شعرو ادب کے سہارے شہرت کا بازار گرم کرنے والوں کی مثالیں تو بہت ہیں مگر اپنی تخلیقی ہنرمندی سے تخلیقیت کی نصف صدی گزارنے والوں کی مثالیں کم ہیں۔سلطان اختر کا شمار ایسے ہی باکمال شاعروں میں کیا جاتا ہے،جنھیں غزل کی طویل رفاقت میسر آئی اور انھوں نے اس رفاقت کو جان سے عزیز سمجھ کر نبھایا۔
شمس الرحمن فاروقی کی ”نئے نام“ (اشاعت 1967)جن ناموں سے اپنے اعتبار کو قائم رکھتی ہے ان میں سلطان اختر بھی شامل ہیں۔جدیدیت کے ابتدائی ز مانے سے اب تک غزل کی وادی میں سرگرم رہنے والے سلطان اختر کی شاعری کے بہت سے امتیازی پہلو اور جہتیں ہیں۔اہل ہنر ان کی داد بھی دیتے رہے ہیں لیکن یہ فن کار کی عجیب و غریب سعادت ہے کہ اس کا ہر قاری اپنے اپنے زاویے سے داد ہنر دیتا ہے۔
سلطان اختر صاحب نے ایک سرگرم شعری زندگی گزاری ہے۔ انھوں نے مشاعروں کے اسٹیج سے ایک معیاری شاعری کے لیے راستہ ہموار کیا توان کی غزلیں مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوکراردو کی نئی شعری روایت کو مستحکم بھی کررہی تھیں۔اپنے طویل تخلیقی تجربے میں سلطان اختر نے جوشعری کائنات بنائی وہ آج بھی تخلیقیت سے عبارت ہے۔انھوں نے جدیدیت سے منسوب لفظیات کا سہارا لیا۔ تحت بیانی کا آرٹ جسے شہر یار سے منسوب کیاجاتا ہے سلطان اختر کے یہاں بھی موجود ہے البتہ جدیدرجحان کے بعض دوسرے شعرا کی طرح انھوں نے زبان و بیان کے نئے سانچے مرتب نہیں کیے۔سلطان اختر نے زبان وبیان کی سطح پر جو تجربے کیے وہ سادہ بیانی اور سادگی سے عبارت ہیں۔ وہ سادہ بیانی اور روزمرہ کو بہت فن کارانہ انداز میں اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں۔یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں لفظوں کے استعمال میں کسی قسم کا انتخاب نہیں ہے۔بلکہ کسی تکلف یا تردد کے بغیر وہ لفظوں کو تخلیقی سطح پر استعمال کرتے ہیں۔
اورکب تک میں کروں مدح سرائی اپنی
مجھ کو توفیق دے یارب کہ میں تیرا ہوجاؤں
سلطان اختر کے شعری جہان کی رنگارنگی قابل دید ہے۔زندگی کے عام اور سادہ تجربوں کوبہت آسانی کے ساتھ وہ پیش کرتے ہیں۔ ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ یہ کوئی بڑا اور حیرت انگیز تجربہ ہے مگر ان کی سادگی اور سادہ بیانی میں بہت کچھ پوشیدہ رہتا ہے غالبا اسی لیے ان کی شاعری میں آنکھ،حیرت اور آئینہ جیسے الفاظ کا استعمال انھوں نے کثرت سے کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ شوق نیموی کی غزل گوئی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )
جدیدیت سے وابستہ شعرا پر ایک زمانے میں یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ ”کرلو جدید شاعری لفظوں کو جوڑ کے“۔بعض شعری تجربوں نے اس کا جواز بھی فراہم کیا لیکن ظاہر ہے کہ جدید شعری روایت کا یہ بہت اہم تجربہ نہیں کہا جاسکتا۔سلطان اختر کے بیشتر شعری تجربوں میں سنجیدگی اور اک نوع کی بے پروائی شامل ہے یعنی وہ اس کا بہت ڈھونڈرا نہیں پیٹتے بلکہ خاموشی سے جو کچھ کرنا کرگزرتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنے بنائے راستوں سے کوئی نئی راہ نکالناآسان نہیں البتہ نئے راستوں کے لیے ضروری نہیں کہ پرانی لکیر گم کردی جائے یا جدت کے شوق میں تماشاکیا جائے۔شاعری کے نئے تجربوں میں چونکہ یہ سب بھی ہوا اسی لیے کہنے والوں کو ایک موقع ضرور مل گیا۔
سلطان اختر کے یہاں بہت سے ایسے اشعار ملتے ہیں جن میں نئی فکر اور جدید شعری رجحان کا کی گھن گرج زیادہ کہی جاسکتی ہے لیکن یہاں بھی ان کی یہ کوشش دیکھی جاسکتی ہے کہ انھوں نے عام شعری رویوں سے کسی حد تک خود کو بچا رکھا ہے۔فیشن اور رواج کے بجائے ادبی اقدار کی پاس داری واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔
چاند کا گھر ویران پڑا تھا سورج کا دروازہ بند
سونی راہوں پر تاریکی دری بچھا کر لیٹ گئی
ِ
لہو میں لذت کے پھول مہکے
بدن پہ خواہش کی گھاس نکلی
کچھ ضد ہوگئی ہے مجھے اپنے آپ سے
پیتا ہوں اپنا خون تو پیاسا نہ جانیے
ایک لمبی گونج سے روشن فضائے نیم شب
لوح دل پر تہہ بہ تہہ نقش نوا بنتا ہوا
نہ کوئی در نہ دریچہ عجب حصار میں تھا
تمام عمر میں تنہائیوں کے غار میں تھا
ان اشعار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان اختر نے اپنے عہد کے حاوی رجحان کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ اس کے خوش رنگ مناظر سے اپنی شاعری کے گل بوٹے سجانے میں کسی تکلف سے کام نہیں لیا۔تنہائی یا احساس محرومی کے ان جذبات کو جو کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بہت عام تھے سلطان اختر نے وسیع تناظر میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ان اشعارسے آشوب جاں کامنظرنامہ بھی ترتیب دیا جاسکتا ہے۔
ان کا ایک شعر بہت مشہور ہوا۔اس سے سلطان اختر کے طرز شعر گوئی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ہم مطمئن ہیں اس کی رضا کے بغیر بھی
ہر کام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی
اس شعر میں انکار خدا کا معاملہ نہیں ہے بلکہ بے چینی اور اضطراب کے بجائے اطمینا ن کی وہ کیفیت ہے جس نے برداشت کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔اقبال نے کہا تھا کہ ’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے‘۔
دراصل یہ وہ ماضی ہے جس میں ہماری بہت سی تہذیبی اور مذہبی قدروں کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرت وابستہ تھی زمانی فاصلے نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔ماضی سے یہی بعد احساس زیاں کو جنم دیتی اور مزید دوری سے یہ زیاں کا احساس بھی جاتا رہتا ہے اور پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے جسے کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔رضا کے بغیر اطمینان کی صورت عصر حاضر میں دیکھی جاسکتی ہے۔اضطراب اور بے چینی کی وہ کیفیت جو ہمارے بزرگوں کا چلن تھا باقی نہیں رہا۔
سلطان اختر کی شاعری میں ان کا ماضی بھی ہے۔اوروہ تہذیب،ثقافت اورتاریخ کہ جس نے زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربوں کی شکل اختیار کرلی ہے۔ماضی کی یہ جہتیں کہیں تاریخ و تہذیب کا استعارہ ہیں تو کہیں یاد اور ماضی کی شدید آگہی کا منظرنامہ۔سلطان اختر اشیا کو ماضی سے قریب تر کرکے بھی دیکھتے ہیں۔کبھی وہ ماضی کے آئینے میں حال کوآہنگ کرتے ہیں تو کبھی حال کو ماضی کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی یہی کوشش اس جذبے اور شوق کو مہمیز کرتی ہے جسے خود احتسا بی کہا جاسکتا ہے۔گزرے ہوئے دن نالہ و ماتم کا بھی سامان فراہم کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو مجبور محض بنا دیتے ہیں مگر یہاں فن کار نے کوشش کی ہے کہ اس کے متعدد پہلو دیکھے جائیں۔اسی وجہ سے گزرے ہوئے دن یاد کے ساتھ ساتھ ایک نئی سمت کا پتا دینے والے بن جاتے ہیں اور اس کی سب سے عمدہ صورت خود احتسابی کی ہے۔
مجھ کو روتادیکھ کر ماضی کا چہرہ کھل اٹھا
صورت امروز سے فردا کا اندازہ ہوا
زمانہ گزار مگر اب بھی یاد روشن ہے
اذانیں ڈھونڈ رہی ہیں بلال کی آواز
دنیا سے خائف ہوں گے دنیا والے
ہم تو اپنے آپ سے ڈرتے رہتے ہیں
سمٹ جائے گی تاریکی جہاں سے
کوئی آئے گا روشن غار سے پھر
اب سر جھکائے بیٹھے ہیں عزت مآب لوگ
قدموں میں ان کے تھے جو زمانے کہاں گئے
عمر بھر بیٹھ کے رونا کوئی آسان نہیں
اپنی یادیں بھی لیے جاؤ بچھڑنے والو
سلطان اختر اپنے تجربات کو بہت ہی آسان اور سادہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔بڑی سے بڑی بات بھی وہ اسی انداز میں کہہ جاتے ہیں۔یہ سادگی دھوکا بھی دیتی ہے اور لطف بھی۔پہلے ہی شعر ’ماضی کا چہرہ‘یا’چہرہ کھل اٹھا‘دونوں طرح سے لطف کا سامان رکھتے ہیں اور دوسرے مصرعے میں صورت شکل کے معنی میں نہیں ہے لیکن پہلے مصرعے کی مناسبت سے صورت کا لفظ بہت ہی برمحل ہے۔اور پھر امروز و فردا کی زمانی کییفیت۔غرض شعر کی جو صورت گری یہاں کی گئی ہے وہ بہت عمدہ ہے۔دوسرے شعر میں سمعی پیکر یعنی آواز، آواز کو تلاش کررہی ہے۔ حضرت بلال کی تلمیح۔تیسرے شعر میں خود احتسابی کی کیفت نمایاں ہے۔چوتھا شعر گرچہ غزل کا ہے مگر اس میں نعت کا رنگ نمایاں ہے۔یہاں تاریکی اور روشن کا تضاد اپنی جگہ۔مگر اسی کے ساتھ دوسرے مصرعے میں ’روشن غار سے پھر‘کا فقرہ بھی قابل غور ہے۔یہ ہدایت کی روشنی ہے اور گمراہی کی تاریکی۔اگلا شعر ازوال و نکبت کا علامیہ ہے۔اس گزرے زمانے کو لوگ یاد کررہے ہیں۔آخری شعر غزل کا عام مضمون ہے جس میں بچھڑنے والے سے کہا جارہا ہے کہ اپنی یاد بھی ساتھ لیے جاؤ۔تم نہیں توپھر تمہاری یاد سے میں دل نہیں بہلا سکتا۔جذبات کی شدت بھی اسے کہہ سکتے ہیں۔ان اشعار کے مطالعہ سے سلطان اختر کی شعری کاریگری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ سلطان اختر کے یہاں آنکھ،حیرت اور آئینہ جیسے الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔کسی ایک لفظ کو شاعری میں بار بار برتنا اور اور ہر بار کوئی نیا پہلو لانا آسان نہیں ہوتا سلطان اختر کا کمال یہی ہے کہ ایک لفظ کو بار بار برتنے کے باوجود اس کی تازگی برقرار رکھتے ہیں۔
جسے آنکھوں میں بھر کر رکھ لیا جائے
وہ منظر رو بہ رو باقی نہیں ہے
تشنگی چاٹتی رہتی ہے مری آنکھوں کو
ہر سمندر مجھے بے آب نظر آتا ہے
آنکھوں میں نئے خواب منور نہیں ہوتے
اب دل میں تمناؤں کا میلہ نہیں لگتا
ْْْٰٰٓخواب آنکھوں سے چنے نیند کو ویران کیا
اس طرح اس نے مجھے بے سروسامان کیا
آنکھوں سے انتطار کا موسم کہاں گیا
ہونٹو ں پہ اک چراغ سا جلتا تھا کیا ہوا
پہلے شعر میں افسوس کا اظہار ہے۔دوسرا شعر بے چارگی اور بے مائیگی کا اعلانیہ ہے۔اس شعر میں بصری پیکر بھی خوب ہے۔سمندر کا بے آب نظر آنا اور تشنگی کا آنکھوں کو چاٹنا۔تیسر ے شعر میں افسوس کااظہار ہے کہ وہ دل جو آرزوؤں اور تمناؤں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا اب وہاں تمناؤں کامیلہ نہیں لگ رہا ہے۔اگلے شعر میں بے سروسامانی کی کیفیت۔آنکھوں سے خواب کا چننے کااستعمال بھی بہت عمدہ ہے اور اسی کے نتیجے میں بے سروسامانی آئی ہے۔آخر شعر بھی قابل غور ہے کہ یعنی امید کا جو ایک ٹمٹا سا دیا تھا وہ بھی نہیں معلوم کہا چلا گیا۔ان اشعار میں محاوراتی کیفیت بھی ہے۔بالعموم آنکھ علامت یا استعارہ نہیں ہے لیکن دوسرے الفاظ سے مل کر جو صورت پیدا کی ہے وہ بہت خوب ہے۔ اسی تسلسل میں لفظ حیرت کی حیرانیاں بھی دیکھیں۔
حیرتوں کے چراغ جلنے لگے
جب بھی روشن ہوا کمال اس کا
ہمارے عہد کے حیرت کدے میں
کسی کو کوئی ویرانی نہیں ہے
عکس حیرت کے سوا کچھ نہ تھا آئینے میں
اپنی آنکھوں کو بہت میں نے پریشان کیا
حیرت کے مختلف پہلو یعنی کمال کی وجہ سے حیرت کا پیدا ہونا،حیرت کی ویرانی اور آئینے میں حیرت کا عکس وغیرہ۔
آئینہ تو روز بدلتا رہتا ہوں
کب اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے
آئینہ آئینہ جمال اس کا
ہر طرف عکس لازوال اس کا
خود سے ملے تو اپنی نگاہیں لرز گئیں
اب آئینے میں عکس بھی اپنا نہیں رہا
جب سے ان کے عکس کی خوش بو ملی ہے
آئینے مغرور ہوکر رہ گئے ہیں
خوابوں کا شہر یادوں گا گھر آئینے کا ہے
جو کچھ ہے رو بہ رو وہ ہنر آئینے کا ہے
ان اشعار سے سلطان اختر کی شعری خوبیوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ ایک ہی لفط کو بار بار کس طرح برتتے ہیں۔جیسا کہ شروع میں لکھا جاچکا ہے کہ ان کے یہاں زندگی کے بہت سے تجربات ہیں اور ان تجربات کی اہم خوبی یہ ہے کہ وہ سادہ اور عام فہم ہیں۔ان کے یہاں عشق و محبت کی داستان کسی ہیجانی کیفیت کی متلاشی نہیں بلکہ وہ لمحہ وصل کو بھی دیوار صبر و ضبط قرار دیتے ہیں
ایسا نہ ہوا کہ گر پڑے دیوار صبر و ضبط
اتنی حیا تو چشم ملاقات میں رہے
اس کی ایک جہت یہ بھی ہے:
نظر سے دور سہی پیکر جمال سہی
مجھے وہ خواب میں سرشار کرتا رہتا ہے
سلطان اختر کے یہاں ضبط و صبر کے ساتھ ساتھ قناعت کا جو ہر بھی ہے۔کار دنیا سے خود کو مصرو ف تو رہتے ہیں مگر ان کی سب سے بڑی دولت بے نیازی ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں
مجھے اب تنگ دامانی نہیں ہے
قناعت کے خزانے مل گئے ہیں
ضرورت سر اٹھاتی ہی نہیں اب
قناعت کی نگہبانی میں ہم ہیں
میں کہ بس کاسہ خالی کے سوا کچھ بھی نہیں
اب تو مجھ کو بھی نہیں کوئی ضرورت میری
یہ اور اس طرح کے بے شمار اشعار ہیں جن سے سلطان اختر کے فکر و فن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطان اختر اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو مایوس نہیں کرتے اور تخلیق کی نت نئی دنیا اس کے سامنے خلق کرتے رہتے ہیں۔یہ دنیا چاہے جیسی بھی ہو مگر اس کا ایک حسین پہلو روایت اور انحراف کے توازن سے عبارت ہے اور یہی سلطان اختر کی غزل کا سب سے بڑا جواز ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
آپ کے بہت ہی معیاری ادبی ویب ساءٹ پر بہت ہی اچھے مضامین کے مطالعہ کا موقع ملا ۔ اس کے لءے شکریہ م