آج کےاس موجودہ دور میں جہاں ایک طرف تعلیمی نظام میں انقلاب برپا ہو چکا ہے جسکی حقانیت ہر خاص و عام میں افشاں ہو چکی ہے وہیں دوسری جانب مجھے بڑا رنج و الم اس بات کا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے زندگی گزارنے کے طریقے میں بڑی شدت سے گراوٹ آچکی ہےاور ہم سب دنیاوی لہو لعب میں کچھ اسطرح سے الجھ چکے ہیں کہ ہمیں اپنی بے راہ روی کا ذرہ برابر بھی ادراک نہیں اور ہم ہر گزرتے لمحوں کے ساتھ اپنے مخالفین کے بالمقابل رفتہ رفتہ ظلمت کی اتھاہ گہرائیوں میں اوندھے منہ گرتے جا رہے ہیں_ہماری زندگی ہمارے نااہلیوں کی کربناک تصاویر کی عکاسی کر رہی ہے اور اغیار ہمارا تمسخر اڑا رہا ہے لیکن ہم پر ایک ایسا نشہ طاری ہوا ہے جس کے خمار سے ہم اب تک بیدار نہیں ہو سکیں ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود ہی اس نشے سے چھٹکارا حاصل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہمارے سماج کو جتنا نقصان ہمارے جاہل طبقوں سے نہیں ہوا ہے اتنا نقصان شاید ہمارے پڑھے لکھے طبقوں کے نام نہاد عالموں سے ہوا ہے جو بجائے اپنے علم میں پختگی لانے کے اور سماج کے لیے خلوص دل سے فلاحی کام انجام دینے کے ہر روز کچھ ایسے اعمال و حرکات کر گزرتے ہیں جو انکی شخصیت کو زیب نہیں دیتی۔میں اپنے اس بیان کی تائید کے لیے چند مثالیں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس سے میری یہ بات پوری طور پر قاریین کے اذہان میں سما جائے۔ہم نے اکثر پڑھے لکھے گھرانوں میں کچھ ایسے افراد دیکھے ہیں جو بیک وقت کیء زبانوں کے ماہر ہوتے ہیں جس پر ہمیں رشک بھی ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ ہم انہی گھرانوں کے افراد سے کچھ ایسی باتیں سن لیتے ہیں جو بجائے انکے علمیت کے انکے جاہلانہ سوچ کی نشاندہی کرتاہے مثلاً کسی سے بات چیت کے دوران اردو بولتے بولتے درمیان میں وقفے وقفے سے انگریزی زبان کے الفاظ اور جملوں کا بیجا استعمال کرنا جس سے وہ اپنے ہمنواؤں کا دل موہ سکیں _مجھے انگریزی زبان سے نفرت نہیں ہے جسکی وجہ سے میں یہ مثال پیش کر رہا ہوں بلکہ مجھے حیرانگی اس بات پرہوتی ہے کہ آخر ہمارے جانکار شخصیات کی ذہن میں یہ بات کیوں سمای ہوئی ہے کہ ہم اپنے عالم ہونے کا ثبوت صرف اور صرف اسی وقت دنیا والوں کو دے سکتے ہیں جبتک ہم اپنی انگریزی کی مہارت لوگوں کے سامنے نہ دکھا دیں۔ کیا انگریزی زبان سے واقفیت اور اس پر عبور حاصل کر لینے سے کوئی عالم کہلائے جانے کا مستحق ہو جاتا ہے؟ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ فقط کسی زبان سے اچھی طرح سے واقف ہو جانے سے کوئی شخص عالم کے درجہ تک اپنی رسائی کر پاتا ہے کیونکہ ایک عالم محض کسی زبان کے رموز اوقاف کے بنا پر ہی عالم نہیں بنتے ہیں بلکہ وہ زبان کی قواعد و ضوابط کو ایک سیڑھی سمجھتے ہیں اور ایک ایک زینے پر چڑھنے کے بعد وہ اپنے عمیق مطالعے سے اپنے ذہنوں کی آبیاری اور ورزش کرتے ہیں تاکہ انکے علم میں تسلسل پیدا ہو سکے اور وہ اپنے راہ کی ہر روکاوٹوں اور رخنوں کو اپنے علم سے زایل کر سکے۔مجھے اس وقت بھی بہت ذہنی کوفت سے گزرنا پڑتا ہےجب میں اپنے ہی سماج کے چند پڑھے لکھے افراد سے یہ باتیں سنتا ہوں کہ دور حاضر میں اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنا اپنے مستقبل کو تباہ وبرباد کرنے کے مترادف ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ساری کامیابیوں کا راز انگریزی زبان کی مہارت حاصل کرنے میں ہی پنہاں ہیں۔اس امر میں کوئی عیب نہیں ہے کہ زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین اپنے بچوں کو مشہور ومعروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخلہ دلاییں اور انکو اعلیٰ سے اعلیٰ معیاری تعلیم فراہم کروانے کے لیے وہ تگ ودو سے گزریں لیکن ان والدین کو چاہیے کہ وہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو کسی ماہر استاد کی نگرانی میں اردو کی تعلیم سے بھی روشناس کراے کیونکہ اگر اسی طرح ہمارے پڑھے لکھے طبقوں کے اشخاص اردو سے نظر یں چراتے رہیں گے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری یہ شیریں زبان اس صفحہ ہستی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جائے گی اور اسکی اس تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہی ہونگے۔ لہٰزا ہمیں اپنی اس پیاری زبان کی بقاء کے لئے ہر وہ ممکن کوشش کرنی چاہیے جس سے اس کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہونے پائے۔ ہمارے سماج کے اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں کی شادی بیاہ اور یوم ولادت کی تقریبات کےبھی کچھ ایسے مناظر ہماری آنکھوں میں ملحوظ ہیں جسکے ادراک سے مجھے کسی حد تک تعجب ہوتا ہےکہ یہ پڑھے لکھے گھرانوں کے افراد صرف اپنی دولت کی نمایش کے لئے اپنے رقوم کو پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اور ان خصوصی تقریبات کے ذریعہ وہ اپنے عزیز واقارب سے اپنی اس بیجا سخاوت کی دادو تحسین سمیٹنے کے منتظر ہوتے ہیں۔اللہ پاک نے جو دولت انہیں اپنے اذن سے عنایت کی تھیں وہ انہیں بجاے کسی اہم اور جایز کام میں مصرف میں لگانے کے اسے اپنی جھوٹی شان وشوکت کو برقرار رکھنے میں یونہی ضائع کر دیتے ہیں اور اس پر انہیں ذرہ برابر بھی ملال نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گناہ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ انکی نظر میں یہ ایک قابل ستائش کام ہے جسے وہ اپنی مرضی سے انجام دیتے ہیں۔ اہل علم اور دولت یافتہ گھرانوں کی ان متکبرانہ و جاہلانہ تقریبات کی نقالی میں ہمارے متوسط اور نچلے سطح کے افراد بری طرح سے گرفتار ہو جاتے ہیں اور انکی بھی انتھک کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی طرح سے ایسے ہی پر تکلف طعام کا اہتمام کر سکیں جس سے انکی بھی اپنے ہمنواؤں میں خوب پزیرائی ہو سکے۔ ٹھیک اسی طرح ایک اور برایء ہمارے مسلم سماج کے کامیاب تعلیم یافتہ گھرانوں کے افراد میں خصوصی طور پر دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی کامیاب زندگی کے پر سکون سفر میں خود کو اتنا بڑا سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ اپنے سے نیچے طبقہ کے لوگوں کو ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف انہی کو کامیابی سے سرفراز اس لئے کیا ہے کیونکہ وہ بے پناہ صلاحیتیوں کے مالک ہوتے ہیں جبکہ انکے مطابق ہر وہ شخص جو دنیاوی کامیابی کو حاصل کر نے سے محروم ہو جاتا ہے وہ اس روے زمین کے سب سے زیادہ ناکام اور ناکارہ لوگ ہوتے ہیں اور انکی اس مادی دنیا میں کوئی حیثیت و وقعت نہیں ہوتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کے ہمارے معاشرے کے بیشتر کامیاب ترین تعلیم یافتہ افراد کامیابی کے اصل معنی سے ناواقف ہوتے ہیں جسکی وجہ سے وہ خود کو تو کامیاب سمجھتے ہیں لیکن دراصل وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ کامیابی کو برقرار رکھنے کے لئےہمیں اپنی قوم اور ملت کے لوگوں کے لئے کون کون سی خدمات انجام دینی چاہیے جس سے ہماری کامیابی کو دوام حاصل ہو سکے اور ہم اپنے تہزیب و تمدن کا تحفظ صحیح طرح سے کر سکیں۔
افتخار زاہد
پتہ: جے56/2فتح پور ویلیج
روڈ’ گارڈن ریچ’ کولکاتا 24
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

