صارفی معاشرت نے بہت کچھ سلب کیاہے، احساس بھی، اظہاربھی اور وہ الفاظ بھی،جن کی ذراسی گونج سے تاریک اور اندھیرے مکانوں میں روشنی سی ہونے لگتی تھی، یہی لفظ مکان کو مقبرہ بننے سے بچاتے ہیں،مگر صارفی طرزاحساس نے ان لفظوں سے ہمارا رشتہ منقطع کردیاہے،جو کتابوں کی صورت میں خیالات کی نئی کائنات آباد کرتے تھے، حیات وکائنات کے نئے دراوردریچے کھولتے تھے، جن شبدوں سے یہ دنیا شاداب تھی، وہ اب گم ہوتے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر جسیم الدین نے کتاب کلچر کے زوال کے اس دور میں کتابوں سے نہ صرف تعلق قائم رکھاہے، بلکہ ان کتابوں کی کیفیت، کمیت اور کوائف سے دوسروں کو روشناس کرانے کے عمل کوبھی جاری رکھاہے، کیوں کہ انھیں یہ احساس ہے کہ انھی کتابوں کی وجہ سے ہمارے خواب وخیال زندہ ہیں، کتابیں نہ ہوتیں تو خواب مرچکے ہوتے اور خیالوں کی دنیااجڑچکی ہوتی۔
کتاب ہی ہمیں روشنی دیتی ہے، راستے دکھاتی ہے،روایت سے رشتہ جوڑتی ہے اور نئی لہروں سے آشنا بھی کرتی ہے، ہمارا ذہنی وجود انھی کتابوں سے روشن اور تابناک ہے۔ڈاکٹر جسیم الدین نے کتابوں کے مطالعاتی لمس سے نہ صرف اپنے ذہن کو توانااو رتابندہ کیاہے، بلکہ اپنے دوسرے احباب کو بھی اس میں شریک کیاہے، وہ صاحب ذوق ہیں، اس لیے انھیں پتہ ہے کہ مطالعہ کا ذائقہ سب سے مختلف اور مرغوب ہوتاہے اور یہی وہ مطالعہ ہے، جس سے ذہنی افق کو وسعت ملتی ہے، ورنہ آج کے صارفی دور میں ذوق وجستجو سے عاری افراد کے لیے کباب کا ذائقہ کتاب کے ذوق سے زیادہ اہمیت رکھتاہے اور شاید اسی وجہ سے معاشرے پرصارفیت کے زیر اثر کبھی کبھی اس طرح کا احساس بھی جنم لیتاہے:
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کہ کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
یہ سوال اس مادی معاشرے سے ہے، جس نے ہماری تہذیبی اور ادبی قدروں کو لایعنی بنادیاہے، ایسے دور میں اگر کوئی کتابوں سے رشتہ رکھتاہے اور ان کتابوں کے حوالے سے جذبات واحساسات کو تحریری شکل دیتاہے تو وہ یقیناً قابل مبارکباد ہے۔
ڈاکٹر جسیم الدین نے کتابوں کے باطن میں حیات وکائنات کے نئے زاویے تلاش کیے ہیںاور احساس واظہار کے ان جزیروں کو دریافت کیاہے،جو ہماری آنکھوں سے اوجھل تھے، انھوں نے کتاب کے دروں میں ان لہروں او رموجوں کا اکتشاف کیاہے جو مکمل قرأت کے بعدسامنے آتی ہیں،کتابوں کے باطنی تموج سے آشنائی کا زینہ تبصرے ہوتے ہیں اور یہی تبصرے کتاب کی داخلی وخارجی ساخت اور اس کے خدوخال سے روشناس کراتے ہیں۔ڈاکٹر جسیم الدین نے کتاب کے ہر حرف اور ہر سطر سے رشتہ استوار کرکے کتاب کی ہیٔت،ماہیت اور کوائف سے صرف روشناس نہیں کرایاہے، بلکہ اس کیفیت میں قاری کو بھی شامل کیاہے۔
ڈاکٹر جسیم الدین کے تبصروں کاموضوعاتی دائرہ وسیع ہے، بعض ایسے موضوعات ہیں،جن سے عوام وخواص دونوں کو دلچسپی ہے۔ ان میںتنوع کا خاص خیال رکھا گیاہے، اسلامیات، اردو،عربی ادبیات، تراجم ودرسیات اور رسائل وجرائد جیسے موضوعات کے تحت جن کتابوںپرتبصرے کیے ہیں ،ان میں بعض بہت بیش قیمت ہیں،مثلاً: اسلام اور میڈیکل سائنس، تصوف نیا تناظر، اسلامی علوم ومعارف اور ادبیات کے ذیل میں القصۃ والروایۃ العربیۃ، تطور الآداب العربیۃ فی الھند،عکس ونقش، علمائے دیوبند کی اردو شاعری،جدو جہد آزادی میں وہابی ادب کا کردار، واجدہ تبسم: اذکار وافکار،اردوکے فروغ میں غیر مسلم قلم کاروں کا کردار، مدارس کی اردو صحافت اور تراجم ودرسیات کے ذیل میں نظرات فی کتاب اللہ (کسی خاتون کے قلم سے منظر عام پر آنے والی پہلی تفسیر)فقہ السنۃ(عظیم فقہی انسائیکلو پیڈیا،تین جلدیں)،عہد عباسی میں ترجمہ نگاری اور اردو عربی رسائل وجرائد کے ذیل میں الاحسان،انداز بیاں،اور اس طرح کی اور بھی بہت سی کتابیں ہیں، جنھیں ڈاکٹر جسیم الدین نے اپنے مطالعہ اور تبصرے کا محور بنایاہے۔یہ وہ کتابیں ہیںجو بڑی اہمیت ومعنویت کی حامل ہیں اور ان کتابوں سے ہمیں نئی روشنی ملتی ہے۔ظاہر ہے کہ تمام کتابوں تک عام لوگوں کی رسائی نہیں ہوپاتی، وسائل کی فراوانی کے باوجودرسائی کے امکانات کم ہیں،اس لیے ان کتابوں سے تبصرو ں کے ذریعے ہی آشنائی کی صورت نکلتی ہے۔ان تبصروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں تعصبات اورترجیحات سے گریز کیا گیاہے اور ہر وہ کتاب ان کے تبصرے میں شامل ہے،جو معاشرے کے لیے مفیدہے، ڈاکٹرجسیم الدین نے تبصرے میں اختصار،استناد اور جامعیت کا التزام رکھاہے اور معروضیت ومقصدیت کا بطور خاص خیال رکھاہے۔
کتاب کے مافیہ اور اجزاو عناصر پر اختصار میں گفتگو کی ہے، مگر اس میں اتنے اشارات موجود ہیں کہ قاری کتاب کے جملہ مضمرات ومحاسن سے واقف ہوسکتاہے۔انھوں نے تبصروں کے ذریعے موضوع اور موادسے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ کتاب کے مشمولات کی اہمیت ومعنویت سے بھی متعارف کرایاہے اور تبصرے میں تعریض وتنقیص سے گریز کرتے ہوئے تشجیعی انداز اختیار کیاہے۔
ڈاکٹر جسیم الدین کے تمام تبصرے کتابوں کی اس کائنات میں لے جاتے ہیں،جہاں معلومات کا بیش بہا خزینہ ہے۔ڈاکٹر جسیم الدین کے یہ تبصرے سرسید کی آئین اکبری پر مرزا اسد اللہ خان غالب کی تقریظ کی طرح نہیں ہیں، بلکہ تحسینی طرز اختیار کیاگیاہے، تاکہ لکھنے والوں کا تخلیقی عمل جاری رہے اور وہ امکانات کی نئی دنیا تلاش کرتے رہیں، حوصلہ شکنی سے نہ صرف تخلیق کا عمل رک جاتاہے، بلکہ ادبی خسارہ بھی ہوتاہے۔تبصرہ کتاب اور قاری کے درمیان رابطے کا ایک پل ہوتاہے اور ڈاکٹر جسیم الدین نے تبصرے کے ذریعے اس پل کو اور مستحکم کیاہے، یہ تبصرے نہ صرف متجسس اور متلاشی ذہنوں کو راستہ اور روشنی دکھاتے ہیں،بلکہ عام قاری کو بھی کتابوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جسیم الدین کے ان تبصروں کا امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنا دائرہ صرف اردو ادبیات تک محدود نہیں رکھا،بلکہ عربی ادبیات پر بھی انھوں نے گراں قدر تبصرے کیے ہیں، خاص کر وہ کتابیں جو ہندوستانی تناظر میں خصوصی اہمیت کی حامل ہیں، مثلاً:دلیل الجرائد والمجلات العربیۃ فی الھند، تطور الآداب العربیۃ فی الھند یہ وہ کتابیں ہیں جو ہمیں دوسری زبانوں کے تموجات سے آشنا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر جسیم الدین کے تبصروں کی موضوعاتی ترتیب وتبویب بھی بہت عمدہ ہے، انھوں نے ہر طرح کے ذوق اور ذہن رکھنے والوں کا خیال رکھاہے،کیوںکہ ہرقاری کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، ان کے اپنے ذہنی اورجمالیاتی تقاضے ہوتے ہیں۔’شعاع کتب‘ کے بیشتر تبصرے ہندوستان کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ’انقلاب‘ میں شائع ہوئے ہیں، اس لیے ان کی رسائی یقیناً بہت دور تک ہوتی ہے اور اب یہ کتابی شکل میں شائع ہو رہے ہیں تو اسے قارئین کا ایک نیا حلقہ میسر ہوگا اور جو افراد اخبار بینی سے رشتہ نہیں رکھتے،ان کے لیے بھی یہ کتاب مشعل راہ ثابت ہوگی۔یہ قاموس الکتب یا کشف الظنون کے طرز کاکام ہے،اس سے علوم وادبیات پر تحقیق کرنے والوں کو روشنی ملے گی اور تحقیق وتفتیش مشکل راہوں کو آسان کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر جسیم الدین کے تبصروں کا یہ مجموعہ اسی تسلسل کی کڑی ہے جس میں ظ۔انصاری کی ’کتاب شناسی، شمس الرحمن فاروقی کی’’ فاروقی تبصرے‘‘ ڈاکٹر مظفر حنفی کی مرتبہ ’جائزے‘ ماہر القادری کے تبصرے مرتبہ: طالب الہاشمی، آل احمد سرور کے تبصرے مرتبہ: ضیاء الدین انصاری، گیان چند جین کی ’مقدمے اور تبصرے‘ اسلوب احمد انصاری کی ’تنقیدی تبصرے ‘ پروفیسر توقیر احمد خان کی ’تبصرے‘ محمود عالم کی ’تحصیل و ترسیل‘مرتبہ: محمد عارف اقبال، ہمایوں اشرف کی ’معنی نما‘ شکیل دسنوی کی ’بازدید‘ علیم صبانویدی کی ’کتاب سے کتاب شناسی تک‘ سہیل انجم کی ’ مطالعات‘ کوثر مظہری کی ’ بازدید‘ ظفرکمالی کی ’ تحقیقی تبصرے‘ڈاکٹر مشتاق احمد کی کتاب در کتاب مرتبہ: ڈاکٹر وصی احمد شمشاد، ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی کی ’ادبی جائزے: ابعاد بصیرت،تبصراتی تجزیے، بدرمحمدی کی ’ امعان نظر‘ محمد الیاس اعظمی کی ’ کتابیں‘انوار الحسن وسطوی کی ’نقوش قلم‘ رضاء الرحمن عاکف سنبھلی کی’ میزان قلم‘ اب غلام نبی کمارکی’ اردو کی عصری صدائیں‘کے نام آتے ہیں۔تبصروں کے ان مجموعوں سے تبصرے کو بہت استحکام ملاہے۔ڈاکٹر جسیم الدین کی یہ کتاب بھی تبصرے کی روایت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار اداکرے گی۔ہمارے معاشرے میں اگر ان تبصروں کی قدر ہوگی تبھی ہمیں یہ احساس ہوگا کہ صارفی سماج میں بھی ہماری جمالیاتی اور ادبی قدروں کی کچھ سانسیں بچی ہوئی ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

