برادر عزیز نوشاد منظر نے ’ادبی میراث’ کے توسط سے لکھنے والوں کو ایک نیا پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔اس سے پرانے اور نئے مضامین کا جہاں آموختہ ہوتا رہتا ہے وہیں جدید ٹکنالوجی کے توسط سے لکھنے والوں کی شہرت و ناموری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔یہ نئی کوشش اور پہل بلاشبہ قابل مبارک باد ہے۔
نوشاد منظر نے ادب کے ساتھ ساتھ مذہب ،تاریخ اور بعض دیگر موضوعات کے حوالے سے بھی بہت سے اہم مضامین نہ صر ف شائع کیے ہیں بلکہ وہ بھی باقاعدہ ’ادبی میراث‘ کا حصہ بن چکے ہیں۔اس سلسلے کے بہت سے مضامین صرف ہماری معلومات میں اضافہ کا سبب نہیں ہے بلکہ دین اور مذہب سے گہرے شعور اور تعلق کے بھی غماز کہے جاسکتے ہیں۔
ادبی میراث نامی ویب سائٹ کے توسط سے بہت سے نئے قلم کاروں کو پڑھنے اور ان کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔اندازہ ہوا کہ ان کی تخلیقی سرگرمی اور تحقیقی جستجو لائق ستائش ہے اور اس نوع کے پلیٹ فارم ان کے لیے فال نیک کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ایک طرف جہاں انھیں قاری میسر ہیں وہیں تسلسل اور تواتر سے لکھنے کے سبب ان کی تحریر اور فکر میں پختگی بھی پیدا ہوگی۔
برادرم نوشاد منظر کی ویب سائٹ ’ادبی میراث‘ رفتہ رفتہ لوگوں کی توجہ کی مرکز بن گئی ہے۔لوگ اپنے مضامین بھیج رہے ہیں۔نئے قلم کاروں کے ساتھ ساتھ بزرگ اور معتبر لکھنے والوں کی تحریریں اس کی زینت بن رہی ہیں۔بہتر ہوگا کہ وہ مہینہ میں کم از کم کسی ایک اہم یا قدیم کتاب یا کسی ایسے مصنف کے بارے میں جس کی اہم خدمات رہی ہیں۔ مختلف حوالوں سے کئی مضامین شائع کریں۔اصناف ادب کے حوالے سے بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔لسانیات اور لغت پر لکھنے والے بہت کم ہیں اس طرف بھی توجہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ادھر خاکوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اس طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] ادبی میراث کے بارے میں […]