(پریس ریلیز) ۱۶، ستمبر ۲۰۲۱ ، بروز جمعرات ۔پوسٹ گریجویٹ شعبۂ اردو ، مولانا آزاد کالج کی جانب سے جو دو روزہ قومی ویبینا رکا انعقاد کیا گیا ، آج بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔ آج پروفیسر منظر حسین (رانچی یونیور سٹی ) کی صدارت میں کل ۱۰ مقالے پیش کیے گئے۔
پہلا مقالہ مولانا آزاد کالج کے شعبۂ اردو کے طالب علم سرفراز احمد نے پیش کیا اور آزاد کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔دوسرا مقالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ ٔ اردوکے ریسرچ اسکالر محمد اجمل نے ’’مولانا آزاد کا نظریہ حیات‘‘ کے عنوان سے پیش کیااور یہ بتایا کہ انسانی زندگی کا کرب ہمیں مولانا کی تحریروں میں جابجا دیکھنے کو ملتا ہے نیز مولانا آزاد کے ہر عمل سے خود اعتمادی ظاہر ہوتی ہے۔تیسرا مقالہ جناب علیم ہا شمی نے ’’مولانا آزاد کا تعلیمی نظریہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا اور ان کے تعلیمی نظریات کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی اور یہ بتایا کہ آزاد نے ہمیشہ ذہنی بیداری، عالمی اخوت اور تعلیمی بیداری کو ہمیشہ پیش نگاہ رکھا۔چوتھا مقالہ ڈاکٹر تسلیم عارف صاحب نے پیش کیا۔ انہوںنے آزاد کی ایک غزل کا تجزیہ نہایت ہی انہماک سے کیا اور مولانا کے کلام میں پائی جانے والی شعری نزاکتوں کی عمدہ مثالیں پیش کیں۔ پانچواں مقالہ شعبے کے استاد ڈاکٹر محمد ارشاد علی نے پیش کیا۔ انھوں نے غبار خاطر کے آئینے میں آزاد کے افکارو خیالات کا جائزہ لینے کی حتیٰ الامکان کوشش کی اور یہ بتایا کہ غبار خاطر بڑی حد تک آزاد کے ذہن کو سمجھنے میں ہماری معاون و مددگار تصنیف ہے۔
چھٹا مقالہ محترمہ ڈاکٹر ترنم مشتاق صاحبہ نے پیش کیا۔ انھوں نے مولانا آزاد کی ہم گیر شخصیت کا ہمہ پہلو سے جائزہ لینے کی کوشش کی اور یہ بتایا کہ مولانا آزاد خوددار صفت کے مالک تھے۔ مولانا آزاد نے تعلیمی میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں انھوں نے اس کا بھی احاطہ کرنے عمدہ کوشش کی ہے۔ساتواں مقالہ جناب نسیم عزیزی نے ـ’’ بنگال: مولانا آزاد کی عملی سیاست کا نقش اول‘‘ کے عنوان سے پیش کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ مولانا آزاد نے ہندو مسلم اتحاد کو یقینی بنانے میں خاطر خواہ خدمات انجام دی ۔آٹھواں مقالہ ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا صاحبہ نے ـ ’ ’عصر حاضر میں مولانا آزاد کے افکار و نظریات کی معنویتـ‘ ‘کے عنوان سے پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں آزاد کے قول فیصل سے سبق لینے کی ضرورت ہے تاکہ عصر حاضر میں ہم حکومت و عدلیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں۔ڈاکٹر کامران غنی صبانے بھی آزاد کی شاعری کے حوالے سے اپنا مقالہ بعنوان ـ’’ مولانا آزاد بحیثیت شاعر‘‘ پیش کرتے ہوئے یہ بتایا کہ آزاد جہاں مدبر، مفکرکی حیثیت سے ہمیں نظر آتے ہیں وہیں شعر وسخن میں بھی انھوں نے اپنے کمالات کے جوہر دکھاتے ہوئے اپنا ایک منفرد انداز رواں رکھا۔ڈاکٹر احمدکفیل نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے مولانا آزاد کے تاریخی شعور کا بحسن و خوبی جائزہ لیا۔ انہوں نے آزاد کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر محمد قمر سلیم نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ اپنا مقالہ بعنوان مولاناآزاد : سیکولر اور جمہوریت پسند مفکر تعلیم پیش کیا ۔ انہوں نے اپنے مقالے میں آز اد کے تعلیمی نظریات کو سیکولر اور جمہوریت پسند بتایا۔مقالہ خوانی کے بعد جناب پروفیسر منظر حسین نے صدارتی خطبہ دیا اور تمام مقالوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔س اجلاس کی نظامت محمد منظر حسین نے نہات خوش اسلوبی سے انجام دیا اور تمام مہمانوں اور مقالہ نگاروں کا تعارف بھی کرایا۔ اخیر میں کالج کے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر دبیر احمد نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نومبر کے پہلے ہفتہ میں مولانا آزاد کالج کے شعبہ اردو میں اکبر الہٰ آبادی کے حوالے سے ویبینار کا انعقاد کیا جائے گا ۔ اس طرح یہ ویبینار اپنے اختتام کو پہنچا۔
ڈاکٹر محمد ارشاد علی، محمد منظر حسین
شعبہ اردو ، مولانا آزاد ، کولکاتا

