’’ سگنل‘‘ سلام بن رزاق کا ایک مختصر ترین افسانہ ہے ،جس طرح کم سے کم لفظوں میں بڑے سے بڑے خیال کو پرو کر شاعر اپنے شعر کو لا زوال بنانا چاہتا ہے اسی طرح سلام بن رزاق نے بھی دو منظروں کو دو مصرعوں کی طرح برتا ہے -بادی النظر میں میں سگنل ایک نوجوان کی کہانی ہے جو ریٹائرڈ ٹیچر کا پوسٹ گریجویٹ بیٹا ہے اور اعلی تعلیم کے باوجود بے روزگار ہے -اس نے ایک بےکار سگنل کو پتھر مار کر توڑنے کا ارتکاب جرم کیا ہے جس کے نتیجے میں اسے پولیس اسٹیشن جانا پڑا ،تھانیدار کا سلوک اس کے ساتھ بہتر نہیں ہوتا ہے -اس کا بوڑھا باپ جب اسے چھڑانے کے لیے آتا ہے تو تھانیدار کی بات چیت اس بزرگ سے نہایت تحقیر آمیز لہجے میں ہوتی ہے – لیکن باپ صبروتحمل کا مجسمہ بنا ہوا ہے اور بیٹا بھی خاموش ہے -باپ عاجزی کے ساتھ تھانیدار سے پوچھتا ہے میرے بیٹے کا کیا قصور ہے ،تھانیدار کہتا ہے اس نے سگنل توڑا ہے ،باپ نے کہا اس کے پاس گاڑی واڑی تو ہے نہیں آخراس نے سگنل کیوں اور کیسے توڑا ؟ تھا نیدار کہتا ہے پتھر مار کر توڑا ،خاموش طبع نوجوان بھڑک اٹھتا ہے اور کہتا ہے ،،سگنل ،،اگر خراب ہو تو توڑ دینا چاہیے نوجوا ن کا چہرہ تمتما اٹھتا ہے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اس بدلتی کیفیت کو دیکھ کر تھانیدار حوالدار کو اسے لاک اپ میں لے جانے کا اشارہ کرتا ہے بوڑھا باپ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے
ویسے دیکھنے سننے میں یہ کہانی تو بہت عام سی لگتی ہے مگر جن خوبصورت تکنیک اور ٹریٹ منٹ کے ساتھ پیش کی گئ ہے وہ اس کی انفرادیت کا احساس کر اتی ہے -جس فنکاری کے ساتھ علامتوں میں افسانے کو پرویا گیا ہے وہ بھی قابل داد ہے- روز مرہ کی زندگی میں ،،سگنل ،،کا خراب ہونا کوئ بڑی بات نہیں اکثر ٹرافیک پر ایسا ہوتا ہےاور آے دن سگنل کی خرابی سےٹرافیک جام ہوجا یا کرتی ہے -لیکن سگنل کے اشارے سے افسانہ نگار کچھ اور کہنا چاہتا ہے اور تب یہ سگنل پار لیمنٹ کی شکل میں نظر آتا ہےے جو دستور ہند کی صراط مستقیم ہے اور ملک کی بد حالی کاحال اسی سگنل کیخرابی سے ہے ،اس سوال کا جواب مقننہ ،انتظامہہ ،عدلیہ کو دییناچاہیے کہ وہ خراب کیوں ہے ؟ (یہ بھی پڑھیں صبیحہ انور کا افسانوی مجموعہ ’’خواب در خواب‘‘ ایک تجزیہ مطالعہ – سمیہ محمدی )
یہ کہانی تین اہم کرداروں کے بیچ چکر کاٹتی ایک تو وہ نوجوان جس نے سگنل توڑا ،دوسرا تھانیدار جس نے اس نوجوان کو حوالات میں بند کیا ،تیسرا اس نوجوان کابوڑھا باپ ،یہ تینوں کردار عملاّ تین رنگوں کی علا مت ہیں-لال رنگ جو خطرہ اور ٹھہراو کی علامت ہے تھانیدار کے ظلم وستم سے عبارت ہے ،ہرا رنگ جو تیز رفتاری کی علا مت ہے جو ٹھہراو توڑنےکا اشارہ کرتا ہے وہ نوجوان کا کردار ہے ،پیلا سگنل آہستہ روی سے بڑھنے کی علامت نوجوان کے بوڑھے باپ میں ہے بے بسی ،خوف دانشوری ،صبرو تحمل ،سب کچھ اس کردار میں ہے
سگنل ایک اشارہ ہے سماج کے بدلنے کا ،تعلیمی نظام کا ،انقلاب کا ،اصول کا ،ظلم و ستم کے خلاف لڑائ کا ،انسانیت کے گرتے ہوے معیار کا ،قانون کی لا سمتیت کا ،نا انصافی کا ،بے روزگاری کےمسائل کا ،اور زندگی کے نت نےُ سرے سے سوچنے کا اب ضرورت ہے بے بسی کے تمام خراب سگنل توڑ کر زندگی کی مختلف راہوں میں آگے بڑھیں ،یہی افسانہ نگار کا اس افسانے میں مر کزی خیال ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

