افسانہ کی تنقیدلکھنے والے افسانہ نگاروں کی فہرست میں انتظار حسین کا شمار بھی ہوتا ہے ۔ جدید افسانہ نگاری کے تعلق سے انتظار حسین کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔انھوں نے جدید افسانے کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ہے، ان کے افسانوں میں ہند اساطیر عناصر کی جڑیں بخوبی دیکھی جاسکتی ہیں۔انتظار حسین کا کمال یہ بھی ہے کہ انھوں نے دوسرے جدید افسانہ نگاروں کے مقابلے کہانی پن سے انحراف نہیں کیا۔استعارے اور تشبیہات تو ان کے یہاں موجود ہی ہے انھوں نے داستان کی خوبیوں کو افسانوں کے پیرائے میں پیش کیا ۔
انتظار حسین کے افسانوں پر گفتگو کرنے کا یہاں موقع نہیں ،یہاں میرا مقصد انتظار حسین کی ان تحریروں کا مطالعہ ہے جس کا تعلق افسانے کی تنقید سے ہے۔ان کی ایک معروف کتاب ’’ علامتوں کا زوال‘‘ ہے،جس کی اشاعت مکتبہ جامعہ دہلی سے ہوئی۔اس کتاب میں شامل مضامین کی نوعیت مختلف ہے مگر میں نے ان ہی مضامین کا مطالعہ کیا ہے جو افسانے سے متعلق ہیں۔
انتظار حسین کا ایک مضمون ’’اجتماعی تہذیب اور افسانہ‘‘ ہے۔ یہ مضمون دراصل جدید افسانے کے وجود میں آنے کے اسباب پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ انتظار حسین نے اپنے دلکش اسلوب نگارش سے ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے جو جدیدیت کے حوالے سے اکثر قاری کے اذہان میں آتے تھے۔
کہانی سننے اور سنانے کا عمل ہزاروں برس کے عرصے پر محیط ہے۔ ان کہانیوں کی کوئی تحریری شکل ہمارے سامنے موجود نہیں، بیشتر کہانیاں زبان در زبان اور نسل در نسل کا سفر طے کرتی ہوئی ہم تک پہنچی ہیں اور اسی طرح سے یہ آگے کا سفر کرتی ہوئی آنے والی نسلوں تک پہنچیں گی۔ انتظار حسین اس ضمن میں لکھتے ہیں:
’’میں سوچتا ہوں کہ الف لیلیٰ کو جس تخیل نے جنم دیا ہے، اس کی نشوونما اور تربیت کچھ ایسی ہی فضا میں ہوئی ہوگی۔ آج ہم اس کے خالق یا خالقوں کے نام بھی ہم صحیح طور پر نہیں بتاسکتے ہیں، بس یوں سمجھ لیجئے کہ سارے عربوں نے یا ایک پوری تہذیب نے اسے تصنیف کیا ہے، جب چیزوں کے رشتے آپس میں پیوست ہوں تو افسانہ نگار بھی باقی مخلوق سے کیسے رشتہ توڑ سکتا ہے، جس گزرے زمانے کا میں ذکر کرتا ہوں اس زمانے میں سماجی زندگی کے سارے مظاہر ہم رشتہ تھے۔ سماجی زندگی کے مطاۃر اور فطرت کے مظاہر۔ آدمی کی درختوں سے دوستی تھی اور جانوروں سے رفاقت تھی۔
)علامتوں کا زوال، انتظار حسین، صفحہ:8(
کہانی کی ابتدا ان ہی داستانوں اور قصہ گویوں کے ذریعے ہوئی۔ انتظار حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ الف لیلیٰ یا اس قسم کی دوسری داستانوں کے مصنف کے نام سے ہم واقف تک نہیں اور اگر کوئی ان کے نام کو جانتا بھی ہے تو انھیں داستانوں کے حوالے سے۔ اس اقتباس میں انتظار حسین نے ایک اہم بات یہ کہی ہے کہ افسانہ نگار انسانوں کے ساتھ دوسری مخلوقات سے بھلا کس طرح رشتہ توڑسکتے ہیں؟ انتظارحسین کا اشارہ سماجی زندگی اور جانوروں کی زندگی کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی طرف ہے۔ یہ سچ ہے کہ جانور انسانی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس پورے ماحول کے لیے جس میں سانس لے رہے ہیں اگر جانور نہ ہوں تو انسانی زندگی کئی قسم کی مختلف پریشانیوں میں الجھ سکتی ہے۔ جانوروں کے ساتھ ساتھ یہ پیڑپودے، پھول اور پھل بھی انسانی بقا کے لیے اہم ہے، جس زمانے میں داستانوں کو عروج ملا، اسی وقت کی زندگی اور اب کی زندگی میں فرق ہے۔ اس زمانے میں چاروں طرف ہریالی تھی، مختلف النوع پیڑپودے، پھول اور پھل تھے، چرند وپرند کا معاملہ بھی یہی تھا مگر آہستہ آہستہ ہماری آبادیاں بڑھیں اور پیڑپودے والے جنگل کی جگہ کنکریٹ کی دنیا آباد ہونے کی انتظار حسین نے بالکل درست لکھا ہے۔
’’یہ ایسے زمانے (قدیم دور جب داستانوں کا عروج تھا) کی بات ہے جب آدمی کی برادری میں دوسری مخلوقات بھی شامل تھیں۔ گل، پھول، شجروحجر اور چرندوپرند ہمارے مذہب ہیں، تیج تیوہاروں میں، میلوں ٹھیلوں میں، عشق کے معاملات میں اور جنگ وامن کے قصوں میں عمل دخل رکھتے تھے۔‘‘
)علامتوں کا زوال،صفحہ:9(
شجرکاری اور جانوروں کے پالس پوشن پر مذہبی تعلیم میں بھی زور دیا گیا ہے۔ ہندومذہب میں تو پیڑپودوں کو بھگوان کا روپ مانا جاتا ہے۔ اسلام نے بھی اس جانب واضح اشارہ کیا ہے، جس سے پیڑپودوں کی اہمیت اور جانوروں کی ضرورت کا علم ہوتا ہے۔ جہاں تک ہمارے ادب کا تعلق ہے تو حالی سے لے کر اقبال تک کے کلام کا مطالعہ کرجائیں جگہ بہ جگہ شجرکاری اور جانوروں کی اہمیت کا احساس ملتا ہے، حالی نے برکھارت میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے تو اقبال نے ایک پہاڑ اور گلہری، جگنو، مکڑا اور مکھی، گائے اور بکری جیسی نظمیں کہی۔ ان نظموں کا مطالعہ بھی دراصل اسی تناظر میں کرنے کی ضرورت ہے۔ شاعری میں چرندوپرند کا ذکر تو خوب ملتا ہے مگر نثربالخصوص فکشن میں چرندوپرند کو وضوع نہیں بنایا گیا تھا۔ جدیدیت والوں نے اس طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ چرندوپرند کو علامتوں کے طور پر پیش بھی کیا۔ انتظارحسین لکھتے ہیں:
’’ایسے سماج میں پیدا ہونے والے افسانہ نگار کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ آدمی کو درخت کے روپ میں یا جانورکی جون میں دکھائے اور بندر کو کبھی خوشخط تحریر لکھتے ہوئے اور کبھی بے ثباتی عالم پر پرمغز تقریر کرتے ہوئے پیش کرے اور اس کے باوجود حقیقت نگار اور واقعیت پسند رہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:9(
اس اقتباس سے جدیدیت کا نظریہ واضح ہو جاتا ہے کہ آخرجدیدیت والوں نے جانوروں اور پیڑپودوں کو علامت کے طور پر کیوں پیش کیا۔ داستانوں کے مطالعہ سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس زمانے کا عالم تصور یہ تھا کہ انسان، جانور، پیڑپودے، پھول پھل وغیرہ دراصل ایک برادری یا دوسرے لفظوں میں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔ فکشن نگار بلکہ داستان گو ان کے درمیان رشتے کو خوش اسلوبی سے پیش کرتا تھا۔ انتظارحسین نے لکھا ہے کہ ’’قدیمی سماج میں افسانہ ہوتا تھا، افسانہ نگار نہیں ہوتے تھے۔‘‘یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ کہانیوں کے تعلق سے ایک ایسا بیان ہے جس پر بالخصوص موجودہ فکشن نگاروں کو غوروفکر کرنا چاہئے۔ اس ایک جملے سے قدیم اور جدید افسانوں کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ داستانوں میں جس طرح کے واقعات بیان کیے جاتے تھے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اور دوسری مخلوقات کو ایک دوسرے میں پیوست سمجھا جاتا تھا۔ انتظارحسین کو اس بات کی شکایت ہے کہ موجودہ عہد کے افسانہ نگاروں نے اس جانب سنجیدگی سے غور نہیں کیا، ان کا خیال ہے کہ بعض لوگ تہذیب کو عبور کرنے کا یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ لوگ گاؤں سے شہر آکر بس گئے اور لالٹین کی جگہ بجلی نے لے لی، انھیں اس بات کی بھی شکایت ہے کہ زیادہ تر افسانہ نگار کا اپنا کوئی تجربہ نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔یہ بات ہماری بستی میں سب کو معلوم تھی کہ شیشم کی لکڑی کا سامان خوبصورت اور پائیدار ہوتا ہے، خود اپنا تجربہ بھی یہی ہے۔ آم کی لکڑی کی غلیل نہ دیرپا ہوتی تھی، نہ گلی ڈنڈا ڈھنگ کا بنتا تھا، ہاں ببول کی لکڑی کی غلیل بھی اچھی ہوتی تھی اور گلی بھی کمال کی بنتی تھی اور شیشم کی غلیل مل جاتی تو سبحان اﷲ۔ شیشم اور ببول کے قائل ہم اشتہارات کے ذریعے نہیں ہوئے تھے، اس یقین کے پیچھے پشتوں کا تجربہ کام کررہا ہے اور چوں کہ درخت سے ہمارا براہ راست تعلق تھا، اسی لیے یہ پشتینی تجربہ ذاتی تجربہ بھی بن گیا تھا لیکن یہ کہ کوکاکولا سب شربتوں سے بہتر شے ہے، اس کے پیچھے نہ تو پشتوں کا تجربہ کام کررہا ہے اور نہ خود ہم نے اسے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:11(
انتظارحسین نے ذاتی تجربہ کو اہم بتایا ہے۔ وہ اس ذاتی تجربے میں آفاقیت کے قائل تھے۔ انتظارحسین کی شکایت اشتہارات سے ہے اور یہ اہم بھی ہے۔ کسی بھی فن پارے میں اشتہار بازی ہونے لگے تو ادب کی روح مجروح ہوتی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظار حسین خود کو اس اشتہار سے بچانے میں ناکام رہے۔ ادبی کو بہرحال یہ آزادی ملنی چاہئے کہ وہ جس موضوع پر چاہے خامہ فرسائی کرے مگر ترقی پسندوں نے اجتماعیت کے نام پر انفرادی فکر اور تجربے کو نقصان پہنچایا اور جدیدیت والوں نے انفرادی احساس کے نام پر اجتماعی زندگی کے مسائل سے آنکھیں چرائیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ قدیم کہانیوں کی بازیافت ہونی چاہئے خواہ وہ موضوع کے اعتبار سے ہو یا اسلوب کے لحاظ سے مگر اس بازیافت کے عمل ہی میں معاصر مسائل درکنار نہ ہو جائیں، اس بات کا خیال ہمارے ادیبوں کے لیے ضروری ہے۔انتظار حسین کے افسانوں کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ انھوں نے افسانوں میں مافوق الفطری عناصر، اساطیر کی جڑیں اور داستانوں کی دوسری خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ انتظار حسین نے قدیم کہانیوں سے ضرور استفادہ کیا اور افسانے کو ایک الگ مقام تک لے گئے مگر انھوں نے کہیں نہ کہیں معاصر مسائل کی پیش کش میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔چند کہانیاں ضرور ہیں جن میں زندگی کے معاصر مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور علامت کے طور پر جانوروں اور اساطیر کی مدد لی گئی ہے۔ اساطیری علامتوں کا استعمال بے جا بھی نہیں ہے۔ مگر ترقی پسندوں کو جس طرح بعد میں نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی وہ اس لیے مناسب نہیں کہ ان کا اسلوب خواں جو بھی رہا ہو، انھوں نے عصری مسائل کو محور ومرکز کرفن پارہ تخلیق کیا۔ چندایک تخلیقات کو بعض ترقی پسندوں نے جس طرح پیش کیا، اس پر اعتراض تو جائز ہے مگر ان چند تخلیقات کے پس پردہ ترقی پسند تحریک کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انتظار حسین نے قدیم کہانیوں کے ساتھ ذاتی تجربے کو تخلیق کار اور قاری دونوں کے لیے اہم بتایا ہے، ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ جب ترقی پسندوں نے اپنے ذاتی تجربات کو تخلیقیت کا جامہ پہنایا تو بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ یہ ٹھیک ہے مصنف اور قاری دونوں کو جدید علوم اور قدیم تہذیب سے واقف ہونا چاہئے۔ مصنف کا تخیل اور اس کا علم جتنا اعلیٰ درجے کا ہوگا، فن پارے کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا پھر مصنف کا ذاتی اسلوب کسی فن پارے کو اچھوتا بنادیتا ہے۔ انتظار حسین کا خیال ہے کہ جو علم تجربات پر مبنی ہوتی ہے، اس میں پائیداری ہوتی ہے۔ انھوں نے نظیراکبرآبادی، محمد حسن عسکری اور ممتاز حسین جیسے ادیبوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لوگ کم پڑے لکھے ہونے کے باوجود اپنی بصیرت افروزی سے ایسی تخلیقات پیش کیں جس سے بیشتر لوگ مسحور ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔تعلیم یافتہ وہ سند یا فتہ نوجوان ہے، جس نے جیمز جینز کی جملہ تصانیف پڑھی ہیں مگر آسمان پر کھلے ہوئے تاروں کو دیکھ کر یہ نہیں بتاسکتا کہ مشتری کون سا ستارہ ہے یا تعلیم یافتہ وہ ان پڑھ دہقان ہے جو تاروں کو دیکھ کر یہ بتاسکتا ہے کہ کتنی رات ہوگئی ہے۔جس زمانے میں تاروں کو دیکھ کر زمین کی سمت اور رات کا سمے معلوم کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں سفر شاید تعلیم کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ الف لیلہ کے شہزادے اور سوداگرزادے اس حقیقت کے گواہ ہیں، وقت سفر وہ ذہنی طور پر کتنے ناپختہ ہوتے تھے مگر سفر میں نت نئے جوکھموں اور لگاتار جسمانی اور روحانی وارداتوں سے گزرنے کے بعد وہ کیا ہے کیا بن جاتے ہیں پھر وہ حکمت کی باتیں کرتے ہیں اور انجانی سرزمینوں کے سراغ اور کائنات کے چھپے ہوئے راز بتاتے ہیں۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:13(
علم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، علم سیکھنے کے بھی الگ الگ مدارج میں، انتظار حسین بھی سکھنے اور سکھانے کے عمل کو غلط نہیں بتاتے مگر ان کا زور تجربے پر ہے، وہ بھی انسان کے ذاتی تجربے پر تعلیمی نفسیات میں بچوں کی تربیت کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جسے Learning by do )کرکے کے سیکھنا یا سیکھ کر کرنا)۔ دراصل اس اصطلاح کا مقصد بچوں کے اندر ان جذبات اور اس لیاقت کو پیدا کرنا ہے تاکہ بچہ اسے خود کرسکے۔ اس اصطلاح کا مقصد بھی بچوں کے اندر ذاتی تجربے کو فروغ دینا ہے۔ انتظار حسین کا خیال ہے کہ اگر تخلیق کار کا اپنا کوئی تجربہ نہ ہو اور وہ کسی اور کے تجربے کی بنیاد پر فن پارہ تخلیق کرے تو اس سے معیاری تخلیق وجود میں نہیں آتا۔ مصنف کو اپنے معاصر مسائل کے ساتھ ساتھ ماضی کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ انتظارحسین نے میر کا ایک مشہور شعر درج کیا ہے۔ وہ شعر ہے
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
اس شعر کی روشنی میں انتظارحسین لکھتے ہیں ’’اس شعر کی بنیاد جس تصور پر ہے، اس پر اب پورے سماج کو اعتبار نہیں رہا۔ اس کی جگہ نسائی حسن کا جو تصور درآمد ہوا ہے، اس میں ہم چوں کہ رچے بسے نہیں ہیں لہٰذا افسانہ نگار یا شاعروں نے اس کے گرد تشبیہوں، تلمیحوں اور استعاروں سے کہانیوں کا تانا نہیں بنا۔ انتظارحسین کا خیال ہے کہ مغرب سے آئی اصطلاحوں کو چوں کہ یہاں کے ادیب پوری طرح قبول نہیں کیا ہے، لہجہ، زبان اور اسلوب دونوں متاثر ہورہا ہے۔ ان کا مزید خیال ہے کہ افسانہ نگاروں کا اپنی تہذیب ہے، ایک مضبوط رشتہ ہونا چاہئے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔آج جو افسانہ نگار سچ مچ افسانہ لکھنا چاہتا ہے، اسے یہ حقیقت سمجھنے کے ساتھ ساتھ افسانے کی جڑیں اجتماعی تہذیب میں ہوتی ہیں، یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ تہذیبی سالمیت سلامت نہ رہے تو سچے افسانے کو قبول عالم کی سند حاصل نہیں ہوتی۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:20-21(
مضمون ’’اجتماعی تہذیب اور افسانہ‘‘ میں انتظارحسین کے مصنف اور تہذیب کے درمیان ایک رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے تخلیق کاروں کے لیے ذاتی تجربے کو بے حد اہم اور ضروری قرار دیا ہے۔
افسانوں کی تنقید پر انتظار حسین کا ایک مضمون ’’نیا ادب اور پرانی کہانیاں‘‘ ہے۔ اس مضمون میں انتظار حسین نے اس مضمون میں دوعہد یعنی آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کی کہانیوں کو محورومرکز بنایا ہے۔ انتظارحسین نے ہجرت کو جس طرح پیش کیا ہے، اس افاسنہ کے گمان ہوتا ہے۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ تقسیم اور ہجرت کو بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارا لباس، ہماری گفتگو، ہمارے ادب آداب ضرور بدلے تھے۔ ہمارے خیالات اور نظریات بھی بہت دل گئے تھے مگر ہمارا بنیادی طرز احساس جوں کا توں تھا۔ اس داستان میں نقل وطن کرنے والے مہاجر کہلائے، جن شہروں میں وہ پہنچے وہاں کے لوگوں نے اپنے آپ کو انصار سمجھا۔ قدیم تاریخی اصطلاحوں کا یہ بے ساختہ استعمال اپنے ایک فعل کو ایک مخصوص معنی پہنانے کا عمل تھا۔ ہم گویا اپنے اس وقت کے عمل سے پیوند کرکے دیکھ رہے تھے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:24-25(
فسادات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ باوجود اس کے ہم اس درد اور کرب کو نہیں پہنچ سکتے، جس کا اس زمانے کے لوگوں نے محسوس کیا تھا۔ انتظارحسین نے اس قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اسے محسوس کیا تھالہٰذا اس فسادات کے متاثرین میں وہ بھی شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب انتظارحسین تقسیم ہند کے واقعات کو بیان کرتے ہیں تو اس میں ان کا ذاتی تجربہ بھی شامل ہو جاتا ہے اور ان واقعات کو پڑھتے ہوئے قاری پر رقت طاری ہو جاتا ہے۔ تقسیم ہند کا اثر آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے، اس تقسیم نے ہماری زندگی کو بالکل بدل دیا، کھان پان اور رہن سہن میں جو تبدیلی آئی وہ بھی واضح ہے مگر کچھ اگر نہیں بدلا تو وہ انسانی فکر تھی۔ انتظارحسین کے خاندان والوں نے ہجرت کی، ان مہاجرین میں انتظار حسین بھی شامل تھے۔ ایک شخص جس کو کسی بھی وجہ سے ایسی جگہ سے ہجرت کرنی پڑے جہاں اس نے بچپن اور جوانی کے دن گزارے ہوں، تکلیف دیتا ہے، اس اقتباس سے اس جانب بھی اشارہ ملتا ہے۔ انتظار حسین ایک تخلیق کار ہیں لہٰذا ان کا حس زیادہ بیدار ہے۔ انھوں نے تقسیم ہند کے بعد ادیب اور ادب پر ایک بھی گفتگو کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تقسیم کے آس پاس پیدا ہونے والی پہلی کھیپ سے ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی شہرت بخاری اور سلیم احمد برآمد ہوئے۔ ان سبھی شعرا کا تعلق موجودہ پاکستان سے ہے۔ انتظارحسین نے ہندوستانی شعرا اور ادبا کا ذکر نہیں کیاہے اور بس یہ لکھ دیا ہے کہ ’’سرحد کے ادھر کی نگارشات اس وقت میرے پیش نظرنہیں ہیں۔‘‘ حالاں کہ انھوں نے بنگلور سے شائع ہونے والے جریدے ’’سوغات‘‘ کا ذکر ضرور کیا ہے، جس میں نئی نسل کو ترجیح کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا۔ انتظارحسین نے ہندوستانی ادیب وشاعر کا ذکر کیوں نہیں کیا، وہ سمجھ سے پرے ہے کیوں کہ انتظار حسین جیسے ادیب جن کو کئی زبانوں اور وہاں کے ادب پر دسترس حاصل ہے، انھیں اپنے پڑوسی ملک ہندوستان کی ادبی سرگرمی کا اندازہ نہ ہو یہ ناقابل یقین ہے۔ عین ممکن ہے انھوں نے دانستہ طور پر ہندوستانی ادیب کا ذکر نہیں کیا ہو۔انتظارحسین نے جدید افسانہ اور افسانہ کے وجود میں آنے کے اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’توگویا نئے لکھنے والے اپنی کھوئی ہوئی روح کو ڈھونڈتے ہیں۔ قدیم اصناف سخن، متروک الفاظ، گمشدہ لہجے، روکے ہوئے اسالیب بیان۔ یہ سارا کھڑاک اس لیے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی شے گم ہوگئی ہے اور اسے ڈھونڈا جارہا ہے۔ کچھ کھوجانے اور اس کی وجہ سے غریب ہوجانے اور ادھورا رہ جانے کا احساس شاید آج کی غزل کا بنیادی احساس ہے۔ اس احساس نے غزل میں تو بالعموم عشق کے اشعاروں میں اظہار کیا ہے مگر نظم اور افسانے میں عشق کے سوا بھی استعارے استعمال ہوئے ہیں اور بات تاریخ اور دیومالا تک گئی ہے، سن ستاون، الجزائر، قدیم ہند کے قصص وروایات گویا ان نشانات سے اپنے آپ کو پانے کی مختلف زبانوں اور زمینوں میں اپنے رشتے تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:28-29(
انتظار حسین کا یہ اقتباس پورے جدید ادیب کے مجموعی صورت کو بیان کرتا ہے۔ انتظارحسین کے اس اقتباس سے ایک اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ وہ افسانوں کے لیے بھی استعاروں اور علامتوں کے استعمال کو غلط نہیں مانتے تھے بلکہ اسے ضروری سمجھتے تھے۔ انتظارحسین کو نئے لکھنے والوں سے ایک شکایت ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک ماضی کا کوئی واضح اور متعین رشتہ نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’آج کے لکھنے والوں کے لیے ماضی کوئی واضح اور متعین رشتہ نہیں رہا ہے بلکہ رشتوں کا ایک گچھا ہے جس کے مختلف سرے ان کے ہاتھ میں آکر پھیل جاتے ہیں اور ان رشتوں کی صداقت پر بھی انھیں ایسا یقین نہیں ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:34(
انتظارحسین کا ایک مضمون ’’افسانہ میں چوتھا کھونٹ‘‘ ہے جو ان کی کتاب ’’علامتوں کا زوال‘‘ میں شامل ہے۔ اس مضمون کا آغاز ہی اس گلے سے ہوتا ہے کہ ’’افسانے کی اس ساری بحث میں مجھے تو بس ایک بات پوچھنی ہے کہ یہ افسانہ ہوتا کیا ہے؟‘‘ افسانے کی تعریف اور تاریخ کے حوالے سے متعدد کتابیں اور سینکڑوں تنقیدی مضامین شائع ہوچکے ہیں، جن میں افسانے کی تعریف اور اس کے فنی لوازمات کا ذکر ملتا ہے۔ سیدوقار عظیم غالباً پہلے ناقد ہیں جنھوں نے ’’فن افسانہ نگاری ‘‘ کے نام افسانے کی تنقید لکھی۔ انتظارحسین نے ان تمام اہم کتابوں کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا اور افسانے کے تعلق سے ان کا اپنا بھی نظریہ ہوگا۔ سید وقار عظیم نے افسانے کی تعریف کرتے ہوئے جن نکات کی طرف افسانہ نگار کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے، ان میں وحدت تاثر کو کافی اہمیت دی ہے۔ یعنی جس شکل میں واقعہ افسانہ نگار کے ذہن میں آیا اسی شکل میں وہ قاری کے اذہان تک پہنچے، اس طرف افسانہ نگاروں کو توجہ دینی چاہئے۔ اگر کوئی افسانہ نگار وحدت تاثر کو اہمیت دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے، جسے اپنے فن پارے کو تشبیہ واستعارے سے بچانا ہوگا، ظاہرہے یہ باتیں جدیدیت نظیرے کے بالکل مخالف ہے لہٰذا اس پر ردعمل کا ہونا بھی ضروری تھا۔ انتظار حسین ترقی پسند افسانوں کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’اس عہد (ترقی پسند تحری) کے نقادوں نے ہمیں بتایا کہ سماجی اور معاشی حقیقت ہی پوری حقیقت ہے جو نظرآتا ہے، وہی کچھ ہے جو نظرآتا، وہ محض وہم ہے ، تیسری دہائی کا نیا افسانہ اس تصور حقیقت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ سماجی حقیقت نگاری اس کا اسلوب ہے۔ یہ افسانہ بے شک اپنے عہد کا افسانہ تھا، وہ زمانہ جب ذہنی اضمحلال اور سلب عمل نے تخیل کو زیادہ زرخیز بنادیا تھا۔ یہ تخیل اضمحلال اور سیاسی بیداری کا زمانہ تھا، اس زمانے میں یہ نیا افسانہ خوب ہٹ ہوا۔‘‘ (علامتوں کا زوال، صفحہ:130-131(
ترقی پسندوں نے جوادب تخلیق کیا اس کا سب سے بڑا فائدہ تو وہی سیاسی اور سماجی طریقے سے ہمیں حاصل ہوا، جس کی طرف انتظارحسین نے اشارہ کیا ہے، ہرادیب اور تحریک کے اپنے کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ اس ظلم وزیادتی اور غلامی جو اس زمانے میں عام تھا کہ خلاف آواز بلند کی وہ اشتراکی نظام قائم کرنا چاہتے تھے تاکہ غریبی اور امیری کے فرق کو ختم کیا جاسکے حالاں کہ یہ Prachich نہیں تھا۔ انتظارحسین نے ترقی پسند افسانہ کو ایک ایسی فلم سے تشبیہ دیا ہے جو اپنے وقت کی مشہور اور ہٹ فلم ’’پکار‘‘ سے کیاہے۔ انھوں نے ایک واقعہ درج کیا ہے کہ فلم ’’پکار‘‘ انھیں بے حد پسند تھی مگر بعد کے دنوں میں جب انھوں نے اس فلم کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیکھا تو بچوں نے تو خیرپسند کیا نہیں خود انھیں بھی فلم پہلے کی طرح اچھی نہیں لگی۔ یہ ٹھیک ہے کہ کچھ افسانوں کے متن ایسے ہیں جو ایک وقت میں کافی پسند کیے گئے مگر وقت کی گرد اس پر ایسی جمی کے بعد کو پڑھنے والوں کی نظر میں وہ توجہ نہیں قائم کرسکے۔ مگر ایک اہم بات ہے اگر انتظارحسین اس اقتباس سے ترقی پسند افسانوں پر طنز کرنا چاہئے، میں تو ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے، منٹو، عصمت اور بیدی کے کئی افسانے ایسے ہیں جن کی اہمیت اور معنویت آج بھی برقرار ہے۔ انتظارحسین نے درست لکھا ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی چار دہائیوں کے افسانوں کا مزاج الگ ہے۔ اس زمانے میں ایک خاص نقطہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے افسانہ تخلیق کیا گیا۔ انتظار حسین لکھتے ہیں:
’’اردو کے نئے افسانے کی کہانی بھی مجھے کچھ اسی قسم کی نظر آتی ہے، اس صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں اردو افسانہ میں کھونٹ بھرتا رہا ہے اور ترقی پسند تحریک کی ہدایت ہی یہ تھی۔ کسی نے اگر بے راہ روی اختیار کی بھی مثلاً اگر کسی نے جدید نفسیات کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر یہ جھانکنے کی کوشش کی کہ اندر کیا ہورہا ہے تو مارکسی نقادوں نے فوراً ٹوک دیا کہ بری بات۔ سوایک ڈیڑھ استثنا سے قطع نظر افسانہ نگاروں کے چال چلن بالعموم درست رہا۔ مگر پانچویں دہائی میں نئے آنے والوں میں کچھ بے چینی کے آثار پیدا ہوئے۔ دہائی کے ختم ہوتے ہوتے انھوں نے سرکشی اختیار کی اور اس کے بعد تو اﷲ دے اور بندہ لے۔ بزرگوں نے افسانہ لکھنے کے جو جو نسخے بتائے تھے، انھوں نے ان سب کو طاق میں رکھا اور دوسری ہی طرح کا افسانہ لکھنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس افسانے کو آپ علامتی کہیں، تجریدی کہیں۔ میں یوں کہوں گا کہ ہمارا افسانہ چوتھی کھونٹ میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘
)افسانہ میں چوتھی کھونٹ، علامتوں کا زوال،صفحہ:132-133(
یہ سچ ہے کہ ترقی پسند تحریک کو جن مقاصد کے حصولیابی کے لیے وقف کیا تھا بعدمیں چند شدت پسند ادیب وناقد کے رویے کی وجہ سے اسے اچھا خاصہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ادیب کی آزادی بالکل صلب کرلی گئی تھی اور ان سے بار بار یہ اصرار کیا جاتا تھا کہ انھیں اپنے مقصد کے لیے انھیں راستوں پر چلنا ہوگا جو ترقی پسند تحریک کے لیے وقف کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے سب سے پہلے متنفر ہمارے دو اہم شاعر ن.م.راشد اور میرا جی ہوئے۔ انھوں نے اس تحریک کے خلاف ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔ فکشن میں ترقی پسند نظریے سے اختلاف بعد میں سامنے آیا۔ انتظار حسین نے اس اقتباس انھیں انھیں ادیب کی طرف اشارہ کیا ہے جو ترقی پسند تحریک سے تھک گئے تھے۔ جبرایک ایسی بلا ہے جو اکثر بغاوت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ زندگی کے تمام معاملات کی طرف ادب بھی اس جبر سے الگ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے بعض لوگ بدظن ہوگئے حالاں کہ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو تحریک کی اہمیت سے انکار کرتا ہو۔ ترقی پسند مخالفین بھی دراصل ادیبوں پر جبر کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ اوپر اقتباس میں ایک جملہ استعمال ہوا ہے ’’چوتھی کھونٹ‘‘۔ دراصل یہ ایک بہت پرانی کہانی ہے جس میں بادشاہ کے چار بیٹے تھے۔ بادشاہ نے پانچوں بچوں کو تیر، تلوار اور دوسری چیزوں کی اچھی تعلیم دلائی جب وہ فن میں ماہر ہوگئے تو بادشاہ نے پانچوں کو شکار پر بھیجا تاکہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرسکیں مگر ایک تاکید بھی کی کہ دیکھو تین کھونٹ سے آگے مت جانا۔ جب پانچوں شہزادے شکار پر گئے تو چار نے والد کے حکم کے مطابق تین کھونٹ تک گئے اور لوٹ آئے مگر پانچواں شہزادہ اس کھونٹ سے آگے نکل گیا اور کئی قسم کے مصائب سے دوچار ہوا۔ انتظارحسین نے جدیدیت نظریے والوں کو اسی پانچویں شہزادے سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جدیدیت والوں نے ترقی پسند کے مروجہ اصولوں کی پابندی کے بجائے کھلے آسمان میں سانس لینا قبول کیا یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں ان ادیبوں پر تنقیدی ظلم بھی ہوئے۔ انتظارحسین لکھتے ہیں:
’’اصل میں منطقی ذہن رکھنے والوں نے افسانے کی مختلف اصناف کی، جو جو تعریفیں وضع کی تھیں، جو جو سانچیں مقرر کیے تھے، جو جو ضابطے نافذ کیے تھے، وہ سب بیسویں صدی کے فکشن نگاروں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ گئے۔ تین کھونٹ انیسویں صدی تک تھے۔ بیسویں صدی میں فکشن چوتھے کھونٹ میں داخل ہوتا ہے۔ اردو افسانہ بیسویں صدی کے بیچ انیسویں صدی کو اپنے سینے سے لگائے رہا اور اپنے آپ کو نیا سمجھتا رہا۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:133(
یہ اقتباس ایک جدید افسانہ نگار اور ناقد کی ہے اور ترقی پسند تحریک سے متعلق یہی رویہ تقریباً تمام جدیدیت والوں نے اختیار کررکھا ہے۔ ترقی پسندوں نے کبھی بھی خود کو جدید نہیں کہا بلکہ انھوں نے معاصر مسائل کو موضوع بنایا، کہانیوں کی روایت کے لحاظ سے ممکن ہے۔ بعض ترقی پسند افسانہ فرسودہ ہو مگر صنف کے اعتبار سے اس کا وجود ہی بیسویں صدی میں ہوا ہے اور ایک اہم بات جب نظریاتی ادب نہیں لکھا جاسکتا تو بھلا نظریاتی تنقید کے کیا مطلب ہیں۔ ادب کی پرکھ ادبی اصولوں پر کی جانی چاہئے نہ کہ نظریاتی بنیادوں پر۔ اس اقتباس میں انتظار حسین نے جس طرح جدید افسانہ کے وجود میں آنے کی بات کی ہے وہ یقیناًایک خوبصورت پیرایہ کہلائے گا۔ انتظارحسین کا خیال ہے کہ ’’آج کا افسانہ (جدیدیت) علامتی اور تجریدی بن کر روایتی افسانے کے تصور کے خلاف لڑرہا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ جدید افسانہ اس تصور حقیقت کے خلاف ہے جس نے افسانے کے اس اسلوب کو جنم دیا تھا۔ انتظارحسین نے اپنے اس مضمون میں ناول کے حوالے سے کچھ گفتگو کی ہے مگر میرا موضوع اس پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اس میں کچھ نیاپن ہے۔ دوسرے لفظوں میں جن خیالات کا اظہار انھوں نے قدیم وجدید افسانے کے متعلق کیا ہے، ناول کے حوالے سے بھی ان کا نظریہ ویسا ہی ہے۔
مضمون ’’افسانہ میں چوتھی کھونٹ‘‘ انتظار حسین کے مجموعہ مضامین میں شامل ہے گرچہ اس کتاب کی اشاعت 2011 درج ہے مگر مذکورہ مضمون کے اختتام پر 1980درج ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ 1980 میں لکھا گیا ہوگا۔
انتظار حسین کا مضمون ’’درخت افسانے ‘‘رسالہ ’شب خون‘میں جون 1972میں شائع ہوا تھا ۔یہ ایک مختصر مضمون ہے،جس میں افسانے کی خوبی موجودہے ۔انتظار حسین نے اپنے مضمون کاآغاز افسانے کے مستقبل سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’افسانے کا مستقبل تاریک ہے اس لیے کہ دنیا درختوں سے خالی ہورہی ہے اور آدمیوں سے بھرتی چلی جارہی ہے ۔ایسی دنیا میں جہاں آدمی ہی آدمی ہوں صحافت پیدا ہوسکتی ہے ،شاعری اور افسانہ پیدا نہیں ہوسکتے ۔ صحافت خالص انسانی ذریعۂ اظہار ہے ۔شاعری اور افسانہ خالص انسانی ذریعۂ اظہار نہیں ۔‘‘ )درخت اور افسانے(
افسانے کے متعلق انتظار حسین کی یہ ناامیدی آخر کیوں ہے؟دراصل زمانے کے جس دور سے ہم گزرہے ہیں وہ برق کی رفتار سے سائنس اور ٹکنالوجی سے قریب ہوتا جارہا ہے انسان کی زندگی اس مشین کی طرح ہوگئی ہے جس سے مسلسل کام لیا جارہا ہو ۔ہمیں فرصت کے چند لمحات بھی میسر نہیں آتے اس صورت حال سے گزرتا ہوا انسان سکون کے ایک ایک پل کے لئے ترس گیا ہے ۔کہانی اور قصے کے لیے جو وقت درکار ہے اس کے پاس وہ وقت نہیں۔ دوسری اہم بات کے ہمارے معاصر افسانہ نگار افسانے کے فنی لوازمات کاخیال کیے بغیر جس طرز پر افسانہ لکھ رہے ہیں اسے فنی اصولوں پر پرکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ یہ افسانہ ہرگز نہیں۔انتظار حسین نے راجہ بکرم اور بھوت بیتال کی اس کہانی کو جسے ہم نے اپنی ماں اور دادی وغیرہ سے بچپن میں سنا تھا پیش کیا ہے۔نئی نسل کے بچے ان کہانیوں سے نہ واقف ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ اس کی جگہ ٹیلی ویژن پر کارٹون اور سیریل نے ہمارے گھروں میں جگہ بنالی ہے۔اب نہ ماں باپ کے پاس وقت رہا اور نہ ہی بچوں کو ان کہانیوں میں کوئی دلچسپی رہی،نئی نسل کے بچوں نے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کو اپنی دنیابنالیا ہے۔اس کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارے معاشرے کی بدلتی تصویر ہے۔انتظار حسین نے اس مضمون میں بکرم اور بیتال کو ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جب راجا بکرما جیت بیچ میں بول پڑا اور بیتال واپس درخت پر جالٹکا تو حقیقت نگاری والا افسانہ پیدا ہوا۔ سماجی اصلاح، سیاسی صورت حال کی عکاسی، کمٹ منٹ انقلاب۔۔۔یہ راجہ بکرم کی دخل در معقولات ہے یا ڈی ایچ لارنس کے لفظوں میں خیالات وافکار کی ردی کی ٹوکری ہے کہ ہم نے اپنے سروں پر اٹھا رکھی ہے اور یہ خبر ہی نہیں ہے کہ ہمارے اندر ایک جنگل سانس لے رہا ہے۔ کتھا سنانے والا بیتال واپس درخت پرجاٹنگا ہے۔ یہاں راجہ بکرم ردی کی ٹوکری سرپر سجائے اپنے خیالات عالیہ بیان کررہا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس بیان ہی کو کتھا سمجھا جائے۔ یہ کیسی کتھا ہے کہ جس میں آدمی کائنات سے بچھڑا ہوا ہے اور اپنی ردی کی ٹوکری کو کائنات سمجھ رہا ہے۔ حقیقت نگاری کی روایت میں لکھے ہوئے افسانوں کو پڑھ جائیے پھر ان افسانوں کو بھی پڑھ دیکھئے جو حقیقت نگاری کے ردعمل میں لکھے گئے۔ بیتال نہ یہاں بولتا دکھائی دیتا ہے نہ وہاں۔ دونو ں جگہ راجہ بکرم اپنے فاضلانہ خیالات اگل رہا ہے۔ کبھی سماجی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، کبھی انقلاب کا نعرہ لگاتا ہے، کبھی رجائیت کا پیغام دیتا ہے، کبھی کمٹمنٹ کمٹمنٹ چلاتا ہے۔ یہ کیا افسانے ہیں اور کیسی دنیا ہے جہاں انسانی چہرے ہی انسانی چہرے دکھائی دیتے ہیں، باقی کائنات اپنے درختوں، درندوں اور سایوں کے ساتھ کہاں گم ہوگئی۔‘‘
انتظار حسین بار بار انسان اور جنگل کے رشتے کو واضح کرتے ہیں۔قدرت سے دوری نے کئی مسائل پیدا کئے ہیں ان میں سے ایک گلوبل وارمنگ بھی ہے۔یہ جس طرح پوری دنیا کے سامنے ایک چیلنج بن کے کھڑا ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ زمین کے بڑے حصے کو نگل رہا ہے اس سے ہر کوئی جلد سے جلد نجات چاہتا ہے۔انتظار حسین نے واضح طور پر اس جانب کوئی اشارہ تو نہیں کیا ہے مگر ان کے اقتباس سے اس جانب اشارہ ملتا ہے۔اس بات سے سائنس داں بھی متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ کی اصل وجہ انسانی آبادی کا بڑھنا اور وافر مقدار میں پیڑ پودوں کا نہ ہونا ہے،لہذا انتظار حسین کے اقتباس کو اسی خاص تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انتظار حسین پرانی کہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اض کی کہانیوں میں پرن کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی جنگل کی وہ صعوبتیں ملتی ہیں جن سے پرانے کہانیوں کے ہیرو کا سامنا ہوا کرتا تھا۔انتظار حسین آج کی کہانیوں میں بھی ان ہی پیڑ پودے ،ہریالی جنگلی جانور وغیرہ کی تلاش کرتے ہیں جو ہمارے داستانوں میں پوئی جاتی تھیں۔
انتظار حسین نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ معاصر افسانوں کے معیار پر بھی گفتگو کی ہے۔اس گفتگو میں انہوں نے جن بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔انتظار حسین ترقی پسند اور جدید افسانے سے متعلق لکھتے ہیں :
’’حقیقت نگاری کی روایت میں لکھے ہوئے افسانوں کو پڑھ جائیے پھر ان افسانوں کو بھی پڑھ کر دیکھئے جو حقیقت نگاری کے رد عمل میں لکھ گئے۔ بیتال نہ یہاں بولتادکھائی دیتا ہے نہ وہاں ۔دونوں راجہ بکرم اپنے فاضلانہ خیالات اگل رہا ہے ۔کبھی سماجی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے ۔کبھی انقلاب کانعرہ لگاتا ہے ،کبھی رجائیت کا پیغام دیتا ہے ،کبھی گومٹ چلاتا ہے ۔یہ کیا افسانے ہیں اور کیسی دنیا ہے جہاں انسانی چہرے ہی انسانی چہرے دکھائی دیتے ہیں ۔باقی کائنات اپنے درختوں ،درندوں اور سایوں کے ساتھ کہاں گم ہوگئی ۔‘‘ )درخت اور افسانے(
انتظار حسین کے مذکورہ اقتباس سے افسانوں کے متعلق ان کے خیالات سے آگہی حاصل کی جاسکتی ہے ،وہ افسانوں سے نہ اصلاح کاکام لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی رجعت پسندی کو افسانوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔انتظار حسین کے نزدیک بہترین افسانہ وہ ہے جس میں ادبیت ہو۔ان کے مطابق افسانہ نگار کا کام بس کمینٹری کرنا ہے کرداروں کو مشورہ دینا یااس سے اپنی خواہش کے مطابق کام لینا نہیں ۔
انتظار حسین کے تنقیدی مضامین کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ وہ انسان اور قدرتی وسائل کے درمیان کے رشتے کو افسانے کے لیے اہم بتاتے ہیں۔انتظار حسین کی تنقید کی خوبی یہ بھی ہے کہ جدید افسانہ نگار خود نئے افسانے کے تعلق سے کیا سوچتا ہے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے۔بلکہ یہ مضامین جدیدیت کی تفہیم میں بھی کافی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
انتظار حسین کے افسانوں پر گفتگو کرنے کا یہاں موقع نہیں ،یہاں میرا مقصد انتظار حسین کی ان تحریروں کا مطالعہ ہے جس کا تعلق افسانے کی تنقید سے ہے۔ان کی ایک معروف کتاب ’’ علامتوں کا زوال‘‘ ہے،جس کی اشاعت مکتبہ جامعہ دہلی سے ہوئی۔اس کتاب میں شامل مضامین کی نوعیت مختلف ہے مگر میں نے ان ہی مضامین کا مطالعہ کیا ہے جو افسانے سے متعلق ہیں۔
انتظار حسین کا ایک مضمون ’’اجتماعی تہذیب اور افسانہ‘‘ ہے۔ یہ مضمون دراصل جدید افسانے کے وجود میں آنے کے اسباب پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ انتظار حسین نے اپنے دلکش اسلوب نگارش سے ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے جو جدیدیت کے حوالے سے اکثر قاری کے اذہان میں آتے تھے۔
کہانی سننے اور سنانے کا عمل ہزاروں برس کے عرصے پر محیط ہے۔ ان کہانیوں کی کوئی تحریری شکل ہمارے سامنے موجود نہیں، بیشتر کہانیاں زبان در زبان اور نسل در نسل کا سفر طے کرتی ہوئی ہم تک پہنچی ہیں اور اسی طرح سے یہ آگے کا سفر کرتی ہوئی آنے والی نسلوں تک پہنچیں گی۔ انتظار حسین اس ضمن میں لکھتے ہیں:
’’میں سوچتا ہوں کہ الف لیلیٰ کو جس تخیل نے جنم دیا ہے، اس کی نشوونما اور تربیت کچھ ایسی ہی فضا میں ہوئی ہوگی۔ آج ہم اس کے خالق یا خالقوں کے نام بھی ہم صحیح طور پر نہیں بتاسکتے ہیں، بس یوں سمجھ لیجئے کہ سارے عربوں نے یا ایک پوری تہذیب نے اسے تصنیف کیا ہے، جب چیزوں کے رشتے آپس میں پیوست ہوں تو افسانہ نگار بھی باقی مخلوق سے کیسے رشتہ توڑ سکتا ہے، جس گزرے زمانے کا میں ذکر کرتا ہوں اس زمانے میں سماجی زندگی کے سارے مظاہر ہم رشتہ تھے۔ سماجی زندگی کے مطاۃر اور فطرت کے مظاہر۔ آدمی کی درختوں سے دوستی تھی اور جانوروں سے رفاقت تھی۔
)علامتوں کا زوال، انتظار حسین، صفحہ:8(
کہانی کی ابتدا ان ہی داستانوں اور قصہ گویوں کے ذریعے ہوئی۔ انتظار حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ الف لیلیٰ یا اس قسم کی دوسری داستانوں کے مصنف کے نام سے ہم واقف تک نہیں اور اگر کوئی ان کے نام کو جانتا بھی ہے تو انھیں داستانوں کے حوالے سے۔ اس اقتباس میں انتظار حسین نے ایک اہم بات یہ کہی ہے کہ افسانہ نگار انسانوں کے ساتھ دوسری مخلوقات سے بھلا کس طرح رشتہ توڑسکتے ہیں؟ انتظارحسین کا اشارہ سماجی زندگی اور جانوروں کی زندگی کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی طرف ہے۔ یہ سچ ہے کہ جانور انسانی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس پورے ماحول کے لیے جس میں سانس لے رہے ہیں اگر جانور نہ ہوں تو انسانی زندگی کئی قسم کی مختلف پریشانیوں میں الجھ سکتی ہے۔ جانوروں کے ساتھ ساتھ یہ پیڑپودے، پھول اور پھل بھی انسانی بقا کے لیے اہم ہے، جس زمانے میں داستانوں کو عروج ملا، اسی وقت کی زندگی اور اب کی زندگی میں فرق ہے۔ اس زمانے میں چاروں طرف ہریالی تھی، مختلف النوع پیڑپودے، پھول اور پھل تھے، چرند وپرند کا معاملہ بھی یہی تھا مگر آہستہ آہستہ ہماری آبادیاں بڑھیں اور پیڑپودے والے جنگل کی جگہ کنکریٹ کی دنیا آباد ہونے کی انتظار حسین نے بالکل درست لکھا ہے۔
’’یہ ایسے زمانے (قدیم دور جب داستانوں کا عروج تھا) کی بات ہے جب آدمی کی برادری میں دوسری مخلوقات بھی شامل تھیں۔ گل، پھول، شجروحجر اور چرندوپرند ہمارے مذہب ہیں، تیج تیوہاروں میں، میلوں ٹھیلوں میں، عشق کے معاملات میں اور جنگ وامن کے قصوں میں عمل دخل رکھتے تھے۔‘‘
)علامتوں کا زوال،صفحہ:9(
شجرکاری اور جانوروں کے پالس پوشن پر مذہبی تعلیم میں بھی زور دیا گیا ہے۔ ہندومذہب میں تو پیڑپودوں کو بھگوان کا روپ مانا جاتا ہے۔ اسلام نے بھی اس جانب واضح اشارہ کیا ہے، جس سے پیڑپودوں کی اہمیت اور جانوروں کی ضرورت کا علم ہوتا ہے۔ جہاں تک ہمارے ادب کا تعلق ہے تو حالی سے لے کر اقبال تک کے کلام کا مطالعہ کرجائیں جگہ بہ جگہ شجرکاری اور جانوروں کی اہمیت کا احساس ملتا ہے، حالی نے برکھارت میں اس کی جانب اشارہ کیا ہے تو اقبال نے ایک پہاڑ اور گلہری، جگنو، مکڑا اور مکھی، گائے اور بکری جیسی نظمیں کہی۔ ان نظموں کا مطالعہ بھی دراصل اسی تناظر میں کرنے کی ضرورت ہے۔ شاعری میں چرندوپرند کا ذکر تو خوب ملتا ہے مگر نثربالخصوص فکشن میں چرندوپرند کو وضوع نہیں بنایا گیا تھا۔ جدیدیت والوں نے اس طرف نہ صرف توجہ دلائی بلکہ چرندوپرند کو علامتوں کے طور پر پیش بھی کیا۔ انتظارحسین لکھتے ہیں:
’’ایسے سماج میں پیدا ہونے والے افسانہ نگار کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ آدمی کو درخت کے روپ میں یا جانورکی جون میں دکھائے اور بندر کو کبھی خوشخط تحریر لکھتے ہوئے اور کبھی بے ثباتی عالم پر پرمغز تقریر کرتے ہوئے پیش کرے اور اس کے باوجود حقیقت نگار اور واقعیت پسند رہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:9(
اس اقتباس سے جدیدیت کا نظریہ واضح ہو جاتا ہے کہ آخرجدیدیت والوں نے جانوروں اور پیڑپودوں کو علامت کے طور پر کیوں پیش کیا۔ داستانوں کے مطالعہ سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس زمانے کا عالم تصور یہ تھا کہ انسان، جانور، پیڑپودے، پھول پھل وغیرہ دراصل ایک برادری یا دوسرے لفظوں میں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔ فکشن نگار بلکہ داستان گو ان کے درمیان رشتے کو خوش اسلوبی سے پیش کرتا تھا۔ انتظارحسین نے لکھا ہے کہ ’’قدیمی سماج میں افسانہ ہوتا تھا، افسانہ نگار نہیں ہوتے تھے۔‘‘یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ کہانیوں کے تعلق سے ایک ایسا بیان ہے جس پر بالخصوص موجودہ فکشن نگاروں کو غوروفکر کرنا چاہئے۔ اس ایک جملے سے قدیم اور جدید افسانوں کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ داستانوں میں جس طرح کے واقعات بیان کیے جاتے تھے، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اور دوسری مخلوقات کو ایک دوسرے میں پیوست سمجھا جاتا تھا۔ انتظارحسین کو اس بات کی شکایت ہے کہ موجودہ عہد کے افسانہ نگاروں نے اس جانب سنجیدگی سے غور نہیں کیا، ان کا خیال ہے کہ بعض لوگ تہذیب کو عبور کرنے کا یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ لوگ گاؤں سے شہر آکر بس گئے اور لالٹین کی جگہ بجلی نے لے لی، انھیں اس بات کی بھی شکایت ہے کہ زیادہ تر افسانہ نگار کا اپنا کوئی تجربہ نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔یہ بات ہماری بستی میں سب کو معلوم تھی کہ شیشم کی لکڑی کا سامان خوبصورت اور پائیدار ہوتا ہے، خود اپنا تجربہ بھی یہی ہے۔ آم کی لکڑی کی غلیل نہ دیرپا ہوتی تھی، نہ گلی ڈنڈا ڈھنگ کا بنتا تھا، ہاں ببول کی لکڑی کی غلیل بھی اچھی ہوتی تھی اور گلی بھی کمال کی بنتی تھی اور شیشم کی غلیل مل جاتی تو سبحان اﷲ۔ شیشم اور ببول کے قائل ہم اشتہارات کے ذریعے نہیں ہوئے تھے، اس یقین کے پیچھے پشتوں کا تجربہ کام کررہا ہے اور چوں کہ درخت سے ہمارا براہ راست تعلق تھا، اسی لیے یہ پشتینی تجربہ ذاتی تجربہ بھی بن گیا تھا لیکن یہ کہ کوکاکولا سب شربتوں سے بہتر شے ہے، اس کے پیچھے نہ تو پشتوں کا تجربہ کام کررہا ہے اور نہ خود ہم نے اسے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:11(
انتظارحسین نے ذاتی تجربہ کو اہم بتایا ہے۔ وہ اس ذاتی تجربے میں آفاقیت کے قائل تھے۔ انتظارحسین کی شکایت اشتہارات سے ہے اور یہ اہم بھی ہے۔ کسی بھی فن پارے میں اشتہار بازی ہونے لگے تو ادب کی روح مجروح ہوتی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظار حسین خود کو اس اشتہار سے بچانے میں ناکام رہے۔ ادبی کو بہرحال یہ آزادی ملنی چاہئے کہ وہ جس موضوع پر چاہے خامہ فرسائی کرے مگر ترقی پسندوں نے اجتماعیت کے نام پر انفرادی فکر اور تجربے کو نقصان پہنچایا اور جدیدیت والوں نے انفرادی احساس کے نام پر اجتماعی زندگی کے مسائل سے آنکھیں چرائیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ قدیم کہانیوں کی بازیافت ہونی چاہئے خواہ وہ موضوع کے اعتبار سے ہو یا اسلوب کے لحاظ سے مگر اس بازیافت کے عمل ہی میں معاصر مسائل درکنار نہ ہو جائیں، اس بات کا خیال ہمارے ادیبوں کے لیے ضروری ہے۔انتظار حسین کے افسانوں کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ انھوں نے افسانوں میں مافوق الفطری عناصر، اساطیر کی جڑیں اور داستانوں کی دوسری خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ انتظار حسین نے قدیم کہانیوں سے ضرور استفادہ کیا اور افسانے کو ایک الگ مقام تک لے گئے مگر انھوں نے کہیں نہ کہیں معاصر مسائل کی پیش کش میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔چند کہانیاں ضرور ہیں جن میں زندگی کے معاصر مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور علامت کے طور پر جانوروں اور اساطیر کی مدد لی گئی ہے۔ اساطیری علامتوں کا استعمال بے جا بھی نہیں ہے۔ مگر ترقی پسندوں کو جس طرح بعد میں نظرانداز کرنے کی کوشش کی گئی وہ اس لیے مناسب نہیں کہ ان کا اسلوب خواں جو بھی رہا ہو، انھوں نے عصری مسائل کو محور ومرکز کرفن پارہ تخلیق کیا۔ چندایک تخلیقات کو بعض ترقی پسندوں نے جس طرح پیش کیا، اس پر اعتراض تو جائز ہے مگر ان چند تخلیقات کے پس پردہ ترقی پسند تحریک کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انتظار حسین نے قدیم کہانیوں کے ساتھ ذاتی تجربے کو تخلیق کار اور قاری دونوں کے لیے اہم بتایا ہے، ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ جب ترقی پسندوں نے اپنے ذاتی تجربات کو تخلیقیت کا جامہ پہنایا تو بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔ یہ ٹھیک ہے مصنف اور قاری دونوں کو جدید علوم اور قدیم تہذیب سے واقف ہونا چاہئے۔ مصنف کا تخیل اور اس کا علم جتنا اعلیٰ درجے کا ہوگا، فن پارے کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا پھر مصنف کا ذاتی اسلوب کسی فن پارے کو اچھوتا بنادیتا ہے۔ انتظار حسین کا خیال ہے کہ جو علم تجربات پر مبنی ہوتی ہے، اس میں پائیداری ہوتی ہے۔ انھوں نے نظیراکبرآبادی، محمد حسن عسکری اور ممتاز حسین جیسے ادیبوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لوگ کم پڑے لکھے ہونے کے باوجود اپنی بصیرت افروزی سے ایسی تخلیقات پیش کیں جس سے بیشتر لوگ مسحور ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔تعلیم یافتہ وہ سند یا فتہ نوجوان ہے، جس نے جیمز جینز کی جملہ تصانیف پڑھی ہیں مگر آسمان پر کھلے ہوئے تاروں کو دیکھ کر یہ نہیں بتاسکتا کہ مشتری کون سا ستارہ ہے یا تعلیم یافتہ وہ ان پڑھ دہقان ہے جو تاروں کو دیکھ کر یہ بتاسکتا ہے کہ کتنی رات ہوگئی ہے۔جس زمانے میں تاروں کو دیکھ کر زمین کی سمت اور رات کا سمے معلوم کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں سفر شاید تعلیم کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ الف لیلہ کے شہزادے اور سوداگرزادے اس حقیقت کے گواہ ہیں، وقت سفر وہ ذہنی طور پر کتنے ناپختہ ہوتے تھے مگر سفر میں نت نئے جوکھموں اور لگاتار جسمانی اور روحانی وارداتوں سے گزرنے کے بعد وہ کیا ہے کیا بن جاتے ہیں پھر وہ حکمت کی باتیں کرتے ہیں اور انجانی سرزمینوں کے سراغ اور کائنات کے چھپے ہوئے راز بتاتے ہیں۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:13(
علم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، علم سیکھنے کے بھی الگ الگ مدارج میں، انتظار حسین بھی سکھنے اور سکھانے کے عمل کو غلط نہیں بتاتے مگر ان کا زور تجربے پر ہے، وہ بھی انسان کے ذاتی تجربے پر تعلیمی نفسیات میں بچوں کی تربیت کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جسے Learning by do )کرکے کے سیکھنا یا سیکھ کر کرنا)۔ دراصل اس اصطلاح کا مقصد بچوں کے اندر ان جذبات اور اس لیاقت کو پیدا کرنا ہے تاکہ بچہ اسے خود کرسکے۔ اس اصطلاح کا مقصد بھی بچوں کے اندر ذاتی تجربے کو فروغ دینا ہے۔ انتظار حسین کا خیال ہے کہ اگر تخلیق کار کا اپنا کوئی تجربہ نہ ہو اور وہ کسی اور کے تجربے کی بنیاد پر فن پارہ تخلیق کرے تو اس سے معیاری تخلیق وجود میں نہیں آتا۔ مصنف کو اپنے معاصر مسائل کے ساتھ ساتھ ماضی کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ انتظارحسین نے میر کا ایک مشہور شعر درج کیا ہے۔ وہ شعر ہے
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
اس شعر کی روشنی میں انتظارحسین لکھتے ہیں ’’اس شعر کی بنیاد جس تصور پر ہے، اس پر اب پورے سماج کو اعتبار نہیں رہا۔ اس کی جگہ نسائی حسن کا جو تصور درآمد ہوا ہے، اس میں ہم چوں کہ رچے بسے نہیں ہیں لہٰذا افسانہ نگار یا شاعروں نے اس کے گرد تشبیہوں، تلمیحوں اور استعاروں سے کہانیوں کا تانا نہیں بنا۔ انتظارحسین کا خیال ہے کہ مغرب سے آئی اصطلاحوں کو چوں کہ یہاں کے ادیب پوری طرح قبول نہیں کیا ہے، لہجہ، زبان اور اسلوب دونوں متاثر ہورہا ہے۔ ان کا مزید خیال ہے کہ افسانہ نگاروں کا اپنی تہذیب ہے، ایک مضبوط رشتہ ہونا چاہئے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’۔۔۔آج جو افسانہ نگار سچ مچ افسانہ لکھنا چاہتا ہے، اسے یہ حقیقت سمجھنے کے ساتھ ساتھ افسانے کی جڑیں اجتماعی تہذیب میں ہوتی ہیں، یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ تہذیبی سالمیت سلامت نہ رہے تو سچے افسانے کو قبول عالم کی سند حاصل نہیں ہوتی۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:20-21(
مضمون ’’اجتماعی تہذیب اور افسانہ‘‘ میں انتظارحسین کے مصنف اور تہذیب کے درمیان ایک رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے تخلیق کاروں کے لیے ذاتی تجربے کو بے حد اہم اور ضروری قرار دیا ہے۔
افسانوں کی تنقید پر انتظار حسین کا ایک مضمون ’’نیا ادب اور پرانی کہانیاں‘‘ ہے۔ اس مضمون میں انتظار حسین نے اس مضمون میں دوعہد یعنی آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد کی کہانیوں کو محورومرکز بنایا ہے۔ انتظارحسین نے ہجرت کو جس طرح پیش کیا ہے، اس افاسنہ کے گمان ہوتا ہے۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ تقسیم اور ہجرت کو بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارا لباس، ہماری گفتگو، ہمارے ادب آداب ضرور بدلے تھے۔ ہمارے خیالات اور نظریات بھی بہت دل گئے تھے مگر ہمارا بنیادی طرز احساس جوں کا توں تھا۔ اس داستان میں نقل وطن کرنے والے مہاجر کہلائے، جن شہروں میں وہ پہنچے وہاں کے لوگوں نے اپنے آپ کو انصار سمجھا۔ قدیم تاریخی اصطلاحوں کا یہ بے ساختہ استعمال اپنے ایک فعل کو ایک مخصوص معنی پہنانے کا عمل تھا۔ ہم گویا اپنے اس وقت کے عمل سے پیوند کرکے دیکھ رہے تھے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:24-25(
فسادات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ باوجود اس کے ہم اس درد اور کرب کو نہیں پہنچ سکتے، جس کا اس زمانے کے لوگوں نے محسوس کیا تھا۔ انتظارحسین نے اس قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اسے محسوس کیا تھالہٰذا اس فسادات کے متاثرین میں وہ بھی شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب انتظارحسین تقسیم ہند کے واقعات کو بیان کرتے ہیں تو اس میں ان کا ذاتی تجربہ بھی شامل ہو جاتا ہے اور ان واقعات کو پڑھتے ہوئے قاری پر رقت طاری ہو جاتا ہے۔ تقسیم ہند کا اثر آج بھی محسوس کیا جاسکتا ہے، اس تقسیم نے ہماری زندگی کو بالکل بدل دیا، کھان پان اور رہن سہن میں جو تبدیلی آئی وہ بھی واضح ہے مگر کچھ اگر نہیں بدلا تو وہ انسانی فکر تھی۔ انتظارحسین کے خاندان والوں نے ہجرت کی، ان مہاجرین میں انتظار حسین بھی شامل تھے۔ ایک شخص جس کو کسی بھی وجہ سے ایسی جگہ سے ہجرت کرنی پڑے جہاں اس نے بچپن اور جوانی کے دن گزارے ہوں، تکلیف دیتا ہے، اس اقتباس سے اس جانب بھی اشارہ ملتا ہے۔ انتظار حسین ایک تخلیق کار ہیں لہٰذا ان کا حس زیادہ بیدار ہے۔ انھوں نے تقسیم ہند کے بعد ادیب اور ادب پر ایک بھی گفتگو کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تقسیم کے آس پاس پیدا ہونے والی پہلی کھیپ سے ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی شہرت بخاری اور سلیم احمد برآمد ہوئے۔ ان سبھی شعرا کا تعلق موجودہ پاکستان سے ہے۔ انتظارحسین نے ہندوستانی شعرا اور ادبا کا ذکر نہیں کیاہے اور بس یہ لکھ دیا ہے کہ ’’سرحد کے ادھر کی نگارشات اس وقت میرے پیش نظرنہیں ہیں۔‘‘ حالاں کہ انھوں نے بنگلور سے شائع ہونے والے جریدے ’’سوغات‘‘ کا ذکر ضرور کیا ہے، جس میں نئی نسل کو ترجیح کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا۔ انتظارحسین نے ہندوستانی ادیب وشاعر کا ذکر کیوں نہیں کیا، وہ سمجھ سے پرے ہے کیوں کہ انتظار حسین جیسے ادیب جن کو کئی زبانوں اور وہاں کے ادب پر دسترس حاصل ہے، انھیں اپنے پڑوسی ملک ہندوستان کی ادبی سرگرمی کا اندازہ نہ ہو یہ ناقابل یقین ہے۔ عین ممکن ہے انھوں نے دانستہ طور پر ہندوستانی ادیب کا ذکر نہیں کیا ہو۔انتظارحسین نے جدید افسانہ اور افسانہ کے وجود میں آنے کے اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’توگویا نئے لکھنے والے اپنی کھوئی ہوئی روح کو ڈھونڈتے ہیں۔ قدیم اصناف سخن، متروک الفاظ، گمشدہ لہجے، روکے ہوئے اسالیب بیان۔ یہ سارا کھڑاک اس لیے پھیلایا گیا ہے کہ کوئی شے گم ہوگئی ہے اور اسے ڈھونڈا جارہا ہے۔ کچھ کھوجانے اور اس کی وجہ سے غریب ہوجانے اور ادھورا رہ جانے کا احساس شاید آج کی غزل کا بنیادی احساس ہے۔ اس احساس نے غزل میں تو بالعموم عشق کے اشعاروں میں اظہار کیا ہے مگر نظم اور افسانے میں عشق کے سوا بھی استعارے استعمال ہوئے ہیں اور بات تاریخ اور دیومالا تک گئی ہے، سن ستاون، الجزائر، قدیم ہند کے قصص وروایات گویا ان نشانات سے اپنے آپ کو پانے کی مختلف زبانوں اور زمینوں میں اپنے رشتے تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:28-29(
انتظار حسین کا یہ اقتباس پورے جدید ادیب کے مجموعی صورت کو بیان کرتا ہے۔ انتظارحسین کے اس اقتباس سے ایک اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ وہ افسانوں کے لیے بھی استعاروں اور علامتوں کے استعمال کو غلط نہیں مانتے تھے بلکہ اسے ضروری سمجھتے تھے۔ انتظارحسین کو نئے لکھنے والوں سے ایک شکایت ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک ماضی کا کوئی واضح اور متعین رشتہ نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’آج کے لکھنے والوں کے لیے ماضی کوئی واضح اور متعین رشتہ نہیں رہا ہے بلکہ رشتوں کا ایک گچھا ہے جس کے مختلف سرے ان کے ہاتھ میں آکر پھیل جاتے ہیں اور ان رشتوں کی صداقت پر بھی انھیں ایسا یقین نہیں ہے۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:34(
انتظارحسین کا ایک مضمون ’’افسانہ میں چوتھا کھونٹ‘‘ ہے جو ان کی کتاب ’’علامتوں کا زوال‘‘ میں شامل ہے۔ اس مضمون کا آغاز ہی اس گلے سے ہوتا ہے کہ ’’افسانے کی اس ساری بحث میں مجھے تو بس ایک بات پوچھنی ہے کہ یہ افسانہ ہوتا کیا ہے؟‘‘ افسانے کی تعریف اور تاریخ کے حوالے سے متعدد کتابیں اور سینکڑوں تنقیدی مضامین شائع ہوچکے ہیں، جن میں افسانے کی تعریف اور اس کے فنی لوازمات کا ذکر ملتا ہے۔ سیدوقار عظیم غالباً پہلے ناقد ہیں جنھوں نے ’’فن افسانہ نگاری ‘‘ کے نام افسانے کی تنقید لکھی۔ انتظارحسین نے ان تمام اہم کتابوں کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا اور افسانے کے تعلق سے ان کا اپنا بھی نظریہ ہوگا۔ سید وقار عظیم نے افسانے کی تعریف کرتے ہوئے جن نکات کی طرف افسانہ نگار کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے، ان میں وحدت تاثر کو کافی اہمیت دی ہے۔ یعنی جس شکل میں واقعہ افسانہ نگار کے ذہن میں آیا اسی شکل میں وہ قاری کے اذہان تک پہنچے، اس طرف افسانہ نگاروں کو توجہ دینی چاہئے۔ اگر کوئی افسانہ نگار وحدت تاثر کو اہمیت دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے، جسے اپنے فن پارے کو تشبیہ واستعارے سے بچانا ہوگا، ظاہرہے یہ باتیں جدیدیت نظیرے کے بالکل مخالف ہے لہٰذا اس پر ردعمل کا ہونا بھی ضروری تھا۔ انتظار حسین ترقی پسند افسانوں کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’اس عہد (ترقی پسند تحری) کے نقادوں نے ہمیں بتایا کہ سماجی اور معاشی حقیقت ہی پوری حقیقت ہے جو نظرآتا ہے، وہی کچھ ہے جو نظرآتا، وہ محض وہم ہے ، تیسری دہائی کا نیا افسانہ اس تصور حقیقت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ سماجی حقیقت نگاری اس کا اسلوب ہے۔ یہ افسانہ بے شک اپنے عہد کا افسانہ تھا، وہ زمانہ جب ذہنی اضمحلال اور سلب عمل نے تخیل کو زیادہ زرخیز بنادیا تھا۔ یہ تخیل اضمحلال اور سیاسی بیداری کا زمانہ تھا، اس زمانے میں یہ نیا افسانہ خوب ہٹ ہوا۔‘‘ (علامتوں کا زوال، صفحہ:130-131(
ترقی پسندوں نے جوادب تخلیق کیا اس کا سب سے بڑا فائدہ تو وہی سیاسی اور سماجی طریقے سے ہمیں حاصل ہوا، جس کی طرف انتظارحسین نے اشارہ کیا ہے، ہرادیب اور تحریک کے اپنے کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ اس ظلم وزیادتی اور غلامی جو اس زمانے میں عام تھا کہ خلاف آواز بلند کی وہ اشتراکی نظام قائم کرنا چاہتے تھے تاکہ غریبی اور امیری کے فرق کو ختم کیا جاسکے حالاں کہ یہ Prachich نہیں تھا۔ انتظارحسین نے ترقی پسند افسانہ کو ایک ایسی فلم سے تشبیہ دیا ہے جو اپنے وقت کی مشہور اور ہٹ فلم ’’پکار‘‘ سے کیاہے۔ انھوں نے ایک واقعہ درج کیا ہے کہ فلم ’’پکار‘‘ انھیں بے حد پسند تھی مگر بعد کے دنوں میں جب انھوں نے اس فلم کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیکھا تو بچوں نے تو خیرپسند کیا نہیں خود انھیں بھی فلم پہلے کی طرح اچھی نہیں لگی۔ یہ ٹھیک ہے کہ کچھ افسانوں کے متن ایسے ہیں جو ایک وقت میں کافی پسند کیے گئے مگر وقت کی گرد اس پر ایسی جمی کے بعد کو پڑھنے والوں کی نظر میں وہ توجہ نہیں قائم کرسکے۔ مگر ایک اہم بات ہے اگر انتظارحسین اس اقتباس سے ترقی پسند افسانوں پر طنز کرنا چاہئے، میں تو ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے، منٹو، عصمت اور بیدی کے کئی افسانے ایسے ہیں جن کی اہمیت اور معنویت آج بھی برقرار ہے۔ انتظارحسین نے درست لکھا ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی چار دہائیوں کے افسانوں کا مزاج الگ ہے۔ اس زمانے میں ایک خاص نقطہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے افسانہ تخلیق کیا گیا۔ انتظار حسین لکھتے ہیں:
’’اردو کے نئے افسانے کی کہانی بھی مجھے کچھ اسی قسم کی نظر آتی ہے، اس صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں اردو افسانہ میں کھونٹ بھرتا رہا ہے اور ترقی پسند تحریک کی ہدایت ہی یہ تھی۔ کسی نے اگر بے راہ روی اختیار کی بھی مثلاً اگر کسی نے جدید نفسیات کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر یہ جھانکنے کی کوشش کی کہ اندر کیا ہورہا ہے تو مارکسی نقادوں نے فوراً ٹوک دیا کہ بری بات۔ سوایک ڈیڑھ استثنا سے قطع نظر افسانہ نگاروں کے چال چلن بالعموم درست رہا۔ مگر پانچویں دہائی میں نئے آنے والوں میں کچھ بے چینی کے آثار پیدا ہوئے۔ دہائی کے ختم ہوتے ہوتے انھوں نے سرکشی اختیار کی اور اس کے بعد تو اﷲ دے اور بندہ لے۔ بزرگوں نے افسانہ لکھنے کے جو جو نسخے بتائے تھے، انھوں نے ان سب کو طاق میں رکھا اور دوسری ہی طرح کا افسانہ لکھنے کی کوششیں ہونے لگیں۔ اس افسانے کو آپ علامتی کہیں، تجریدی کہیں۔ میں یوں کہوں گا کہ ہمارا افسانہ چوتھی کھونٹ میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘
)افسانہ میں چوتھی کھونٹ، علامتوں کا زوال،صفحہ:132-133(
یہ سچ ہے کہ ترقی پسند تحریک کو جن مقاصد کے حصولیابی کے لیے وقف کیا تھا بعدمیں چند شدت پسند ادیب وناقد کے رویے کی وجہ سے اسے اچھا خاصہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ادیب کی آزادی بالکل صلب کرلی گئی تھی اور ان سے بار بار یہ اصرار کیا جاتا تھا کہ انھیں اپنے مقصد کے لیے انھیں راستوں پر چلنا ہوگا جو ترقی پسند تحریک کے لیے وقف کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے سب سے پہلے متنفر ہمارے دو اہم شاعر ن.م.راشد اور میرا جی ہوئے۔ انھوں نے اس تحریک کے خلاف ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔ فکشن میں ترقی پسند نظریے سے اختلاف بعد میں سامنے آیا۔ انتظار حسین نے اس اقتباس انھیں انھیں ادیب کی طرف اشارہ کیا ہے جو ترقی پسند تحریک سے تھک گئے تھے۔ جبرایک ایسی بلا ہے جو اکثر بغاوت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ زندگی کے تمام معاملات کی طرف ادب بھی اس جبر سے الگ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے بعض لوگ بدظن ہوگئے حالاں کہ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو تحریک کی اہمیت سے انکار کرتا ہو۔ ترقی پسند مخالفین بھی دراصل ادیبوں پر جبر کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ اوپر اقتباس میں ایک جملہ استعمال ہوا ہے ’’چوتھی کھونٹ‘‘۔ دراصل یہ ایک بہت پرانی کہانی ہے جس میں بادشاہ کے چار بیٹے تھے۔ بادشاہ نے پانچوں بچوں کو تیر، تلوار اور دوسری چیزوں کی اچھی تعلیم دلائی جب وہ فن میں ماہر ہوگئے تو بادشاہ نے پانچوں کو شکار پر بھیجا تاکہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرسکیں مگر ایک تاکید بھی کی کہ دیکھو تین کھونٹ سے آگے مت جانا۔ جب پانچوں شہزادے شکار پر گئے تو چار نے والد کے حکم کے مطابق تین کھونٹ تک گئے اور لوٹ آئے مگر پانچواں شہزادہ اس کھونٹ سے آگے نکل گیا اور کئی قسم کے مصائب سے دوچار ہوا۔ انتظارحسین نے جدیدیت نظریے والوں کو اسی پانچویں شہزادے سے تشبیہ دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جدیدیت والوں نے ترقی پسند کے مروجہ اصولوں کی پابندی کے بجائے کھلے آسمان میں سانس لینا قبول کیا یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں ان ادیبوں پر تنقیدی ظلم بھی ہوئے۔ انتظارحسین لکھتے ہیں:
’’اصل میں منطقی ذہن رکھنے والوں نے افسانے کی مختلف اصناف کی، جو جو تعریفیں وضع کی تھیں، جو جو سانچیں مقرر کیے تھے، جو جو ضابطے نافذ کیے تھے، وہ سب بیسویں صدی کے فکشن نگاروں کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ گئے۔ تین کھونٹ انیسویں صدی تک تھے۔ بیسویں صدی میں فکشن چوتھے کھونٹ میں داخل ہوتا ہے۔ اردو افسانہ بیسویں صدی کے بیچ انیسویں صدی کو اپنے سینے سے لگائے رہا اور اپنے آپ کو نیا سمجھتا رہا۔‘‘
)علامتوں کا زوال، صفحہ:133(
یہ اقتباس ایک جدید افسانہ نگار اور ناقد کی ہے اور ترقی پسند تحریک سے متعلق یہی رویہ تقریباً تمام جدیدیت والوں نے اختیار کررکھا ہے۔ ترقی پسندوں نے کبھی بھی خود کو جدید نہیں کہا بلکہ انھوں نے معاصر مسائل کو موضوع بنایا، کہانیوں کی روایت کے لحاظ سے ممکن ہے۔ بعض ترقی پسند افسانہ فرسودہ ہو مگر صنف کے اعتبار سے اس کا وجود ہی بیسویں صدی میں ہوا ہے اور ایک اہم بات جب نظریاتی ادب نہیں لکھا جاسکتا تو بھلا نظریاتی تنقید کے کیا مطلب ہیں۔ ادب کی پرکھ ادبی اصولوں پر کی جانی چاہئے نہ کہ نظریاتی بنیادوں پر۔ اس اقتباس میں انتظار حسین نے جس طرح جدید افسانہ کے وجود میں آنے کی بات کی ہے وہ یقیناًایک خوبصورت پیرایہ کہلائے گا۔ انتظارحسین کا خیال ہے کہ ’’آج کا افسانہ (جدیدیت) علامتی اور تجریدی بن کر روایتی افسانے کے تصور کے خلاف لڑرہا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ جدید افسانہ اس تصور حقیقت کے خلاف ہے جس نے افسانے کے اس اسلوب کو جنم دیا تھا۔ انتظارحسین نے اپنے اس مضمون میں ناول کے حوالے سے کچھ گفتگو کی ہے مگر میرا موضوع اس پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اس میں کچھ نیاپن ہے۔ دوسرے لفظوں میں جن خیالات کا اظہار انھوں نے قدیم وجدید افسانے کے متعلق کیا ہے، ناول کے حوالے سے بھی ان کا نظریہ ویسا ہی ہے۔
مضمون ’’افسانہ میں چوتھی کھونٹ‘‘ انتظار حسین کے مجموعہ مضامین میں شامل ہے گرچہ اس کتاب کی اشاعت 2011 درج ہے مگر مذکورہ مضمون کے اختتام پر 1980درج ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ 1980 میں لکھا گیا ہوگا۔
انتظار حسین کا مضمون ’’درخت افسانے ‘‘رسالہ ’شب خون‘میں جون 1972میں شائع ہوا تھا ۔یہ ایک مختصر مضمون ہے،جس میں افسانے کی خوبی موجودہے ۔انتظار حسین نے اپنے مضمون کاآغاز افسانے کے مستقبل سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’افسانے کا مستقبل تاریک ہے اس لیے کہ دنیا درختوں سے خالی ہورہی ہے اور آدمیوں سے بھرتی چلی جارہی ہے ۔ایسی دنیا میں جہاں آدمی ہی آدمی ہوں صحافت پیدا ہوسکتی ہے ،شاعری اور افسانہ پیدا نہیں ہوسکتے ۔ صحافت خالص انسانی ذریعۂ اظہار ہے ۔شاعری اور افسانہ خالص انسانی ذریعۂ اظہار نہیں ۔‘‘ )درخت اور افسانے(
افسانے کے متعلق انتظار حسین کی یہ ناامیدی آخر کیوں ہے؟دراصل زمانے کے جس دور سے ہم گزرہے ہیں وہ برق کی رفتار سے سائنس اور ٹکنالوجی سے قریب ہوتا جارہا ہے انسان کی زندگی اس مشین کی طرح ہوگئی ہے جس سے مسلسل کام لیا جارہا ہو ۔ہمیں فرصت کے چند لمحات بھی میسر نہیں آتے اس صورت حال سے گزرتا ہوا انسان سکون کے ایک ایک پل کے لئے ترس گیا ہے ۔کہانی اور قصے کے لیے جو وقت درکار ہے اس کے پاس وہ وقت نہیں۔ دوسری اہم بات کے ہمارے معاصر افسانہ نگار افسانے کے فنی لوازمات کاخیال کیے بغیر جس طرز پر افسانہ لکھ رہے ہیں اسے فنی اصولوں پر پرکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ یہ افسانہ ہرگز نہیں۔انتظار حسین نے راجہ بکرم اور بھوت بیتال کی اس کہانی کو جسے ہم نے اپنی ماں اور دادی وغیرہ سے بچپن میں سنا تھا پیش کیا ہے۔نئی نسل کے بچے ان کہانیوں سے نہ واقف ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ اس کی جگہ ٹیلی ویژن پر کارٹون اور سیریل نے ہمارے گھروں میں جگہ بنالی ہے۔اب نہ ماں باپ کے پاس وقت رہا اور نہ ہی بچوں کو ان کہانیوں میں کوئی دلچسپی رہی،نئی نسل کے بچوں نے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کو اپنی دنیابنالیا ہے۔اس کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارے معاشرے کی بدلتی تصویر ہے۔انتظار حسین نے اس مضمون میں بکرم اور بیتال کو ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جب راجا بکرما جیت بیچ میں بول پڑا اور بیتال واپس درخت پر جالٹکا تو حقیقت نگاری والا افسانہ پیدا ہوا۔ سماجی اصلاح، سیاسی صورت حال کی عکاسی، کمٹ منٹ انقلاب۔۔۔یہ راجہ بکرم کی دخل در معقولات ہے یا ڈی ایچ لارنس کے لفظوں میں خیالات وافکار کی ردی کی ٹوکری ہے کہ ہم نے اپنے سروں پر اٹھا رکھی ہے اور یہ خبر ہی نہیں ہے کہ ہمارے اندر ایک جنگل سانس لے رہا ہے۔ کتھا سنانے والا بیتال واپس درخت پرجاٹنگا ہے۔ یہاں راجہ بکرم ردی کی ٹوکری سرپر سجائے اپنے خیالات عالیہ بیان کررہا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس بیان ہی کو کتھا سمجھا جائے۔ یہ کیسی کتھا ہے کہ جس میں آدمی کائنات سے بچھڑا ہوا ہے اور اپنی ردی کی ٹوکری کو کائنات سمجھ رہا ہے۔ حقیقت نگاری کی روایت میں لکھے ہوئے افسانوں کو پڑھ جائیے پھر ان افسانوں کو بھی پڑھ دیکھئے جو حقیقت نگاری کے ردعمل میں لکھے گئے۔ بیتال نہ یہاں بولتا دکھائی دیتا ہے نہ وہاں۔ دونو ں جگہ راجہ بکرم اپنے فاضلانہ خیالات اگل رہا ہے۔ کبھی سماجی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، کبھی انقلاب کا نعرہ لگاتا ہے، کبھی رجائیت کا پیغام دیتا ہے، کبھی کمٹمنٹ کمٹمنٹ چلاتا ہے۔ یہ کیا افسانے ہیں اور کیسی دنیا ہے جہاں انسانی چہرے ہی انسانی چہرے دکھائی دیتے ہیں، باقی کائنات اپنے درختوں، درندوں اور سایوں کے ساتھ کہاں گم ہوگئی۔‘‘
انتظار حسین بار بار انسان اور جنگل کے رشتے کو واضح کرتے ہیں۔قدرت سے دوری نے کئی مسائل پیدا کئے ہیں ان میں سے ایک گلوبل وارمنگ بھی ہے۔یہ جس طرح پوری دنیا کے سامنے ایک چیلنج بن کے کھڑا ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ زمین کے بڑے حصے کو نگل رہا ہے اس سے ہر کوئی جلد سے جلد نجات چاہتا ہے۔انتظار حسین نے واضح طور پر اس جانب کوئی اشارہ تو نہیں کیا ہے مگر ان کے اقتباس سے اس جانب اشارہ ملتا ہے۔اس بات سے سائنس داں بھی متفق ہیں کہ گلوبل وارمنگ کی اصل وجہ انسانی آبادی کا بڑھنا اور وافر مقدار میں پیڑ پودوں کا نہ ہونا ہے،لہذا انتظار حسین کے اقتباس کو اسی خاص تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انتظار حسین پرانی کہانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اض کی کہانیوں میں پرن کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی جنگل کی وہ صعوبتیں ملتی ہیں جن سے پرانے کہانیوں کے ہیرو کا سامنا ہوا کرتا تھا۔انتظار حسین آج کی کہانیوں میں بھی ان ہی پیڑ پودے ،ہریالی جنگلی جانور وغیرہ کی تلاش کرتے ہیں جو ہمارے داستانوں میں پوئی جاتی تھیں۔
انتظار حسین نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ معاصر افسانوں کے معیار پر بھی گفتگو کی ہے۔اس گفتگو میں انہوں نے جن بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔انتظار حسین ترقی پسند اور جدید افسانے سے متعلق لکھتے ہیں :
’’حقیقت نگاری کی روایت میں لکھے ہوئے افسانوں کو پڑھ جائیے پھر ان افسانوں کو بھی پڑھ کر دیکھئے جو حقیقت نگاری کے رد عمل میں لکھ گئے۔ بیتال نہ یہاں بولتادکھائی دیتا ہے نہ وہاں ۔دونوں راجہ بکرم اپنے فاضلانہ خیالات اگل رہا ہے ۔کبھی سماجی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے ۔کبھی انقلاب کانعرہ لگاتا ہے ،کبھی رجائیت کا پیغام دیتا ہے ،کبھی گومٹ چلاتا ہے ۔یہ کیا افسانے ہیں اور کیسی دنیا ہے جہاں انسانی چہرے ہی انسانی چہرے دکھائی دیتے ہیں ۔باقی کائنات اپنے درختوں ،درندوں اور سایوں کے ساتھ کہاں گم ہوگئی ۔‘‘ )درخت اور افسانے(
انتظار حسین کے مذکورہ اقتباس سے افسانوں کے متعلق ان کے خیالات سے آگہی حاصل کی جاسکتی ہے ،وہ افسانوں سے نہ اصلاح کاکام لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی رجعت پسندی کو افسانوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔انتظار حسین کے نزدیک بہترین افسانہ وہ ہے جس میں ادبیت ہو۔ان کے مطابق افسانہ نگار کا کام بس کمینٹری کرنا ہے کرداروں کو مشورہ دینا یااس سے اپنی خواہش کے مطابق کام لینا نہیں ۔
انتظار حسین کے تنقیدی مضامین کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ وہ انسان اور قدرتی وسائل کے درمیان کے رشتے کو افسانے کے لیے اہم بتاتے ہیں۔انتظار حسین کی تنقید کی خوبی یہ بھی ہے کہ جدید افسانہ نگار خود نئے افسانے کے تعلق سے کیا سوچتا ہے اس کی وضاحت ہوجاتی ہے۔بلکہ یہ مضامین جدیدیت کی تفہیم میں بھی کافی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

