جدیدیت کے بعد لکھنے والوں پروارث علوی نے مضامین لکھے جن میں خالدجاوید ،ترنم ریاض، ثروت خان اورلالی چودھری شامل ہیں ۔شوکت حیات کی کتاب ’’گنبدکے کبوتر‘‘ کاپیش لفظ لکھا لیکن سارے مضامین مروت اورحوصلہ افزائی کے زمرے میں آتے ہیں، یہاں حقیقی وارث علوی نظرنہیں آتے۔

وارث علوی ہیئتی اوراسلوبیاتی تنقیدکی طرح ساختیاتی اورقاری اساس تنقید سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر متن عبارت ہے لسانی نشانیوں سے ،جن کی تعبیر کرنے میں قاری آزادہے متن کاپابند نہیں یادوسرے الفاظ میں دال کی تعبیرمدلول کے حوالے کے بغیربھی ہوسکتی ہے توپھر شعریاافسانہ کی تعبیرمیں قاری یعنی نقادکاذہن آزاد ہے ۔تعبیرپر کوئی پابندی عائدنہیں ہوتی ۔گویا کسی تعبیر کادورازکار ،اٹکل ،ترنگی ،لامرکز،گمراہ کن اورمضحکہ خیز کہنے کاقاری کے پاس کوئی عقلی جواز نہیں رہتا۔ ہمارے پاس کوئی نہ کوئی معیار اور پیمانہ ایساہوناچاہے جوتعبیرکے اچھے برے ہونے کی نشان دہی کرے۔ اس خیال کوغلط ثابت کرے کہ ہرامکانی تعبیرصحیح تعبیرہوتی ہے۔ وہ مصنف کی موت کے مفروضے سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔

مضمون ’’لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر‘‘ لکھ کر وارث علوی نے حقیقی معنی میں سچائی کے زہرکاپیالہ پیاہے۔ یہ مضمون آپ کی ساری ادبی زندگی کانچوڑ ہے۔ انہوںنے اردوکاموجودہ منظرنامہ پیش کیاہے اوربڑے کرب کے ساتھ پیش کیاہے جس سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن انکارنہیں۔اس میں نقادوں کی حکمرانی ،گروہ بندی، ادیبوں کی کمزوریاں، اردومعاشرے کی نفسیات، بے ضمیری ، بے قدری خوداپنامحاسبہ وہ سب کچھ ہے جس کے اظہار کے لیے ایک صوفیانہ بے نیازی ضروری ہے۔ کہیں کہیں وارث کا فرسٹریشن بھی جھلکتا ہے جسے وہ طنز کا پردہ ڈال کر چھپاتے ہیں۔ وہ تنقیدپرتخلیق کی بالادستی کو تسلیم کرنے پراصرار کرتے ہیں۔ انہوں نے مصلحتوں سے اونچا اٹھ کر تلخ حقیقتوں کوپیش کیا، توازن برقراررکھنے کی کوشش کی۔ اپنی اسی کھری سچائی کی وجہ سے وہ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اردوادب میں ان کی وہی حیثیت ہے جویونانی ادب میںسقراط کی تھی ایک ایسافن کار جس نے سچائی اوراصول پسندی پر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

حواشی

۱۔ص ۲۰ ، رسالہ سہ ماہی نیا ورق ،جلد ۱۶،شمارہ،۴۱،۴۲،مدیر ساجد رشید

۲۔ص۲۲،ایضاً

۳۔ص ۱۳۸ تا ۱۳۹ ،ایضاً

۴۔ص ۱۴۰،ایضاً

۵۔ص۱۴۱،ایضاً

۶۔ص ۱۴۳،ایضاً

۷۔      ص ۱۳۱،ایضاً

۸۔      ص۲۹،ایضاً

۹۔ص۷۴،ایضاً

۱۰۔ص۱۳،ایضاً

۱۱۔ص۵۲،ایضاً

۱۲۔ص۵۳،ایضاً

۱۳۔ص۵۳ تا ۵۴،ایضاً

۱۴۔ص۵۴،ایضاً

۱۵۔ص۵۴ تا ۵۵،ایضاً

۱۶۔     ص۵۵،ایضاً

۱۷۔ص۵۶،ایضاً

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

salman balrampuriwaris alviسلمان بلرامپوریوارث علوی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شادی سے چند روز پہلے – زیبا خان حنا۔
اگلی پوسٹ
حسن رہبر کی کہانیوں کا مجموعہ ’’آگے راستہ بند ہے‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر دیبا ہاشمی کی منٹو شناسی :”احتجاجی ادب...

ستمبر 2, 2024

گوپی چندنارنگ کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

جون 16, 2022

بہار میں اردو فکشن کی تنقید: روایت اور...

مئی 9, 2022

افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد...

اگست 3, 2021

وارث علوی کی فکشن تنقید : جدید افسانہ...

جولائی 30, 2021

فکشن تنقید اور وہاب اشرفی – ڈاکٹر آس...

مارچ 17, 2021

فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی –...

مارچ 5, 2021

 عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر...

فروری 3, 2021

یوسف سرمست کی فکشن تنقید – ڈاکٹر عائشہ...

نومبر 2, 2020

انتظار حسین اور افسانے کی تنقید- ڈاکٹر نوشاد...

اکتوبر 20, 2020

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں