پچھلے پچاس ساٹھ برسوں کی اردو تنقید بلاشبہ شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی، گوپی چند نارنگ اور شمیم حنفی سے عبارت ہے۔ یہ چار ستون اردو کے تنقیدی، علمی، تہذیبی اور ادبی و سیاسی مباحث کا مکمل حوالہ ہیں جن کی کتابیں ، نظری مباحث اور باہمی تنقیدی اور علمی اختلاف، نئی تنقید کی بنیاد ہے جس سے رو گردانی کر کے کوئی مکالمہ اب ادب کی تنقید میں ممکن نہیں ۔ دوسری طرف شمس الرحمن فاروقی ابتدا میں تخلیق کی دنیا میں اپنی شاعری کے حوالے سے متعارف ہوئے لیکن ان کی علمی شناخت میں چارچاند ان کی فکشن نگاری نے لگایا ۔ ساٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزشتہ تین چار صدیوں کی تہذیبی و ادبی تاریخ کا مطالعہ کرنے میں صرف کرنے کے بعد ان کا ذہن اردو کے تہذیبی متن ، ادبی جہان گم گشتہ، مسلم معاشرت، روزمرہ، زبان وبیان اور ثقافتی زندگی سے روشن ہو چکا تھا جس کا ایک باب’ شعور شعر انگیز‘ اور داستانوں پر ان کی تنقید میں کھلتا ہے اور دوسرا ’سوار اور دیگر افسانے‘ ، ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ اور’ قبض زماں‘ میں ، یہی دوسرا باب ان کی تخلیقیت کا دلکش اور ناقابل فراموش مظہر ہے اور یہ مظہر اسی طرح توانا ہے جس توانائی سے وہ بہ طور نقاد اردو میں معروف ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں شمس الرحمن فاروقی اور شب خون- سیفی سرونجی)
ہر بڑے تخلیقی اور تنقیدی ذہن کے بارے میں لوگوں کی مختلف آرا ہوتی ہیں، بعض لوگوں کے لیے ان کا ہر حرف ، حرفِ آخر ہوتا ہے، بعض ان کے نکتہ چیں ہوتے ہیں ، بعض کے لیے و ہ متنازعہ ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کے لیے ان کا قد کسی دیوتا سے کم نہیں ہوتا۔بلاشبہ فاروقی صاحب ہمارے لیے دیوتا بھی تھے،متنازعہ بھی اور تنقید کے میدان میں ایک قدآور شخصیت بھی ۔ وہ ہمارے لیے دیوتا کیوں تھے؟ ان کی تنقید کی ترجیحات کیا تھیں؟ شعر فہمی کے کون سے نئے ابواب ان کے مضامین کھولتے ہیں اور افسانے کے مباحث میں ان کا موقف کیا تھا؟ لغت، اصنافِ ادب، روزمرہ، داستان اور املا پر ان کے افکار کی ادبی اہمیت اردو ادب کی تاریخ میں کیا ہے؟ اس پر پہلے بھی باتیں خوب ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی۔ ہر عہد شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی افکار اور کام کو اپنے سماجی، معاشرتی اور علمی پیمانوں اور حوالوں سے پرکھتا رہے گا، اور یہی شانِ قلندرانہ ہوتی ہے جس کے ساتھ بڑا ذہن دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہتا ہے، انھیں کریدتا ہے ،ڈسٹرب کرتا رہتا ہے اور نئی علمی منازل کی تلاش کے لیے تیار کرتا ہے۔
اردو دنیا سے باہر فاروقی کی شناخت جہاں اردو کے ایک بڑے نقاد کی ہے وہیں تاریخی اور تہذیبی فکشن نگار کی بھی ہے جس کا سبب’ کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ اور ’سوار اور دیگر افسانے‘ کا انگریزی اور ہندی ترجمہ بھی ہے۔اردو والوں کے لیے یہ تہذیبی دنیا بیگانہ نہیں تھی لیکن بھارت کی دوسری زبانوں میں لکھنے پڑھنے والوں کے لیے یہ کسی نئی دنیا کی دریافت سے کم نہیں تھا۔ اسی سبب جہاں فاروقی صاحب کی رحلت نے اردو دنیا کو سوگوار کر دیا ہے وہیں ملک کی دوسری زبانوں کے قارئین اور ادیب بھی رنج و غم میں مبتلا ہیں۔ہندی کے مشہور افسانہ نگار اودے پرکاش نے فاروقی صاحب کی رحلت کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیا ہے اور لکھا ہے کس طرح ان کے افسانوں کو فاروقی صاحب’ شب خون‘ میں شائع کرتے تھے، نیز فاروقی صاحب نے زبانوں اور تہذیبوں کے مابین فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انگریزی ادیب اور فوٹو گرافر مینک آوسٹن صوفی نے فاروقی صاحب پر’ ہندستان ٹائم‘ میں ایک تعزیتی مضمون لکھا ہے اور ان کی علمی اور ادبی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ہندی کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے’ وانی پرکاشن‘ کی سی ای او، ادیتی گوئل نے فاروقی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ملک کے اہم تخلیق کار کی رخصتی کہا ہے جبکہ کشمیری انگریزی شاعرہ آسیہ ظہور نے فیس بک پر فاروقی صاحب کے انتقال پر اپنے سوگ کا اظہار کیا ہے۔غرض کہ ہندی، انگریزی، مراٹھی، سندھی، آسامی، تلگو اور دیگر زبانوں کے لکھنے والے اسی طرح دل برداشتہ ہیں جس طرح جہانِ اردو ہے۔ این ڈی ٹی وی پر روش کمار ، ای ٹی وی اردو اور چائنل 18 اردو نیوزکی طرح متعدد پلیٹ فارم فاروقی صاحب کے انتقال پر ایک ادبی سرمائے کی رحلت کا سوگ منارہے ہیں دوسری طرف ممبئی اردو نیوز، بی بی سی، انڈین ایکسپریس اور دوسرے صحافتی ادارے بھی اس غم میں برابر شریک ہیں۔
فاروقی صاحب کی رحلت ایک دیدہ ور ، دانشمند، عالم ، تخلیق کار اور پرسوز دل رکھنے والے شخص کی رحلت ہے ۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جنھیں فاروقی صاحب کی معیت نصیب ہوئی اور اس فہرست میں ہم میں سے بیشتر لوگ شامل ہیں کہ فاروقی صاحب اپنی تمام مصروفیات کے باوجود آدم بیزار نہیں تھے۔ وہ لوگوں، قارئین اور جونیئر لکھنے والوں سے رابطے میں رہا کرتے تھے۔ ان کی تخلیقات کو دیکھتے، مشورہ دیتے اور سنوارنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ہم جانتے ہیں وہ رقیق القلب اور ملنسار شخص تھے ، اختلاف کو پسند کرتے تھے اور ادب میں علمی اختلافات کی اہمیت کو خود بھی اپنے افکار سے اجاگر کرتے تھے۔ ان کے اندر رنجش جیسی کوئی بات نہیں تھی ، کسی سطح پر منافقت نہیں تھی۔ ان کے جی میں جو بات ہوتی وہ بلاتعمل اس کا اظہار کرتے ، میں نے جو بہت ساری باتیں ان سے سیکھی ہیں ان میں یہ بھی ایک ہے کہ ادب کی محبت پر شخصی محبت کو قربان کر دینا چاہیے۔
ان کی رحلت کا غم بڑا غم ہے ،خدا جانے ہم سب اس غم سے کب اور کس طرح ابھریں گے۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

