آبروئے ادب:شمس الرحمن فاروقی کی یاد – ڈاکٹر عمیر منظر

by adbimiras
0 comment

شمس الرحمٰن فاروقی (1935۔2020)کا جانا اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ان کی حیثیت ادب کے مجتہد کی تھی۔ان کے بغیر ادب کی کسی صنف کو سمجھا نہیں جاسکتا۔نقادکی حیثیت سے تو ان کی شہرت مسلم تھی۔ شمس الرحمن فاروقی کو پہلی مرتبہ جولائی 1996 میں غالب اکیڈمی،دہلی میں سننے کا اتفاق ہواتھا۔ اس وقت سے آج تک ان کی تقریر و تحریر سے استفادہ کا سلسلہ جاری ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ نسل کی ادبی تربیت میں فاروقی صاحب کا کلیدی رول ہے۔ہمیں یہ بھی فخرحاصل ہے کہ عہد فاروقی ہمیں نصیب ہوا۔

گذشتہ پچاس برسوں سے اردوشعر وادب پر شمس الرحمن کی حکمرانی تھی۔وہ مشہور تو ایک تنقید نگار کے طور پر تھے لیکن تنقید کے علاوہ انھوں نے ایسے بہت سے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جوان کے اہم ادبی آثار کے طور پر تادیر یاد رکھے جائیں گے۔ بعض ادبی مباحث تو ایسے ہیں کہ اب وہ فاروقی صاحب کی تحقیق سے جانے جائیں گے۔انھوں نے ادبی معاملات پر جس طرح سے بحث کی ہے وہ انھیں کا کارنامہ ہے۔

ولی کو اردو شاعری کا بابا آدم کہا جاتا ہے، شیخ سعد اللہ گلشن سے ولی کی ملاقات دہلی کا تذکرہ ’آب حیات‘ میں ہے۔مولانا محمد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ ولی دہلی آئے اور شیخ سعد اللہ گلشن نے انھیں مشورہ دیا کہ یہ مضامین فارسی جوبے کار پڑے ہیں انہیں استعمال کرو تم سے کون پوچھے گا۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ: تاریخ و تہذیب کے چند پہلو‘میں اس ملاقات پر بعض سو الات قائم کیے ہیں۔ان کا ایک سوال تو یہی ہے کہ کیا ولی دہلی واقعتا آئے تھے؟کیا شیخ سعد اللہ گلشن سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ان سوالات کی روشنی میں ہی انھوں نے ولی کے سال وفات کی تحقیق بھی کی ہے۔ واضح رہے کہ ولی کے دیوان کے متعدد قلمی نسخے دستیاب ہیں اس کی روشنی میں فاروقی صاحب نے ان کا سال وفات  1707۔1708طے کیا ہے۔اس بارے میں ان کے دلائل بہت مستحکم ہیں۔ اگر 1700میں ملاقات یقینی مان لی جائے اور1707میں انتقال تو اتنے دنوں میں انھوں نے کیا شاعری کی ہوگی۔اسی لیے ادبی مورخین کے یہاں ولی کے سنہ وفات میں بہت فرق ہے یہاں تک کہ جمیل جالبی نے 1748تک لکھ دیا ہے۔فاروقی صاحب کا خیال یہی ہے کہ شیخ سعد اللہ گلشن کے مشورے کو تو درمیان میں اس لیے آزاد نے پیش کیا کہ اس طرح دلی والوں کی برتری باقی رہے۔فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ دکن میں شاعری کا جو زور و شور تھا دہلی اس سے دور تھی۔ کسی باہر والے کو قبول کر لینا دہلی والوں کے لیے آسان نہیں تھا۔اسی لیے درمیان میں یہ مشورہ لایا گیا۔عام ادبی مورخین سے الگ فاروقی صاحب کی رائے مستند تاریخی حوالوں کی روشنی میں ہے اور یہ بات اس لیے بھی قابل قبول ہے کہ ولی کے متداول دیوان میں جو کلام موجود ہے وہ انہیں قلمی نسخوں سے ہے جو فاروقی صاحب  کے پیش نظر رہے ہیں۔اس لیے محمد حسین آزاد کی رائے پر فاروقی صاحب نے نقد کیا ہے دلائل کی روشنی میں وہ زیادہ بہتر اور معتبر ہے۔

شمس الرحمن فاروقی صاحب کا دوسرا کارنامہ داستانوں سے متعلق ہے۔ یہ ایسا وقیع اور اہم کارنامہ ہے کہ بہت دنو ں تک انھیں یاد کیا جاتا رہے گا۔ شروع شروع میں انھوں نے داستانوں پر کچھ لیکچر دیے۔دہلی میں دیا گیا ایک لیکچر مجھے اچھی طرح یاد ہے،جس میں دہلی کی معتبر ادبی شخصیات موجود تھیں۔ فاروقی صاحب نے داستان کی شعریات کو بہت وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ یعنی داستان ایک زبانی بیانیہ ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے زبانی بیانیہ،بیان کنندہ اور سامعین کی تشریح کی اور بتایا کہ ان کے بغیر داستان کو کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا اور اس موقع پر انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’باغ و بہار‘ داستان نہیں ہے۔ادبی حلقوں میں اس کا بہت چرچا ہوا۔روزنامہ قومی آواز نے اسے ایک اہم ادبی خبر کے طور پر شائع کیا واقعہ ہے کہ فاروقی صاحب کی دلیل سے بڑی کوئی دلیل سامنے نہیں آسکی۔ اسی طرح سے اصلاح زبان کے رائج تصور پربھی انہوں نے نقد کیا اور کہا کہ وہ چیز دکھائی جائے جو تاریخ میں یا کہیں بھی باقاعدہ طور پر لوگ سامنے آئے ہوں اور یہ کہا ہو کہ انھوں نے تحریک چلائی ہے۔ کیوں کہ تحریک کی جو بنیادی شرط ہے افراد کا ہونا، تنظیم کا ہونااور باقاعدہ ایک شعوری کوشش کا ہونا یہ کہیں بھی موجود نہیں ہے۔البتہ میر اوسط علی رشک نے کچھ عملی اقدامات اٹھائے تھے اور یہ کہا تھا کہ اس چیز کو مانیے اور اس چیز کو مت مانیے اس کی کوئی ایسی ادبی بنیاد نہیں ہے کہ جس پر یہ نظریہ استوار ہوسکے۔ ( یہ بھی پڑھیں   شمس الرحمن فاروقی کی رحلت: سوگوار ہے جہانِ ادب – رحمن عباس )

شمس الرحمٰن فاروقی نے ایک سرگرم ادبی زندگی گذاری۔ انھوں نے اپنے عہد اور زمانے سے سرگرم مکالمہ کیا۔ یعنی جدیدیت کے زمانے میں یا جدیدت کو فروغ دینے میں انھوں نے جہاں اپنی تحریروں کو پیش کیا وہیں ایک بہت بڑا ادبی کارواں شب خون کے ذریعہ آیا۔ فاروقی صاحب نے چونکہ فنی وادبی سروکار کو بلند رکھا اور یہ ان کی خوبی کہی جائے گی کہ جب بھی ان کی کسی تحریر کے بارے میں ایسی کوئی مناسب بات یاد دلائی گئی یا ان پر نقد کیا گیا  تو نہ صرف انھوں نے اسے قبول کیا بلکہ اس کا عتراف بھی کیا۔اپنی سب سے مشہور تصنیف ’شعر شور انگیز‘ جس پر انھیں سرسوتی سمان ایوارڈ بھی دیا گیا۔اس کے بارے میں متعدد تحریریں آئیں۔ لیکن انھوں نے جس تحریر کو پسند کیا وہ پروفیسر عبدالرشید صاحب کی تھی۔ اس مضمون میں انہوں نے فاروقی صاحب کی بعض لفظی تحقیق اور تشریحات کے سلسلے میں نقد کیا تھا اور میر سے پہلے کے بعض ادیبوں کے فن پاروں سے مثالیں پیش کی تھیں۔فاروقی صاحب نے اس مضمون پرنہ صرف پسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ کتاب کے نئے ایڈیشن میں ان سفارشات کو شامل کرلیا۔نیز مقدمے میں بطور خاص عبدالرشید صاحب کا ذکر کیا۔اس واقعہ سے فاروقی صاحب کی علم دوستی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ہماری نسل نے شمس الرّحمان فاروقی کو کیسے دیکھا اور کیسا پایا؟- ڈاکٹر صفدرامام قادری )

شمس الرحمن فاروقی کی زندگی کا اہم ادبی واقعہ فراق گورکھ پوری اوراحمد مشتاق کے سلسلے میں ان کا وہ خطاب تھا جو انھوں نے الہ آباد میں ادارہ فن وادب کے زیر اہتمام ڈاکٹر سہیل احمد زیدی مرحوم  کی خاص دعوت پر دیا تھا۔بعد میں یہ خطاب تحریری صورت میں شب خون میں شائع ہوا۔ فاروقی صاحب نے  احمد مشتاق کو فراق سے بڑا شاعر قرار دیا تھا۔فاروقی صاحب نے دونوں شعرا کے مشہور ترین اشعار کو بنیاد بنایا،۔انہوں نے دونوں شعرا کے دس دس اشعار سامنے رکھ کر ان کا فکری اور فنی تجزیہ کیا اور اس روشنی میں یہ نتیجہ نکالا کہ فراق کی شاعری کا بڑا عیب حشو ہے۔فراق کی شہرت اور مقبولیت کو سامنے رکھیں اور ان کے اشعار کی کمزور بندش اور دیگر شعری عیوب کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شمس الرحمن فاروقی فراق کی عظمت کے قائل نہیں تھے۔ ایک موقع پر نصاب کے سلسلے میں شعرا کی فہرست مرتب ہورہی تھی توفاروقی صاحب کو دیکھ کر کچھ لوگو ں نے فراق کا نام ہٹانا چاہا تو انھوں نے کہا نہیں اپنے عہد اور بعد کے شعرا پر فراق کے گہرے اثرات ہیں۔

ادھر کئی برسوں سے میں خان محبوب طرزی پر کام کررہا تھا۔میری یہ کتاب ’خان محبوب طرزی:لکھنو کا مقبول ناول نگار‘ زیر طبع ہے۔دو سال قبل جب اس کتاب کے بارے میں ذکر کیا اور پہلا مسودہ دکھا یا تو بے انتہا مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کتاب میں طرزی کا ایک سائنسی ناول’سفر زہرہ‘ بھی شامل کرو اس کے بغیر کوئی بھر پور تاثر نہیں قائم ہوگا،کیونکہ اردو میں ان کے ز مانے میں یہ بالکل نئی چیز تھی۔اس سے کتاب کی رونق بڑھ جائے گی۔قدر و قیمت بڑھ جائے گی اور خان محبوب طرزی صاحب کی روح بھی آپ کو دعا دے گی‘۔شمس الرحمن فاروقی صاحب نے طرزی کے سائنسی ناولوں میں دو دیوانے،سفر زہرہ اور برق پاش کی بطور خاص تعریف کی نیز یہ بھی کہا کہ”’برق پاش‘ میں نے ستر سال پہلے پڑھا تھا مگر اس کا تاثر اب تک قائم ہے

امید تھی کہ دسمبر اوائل میں کتاب چھپ جائے گی۔ انھوں نے کتاب کے لیے پیش لفظ لکھنے کا وعدہ کیا تھا۔۹،نومبر کو فون آیا کہ میل آئی ڈی بتاؤ دو صفحے گھسیٹ دیے ہیں.اب لکھا نہیں جاتا۔طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔غالباً شمس الرحمن فاروقی صاحب کا کسی کتاب پر آخری پیش لفظ ہوگا۔ان کی محبت اور عنایت ہمیشہ شامل حامل رہی رہے۔ میری پہلی مرتبہ کتاب ’مولانا ابو اللیث ندوی کے قرآنی مقالات‘2000 میں چھپ کر آئی تو ایک کاپی میں نے فاروقی صاحب کو پیش کی۔انھوں نے نہ صرف حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ کتاب کا ایک مضمون ’قرآن مجید اور سجع‘ کی تلخیص ’شب خون‘ میں شائع بھی کی۔فاروقی صاحب کی شفقتیں اور عنایتیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔

شعبہ اردو

مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی۔لکھنؤ کیمپس

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment