عہد حاضر سائنس و ٹکنالوجی کا دور ہے جس کی بدولت زندگی کے ہر شعبے میں ترقی اور تیز رفتاری کا عمل جاری و ساری ہے، دوریوں کا تصور ختم ہو چکا ہے اور عالمگیریت کے تصور نے ہماری دنیا کو عالمی گائوں میں تبدیل کر تے ہوئے نہ صرف (POST MODERN CULTURAL CONDITION) میں داخل کر دیا ہے بلکہ ہم پو سٹ ،پو ست ماڈرن (POT – POST MODERN)ثقافتی عہد میں قدم رکھ چکے ہیں اور اس ثقافتی صورت حال نے چھو ٹی اور ضمنی تہذیبوں یا ثقافتوں ( sub altern cultures) کے ساتھ ساتھ بٹری اور ترقی یا فتہ ثقافتوں کے عناصر کو ایک دوسرے میں ضم یا جذب و انجذاب کے عمل میں اہم کر دار ادا کیا ہے اور یہ عمل تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
دوریوں کو کم کرنے یا ثقافتی لین دین کے اس عمل مسلسل میں جو ہمارے کل علمی سرمائے پر مشتمل ہے سوشل میڈیا کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔گویا سوشل میڈیا کے ذریعے ہم نے نہ صرف کسی دوسرے کلچر تک رسائی حاصل کی ہے بلکہ اس نے ملکی و جغرا فیائی حدود کے تصور کو ختم کر تے ہوے مختلف لسانی،نسلی اور مذہبی گروہوں کے لیے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات – ساجد حمید)
سوشل میڈیا کے اس مثبت کر دار کو ذہن میں رکھتے ہوے اگربر صغیر یا ہندوستان خاص طور پر اردو زبان کے حوالے سے بات کی جائے تو اس میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی میں شعبہ عربی اور اسلامیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شمس کمال انجم کا نام قابل ذکر ہے جو بنیادی طور پر عربی زبان وادب کے اسکالر اور عربی ادب و علم دین پرگہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ادو زبان و ادب،ادبی تحریکات،رجحانات و روایا(URDU CULTUROLOGY)سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں نیز انہوں نے نہ صرف عربی زبان وادب کی تاریخ وتنقید پر مبنی اہم کتب کے اردو تراجم کر کے دنیا کی اس قدیم اور بڑی زبان کے ادبی ذخیرے اور ادبی روایات سے ہم اردو والوں کو روشناس کرا یا ہے بلکہ ان کا شمار اردو کے اعلی شعرا میں بھی ہوتا ہے اور وہ فن شعر کی باریکیوں کا علم بھی رکھتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے اپنی شعری ونثری تخلیقات کے ذریعے اردو کے علمی و ادبی سرمائے میں جو اضافہ کیا ہے وہ گنجہائے گرانمایہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شمس کمال انجم اپنے علمی،ادبی اور ثقافتی تجربات و مشاہدات کا اظہار عوامی رابطے کے سب سے بڑ ے ذریعے فیس بک پر’’یومیات ‘‘کے عنوان سے کر تے رہتے ہیں اور سوشل میڈیاپر ان کی اس عنوان سے پیش کردہ تحریروں کونہ صرف شوق سے پڑھا جاتا ہے بلکہ علمی و ادبی حلقوں میں بڑے احترام سے دیکھا بھی جاتا ہے جس کی مثال کے طور پر comment section میں باذوق قارئین کی طرف سے کیے جا نے والے ان تبصروں اور خیالات کو پیش کیا جا سکتا ہے جو گہری علمی بصیرت کے حامل ہیں۔
’’ یومیات‘‘ کے سوتے معروف عربی شاعر وادیب طحہ حسین جن کا عربی ادب میں اپنا ایک مقام ہے کے دور طالب علمی کے تجر بات پر مبنی ان کی ڈائری(روزنامچہ)جو انہوں نے ’’الایام‘‘ کے نام سے لکھی اور بعد میں اسی نام سے شایع بھی کی سے ملتے ہیں۔’’الایام‘‘میں جہاں طحہ حسین نے دور طالب علمی کے مختلف تجربات کا اظہار عربی زبان میں کیا ہے وہیں ’’یومیات ‘‘ میں پروفیسر شمس کمال انجم اردو زبان کے وسیلے سے عرب و عجم کی معروف ادبی شخصیات کے حالات زندگی اور ادبی خدمات اور ان کی اہم تصنیفات پر خامہ فرسائی کے علاوہ آپنے ذاتی تجربات،تاریخی باتیں،علم عروض،صرف ونحو،مذہبیات،ادیبوں کے خاکے،عربی و ہندی سماجی و ثقافتی علوم کاتعارف،دانشوروں اور عوام الناس کے مسائل،امرا کے قصے،سیاسی امور،مذہبی معاملات،طالب علمی کے دور اور یو نی ورسٹی کے ایام کی علمی سر گر میاں اور شب وروز کی باتیں وغیرہ متعدد یامختلف النوع موضوعات پر مبنی ایک ایسا تحریری سلسلہ جاری رکھے ہوے ہیںجس کی نظیر اردوادب اور سوشل میڈیا کے موجودہ منظر نامے پر بہت کم ملتی ہے یا ملتی ہی نہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سوشل میڈیا پراردوتلفظ اور لفظیات کی حالتِ زار عوامل اورتدارک- نایاب حسن )
پروفیسر شمس کمال انجم کی تحریروں خاص طور پر’’ یو میات‘‘ کے سوشل میڈیا پر اثرات کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو میں اس طرح کہوں گا کہ یہ سلسلہ علم و آگہی یا شعور کے پر چار کا دور حاضر میں نہایت ہی موثر ذریعہ ہے۔’’یومیات‘‘ کے ذیل میں پروفیسر موصوف جو کچھ بھی تحریر کرتے ہیں اس سے بہترین معاشرتی اقدار کے فروغ کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر نوجوانوں کا ذہن فکری سطح پر بھی مثبت سمت میں آگے کا سفر طے کرتا ہے۔’’یومیات‘‘ میں وہ جو کچھ بھی تحریر کرتے ہیں اسے ’’ابلاغ صدق‘‘ کے ذیل میں رکھا جا سکتا ہے،یعنی اظہار خیال کے اس سلسلے کے ذریعے وہ قارئین تک صحیح اور سچی جانکاری پہچاتے ہیں جو پیغمبرانہ روش ہے۔’’یومیات‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی تمام تر تحریروں کا مقصد یہ بھی ہے کہ فیس بک پہ آکے ان کا مطالعہ کرنے والے تمام قارئین خاص طور پر نوجوانوں کی ذہنی تربیت کچھ اس ڈھنگ سے کی جائے کہ وہ اظہار رائے کے اس پلیٹ فارم کا استعمال علمی میراث کے فروغ،بازیافت یااچھے تعمیراتی اورنیک مقاصد کے لیے کریں۔
’’یومیات‘‘ علم و حکمت کی باتوں سے مزین اپنی نوعیت کاایک ایسا تحریری سلسلہ ہے جس کی نظیر بر صغیر کے اردو ادیبوں کے ہاں بہت کم ہی ملتی ہے یا ملتی ہی نہیں۔اس تحریری سلسلے کے بارے میں بات کرتے ہوے یا ’’یومیات‘‘میں پیش کردہ پروفیسر شمس کمال انجم کی تحریروں کا مطالعہ کر تے ہوے میرے ذہن میں محسن انسانیت جناب رسول اکرم ﷺ کا یہ مقدس ارشاد گردش کرتا رہتا ہے کہ’’حکمت کی بات بندہ مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘اور ’’ یومیات‘‘ کی اکثر تحریریں اس میراث عظیم کی باز یافت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
اس سلسلے کے تحت لکھی گئی ہر تحریر فرد اور جماعت کو سنوارتی اور صالح بناتی ہوئی نظر آتی ہے اور اگر عصر ہاضر میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات ذہن میں رکھتے ہوے بات کریں تو یہ تحریریں نوجوانوں کی سوچ اور نفسیات کو مثبت راہوں کے سراغ دکھانے کی جستجو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں،ان کے مطالعے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف اور تحریر دونوں نوجوانوں کے ذہنوں میں غیر معمولی انقلاب برپا کرنے کی آرزو رکھتے ہیں،ایسا انقلاب جس کا بنیادی مقصد اپنی جڑوں کی تلاش،اپنی تہذیبی وثقافتی روایات کی بازیافت اور تحفظ ہو۔اس مقصد کے حصول کی غرض سے پروفیسر ڈاکٹر شمس کمال انجم اکثر و بیش تر بڑے اور اہم عربی ادبائ و دانشوروں کے سوانحی کوائف اور ادبی وعلمی خدمات اختصار مگر کمال ہنر مندی کے ساتھ کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ بقول شاعر:۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
(کالم نگار ادب میں ڈاکٹریٹ،اسکالر و بروڈکاسٹر اور شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

