خان محبوب طرزی اردو(۱۹۱۰۔۱۹۶۰) کے مقبولِ عام ناول نگاروں میں تھے۔ان کا تعلق افغانستان کے تاتارزئی قبیلے سے تھا ،اسی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ طرزی لکھتے تھے۔ ان کے آبا و اجداد وہاں سے ہجرت کر کے لکھنؤ آگئے تھے ۔لکھنؤ کے محلہ حسین گنج میںخان محبوب طرزی ۱۹۱۰میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ویسلی مشن اسکول میں حاصل کی اوراس کے بعد اسلامیہ کالج سے ہائی اسکول پاس کیا ۔ مزیدتعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیاجہاں سے انھوں نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
علی گڑھ میں دوران تعلیم ہی افسانہ کی طرف ان کا رجحان ہوگیا تھا۔ خان محبوب طرزی کے صاحب زادے خان مسعود طرزی کے مطابق ’’اس زمانے میں’نیرنگ خیال‘، ’عالم گیر‘ اور ’ماہنامہ ساقی‘ میںان کے افسانے شائع ہورہے تھے‘‘(۱)۔مجھے بہت تلاش کے بعد صرف’ ساقی‘ میں ان کا ایک افسانہ دستیاب ہوا جوقیام علی گڑھ کے بہت بعدکے زمانے کا ہے۔
خان محبوب طرزی نے اپنی عملی زندگی میں بہت سے تجربے کیے ۔ فکشن سے باقاعدہ وابستہ ہونے سے قبل انھوں نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ کے لیے قفل سازی کے ایک کارخانے میں سپر وائزر کے طور پرکام کیا ۔اس کے بعد فوج میں اسٹور کیپر ہوگئے۔کچھ عرصے کے لیے انھوں نے فلم سازی اور ڈائریکٹر کا کام بھی انجام دیا ۔ کلکتہ کی کاردار کمپنی میں اسسٹنٹ کے طور پر کام کیااور آرپی بھارگو کے ساتھ رقص و موسیقی کا پروگرام’’پرستان‘‘ کے نام سے پیش کیا۔ کچھ مدت تک وہ لکھنؤ ریڈیواسٹیشن سے وابستہ رہے جہاں سے ان کا تبادلہ دہلی ہوگیا۔ ۱۹۴۱میں اس ملازمت کو خیر باد کہہ کر وہ فوج میں بھرتی ہوگئے۔ ۱۹۴۴میں اسی ملازمت سے یوپی کی ٹورنگ ڈرامہ کمپنی میں ان کا تبادلہ ہوگیا۔ یہ کمپنی فوجیوں کی تفریح طبع کے لیے تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پرانھوں نے سائنی ٹون فلم کمپنی میں ملازمت کی مگر یہ تجربہ بھی انھیں راس نہ آیا۔ خان مسعود طرزی کے بقول ۱۹۴۸میں گاندھی کلاکیندرکے نام سے خود فلم کمپنی قائم کی مگر یہاں بھی کامیابی نہیں ملی۔ نسیم انہونوی کے ساتھ خان محبوب طرزی نے ایک طویل عرصہ گذارا تھا اور ان کے ادارے نسیم بک ڈپو سے طرزی کے سب سے زیادہ ناول شائع ہوئے ۔نسیم انہونوی کا خیال ہے کہ خان محبوب طرزی کا اصل میدان فلم ڈ ائریکشن تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
طرزی صاحب میرے خیال سے جس کام کے لیے پیدا ہوئے تھے وہ انھیں نہ مل سکا۔ وہ کام تھا فلم کا ڈائریکشن۔ میں نے طرزی صاحب سے بار بار کہا کہ طرزی صاحب ایک بار بال بچوں کو بھول کر گھر سے راہ فرار اختیار کیجیے اور بمبئی کی فلم کمپنیوں میں رسوخ حاصل کر نے کی کوشش کیجیے۔ (۲)
خان محبوب طرزی کی علمی اور ادبی دلچسپیوں میں ترجمہ نگاری اور صحافت بھی شامل تھی۔ انھوں نے روزنامہ اودھ، روزنامہ اردواور بعض دیگر اخبارات میں بھی کام کیے۔ زندگی کے دیگر عملی تجربوں کی طرح یہ تجربہ بھی ان کے زیادہ کام نہ آیا۔ البتہ صحافت کو خیرباد کہنے کے بعد انھوں نے ناول نگاری کے لیے خود کو وقف کردیا ۔امین سلونوی جن سے خان محبوب طرزی کا بہت قریبی تعلق رہا، وہ کہتے ہیں :
محبوب صاحب نے ایک زمانہ میں شوکت تھانوی کے ساتھ سابق ایڈیٹر تیج مسٹر رام لال ورما کے اخبار ہند میں بھی کام کیا، یہ اخبار لکھنؤ سے نکالا گیا تھا۔ محبوب کو سرپنچ میں رہ کر اخبارنویسی کی زندگی سے بھی دوچار ہونا پڑا تھا، اور اس کا بھی انھیں تجربہ ہوگیا تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں ادارہ تنویر میں بھی انھوں نے کام کیا لیکن وہ کہیں بھی رہے ناول نگار ہی رہے۔(۳)
’ماہنامہ فروغ اردو‘ لکھنؤ کے طرزی نمبر (جولائی اگست ۱۹۶۰)میں طرزی کے سوانحی حالات پر خان مسعود طرزی، خان رشید طرزی، نورالحسن ہاشمی اور نسیم ا نہونوی نے کچھ روشنی ڈ الی ہے۔انھوں نے طرزی کے کثیر العیال ہونے کا ذکرتو ضرور کیا ہے لیکن اس سلسلے کی تفصیل کسی کے پاس نہیں ہے۔ حفیظ نعمانی نے اپنے مضمون میں صرف یہ لکھا ہے کہ دو بیویوں سے سولہ اولاد تھی۔ ان کے دو بیٹوں خان مسعود طرزی اور رشید طرزی کے مضامین بھی اس میں شامل ہیں مگر انھوں نے بھی اپنے بھائی بہنوں سے متعلق کوئی تفصیل نہیں فراہم کی ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں روایت اور انحراف کا توازن:سلطان اختر – ڈاکٹر عمیر منظر )
خان محبوب طرزی کوا گرچہ اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع نہیں مل سکے مگر انھوں نے اپنے ذوق مطالعہ کی بدولت بہت ترقی کی ۔اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کی صلاحیتیں نکھرتی چلی گئیں اور وہ ایک اہم تخلیق کار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں روشناس ہوئے ۔ اس کا اعتراف ان کے احبا ب،معاصرین اور ناقدین نے بھی کیا ہے ۔ان کے ناولوں کی کثیر تعداد اور دیگر ادبی کارگزاریوں سے اس حقیقت کا خاطر خواہ اندازہ ہوتا ہے ۔
خان محبوب طرزی فن کار کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ انسان بھی تھے۔اگرچہ انھوں نے نہایت مشکل بھری زندگی گذاری ،مگر اس کے باوجود وہ احباب کا خیال رکھتے اور ان کی تواضع میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے۔شاید اسی لیے انھوں نے اپنے حالات کو احباب کے سامنے کبھی اس طرح ظاہر نہیں کیا کہ ان کی ذاتی زندگی موضوع گفتگو بن جائے ۔ ظرافت و شگفتگی ان کی شخصیت کا خاص وصف تھا۔وہ محفل کو زعفران زار بنائے رہتے تھے ۔اسی لیے ان کے احباب نے طرزی کوایک مخلص اور پیارے دوست سے تعبیر کیا ہے۔ ان کی دوست داری اور متبسم چہرہ سب کے لیے باعث کشش تھا۔ دوستوں کو ان سے اگر کبھی شکوہ رہا تو بس یہی کہ زندگی بھر طرزی دوسروں کے کام آتے رہے مگر کبھی اپنے کام نہ آسکے ۔طرزی نے حالات اور زمانے کا شکوہ کرنا کبھی سیکھا ہی نہیں ۔اپنے عزم محکم اورجہد مسلسل کو رہنمابنائے ہوئے وہ ساری عمر علمی و ادبی سرگرمیوں میں مشغول رہے ۔
طرزی کی ادبی مصروفیات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ ان کا شمار بسیارنویسوں میں ہوتا تھا ۔ایک بھرے پرے خاندان کی کفالت کا ان پر بوجھ تھا شاید اسی لیے بہت زیادہ لکھنا ان کی مجبوری بن گیا تھا ، اس لیے انھوں نے ناول نگاری کا شغل جاری رکھا ۔ احباب کو محظوظ کرنے اور محفل کو زعفران زار بنانے کا ہنربھی انھیں ودیعت ہوا تھا، اسی لیے قریبی احباب بھی ان کے نجی حالات سے کم ہی واقف ہوسکے۔طرزی کے ایک ممتاز معاصر سلامت علی مہدی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
میں نے اپنی آٹھ سالہ دوستی میں طرزی صاحب پر کوئی احسان نہیں کیالیکن مجھے اس کااعتراف ہے کہ طرزی صاحب نے مجھ پر کئی احسانات کیے۔ ‘‘(۴)
خان محبوب طرزی سادگی پسندی کے ساتھ نام ونمود سے بہت دور رہے۔ انھوں نے مشکل حالات میں بھیجینے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔زیادہ سے زیادہ پیدل چلنا بھی ان کاایک مشغلہ تھا۔ ان کے بہت سے معاصرین نے پیدل چلنے کا بطور خاص ذکر کیاہے ۔ اس سے ان کی عملی سرگرمیوں کا اندازہ بھی کیا جاسکتاہے۔ حفیظ نعمانی کے بقول:
وہ اتنا محنتی اور متحرک انسان تھا کہ کبھی اسے آرام کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ وہ آخری دن تک یا لکھتا رہا یا چلتا رہا یا ہنستا رہا۔ اس کی ہنسی اور جفا کشی کوئی چھین نہیں سکا۔(۵)
خان محبوب طرزی ہرموسم میں باغ بی بی آئینہ سے امین آباد تک پیدل آتے تھے اور موسم سے لطف اٹھانے کا ان کا الگ انداز تھا۔زندگی کی مشکلات اور سختیوں کے برداشت کرنے کو انھوں نے ایک فن بنا لیاتھا اور اسی لیے کبھی اس کی فکر بھی نہیں کی، بلکہ یکسوئی سے اپنے ادبی کاموں میں مصروف رہے ۔نادم سیتا پوری لکھتے ہیں :
طرزی بھی ہمیشہ جیٹھ بیساکھ میں بارہ بجے دن کو ’’چہل قدمی‘‘ کے عادی تھے۔ٹھیک بارہ بجے جب چیل انڈا چھوڑتی ہے، طرزی آئینہ بی بی کے باغ سے امین آباد روانہ ہوتے تھے۔ خراماں خراماں چلے آرہے ہیں۔ ’’آتش بار لو‘‘ کا لطف اٹھاتے ہوئے۔ چھتری کا کوئی سوال ہی نہیں۔ رکشا کی سی انسانیت کش سواری کبھی راس ہی نہیں آئی۔ ایک ہیٹ اور ٹھنڈا چشمہ تھا، جو ان کے نزدیک موسم کی تمام خرابیوں کا واحد علاج تھا یا اگر زیادہ پیاس لگی تو اسی چلچلاتی دھوپ میں ایک سگریٹ سلگایا اور پھر منزل مقصود کی طرف روانہ ہوگئے۔(۶)
سلامت علی مہدی طرزی کے بارے میں لکھتے ہیں :
نسیم بکڈپو کے اوقات کار کے بعد طرزی صاحب سے میری ملاقات اکثر امین آباد کے چوراہے پربھی ہوجاتی تھی۔ نعیم کے یہاں سے پان کھانا ان کی روز مرہ کی عادت میں تھا۔ یہ ملاقات نعیم کی دوکان کے سامنے رات کے نو بجے کے بعد شروع ہوتی اور اتنا طول کھینچتی کہ رات کے دو بج جاتے۔ ہم دونوں دنیا کے ہر مسئلہ پر بات کرتے۔ ایسا کوئی موضوع نہ ہوتا، جس پر طرزی معلومات کا دریا نہ بہادیتے ہوں۔ وقتاً فوقتاً وہ لطیفے بھی بیان کرتے جاتے اور جب دو بجتے تو طرزی صاحب یہ کہہ کررخصت ہوجاتے کہ بھئی اب اجازت دو، گھر جا کر ایک ناول کے کم از کم ۲۵؍ صفحات لکھنا ہیں۔(۷)
محبوب طرزی کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ احباب کو بھی فراخ دلی سے وقت دیتے اور ان سے مختلف مسائل اور معاملات پر دیر دیر تک گفتگو کرتے ۔ایسے مواقع پر انھیں یہ احساس نہیں ہوتا تھاکہ ان کا حرج ہورہا ہے، بلکہ اپنی محنت اور کوشش سے وقت کی اس کمی کا ازالہ کر لیتے تھے ۔معروف ناول نگار وحشی محمودآبادی طرزی کے دوستوں میں تھے ۔وہ طرزی کے بعض معمولات پر اس طرح روشنی ڈالتے ہیں :
نسیم بکڈپو میں طرزی صاحب کی حاضری گیارہ بجے دن سے سات بجے شام تک کی تھی۔ میں ساڑھے چھ بجے پہنچ جاتا اور سات بجے ان کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوتا۔ یہ ایک معمول سا بن گیا تھا اور نو بجے رات تک کے دو گھنٹے ہمارے اپنے تھے۔(۸)
خان محبوب طرز ی مرنجاںمرنج قسم کے انسان تھے۔ وہ دوستوں کے ساتھ پکنک اور کھانے پینے کا پروگرام بھی بناتے تھے۔ان کی گوشت خوری کے واقعات احباب میں مشہور تھے۔ سلامت علی مہدی ایک واقعے کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
طرزی صاحب اپنی زائد گوشت خوری کے قصے اکثر بیان کرتے۔ ایک دن مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے سوال کیا۔ طرزی صاحب بکرے کی تین کلیجیاں ایک ہی نشست میں کھاسکتے ہیں۔ طرزی صاحب نے اقرار میں سر ہلادیا۔ گویا یہ کوئی بات ہی نہ تھی۔چنانچہ شرط لگ گئی اور طرزی صاحب دیسی گھی اور قورمہ کے مصالحے میں پکی ہوئی تین کلیجیاں ایک ہی نشست میں کھاگئے۔ میں شرط ہار گیا۔پھر ایک دن طرزی صاحب چوک میں ٹنڈے کبابی کی دوکان کے ۴۸؍ کباب بیٹھے بیٹھے کھاگئے۔ یہ بھی شرط میں ہار گیا۔پھر ایک دن طرزی صاحب نظیرآباد کے ایک ہوٹل میں ڈیڑھ روپے کے بوٹی کے کباب ایک ساتھ کھاگئے۔ بازی انہیں کے ہاتھ رہی۔ہاتھ دھونے کے بعد مجھ سے پوچھنے لگے۔ کوئی اور شرط۔میں نے کہا۔ جی ہاں۔ ایک بوجھ گھانس کھاجائیے، کہنے لگے۔ گوشت کی شرط لگایئے۔میں نے جل کر کہا۔ ایک پورا بکرا کھاجائیے۔ مسکرا کر کہنے لگے۔ شرط لگا کر تاریخ مقرر کردیجئے۔ آپ کی یہ حسرت بھی کیوں رد جائے۔ اور میں ان کے آگے ہاتھ جوڑ کرکھڑا ہوگیا۔ مزید ہارنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔‘‘(۹) (یہ بھی پڑھیں آبروئے ادب:شمس الرحمن فاروقی کی یاد – ڈاکٹر عمیر منظر )
رفتہ رفتہ طرزی کی شہرت پھیلتی گئی اور ان کا شمار مشہور فکشن نگاروں میں ہونے لگا۔ اس عہد کو لکھنؤ کے افسانوی ادب کا روشن اور تابناک زمانہ کہا جاسکتا ہے۔ اس دور میں لکھنؤ کے ادبی افق پرمائل ملیح آبادی، سلامت علی مہدی، وحشت محمود آبادی،نادم سیتاپوری، شوکت تھانوی، مجاہد لکھنوی اور نسیم انہونوی جیسے ناول نگار موجود تھے۔ افسانوی ادب کے اشاعتی اداروں کی بھی اس زمانے کے لکھنؤ میں دھوم تھی۔ان میں نسیم بک ڈپو ، مکتبہ کلیاں،ادارۂ فروغ اردو، پرواز بک ڈپو ، کتابی دنیا ، ناول گھر، علمستان اور ناول پبلشنگ ہاؤس جیسے اشاعتی ادارے شامل تھے۔ خان محبوب طرزی کی فن کاری کا یہ بھی کمال کہا جاسکتا ہے کہ ان کے ناول متعدد اداروں سے نہ صرف شائع ہوئے بلکہ ان کے قلم کی بدولت بہت سے نئے اشاعتی ادارے بھی وجود میں آئے۔ بقول حفیظ نعمانی:
جس شخص نے کچھ ادارے اپنے قلم کی نب سے کھڑے کر دیے اور کتنے ہی ناشروں کی نسلیں غم روزگار سے بے نیاز ہوگئیں۔(۱۰)
حفیظ نعمانی نے طرزی کی زود نویسی کا بطور خاص ذکر کیاہے ۔ طرزی کے بہت سے معاصرین نے لکھا ہے کہ کچھ ناول ایسے بھی ہیں جو طرزی کے تحریر کردہ تھے ،مگر دوسروں کے نام سے شائع ہوئے۔ طرزی کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ بیک وقت کئی ناول لکھتے تھے۔ ان کے بارے میں شوکت تھانوی نے یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ان کی ٹھوکر میں سیکڑوں افسانے پڑے کلبلایا کرتے ہیں ‘‘(۱۱ )۔ ایک ساتھ کئی ناول لکھنے کی خوبی کوطرزی کا خاص ہنر کہاجاسکتا ہے ۔ مائل ملیح آبادی کے بقول:
وہ بے پناہ لکھنے والے تھے۔ ان کا ہاتھ ٹائپ رائٹر تھا۔ لکھنے لگتے تھے تولکھے ہوئے کاغذوں کا ڈھیر لگا دیتے۔ سب لوگ باتیں کرتے رہیں لیکن طرزی صاحب وہیں بیٹھے لکھتے رہیں گے اور کاغذ کے بعد کاغذ قلم کے نیچے سے نکلتا رہے گا… انہوں نے گھنٹوں کے حساب سے بھی دو تین سو صفحات کے ناول لکھے ہیں۔ لگ بھگ بارہ سو صفحات کا ناول مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں کسی دوسرے مصنف کے نام سے لکھ ڈالا۔پھر اس کے بعد ہی سترہ اٹھارہ سو صفحات کسی اور مصنف کے نام سے لکھ دیے۔ (۱۲)
طرزی کی ناول نگاری کے بارے میں سلامت علی مہدی نے حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے:
میرا دعویٰ ہے کہ رہتی دنیا تک طرزی کے جیسا ناول نگار دنیا کی کسی زبان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی کسی زبان میں ایسا کوئی ناول نگار نہیں ہے جو تاریخی ناول بھی لکھے اور جاسوسی ناول بھی۔جودن کے ابتدائی حصے میں کسی سائنسی ناول کا مسودہ لکھے، دن کے آخری حصہ میں کسی معاشرتی ناول کا حصہ پورا کرے اور رات کو کسی رومانی ناول میں عورت کے حسن اور اس کے محبت بھرے دل کی کوئی نغمگیں کہانی بیا ن کرے۔
وہ بیک وقت پانچ ناول لکھتے تھے۔ پانچوں کا موضوع ایک دوسرے سے متضاد ہوتا تھا۔ پانچوں کا لکھا ہوا مسودہ ناشروں کے پاس ہوتا تھا۔ وہ دن کے مختلف حصوں میں ہر ناول کے علیحدہ صفحات لکھ کر اپنے ناشروںکے پاس بھیجوا دیتے تھے۔ اور ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ حوالے کے لیے بھی وہ کسی ناول کے مسودہ کا ایک صفحہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ بس سب کچھ ان کے ذہن میں محفوظ رہتا تھااور دوسرے دن وہ محض اپنی یادداشت کے بل پر دوبارہ مسودہ لکھنا شروع کر دیتے تھے۔(۱۳)
طرزی کے بارے میں یہ ان لوگوں کا مشاہدہ ہے جنھوں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا تھا،اور طرزی کے ان کا ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محنت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہانت بھی خداداد تھی۔ ان کے بیشتر معاصرین جنھوں نے ناول نگاری میں نام پیدا کیا ،طرزی کے مداح اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ عام خیال یہی ہے کہ ان کے زمانے میں صرف صادق حسین سردھنوی ایسے ناول نگار تھے جو زود نویس تھے۔ ان کے بھی متعدد ناول ہیںمگر ان کے ناولوں کا عام موضوعاتی دائرہ تاریخی ہے۔جب کہ طرزی کے یہاں موضوعات کا تنوع ہے ۔ طرزی کے بارے میں یہ بات عام طور پر محسوس کی گئی ہے کہ بسیار نویسی کی وجہ سے وہ ناولوں کا معیار قائم نہ رکھ سکے ۔ سید احتشام حسین لکھتے ہیں:
’’محبوب طرزی کے تقریباً ڈھائی سو ناولوں میں سے میں نے صرف چند پڑھے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے کہ بعض مصنفوں کو تاریخ اپنے دامن میں جگہ نہیں دیتی لیکن اس کے پڑھنے والے اس کی تحریروں کے منتظر رہتے ہیں۔ ادبی تنقید کا یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے اور ادیب کی وقتی مقبولیت اس کی کامیابی ہے یا تھوڑے سے ایسے لوگوں کا متاثر ہونا جو ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ محبوب طرزی اعلیٰ ادبیات سے دلچسپی لینے والوں میں مقبول نہیں تھے لیکن ان کی کتابیں چھپتی اور بکتی تھیں اور بعض کتابیں اتنی مقبول تھیں کہ ان کے کئی کئی اڈیشن شائع ہوئے۔ ان کے ناولوں کی وصفی قیمت ضرور بحث طلب ہے لیکن یہ بات بھی کچھ کم قابل قدر نہیں ہے کہ انہوں نے تقریباً پچیس تیس ہزار صفحات لکھے اور یہ لکھنا بہت سی مالی دشواریوں کے درمیان تھا، گھر پر سکون نہ ملتا تو کسی دوست کے یہاں بیٹھ جاتے، وہاں سے اٹھتے تو کسی چھوٹے سے چائے خانہ میں، کبھی کسی کتابوں کی دوکان میں الگ ہو کر بیٹھ جاتے اور تیز رفتاری سے صفحوں پر صفحے سیاہ کرتے جاتے۔ وہ ایک ساتھ کئی ناول شروع کردیتے تھے اور انہیں مختلف ناشروں کے لیے ساتھ ہی ختم کرتے تھے‘‘۔(۱۴)
اسی طرح محبوب طرزی کی زود نویسی کے بارے میں احمد جمال پاشا نے لکھا ہے :
’’بات لکھنے لکھانے پر آئی تو عرض کرنے دیجئے کہ وہ دو تین دن میں چار پانسو صفحات کا ناول لکھ لیتے تھے جب کہ دوسرا محض لکھا ہوا ناول اس مدت میں نقل بھی نہیں کرسکتا۔ لطف یہ ہے کہ ان کے روز مرہ کے معمولات میں بھی فرق نہ آنے پاتا۔ خود بقول ان کے وہ لکھتے کیا تھے، اپنی تھکن اتارتے تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سائنسی موضوعات واسلامی سیاست پر مضامین بھی لکھتے رہتے۔ ان کا سب سے ضخیم ناول ’’فاروق اعظم‘‘ (دو ہزار صفحات) زیرطبع ہے۔ تقریباً تین سو کتابیں وہ ہیں جو خود ان کے نام سے چھپیں اور کتنے ناول لوگوں نے خرید کر اپنے نام سے چھپوالیے اور مصنف کہلائے‘‘۔(۱۵)
طرزی کے ایک ممتاز معاصر اور ناول نگار نادم سیتا پوری نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ طرزی بے حد زود نویس تھے۔ایسی صورت میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کا ذہن اور قلم دونوں تیز رفتار تھے ۔اس سلسلے میںنادم سیتا پوری لکھتے ہیں :
’’اس دور کے ’لکھاڑ‘ لکھنے والوں میں میں نے رئیس احمد جعفری اور طرزی جیسا زود نویس نہیں دیکھا۔ طرزی کا دماغ دراصل ’’فاؤنٹن پن‘‘ کی وہ نب تھا جو تیزی کے ساتھ کاغذ پر دوڑتا رہتا تھا۔ انہوں نے کبھی کوئی ناول نہ سوچ کر شروع کیا نہ ختم۔ بس لکھنے بیٹھ گئے۔ باتیں بھی کررہے ہیں اور لکھ بھی رہے ہیں۔ حاضر دماغی کا یہ حال تھا کہ ان کے لکھنے کے لیے نہ کوئی خاص میز کی ضرورت تھی نہ کرسی کی۔ شوروشغب ہورہا ہے اورلکھ رہے ہیں‘‘۔(۱۶)
لکھنؤ کے مشہور صحافی امین سلونوی نے طرزی کی ابتدائی ادبی زندگی کے بارے میں لکھا ہے :
’’اس زمانہ میں سرپنچ تو نکل ہی رہا تھا، شوکت تھانوی اور نسیم انہونوی اس اتحاد ثلاثہ کے اراکین تھے جو ’سرپنچ‘ کو چلارہے تھے، چنانچہ میں نے چندروز بعد محبوب کو نسیم انہونوی کے سپرد کیا کہ وہ اپنے ادارہ میں انھیں بھی کچھ سیکھنے اور لکھنے کا موقع دیں اور ان کے شوق کی رہنمائی کریں۔ نسیم صاحب نے بڑی خندہ پیشانی سے محبوب کو ادارہ میں کچھ کام دیکھنے اور سمجھنے کی اجازت دے دی اور یہی نہیں انھیں صلاح ومشورہ بھی دیتے رہے اور رفتہ رفتہ ان کی بعض تحریروں کو’ حریم‘ و’سرپنچ‘ کے صفحات پر جگہ بھی ملتی رہی۔ نسیم صاحب نے محبوب کی صلاحیتوں کی قدر کی اور انھیں پہلی مرتبہ ساری دنیا سے روشناس بھی کرایا اور چندروز بعد انھوں نے اپنے منصوبہ کے مطابق ’سرپنچ ‘کا فلم ایڈیشن بھی جاری کردیا ،اس طرح محبوب طرزی کو اپنی صلاحیتوں کے مظاہرہ کا پورا موقع مل گیا۔ اس سلسلہ میں محبوب نے’ حریم‘ کے واسطے ’شہزادی شب نور‘ کے نام سے اپنی تخلیق ہرماہ قسط وار لکھناشروع کی۔ جسے نسیم انہونوی نے بعد میں کتابی شکل دی اور محبوب طرزی کو ناول نگاروں کی صف میں کھڑا کیا۔ جیسا کہ میرے علم میں ہے۔ محبوب خود بھی ذہین تھے ادارہ’ سرپنچ‘ میں انھیں رہنمائی ملی اور ان کی ہمت افزائی ہوئی، انھیں ایک مقررہ مشاہرہ بھی وہاں ملنے لگا اور اس طرح ان کی قیمت بڑھتی رہی‘‘۔(۱۷)
اور یہی وہ شخصیت ہے جنھوں نے نسیم انہونوی سے طرزی کا تعارف کرایا ۔نسیم انہونوی نے خود لکھا ہے:
’’خان محبوب طرزی ۱۹۳۳ ئ میں امین سلونوی صاحب کے ذریعہ مجھے سے متعارف ہوکر میرے ادارے میں شریک ہوگئے ۔‘‘( ۱۸ )
(یہ بھی پڑھیں دلی کے بزرگ دوست:سلیم شیرازی- ڈاکٹر عمیر منظر)
نسیم انہونوی نے طرزی پر متعدد مضامین لکھے ہیں۔ان کی تحریروں سے دونوں کے تعلقات اورنسیم بک ڈپو سے طرزی کی ابتدائی سرگرمیوں کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے ۔نیزیہ بھی پتا چلتا ہے کہ ادیب بننے کی خواہش ان کے یہاں فطری تھی اور اسی لیے نامساعد حالات میں بھی انھوں نے اس شوق کو نہیں چھوڑا ۔جبکہ ان کے والد اور چچا نے ہوٹل کے کاروبار سے وابستہ رہ کر آسودہ حال زندگی گذاری ۔ نسیم انہونوی لکھتے ہیں ۔
اس وقت ’سرپنچ‘ شوکت تھانوی کی ادارت میں نکلتا تھا، اس لیے طرزی صاحب معاون ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ میں نے طرزی صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ کسی ناول کا سلسلہ ’حریم‘ یا’ سرپنچ ‘میں شروع کریں اس لیے کہ اس دور میں لوگ افسانوں سے اکتا گئے تھے۔ طرزی صاحب نے ناولوں پر خامہ فرسائی شروع کردی۔ پہلا ناول ’شہزادی شب نور‘ کے نام سے ’حریم ‘میں مسلسل شائع ہونا شروع ہوا اور’ حریم‘ کی خریدار بہنوں نے اسے بہت پسند کیا۔ اس کے بعد ہی طرزی صاحب نے’ سفر زہرہ‘ کے نام سے ایک سائنسی ناول لکھنا شروع کیا جو’ سرپنچ ‘میں قسط وار چھپنا شروع ہوا اور اس کی مقبولیت نے طرزی صاحب کو غیر معمولی شہرت بخشی۔(۱۹)
نسیم بک ڈپو سے طرزی کی وابستگی ۱۹۳۳ سے ۱۹۵۷ تک قائم رہی ۔اگرچہ اس دوران ایک دوبار وہ ناراض ضرور ہوئے مگر بہت جلد واپس آگئے۔البتہ نومبر ۱۹۵۷میں طرزی نسیم بک ڈپو چھوڑ کر’ادارۂ فروغ اردو‘ سے وابستہ ہوگئے اور دو سال تک ادارہ فروغ اردو سے وابستہ رہے ۔یہ ادارہ بنیادی طور پر اردو زبان کے فروغ کے لیے قائم ہوا تھا ۔اسی ادارہ سے ماہنامہ’ فروغ اردو‘ شائع ہوتا تھا۔ دیگر کتب کے ساتھ ساتھ اردو کی نصابی کتابیں بھی یہاں سے چھپتی تھیں۔ماہ نامہ’ فروغ اردو‘ نے طرزی کی وفات پر طرزی نمبر (جولائی و اگست ۱۹۶۰)بھی شائع کیا تھا ۔نورالحسن ہاشمی ،سید احتشام حسین ،ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی ،محمد حسین شمس قاسمی جیسی دیگرادبی شخصیات ادارہ فروغ اردو سے وابستہ تھیں ۔اس ادارہ سے طرزی کی وابستگی کے بارے میںمشہور ادیب نورالحسن ہاشمی لکھتے ہیں :
نومبر ۵۷ئ سے ۵۹ئ تک ادارۂ فروغ اردو سے وابستہ رہے۔ اس قلیل عرصہ میں انہوں نے اس ادارہ کے لیے سترہ ناول…تیار کیے جن میں سے چودہ شائع ہوچکے ہیں۔(۲۰)
خان محبوب طرزی نے ایک سرگرم ادبی زندگی گذاری ۔ان کے قلم سے سیکڑوں ناول نکلے ۔البتہ ان کو وہ آسودگی اور سکون نہیں مل سکا جس کے وہ متلاشی رہے ۔یہاں تک کہ اردو ناول کا ایک مقبول نام ۲۵،جون ۱۹۶۰ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا ۔
حوالے :
۱۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۹۱
۲۔ماہنامہ سرپنچ ،لکھنؤ۔اگست ۱۹۶۰۔طرزی نمبر ص: ۲۴
۳۔ماہنامہ سرپنچ ،لکھنؤ۔اگست ۱۹۶۰ص: ۱۶
۴۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ص :۶۸
۵۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ص :۱۲۸
۶۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۲۸
۷۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۶۴
۸۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۵۳
۹۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۶۹
۱۰۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۲۷
۱۱۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۱۴۵
۱۲۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۸۱
۱۳۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۶۵
۱۴۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ :۱۸۔۱۹
۱۵۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ص :۸۹
۱۶۔ایضاً ص :۲۹
۱۷۔ماہنامہ سرپنچ اگست ۱۹۶۰ص: ۱۴
۱۸۔ماہنامہ سرپنچ اگست ۱۹۶۰ص: ۲۳
۱۹۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۱۴۰
۲۰۔ماہنامہ فروغ اردو(طرزی نمبر)،جولائی و اگست ۱۹۶۰ ۔ ص :۱۰
ڈاکٹر عمیر منظر
شعبۂ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
۔لکھنؤ کیمپس ۔لکھنؤ

