بہت ہمت جٹا کر آج خط یہ لکھ رہی ہوں میں،
کہ لکھنا تو بہت کچھ تھا بہت کم لکھ رہی ہوں میں،
فقط نم ناک آنکھوں سے میں اس کاغذ کے ٹکڑے پر
چلے آنا تمہیں شادی کی دعوت لکھ رہی ہوں میں
بہت بیچین ہیں آنکھیں ترا دیدار پانے کو،
مچلتا پھر رہا ہے دل یہی اقرار پانے کو
ہمارا عشق پاکیزہ تھا ، اس کی لاج رکھ لو گے
یقیں ہم کو دلانے ، آؤ ، پھر اک بار جانے کو
میں یہ بھی جانتی تھی، تم بغاوت کر نہیں سکتے،
زمانے کے اصولوں سے بھی تنہا لڑ نہیں سکتے،
تبھی تو داستاں اپنی ادھوری رہ گئی جاناں،
مگر اک دوجے کے دل میں، کبھی ہم مر نہیں سکتے
میں ٹھہری مشرقی لڑکی میں کیسے بھول سکتی تھی،
میں عزت کو محبت سے یوں کیسے تول سکتی تھی
تمہیں بھی اپنے بابا کی وفا کا پاس رکھنا تھا،
کہ تم ضد پر ہی اڑ جاؤ میں کیسے بول سکتی تھی
ابھی سے آنکھ کیوں نم ہے ابھی کیوں رو رہے ہو تم
مری مہندی کو اشکوں سے مری جاں دھو رہے ہو تم
ابھی تو میری ڈولی کو تمہیں کاندھا بھی دینا ہے
ابھی ٹھہرو ابھی سے کیوں یہ ہمت کھو رہے ہو تم
محبت کے فرائض کو مری جاں یوں ادا کرنا
مجھے ہنستے ہوئے دل کے مکاں سے تم جدا کرنا
میں جب ہونے لگوں رخصت تو میرے پاس آکر کے
مری چونر کو چھوکر تم مرے سر کی ردا کرنا
میرے حق میں ہمیشہ تم دعا کرنا دعا کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔
زیبا خان حنا۔


1 comment
[…] ادب کا مستقبل […]