”جیمس جوائس جن دنوں پیرس میں مقیم تھا اور اپنے ناول Fennegans wake پر کام کررہا تھا۔ سیموئل بیکٹ وہاں پہلے سے موجود تھا اور بیکٹ کا اس سے ربط ضبط کسی عقیدت مند شاگرد اور حاضر باش کی طرح کا تھا۔ جوائس کی آنکھیں اس وقت بہت خراب ہوچکی تھیں اور وہ اپنا ناول روزانہ بیکٹ کو املا کراتا تھا۔ ایک دن املا کے دوران کسی نے دروازے پر دستک دی۔ بیکٹ اپنے انہماک کے باعث دستک کو سن نہ سکا تھا لیکن جواب میں جب جوائس نے اسی عام املائی لہجے میں کہا ”آجاؤ“ (Come in) تو بیکٹ نے گمان کیا کہ یہ بھی املا کا حصہ ہے اور اس نے وہ فقرہ یعنی Come inبھی ویسے ہی لکھ دیا۔ بعد میں جب جوائس نے املا کئے ہوئے اوراق بیکٹ کی زبانی سنے اور بیکٹ نے Come inپڑھا تو جوائس نے چونک کر پوچھا ”یہ کیا ہے“؟ بیکٹ نے جواب دیا کہ آپ ہی نے لکھوایاتھا۔ پھر اس نے بتایا کہ فقرہ Come in جوائس نے کس وقت بولا تھا۔ جوائس کچھ دیر تک چپ چاپ غور کرتا رہا، پھر بولا ”ٹھیک ہے اسے رہنے دو۔“
لکھنے کو تو یہ واقعہ ایک معمولی واقعہ ہے کہ املا بولتے وقت ایک لفظ(Come in) تھا جو بے خودی میں لکھنے والا لکھ گیا۔ لیکن اس واقعہ کی تہہ میں کتنی معنویت اور کتنی گہرائی چھپی ہوئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی بادشاہ کو ایک اچھے منشی کی ضرورت پیش آئی تو اس نے اپنی پڑوسی ریاست سے ایک منشی کو بلوانے کے لئے اس کی تحریر نمونے کے طور پر منگوائی۔ اتفاق سے جس منشی کو بلوایاگیا تھا وہ اتنا تنگ دست تھا کہ اپنے نمونے کی تحریر میں بھی ایک لفظ ایسا لکھ گیا کہ گھر میں آٹا نہیں ہے، نمونے کی تحریر لکھتے وقت اس کے گھر میں فاقہ تھا اور بچے اس سے یہی کہہ رہے تھے کہ گھر میں آٹا نہیں ہے، وہی تحریر اس نے نمونے کے طور پر اس بادشاہ کو بھیج دی۔ یہ تحریر پڑھ کر اس بادشاہ نے لکھا کہ جب تمہارا منشی ہی خوش حال نہیں ہے تو تمہار ی رعایا پر کیا گذرتی ہوگی۔ بعد میں کیا ہوا اس تفصیل میں نہیں جانا، کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح ایک لفظ آٹا نہیں ہے اور جس طرح جیمس کابولا ہوا لفظ Come inآگے چل کر ایک تاریخ بن گیا اسی طرح شمس الرحمن فاروقی صاحب کے اداریے، ان کے پیش کئے ہوئے سوانحی گوشے اور خطوط کے کالم میں دیئے گئے مختصر نوٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ایک لفظ بھی فاروقی صاحب نے غلط لکھ دیا تو وہ مستند تسلیم کرلیا جاتا ہے جس طرح جیمس کے ناول میں لفظ Come in غلطی سے لکھ دیا گیا تھا لیکن وہی مستند بن گیا اس لئے کہ یہی تو اہل زبان ہوتے ہیں جن کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سند کی حیثیت رکھتا ہے بلاشبہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کی شخصیت ایسی ہے کہ برسوں پہلے شاید میر تقی میرؔ نے ان کے لئے ہی یہ شعر کہا تھا:
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
لیکن آج شمس الرحمن فاروقی ہمارے بیچ نہیں رہے۔ وہ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ ان کے جانے سے اردو دنیا میں جو خلاء پیدا ہوئی ہے اور جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں ذاتی صدمہ بھی پہنچا ہے،چونکہ ’انتساب عالمی‘ کو ہمیشہ سے ہی شمس الرحمن فاروقی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔آمین۔
٭٭٭٭
سیفی سرونجی، سہ ماہی’انتساب عالمی‘،سرونج
mn-9425641777
email-saifi.sironji2015@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

