Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن تنقید

وارث علوی کی فکشن تنقید : جدید افسانہ اور اُس کے مسائل ‘‘کے حوالے سے – محمد شفیع گنائی

by adbimiras جولائی 30, 2021
by adbimiras جولائی 30, 2021 1 comment

اُردو میں فکشن کی تنقیدکے حوالے سے ابھی زیادہ نہیں لکھا گیا ہے ۔ اگرچہ جدید ناقدین نے اس جانب توجہ ضرور کی ہے مگر یہاں ابھی بھی ایسے پہلو پِنہاں ہیں جن پر روشنی ڈالنا باقی ہے۔چند معروف جدید فکشن ناقدین میں شمس الرحمٰن فاروقی، سلیم احمد، گوپی چند نارنگ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ان ہی ناموں میں وارث علوی ایک اہم مقام رکھتے ہیں ۔وارث علوی بنیادی طور پر فکشن کے نقاد ہیں ۔انہوں نے جس گیرائی اور گہرائی سے فکشن پر اپنا قلم اٹھایا ہے اس کی نظیر کم ملتی ہے۔انھیں مشرقی فکشن تنقید کے علاوہ انگریزی، فرانیسی اورروسی ادب کی فکشن تنقید میں بھی کافی مہارت حاصل تھی۔وہ مغربی فکشن کے تنقیدی اصولوں کا بہت علم رکھتے تھے۔انہی اصولوں کی مدد سے انھوں نے مشرقی فکشن پر نظری اور عملی تنقید کی ہے۔ان کے مطالعے میں مشرق و مغرب کے اعلیٰ ترین ناقدین کا اہم رول رہا ہے ۔

وارث علوی نے فکشن کی تنقید میں ناول اور افسانے کی ساخت اور تکنیک کا بہت گہرا مطالعہ کیا تھا۔فکشن کی تنقید میں وارث علوی کی انفرادیت ان کے منفرد اسلوب اور یگانہ لب و لہجہ کے بر ملا اظہار میں ہے ۔فکشن تنقید کا میدان اگرچہ باقی دیگر اصناف کے مقابلے میں بہت کم آباد ہے لیکن وارث علوی جیسے نقاد نے اپنی کاوشوں سے بہت حد تک اس میدان کو نئی زندگی بخشی ہے ۔انہوں نے مختلف افسانہ نگاروں کے افسانوی فن پاروں پر بھی تنقیدی مضامین لکھے ہیںاوراردو ادب کے بہت سے افسانوں کے لا جواب تنقیدی جائزے بھی پیش کیے ہیں۔۔تنقید کے متعلق ان کا نظریہ بہت واضح ہے کہ وہ تنقید میں بے جا تعریف ،استہزا یا مشکل عبارت کے قائل نہیں ہیں۔وہ فن پارے کا پہلے اچھے سے دو تین مرتبہ مطالعہ کرتے ہیں ،پھر اس سے چیدہ چیدہ اقتباسات نوٹ کرتے ہیں تب جا کر اس کادیانت داری سے جائزہ لیتے ہیں ۔ بقول بیگ احساس :

’’ وارث علوی نے فکشن کا بہت ڈوب کر مطالعہ کیا ۔فکشن کی تنقید میں ان کی ہمسری بہت کم نقاد کرتے ہیں ۔اردو ناول اور افسانے پر ان کی گہری نظر ہے ۔‘‘  ۱؎

وارث علوی کے افسانوی تنقید کے حوالے سے اگر ہم بات کریں تو اس ضمن میں ان کی اہم اور مشہور کتابوں کا کافی ذخیرہ موجود ہیں جن میں ’’جدید افسانہ اور اس کے مسائل‘‘ اور’’فکشن کی تنقید کا المیہ ‘‘کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔یہ ذخیرہ فکشن تنقید کا ایک انمول اور بے باک سرمایہ ہے ۔افسانہ کی تنقید پر ان کی سب سے اہم تصنیف ’’ جدید افسانہ اور اس کے مسائل ‘‘ ہیں جو پہلی مرتبہ ۱۹۹۰ میں مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،جامعہ نگر،نئی دہلی سے شائع ہوئی۔یہ وہ دور تھا جب جدید افسانے کے موضوعات اور اسالیب پر بحث کا سلسلہ جاری تھا ۔روایتی اور فیشن پرستانہ اپنی عزت کھو چکی تھی اور اب جدیدیت اپنی آنکھیں کھول رہی تھی ۔نئے افسانہ میں پیچیدہ ،گنجلک،ابہام ،تجریدی اور علامتی استعاروں کی کثرت استعمال کے باعث قارئین اور ادب میں ایک طرح کی دوری بڑھ رہی تھی۔نقاد اپنی بات رکھنے اور منوانے میں مست تھے۔وارث علوی کی یہ کتاب اسی ماحول میں منظر ِ عام پر آئی ۔اس کتاب میں انہوں نے جدید افسانہ کے تمام پہلوئوں کا بغور تنقیدی جائزہ لیا ۔اسی لیے وہ لکھتے ہیں ۔

’’جدید افسانہ اس کھلنڈے پن اور طراری سے محروم ہے جو نوجوانوں کی بغاوت کو رنگ و آہنگ بخشتی ہے۔ہم سے نہ ’’بو‘‘ لکھا گیا ،نہ ’’لحاف ‘‘ ۔‘‘    ۲؎

وارث علوی نے اس کتاب میں جدید افسانہ اور اس کے مسائل پر جس گہرائی کے ساتھ تنقیدی بحث کی ہے اس کا اندازہ اس کتاب کے مطالعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اس کتاب کے عنوانات کی فہرست یوں ہے:۔

۱۔ اجتہادات روایت کی روشنی میں

۲۔ جدید افسانہ کا اسلوب

۳۔ استعارہ اور نِرا لفظ

۴۔ افسانہ نگار اور قاری

وارث علوی اس کتاب میں شامل مضمون ’’جدید افسانہ کا اسلوب ‘‘ میں علامتی اور تجریدی افسانہ میں ’’ کہانی پن‘‘ کے متعلق بہت وضاحت سے پیش آتے ہیں ۔وہ جدید افسانہ میں نئے نئے اسلوبی تجربات کو اس لئے رد کرتے ہیں کہ اس سے نہ تو افسانہ میں ہیئت باقی رہتی ہے اور نہ تکنیک ۔جدید افسانہ نے داخلی اور خارجی دنیا سے اپنا ربط ختم کر دیا کیونکہ اس نے داستان اور حکایت کا جامہ پہن لیا۔جدید افسانے کا ہیرو خود افسانہ نگار ہے اور وہ تذبذب (confusion)کا شکار ہے ۔وارث علوی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہر ناول اور افسانہ کی اپنی ایک منفرد دنیا ہے ۔جدید افسانہ اسی انفرادیت سے محروم ہے۔ وہ جدید تمدن ،جدید شہر اور جدید انسان کا افسانہ نہیں رہا۔ ایک داستانی شہر اور داستانی فضا کا افسانہ بن گیا ہے ۔‘‘  ۳؎ (یہ بھی پڑھیں منٹو وارث علوی کی نظر میں – امتیاز احمد

وارث علوی کو ترقی پسند افسانہ میں سماجی کمٹ منٹ اور جدید افسانہ میں تجریدیت سے شکایت ہے۔ تجریدیت نے افسانے میں حقیقت نگاری کا عنصر ہی ختم کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جدید افسانہ میں زندگی کے بجائے شخصیت اور تکرار کی چھاپ نظر آتی ہے جو نثری پہنائیوں کے بجائے شاعرانہ اسلوب کو بہتر سمجھتا ہے ۔وارث علوی نے بڑی حد تک یہ کوشش کی ہے کہ روایتی افسانے کا بچاؤ کرے اور اسے جدید اور نئی طرز سے محفوظ رکھا جائے ۔وارث علوی کو علومتی افسانوں سے کوئی عداوت نہیں ہے لیکن انھیں جدید افسانہ نگاروں کے یہاں اچھے علامتی افسانے نظر نہیں آتے۔جب انھیں کہیں علامتی افسانہ نظر آتا ہے وہ اس کی بہت تعریف کرتے ہیں ۔اس کی مداح میں آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔خالدہ اصغر کے افسانہ ’’گاڑی ‘‘ اور غیاث احمد گدی کے افسانہ ’’ایک خون آشام صبح ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دونوں افسانے علامتی ہیں ۔لیکن دونوں کا طریقہ کار اوراسلوب حقیقت پسندانہ ہے ۔لیکن سامنے کی حقیقت اور روز مرہ کے واقعات آہستہ آہستہ گہرے اور تاریک رنگ اختیار کرتے جاتے ہیں اور بالآ خر سامنے کی حقیقت ایک پر اسرار اور ہولناک وقوعہ میں بدل جاتی ہے اور اسی تبدیلی کے دوران افسانہ حقیقت پسندی کی سطح سے بلند ہو کر علامت پسندی کی فضاؤں میں داخل ہوتا ہے ۔‘‘   ۴؎

وارث علوی بلراجؔ منیرا ،انور سجاد ،سریندر پر کاش اور احمد ہمیش کے علاوہ اور بھی کئی نام گنواتے ہیں جن میں وہ افسانوی زبان کے ساتھ ساتھ اسلوب اور تخیل بھی دیکھتے ہیں ۔وہ انھیں افسانہ میں ایک معتبر مقام دلاتے ہیں ۔کہیں کہیں ان کی خامیاں بھی نمایاں کردیتے ہیں ۔وہ ایک بے باک اور خود دار نقاد تھے ۔کسی سے بھی ادب کے بارے میں سمجھوتہ کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔

کتاب کے تیسرے مضمون ’’استعارہ اور نِرا لفظ ‘‘ میں وارث علوی نے اس بات کی ترجمانی کی ہیں کہ جدید افسانہ نگاروں نے استعارے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ نِرا لفظ بے معنی اور بے سود ہوگیا ہے ۔ وارث علوی جدید افسانہ میں کہانی اور کرداروں کے برعکس اسطوری ،علامتی ،تجریدی،داستانوں اور حکایتی روپ پر تنقید کرتے ہیں ۔اصل میں اسطور سازی کردار نگاری ہی ہے اور ہر اچھا کردار کسی انسانی رویے ،صورتحال ،اخلاقی اور سماجی برتاؤ کی علامت ہوتا ہے ۔وارث علوی جدید افسانہ کے خلاف کیوں ہے اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

’’ میں علامتی ،تمثیلی اور تجریدی افسانہ کے خلاف نہیں تھا گو میں حقیقت پسند فکشن کا قاری تھا اور ہمیشہ کہتا رہا کہ حقیقت نگاری کے بغیر ناول اور افسانہ زندہ نہیںرہ سکتا۔‘‘۵؎

وارث علوی گوپی چند نارنگ کے لکھے گئے دلچسپ مضامین کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جو انہوں نے راجندر سنگھ بیدیؔ پر لکھے ہیں ۔وہ بیدی کے افسانوں میں استعاراتی اور اسطوری فضا کی چھاپ دیکھتے ہیں ۔وہ بیدی ؔ کے شہکار افسانے ’’ ایک چارد میلی سی ‘‘ ،گرہن ‘‘ ،’’ہولی‘‘،اور ’’اپنے دکھ مجھے دے دو ‘‘ میں اسطوری اسلوب کا استعمال زیادہ گہرا اور بہت پھیلا ہوا پاتے ہے ۔وارث علوی بیدیؔ کو حقیقت پسند افسانہ نگار کہتے ہیںاور ساتھ میں ہی کہتے ہیںکہ وہ ہندو تہذیب اور ہندو اساطیر میں بہت ڈوبا ہوا ہے ۔وارث علوی نے یہ بھی بتایا ہے کہ افسانہ محض علامتی نہیں بلکہ اس میں کردار کا المناک (tragedy) بھی شامل ہوتا ہے ۔

وارث علوی اس کتاب کے آ خری مضمون’’ افسانہ نگار اور قاری‘‘ میں ایک گلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ادب میں ہرقاری کو مصنف بننے کی خواہش ہے ۔اگر دیکھا جائے تو ایک خراب مصنف سے ایک اچھا قاری بہتر ہوتا ہے ۔ادب سے محبت کرنے والا قاری خود کو مسرت فراہم کرنا چاہتا ہے۔اس لئے وہ ادب کا مطالعہ کرتا ہے اور اپنے انتخاب شدہ ادب پارے میں بالکل آزاد ہوتا ہے ۔وہ ادب کے اصولوں اور قائدوں سے بالکل آزاد ہوتا ہے ۔وہ فکشن کے قارئین میںدن بہ دن کم ہونے کی وجہ جدیدافسانہ میں اسلوب ،موضوع اور تکنیک کے تجربات کو ٹھہراتے ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ جدید افسانے کا قاری اس دنیا میںاب نہیں رہتا ۔اس کا ذمہ دار وہ افسانہ نگاروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ایک جگہ لکھتے ہیں کہ :

’’ اردو ادب کا یہ قاری آج آہستہ آہستہ معدوم ہورہا ہے اور اسے ختم کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ جدید افسانے کا ہے ۔دنیا ئے افسانہ اس کے لئے اجنبی بن گئی ہے ۔افسانہ اس کی زندگی کا جزو نہیں رہا ۔‘‘   ۶؎ (یہ بھی پڑھیں آفتاب تنقید کی تخلیقی ضیا: وارث علوی – ڈاکٹرترنم ریاض )

وارث علوی نے ’’جدید افسانہ اور اس کے مسائل ‘‘ میں بالکل اختصارسے کام لیتے ہوئے جدید افسانے کی خامیوں،خوبیوں ،کمزوریوں، ضرورتوں،روایات،تقاضوںاور رویوں کا بھر پور احاطہ کیا ہے۔جدید افسانہ میں طرح طرح کے تجربات کئے گئے ۔چاہیے وہ موضوع کے اعتبار سے ہو ،اسلوب کے اعتبار سے ہو یا پھر فن و تکنیک کے اعتبار سے ہو ۔وارث علوی جدیدیت کے خلاف نہیں جاتے ہیں۔وہ جدیدافسانے کے نام پر شاعرانہ پن ،جذباتیت اور تکنیک کو نئے تجربات سے زیادہ افادیت نہیں دیتے ۔روایتی افسانہ اور ناول میں اگر چہ وہ تبدیلیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن افسانہ میں بنیادی چیز کہانی اور ترسیل ابلاغ سے انحراف نے افسانہ کے راستے محدود کر دئے ۔جدید افسانہ نگار تو یہاں تک کہتے تھے کہ نیا افسانہ جو کچھ ہے اسے قبول یا رد کرنا چائیے ۔وارث علوی کی جدید افسانے پر تنقید انہی میلان کی دین تھی۔ان کی نظریاتی مضامین میں جدیدیت کی طرف قبول اور رد دونوں طرح کا رویہ ملتا ہے ۔جدید افسانے میں نئے تجربات کو وہ کرتب بازی سے یاد کرتے ہیں۔ وارث علوی ہیئتی اور اسلوبیاتی تنقید کے خلاف نظر آتے ہیں ۔جدید افسانے کو انہوں نے مکمل رد کیا ہے اور اس سلسلے میں بہت سے مثبت دلائل پیش کیے ہیں ۔وہ کسی تحریک ،نظریہ اور کسی خاص تنقیدی مکتب کو قبول نہیں کرتے ۔وہ تنقید کو دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان کے خیال میں حقیقت نگاری اور علامت نگاری ایک ہی تخیل کے دو الگ الگ نام ہیں۔وہ جدید افسانے کی زبان کی شعریات پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔انھوں نے جدید افسانے کے موضوع ،ہئیت ،بیانیہ اور زبان و بیان پر شدید اختلافات کیے ہیں۔انہوں نے اس کے حوالے سے منٹو اور بیدی کے افسانوں کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔وارث علوی کو یہ شکایت ہے کہ ادب میں ہر قاری مصنف بننا چاہتا ہے جو ممکن تو نہیں ہے مگر وہ مشورہ دیتے ہیں کہ خراب مصنف بننے سے بہتر ہے کہ ایک ایسا اچھا قاری بنا جائے جس کا مطالعہ وسیع ہو اور عالمی ادب کے ان شاہکاروں سے سابقہ پڑا ہو جو علم میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ وارث علوی کی تنقید نگاری کی ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے تنقیدی مضامین میں بہت گہرائی اور وضاحت سے کام لیتے ہیں اور اکثر و بیشتر اصل موضوع وقتی طور پر حاشیے پر چلا جاتا ہے۔یہ بات ہمیں ان کی تصنیف ’’جدید افسانہ اور اس کے مسائل ‘‘ میں بھی نظر آتی ہے۔یہاں وارث علوی جدید افسانہ سے بجث کرتے ہوئے ناول کے میدان میں چلے جاتے ہیں اور پھر جسمیں جوئیں ، گبریلہار سیا ما رکیز اور ارنسٹ ہمین گو وغیرہ کی فکشن نگاری سے بھی تفصیلی بحث کرتے ہیں ۔   وارث علوی کا زیادہ تنقیدی کام فکشن اور فکشن نگاروں پر منحصر ہے جہاں پر وہ منٹو ؔ اور بیدیؔ کے شیدائی دکھائی دیتے ہیں ۔افسانوی تنقید کے حوالے سے ان کی کتابیں بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔

فکشن کی تنقید میں وارث علوی کو جو نمایاں مقام حاصل ہے اس کی وجہ افسانہ اور ناول کے فارم،موضوع اور مواد پر ان کے تنقیدی خیالات اور مشاہدات کا بے باک ،بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ و محاکمہ ہے ۔انہوں نے ایسے وقت میں افسانہ کی حمایت کی جب شمس الرحمن فاروقی اسے شاعری کے مقابلے میں کمزور اور ثانوی حیثیت دے رہے تھے۔وارث علوی نے کلاسیکی افسانوی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی پسند ،جدیدیت اورمابعد جدیدیت میں موجود کمزوریوں اور تبدیلیوں کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی فلاح و اصلاح کے لئے مغربی مصنّفین کے شاہکاروں سے حوالے دے کر اپنے تنقیدی نظریات کو ایک مضبوط اور توانا بنیاد بھی فراہم کی ہے ۔انہوں نے افسانہ میں کہانی کو لازم و ملزوم بتایا ہے ۔وہ افسانہ میں پلاٹ ،کردار ،تمثیل ، علامات، تکنیک، تھیم، امیج، استعارہ،مرقع سازی ،منظر نگاری ،ماحول ،تہذیب و تمدن،لب و لہجہ ، اسلوب ،طنز وظرافت ،المیہ ،طربیہ ،بیانیہ اور نفسیاتی و فلسفانہ ڈائمنشن اور پھر ان کے موضوعات کے بے شمار ذیلی مباحث اور نکات کو افسانہ کے لیے ایک لسانی ساخت قرار دیتے ہے جس میں زبان و بیان کی نوعیت کے ساتھ ساتھ اجزائے ترکیبی کا بھی اپنا مقام و مرتبہ ہے ۔انہوں نے جدید افسانہ کی مخالفت اس وجہ سے کی ہے کہ اس نے سماج ،ماحول ،کردار ،کہانی، واقعہ اور حقیقت نگاری سے علیحدگی اختیار کر کے سب کچھ کھو دیا ہے ۔وارث علوی کے خیال میں جدید افسانہ میں حقیقت نگاری ،کہانی اور پلاٹ سے جو انحراف کیا گیا ہے اب ان میں صرف بیانیہ ہی کی بدولت دلچسپی برقرار رکھی جاسکتی ہے ۔ورنہ تجریدیت ،علامت اور اسطوار سے جدید افسانہ شعریت کی طرف زیادہ مائل نظر آتا ہے۔علامتی آرٹ ،آرٹ کے مقابلے میں پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے ۔وارث علوی کے مطابق افسانے کی پہلی چیز افسانویت ہے۔افسانہ پڑھنے کی چیز ہے اور کلاسیکی افسانوں کو پڑھنے میں قاری کی دلچسپی بھی ہے اور لگاؤ بھی ۔جدید افسانوں کی تجریدیت ، علامت اور اسطور سازی سے قارئین کا ادب سے ایک طرح کا جو رشتہ بنا تھا وہ ٹوٹ گیاہے،جس کی وجہ سے وارث علوی جدید افسانہ کی گردن کا ٹنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اردو فکشن کو اپنا کھویا ہوا قاری واپس ملے ۔وہ جدید افسانے کا پورا بحران حقیقت نگاری کی ذمہ داریوں سے پہلو نہی کرنے کو سمجھتے ہیں۔افسانے کا میڈیم زبان ہے اسلئے اس کی تنقید کے لئے زبان و بیان کی نوعیت سے آگاہی ضروری ہے ۔انہوں نے تعبیراتی ،تشریحی اور ساختیاتی طریقہ تنقید کی مخالفت کی ہے جس سے افسانہ کی مصنوعی گہرائی اور حسن آفرینی آشکارا نہیں ہوتی ۔وارث علوی افسانہ کے لیے ’ کہانی پن‘ کو ضروری قرار دیتے  ہیں ۔انھوں نے کہانی کو پلاٹ پر ترجیع دی ہے کیونکہ کہانیوں سے تخیل اور دلچسپی برقرار رکھی جاسکتی ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ ہمارے دور میں کہانی پڑھنے کی چیز ہے اور اگر پڑھی جانے والی چیز سے آنکھیں روٹھ گئیں تو پھر غضب ہوجائے گا۔ جن مصنفین کے ہاں کہانیاں نہیں ملتی ان کے یہاں انشائیہ نگاری شاعرانہ پن ،جزباتیت اور پلاٹ کے داؤ پیچ ملتے ہیں ۔مجموعی طور پر وارث علوی کی فکشن تنقید کے حوالے سے اگر ہم بات کریں تو اس میدان میں ان کا گہرا مطالعہ ہے اور کافی سرمایہ بھی منظر عام پر آیا ہے ۔ان کی قابلیت اور صلاحیت کا یہ نتیجہ ہے کہ انہوں نے اردو فکشن کی تنقید کو جلا بخشی اور اس میں کافی سرمائے کا اضافہ بھی کیا ۔وارث علوی فکشن میں کلاسیکی روایات کے حامی تھے۔وہ فکشن میں کہانی ،پلاٹ ،کردار ، مکالمہ، بیانیہ اور منظر نگاری کو مقدم اور لازم رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ پریم چند ،منٹو ،بیدی ،احمد عباس اور عصمت چغتائی کے افسانوں کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں جنھوں نے افسانہ کے فنی لوازمات کا خیال رکھا ہے ۔وہ اپنی افسانوی تنقید میں بار بار ان قلم کاروں کو یاد کرتے ہیں اور ان کی جا بہ جا تعریف بھی کرتے ہیں۔وارث علوی نے’’ جدید افسانہ اور اس کے مسائل‘‘ میں فکشن ،موضوع ،مواد اور ہیئت پر تفصیلی تنقیدی بحث کی ہے ،جو ان کی قابلِ قبول خدمات ہیں۔ اردو فکشن میں یہ رہنما بہت دیر تک یاد رکھا جائے گا ۔ ( یہ بھی پڑھیں فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی – ڈاکٹر آس محمد صدیقی )

بہرحال جدید افسانہ اور اس کے مسائل سے متعلق وارث علوی کی یہ ایک اہم تصنیف ہے جس میں انھوں نے جدید افسانہ کی تمام خامیوں اور خوبیوں کو بے کم و کاست بیان کر دیا ہے۔ اردو فکشن خصوصاً افسانہ کے فہم و ادراک کی غرض سے یہ ایک معاون کتب کی فہرست میں شمار کی جاسکتی ہے۔

 

 

حواشی:

۱؎      بیگ احساس                  اردوتنقید کا سقراط

۲؎       وارث علوی                جدید افسانہ اور اس کے مسائل

۳؎      وارث علوی                 جدید افسانہ اور اس کے مسائل

۴؎      وارث علوی                 جدید افسانہ اور اس کے مسائل

۵؎      وارث علوی                 لکھتے رقعہ ، لکھے گئے دفتر

۶؎        وارث علوی                جدید افسانہ اور اس کے مسائل

 

 

Mohd Shafi Ganai

Research Scholar

Dept. of Urdu and Persian

Gujrat University–Ahmadabad (Gujrat)

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
شفیع گنائیفکشن تنقیدوارث علوی
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
خان محبوب طرزی شخصیت اور سوانح –  ڈاکٹر عمیر منظر
اگلی پوسٹ
پروفیسر شمس کمال انجم اور سوشل میڈیا : یو میات کے حوالے سے کچھ باتیں ۔ڈاکٹر مجدّدی مصطفٰی ضیفؔ

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر دیبا ہاشمی کی منٹو شناسی :”احتجاجی ادب...

ستمبر 2, 2024

گوپی چندنارنگ کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

جون 16, 2022

بہار میں اردو فکشن کی تنقید: روایت اور...

مئی 9, 2022

وارث علوی کی فکشن تنقید – ڈاکٹرسلمان بلرامپوری

اگست 27, 2021

افسانہ تنقید کے ابتدائی نقوش – ڈاکٹر نوشاد...

اگست 3, 2021

فکشن تنقید اور وہاب اشرفی – ڈاکٹر آس...

مارچ 17, 2021

فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی –...

مارچ 5, 2021

 عابد سہیل اور افسانے کی تنقید – ڈاکٹر...

فروری 3, 2021

یوسف سرمست کی فکشن تنقید – ڈاکٹر عائشہ...

نومبر 2, 2020

انتظار حسین اور افسانے کی تنقید- ڈاکٹر نوشاد...

اکتوبر 20, 2020

1 comment

BILAL AHMAD BHAT جولائی 30, 2021 - 10:35 صبح

۔اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔
میں اپنا ایک مضمون شاٸع کرانا چاہتا ہوں ۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں