قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں غزالہ قمر اعجاز کے افسانوی مجموعے’مجھے بھی‘ کی رونمائی
نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں مشہور افسانہ نگار غزالہ قمر اعجاز کے افسانوی مجموعہ ’’مجھے بھی‘‘ کا اجرا کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد اور دیگر مہمانوں کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر شیخ عقیل احمد نے مصنفہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایک زمانہ تھا جب خواتین کی تخلیقات کم منظر عام پر آتی تھیں اور انھیں اس راہ میں دشواریاں درپیش تھیں، مگر اب عورتیں کسی بھی میدان اور کسی بھی شعبے میں مردوں سے کمتر اور پیچھے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج نسائی اور تانیثی تحریک کے زیر اثر بہت سی تخلیقات شائع ہورہی ہیں ،جن میں عام سماجی معاملات کے علاوہ خالص خواتین سے متعلق موضوعات کا بھی احاطہ کیا جارہا ہے۔ شیخ عقیل نے کہا کہ غزالہ قمر اعجاز کے افسانے بہت عمدہ ہیں اور انھوں نے تمام سماجی پہلووں کو اپنی تخلیقات میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے، فنی اعتبار سے بھی انھوں نے افسانے کے تمام لوازمات و شعریات کو ملحوظ رکھا ہے، ان کی زبان بھی رواں اور سادہ ہے ـ
معروف ادیب و ناقد حقانی القاسمی نے کہا کہ غزالہ قمر نئے عہد کی تخلیق کار ہیں اس لیے انھیں نئے سماجی و ادبی تقاضوں کا ادراک ہے اور ان کا اسلوب بیان بھی دل کش ہےـ ان کے افسانوں میں سماجی نفسیات کا زاویہ بہت اہم ہے، انھوں نے فرد اور سماج کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسی کا اظہار اپنی تخلیقات میں کیا ہےـ انھوں نے غزالہ قمر کے افسانوں کی لسانی و اسلوبی خوبیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے بوریت اور اکتاہٹ کے بجائے ارتعاش کا احساس ہوتا ہےـ
ڈاکٹر نعیمہ جعفری نے کہا کہ غزالہ تانیثیت کی ایک معتبر آواز کے طور پر اپنی شناخت رکھتی ہیں ـ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورتوں کے مسائل اور درد کو بیان کیا ہےـ انھوں نے غزالہ کے متعدد افسانوں کے کرداروں کی روشنی میں موجودہ سماجی معاملات و مشکلات پر بھی روشنی ڈالی ـ
معروف افسانہ نگار اور نسائی ادبی تنظیم ’بنات‘ کی سربراہ ڈاکٹر نگار عظیم غزالہ بے حد حساس خاتون ہیں اور اس کا اثر ان کی کہانیوں میں بھی پایا جاتا ہےـ انھوں نے کہا کہ اب خاتون تخلیق کاروں کے موضوعات، کردار اور کینوس و احساس بدل رہے ہیں، جس کی نمایندگی غزالہ قمر کے افسانے کرتے ہیں ـ خواتین کے درد کو انھوں نے کما حقہ محسوس کیا اور اس کی بھرپور نمایندگی کی ہےـ
ڈاکٹر یوسف رامپوری نے غزالہ قمر کے افسانے ’سرگوشی‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انھوں نے بدلتے ہوئے سماجی منظرنامے کا بہ خوبی نقشہ کھینچا ہےـ سرگوشی میں انھوں نے خواتین کے حوالے سے بدلتے ہوئے انفرادی و سماجی خیالات و تصورات کی نشان دہی کی ہےـ انھوں نے بیرونی و خانگی زندگی میں خواتین کو درپیش مسائل اور پیچیدگیوں کی بہت عمدگی سے عکاسی کی ہےـ
’بیسویں صدی‘ کی مدیرہ شمع افروز زیدی نے بھی غزالہ قمر کے تخلیقی امتیازات اور فنی کمالات کی نشان دہی کی ـ انھوں نے کہا کہ تخلیق کی سطح پر مرد و خواتین میں کوئی علیحدگی نہیں، دونوں ایک دوسرے کے مسائل کو جانتے ہیں اور ان پر اظہار خیال بھی کر سکتے ہیں ـ انھوں نے کہا کہ غزالہ کی کہانیوں میں موضوعات کا بھرپور تنوع پایا جاتا ہےـ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

