اردو افسانے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے بہت سے ایسے نام ہمارے سمانے آتے ہیں جنھیں زمانے کی گرد نے ہماری آنکھوں سے محو کردیا۔ بعض ایسے افسانہ نگار بھی ہیں جنھیں تاریخی طور پر یاد تو کیا جاتا ہے مگر ان کے فن پر گفتگو نہیں ہوتی۔ افسانہ نگاروں کی ایک جماعت ایسی بھی ہے جن کی نظریاتی وابستگی نے انھیں فنی طور پر کمزور کردیا مگر ایسے افسانہ نگاروں کی کمی نہیں جنھوں نے اپنے فن اور اسلوب کے سہارے اپنی ادبی شناخت قائم کی، انھوں نے کسی کمزور سہارا یا نظریاتی وابستگی کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنے فن، موضوع اور اسلوب کی وجہ سے اردو افسانے کی دنیا میں اپنی ایک پہچان قائم کی۔ ان ہی چند اہم لکھنے والوں میں ایک اہم نام حسن رہبر کا بھی ہے۔ حسن رہبر کا تعلق افسانہ لکھنے والی اس نسل سے ہے جس نے ترقی پسند تحریک کا دور بھی دیکھا اور جدیدیت کا بھی۔ ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ میرے پیش نظر ان کا چوتھا افسانوی مجموعہ ’’آگے راستہ بند ہے‘‘ ہے۔
حسن رہبر کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ایک پل کا فاصلہ‘‘1989 میں شائع ہوا۔ اس کے 23برسوں بعد یعنی 2012 میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’چسکا‘‘ شائع ہوا۔ 2015 میں ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ’’ہربوند سمندر‘‘ شائع ہوا اور چوتھا مجموعہ افسانہ 2016 میں شائع ہوا۔ حسن رہبر کے افسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد نوشاد عالم(صدر شعبہ اردو، ایم ایس کالج، بھاگلپور لکھتے ہیں:
’’حسن رہبر کے بیشتر افسانے ایک خاص اہمیت کے حامل اس لیے بھی ہیں کہ ان کے افسانے کی کونپلیں زندگی سے پھوٹی ہیں۔ افسانوں سے ہماری وابستگی اگرچہ کافی پرانی ہے لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ صدیوں پہلے افسانوں سے ہماری دلچسپی اس لیے تھی کہ اس وقت ہمارے پاس تفریح طبع اور وقت گذاری کا کوئی وسیلہ میسر نہیں تھا لیکن آج ہمارے پاس تفریح اور وقت گذاری کے ہزاروں وسیلے میسر ہیں اس لیے آج کے افسانوں میں قارئین کے ذہن کو اپنی طرف کھینچنے کی بے پناہ صلاحیت نہ ہو تو ایسے افسانوں کو قارئین کی تلاش ہی رہ جاتی ہے۔ حسن رہبر کے بیشتر افسانوں میں قارئین کے ذہن، دل ودماغ کو اپنی طرف کھینچنے اور پوری دلچسپی کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنے کے لیے مجبور کرنے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔ حسن رہبر کے افسانوں میں زندگی کے کسی نہ کسی الجھے ہوئے ڈور کو سلجھانے کی حسین کوشش نمایاں رہتی ہے۔ حسن رہبر کا ہر افسانہ ہمارے سماج معاشرے اور ملک وقوم سے وابستہ کوئی نہ کوئی مسئلہ نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ اس مسئلہ کا خوبصورت حل بھی پیش کرتا ہے جس سے اس حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ حسن رہبر تصورات کی وادی میں گم ہو کر محض الفاظ کی بازیگری کو بروئے کار لاکر افسانہ نگاری نہیں کرتے بلکہ زندگی کی ننگی حقیقتوں کو افسانوی پیکر عطا کرتے ہیں۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں شاکر کریمی کی غزلیہ شاعری – ڈاکٹر نوشاد منظر )
’’آگے راستہ بند ہے‘‘ میں شامل پہلا افسانہ ’’پس پردہ‘‘ ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنے ہی خیالوں میں گم نوجوان جوڑوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا حالانکہ وہ شخص نہ تو برا تھا اور نہ ہی برے خیالات اس کے من میں آتے تھے مگر نہ جانے کون سی لذت تھی کہ وہ اکثر اپنی کھڑکی سے باہر آنے جانے والے لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوجاتا تھا۔ وہ ہر شام پارک میں ٹہلنے جاتا اور شام کی چائے پاس کے ہوٹل میں پیتا۔ دراصل اس پارک اور اس ہوٹل میں جہاں وہ اپنی شام گزارا کرتا تھا وہاں نوجوان جوڑے بھی آتے تھے، اس شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ سیروتفریح کے لیے پارک جائے اور پھر شام کی چائے پی کر واپس لوٹ آئیں مگر اس کی بیوی اکثر منع کردیتی کیونکہ اسے گھر کے کام نمٹانے کے ساتھ ساتھ رات کا کھانا بھی بنانا ہوتا تھا۔
’’تمہیں میرے ساتھ کہیں آنا جانا پسند نہیں لیکن تمہارے بغیر نہ تو مجھے گھومنا اچھا لگتا ہے اور نہ ہوٹل میں بیٹھنا۔ تنہائی سارا مزہ کرکرا کردیتی ہے!
تو میں کیا کروں۔ گھر میں تم نے کون سی آیارکھ چھوڑی ہے کہ گئے رات جب ہم لوٹیں گے تو کھانا تیار ملے گا!
تم تو جانتی ہو کہ میں چہل قدمی کا عادی ہوں۔ بنا ہوٹل جائے چین نہیں ملتا…!
میں نے چائے کا آخری گھونٹ لے کر سوالیہ نگاہوں سے بیگم کی طرف دیکھا ہے اور بیگم بکھرے سامانوں کو سلیقے سے ان کی جگہوں پر رکھ کر کمرے کی صفائی میں جٹ گئی ہیں۔‘‘(صفحہ:14)
متکلم کی بیوی بنیادی طور پر ایک گھریلو عورت ہے جو سیروتفریح کے بجائے گھر کے کاموں کو ترجیح دیتی ہے۔ مگر راوی پھر بھی چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ پارک چلے، لہٰذا وہ بیوی سے یہ تاکید کرتا ہے کہ وہ ہوٹل میں اس کا انتظار کرے گا لہٰذا کام پورا کر کے وہ وہاں آجائے۔ راوی اپنی عادت کے مطابق ہوٹل چلا جاتا ہے۔ اسی ہوٹل میں ایک جوڑا بھی بلاناغہ آتا تھا، راوی ان دونوں کی محبت سے بہت متاثر تھا۔ وہ دونوں اکثر اسی ہوٹل میں آتے اور گھنٹوں ایک وقت گزار کر چلے جاتے۔ راوی اس لڑکی کی موجودگی سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا، وہ دونوں آج بھی آئے تھے مگر آج وہ بہت جلدی میں تھے، اس لیے جلد ہی دونوں چلے گئے، راوی بھی اپنی بیوی کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا اور اداس من کے ساتھ ہوٹل سے نکل پڑا، اسے کبھی اپنی بیوی کے نہ آنے پر غصہ آرہا تھا ،تو کبھی اس خوبصورت جوڑے کے جلد چلے جانے پر، وہ اسی کشمکش میں جارہا تھا کہ سڑک کے اس پار کے ایک ہوٹل سے نکلتے ایک جوڑے پر نگاہ تھم گئی:
’’تبھی میری نگاہ دور سڑک کے اس پار ایک ہوٹل پر جاپڑی ہے۔ جس کے محراب نما دروازے سے بیگم ایک نوجوان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے باہر نکل رہی تھیں۔‘‘ (صفحہ:18)
افسانہ یہی ختم ہوجاتا ہے۔ ناقدین نے اچھی کہانی کی ایک اہم خوبی یہ بتائی ہے کہ وہ صفحہ قرطاس پر ختم ہو اور قاری کے ذہن میں شروع ہوجائے، افسانہ ’ پس پردہ‘ کے تعلق سے بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ قاری پر اپنی گرفت بناتا ہے اور قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آگے کیا ہوا؟افسانہ نگار نے کہیں بھی یہ بتانے کی کوشش نہیں کی ہے کہ آخر اس کی بیوی نے بے وفائی کیوں کی؟
حسن رہبر کا ایک افسانہ ’’پھانس‘‘ ہے۔ یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو ایک انجان عورت کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے اور وہ انجان لڑکی اس کے جذبات کا فائدہ اٹھا کر اس سے پیسے لے کر فرار ہوجاتی ہے۔وہ لڑکا خود کو ملامت کرتا ہے کہ آخر وہ کس طرح اس لڑکی کے جال میں پھنس گیا۔ وہ کف افسوس ملتا رہتا ہے مگر اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ اسے اپنے دوستوںکی وہ باتیں یاد آنے لگتی ہے جو ان لوگوں نے اسے ٹرین تک چھوڑتے وقت کہا تھا۔
’’دیکھنا یار تم ہوٹلوں کے گرد منڈلانے والی کسی لڑکی کے چکر میں مت پڑنا۔ کلبوں اور تفریح گاہوں کے آس پاس چہل قدمی کرنے والی لڑکیاں بڑی تیزوطرار ہوتی ہیں۔ چند میٹھے بول کے عوض لڑکوں کی جیبوں کے سارے پیسے اڑالیتی ہیں۔‘‘ (صفحہ:22)
شہروں کی زندگی کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر اعتماد اور بھروسے کا قتل ہوتا رہتا ہے، انسانی زندگی جھوٹ اور فریب پر قائم ہے، جذبات کی عام طور پر کوئی قدر نہیں، یہی وجہ ہے کہ راوی کو اس لڑکی کی حقیقت کا اندازہ نہیں ہوسکا اور وہ جذبات میں بہہ کر جس لڑکی کے عشق میں مبتلا تھا اس نے اس کے ساتھ یہ فریب کیا اور اسے لوٹ کر غائب ہوگئی۔ (یہ بھی پڑھیں افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد منظر )
راوی اس شہر کے لیے نیا تھا، وہ اپنی بہن اور بہنوئی کے بلانے پر آیا تھا۔ دراصل راوی کی بہن نے اپنے بھائی کے لیے ایک لڑکی کا انتخاب کیا تھا جس کے بارے میں وہ بتاتی ہے کہ لڑکی شریف، شرمیلی اور گھریلو امور میں ماہر تھی مگر راوی یہاں ایک انجان لڑکی کی محبت میں نہ صرف گرفتار ہوا بلکہ اپنا سب کچھ لٹا چکا تھا، اسی بیچ راوی کی بہن نے اس لڑکی سے ملنے کا پروگرام بنایا جس کے لیے راوی کو شہر بلایاگیا تھا۔ملاقات کے لیے ہوٹل کا ایک کمرہ بک کیا گیا تھا، وہ دونوں بھائی بہن اس لڑکی کا انتظار کرنے لگے، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد ایک لڑکی کمرے میں داخل ہوئی۔
’’تبھی چہرے پر شرم وحیا کی شوخیاں بکھیرے ایک لڑکی کمرے کا پردہ سرکاکر اندر آئی۔ اس کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔
لیکن میں نے پہچان لیا اور بے اختیار میرے منہ سے ایک چیخ سی نکل گئی۔
’’ارے تم‘‘؟
’’ہاں میں لیکن اس میں تمھیں گھبرانے کی کوئی ضرورت ، میں اس لڑکی کو تم سے ملانے لائی ہوں جس کے لیے تمھیں یہاں بلایا گیا ہے۔
اور میں حیرت بھری نظروں سے کبھی اس کو اور کبھی اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔‘‘ (صفحہ:23)
افسانہ ’’پھانس‘‘کا اختتام کئی سوال قائم کرتا ہے۔ٖافسانہ نگار نے سماج کی بدلتی ہوئی تصویر کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
حسن رہبر کی کہانیوں میں زندگی کی تلخ حقیقت نظر آتی ہے۔ افسانہ ’’گھر کی آگ‘‘ ایک ایسی کہانی ہے جو انسان کو اندر تک جھنجوڑکر رکھ دیتی ہے۔ پوری کہانی راوی کے اردگرد گھومتی رہتی ہے۔ پوری دنیا میں امن وامان کا پیغام دینے والا شخص کس طرح اپنے گھر والوں کی شازش کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کہانی میں دنیا کو درپیش کئی مسائل کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے وقت میں جب پوری دنیا نفرت کی آگ میں جھلس رہی ہو، ایسے ناسازگار حالات میں امن کا پیغام عام کرنا تو دور امن کی بات کرنا بھی گناہ تصور کیا جاتا ہے۔راوی امن کو عام کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتا ہے۔
’’ملک میں امن وشانتی کی فضا قائم کرنے اور بھائی چارے کا ماحول بنانے میں مجھے دوچار مہینے نہیں… برسہا برس لگ گئے لیکن نہ تو میری راہ میں کوئی اڑچن آئی اور نہ مجھے کسی تھکاوٹ کا احساس ہوا۔
’’میں تو جہاں جہاں گیا ہر مقام پر میرا والہانہ استقبال ہوا ہر جگہ میری مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کی قدر ہوئی۔ لوگوں نے میری مخلصانہ کوششوں اور خیرسگالی کے جذبات کو خوب سراہا اور قدم سے قدم ملاکر ایک ساتھ چلنے پر بھی آمادہ ہوگئے۔‘‘(صفحہ:25)
منزل کی جستجو میں کوئی شخص سچے من سے اگر اکیلے بھی قدم بڑھاتا ہے تو آہستہ آہستہ لوگوں کا ایک کارواں بن جاتا ہے۔ راوی نے بھی جس سچے لگن کے ساتھ عدم تشدد کو عام کرنے کی کوشش کی تھی اس میں اسے کامیابی ملنے لگی۔
حسن رہبر کا ایک افسانہ ’’بھابھی‘‘ ہے۔ یہ بھابھی اور دیور کے درمیان ایک ایسے رشتے کی کہانی کو پیش کرتا ہے جو کبھی مہذب اور پاکیزگی سے لبریز نظر آتی ہے اور کبھی رشتے کی پامالی کا خدشہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔ کہانی کا راوی اور اس کی بھابھی کے درمیان قربت بڑھتی ہے جسے دیور بھابھی کی محبت تصور کرنے لگتا ہے۔ پوری کہانی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھابھی اور دیور کے درمیان ناجائز رشتے کا آغاز ہونے والا ہے۔ ایک اقتباس دیکھئے:
’’ایک مرتبہ جب میں بھابھی سے ملنے ان کے یہاں گیا اور انھیں ڈھونڈتا ہوا ان کے کمرے میں پہنچا تو وہ اپنے بستر پر بے سدھ پڑی تھیں۔ نہ تن بدن کا ہوش اور نہ ادھ کھلے بلوز کی فکر۔ گالوں پر آنکھوں سے ٹپکے کاجل کی لکیر تھی۔
میرے دل میں ایک عجیب سی خواہش جاگ اٹھی اور خود پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ اس سے پہلے کہ میرے لب اس کے ہونٹوں کو چھوتے بھابھی کی آنکھیں کھل گئیں۔ مجھے گھور کر دیکھا اور ساڑی کے پلو درست کرتی ہوئی اٹھ کر بیٹھ گئیں اور ایک طرف ذرا کھسک کر میرے لیے جگہ بنائی اور پاس بٹھا کر پوچھ لیا۔
’’کل آئے نہیں۔ میں نے بہت انتظار کیا۔ تمہاری پسند کا حلوہ بنایا تھا!‘‘
’’تو کیا ہوا آج لے آئیے۔ساتھ کھانے کا مزہ ہی کچھ اور آئے گا۔!‘‘
بھابھی فریج سے حلوے نکال لائیں اور سامنے طشتری رکھ کر ایک ٹکڑا میرے منہ میں ڈال دیا۔ جواب میں میں نے بھی کئی ٹکڑے ان کے منہ میں ڈالے اور ہم دیر تک باتوں میں اس کی مٹھاس گھولتے رہے۔‘‘
حسن رہبر کے افسانوں کا اختتام ڈرامائی انداز میں ہوتا ہے۔ مذکورہ اقتباس کو پڑھتے ہوئے بھی قاری کو کئی طرح کے خیالات درپیش ہوتے ہیں۔ وہ سوال کرتا ہے کہ کہیں ان دونوں کے درمیان کوئی جنسی رشتہ تو نہیں مگر جب کہانی کا اختتام ہوتا ہے تو قاری اس غیرمتوقع اختتام پر حیران ہوئے بنا نہیں رہ پاتا۔ اس افسانے میں نفسیات کا دخل نظر آتا ہے۔ بھابھی جو اپنے دیور سے بے پناہ محبت کرتی ہے، اس کی قربت کے احساس سے سرشار ہو جاتی ہے، اپنے دیور کی ایک جھلک نہ ملنے پر وہ بے چین ہو جاتی ہے، بھابھی کے اس رویے کو دیور ان کی محبت سمجھ لیتا ہے۔ قاری کے ذہن میں یہ سوال بار بار قائم ہوتا ہے کہ آخر دیور کی حرکتوں پر بھابھی خاموش کیوں رہتی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں سماج اور رشتے کے بندھن کی مجبوری کی وجہ سے وہ دیور سے رشتہ بنانے سے کترارہی ہو؟ بہرکیف حسن رہبر نے کہیں بھی اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے، نہ وہ دیور اور بھابھی کے اس رشتے کو مشکو ک نظر سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اسے محترم بناکر واعظ ونصیحت کرتے ہیں۔ یہی ان کے فن کی خوبی ہے۔ افسانے کا اختتامی حصہ دیکھئے۔ بھابھی اپنے دیور کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے:
’’میرے ضبط کا ہر بند ٹوٹ گیا ہے۔
’’یہ مت بھولوکہ میں کسی اور کی امانت ہوں۔ ہمیں کوئی قدم ایسا نہیں اٹھانا چاہئے جس سے کہ ہم ایک دوسرے کی نظروں میں گرجائیں!‘‘
’’اگر ایسا ہی تھا تو تم نے مجھے اندھیرے میں کیوں رکھا؟‘‘
دل کے ٹوٹنے کی ایک آواز میرے ہونٹوں پر لرز کر رہ گئی۔ بھابھی اپنے چہرے پر رینگتی مسکراہٹوں کو دباتے ہوئے بولیں۔
’’ہمارے درمیان اپنائیت کا جو رشتہ ہے وہ بڑا پیارا ہے لیکن اس سے بھی قابل احترام ایک رشتہ ہوتا ہے۔ وہ ہے بھابھی کا رشتہ… بہن اور ماں کا رشتہ… میں تمھیں چاہتی ہوں۔ تمہاری قدر کرتی ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرا پیار جھوٹا ہے۔ میری محبت کھوٹی ہے۔‘‘
کہانی ختم ہوتی ہو اور قاری ایک بار پھر سوالوں کے گھیرے میں آجاتا ہے کہ کیا واقعتا بھابھی کے دل میں اپنے دیور کے لیے جنسی جذبات نہیں رکھتی تھی؟اور اگر ایسا ہی تھا تو آخر اس نے اپنے دیور کو اس قدر آگے کیوں بڑھنے دیا، اسے روکا کیوں نہیں؟یہاں تک کے اختتامی مکالمے سے بھی ایسا نہیں لگتا کہ اسے دیور کا یہ طریقہ غیر مناسب لگا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر بھی خواہشات نفسی جگہ بنائے ہوئے ہے مگر سماجی جبر کی وجہ سے وہ اپنے دیور کو روک رہی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں خطوط داغ دہلوی کی بازیافت – ڈاکٹر نوشاد منظر )
حسن رہبر کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ہمیں سماجی جبر کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے، ان کا افسانہ ’’ آگے راستہ بند ہے‘‘میں بھی ان غریب لوگوں کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے فت پاتھ پر دکان لگاتے ہیں، حالانکہ اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ پولیس اور دیگر اعلی افسران کو بطور نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں تاکہ ان کے کاروبار پر کسی قسم کی کوئی سرکاری آفت نہ آئے۔ مگر کہتے ہیں کسی سسٹم کو تب تک بدلا نہیں جاسکتا جب تک آپ خود اس سسٹم کاحصہ نہ بن جائیں۔راجو بھیا اور دیگر دکانداروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے، راجو بھیا کو اپنی جان کی قربانی اور بقیہ لوگوں کو اپنے کاروبار کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
حسن رہبر کی کہانیوں میں جبر و استحصال بھی ہے اور اس کے خلاف صدائے احتجاج بھی ۔ محمد حسن نے حسن رہبر کے افسانوں کے متعلق لکھا ہے۔
’’غور کیا جائے تو معاصر زندگی کی ناہمواریاں اور بے انصافیاں ان کرداروں اور ان کے گرد واقعات کے تانے بانے سے ابھرتی نظر آتی ہیں۔ حسن رہبر دردمندی اور فن کاری سے اپنے افسانے بنتے ہیں اور انہیں تجرے کے انوکھے پن سے دلکش اور توجہ طلب بناتے ہیں۔‘‘
حسن رہبر کی بیشتر کہانیوں کی قرأت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں جھول نہیں، جیسا میں نے اوپر ذکر کیا کہ ان کی کہانیوں کا سب سے اہم حصہ ان کہانیوں کا اختتامیہ ہے۔ان کہانیوں میں ظلم و جبر بھی ہے، اس کے خلاف صدائے بغاوت بھی ہے، محبت بھی ہے اور محبت میں ملنے والی بے وفائیاں بھی ہیں۔یہی نہیں کچھ کہانیوں میں نفسیاتی مسائل کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جہاں تک حسن رہبر کے اسلوب کا تعلق ہے تو اکثر کہانیوں میںمبہم علامتوں اور غیر ضروری تفاصیل سے اجتناب ملتا ہے۔انہوں نے زندگی کی حقیقت اور اس کے مسائل کو پیش کرنے کے لیے سادہ اسلوب اختیار کیا ہے، وہ ابہام ، گنجلک علامتیں، مشکل استعارے اورسخت تمثیلوں سے اجتناب کرتے ہیں، جس سے ان کہانیوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

