نیر مسعود:تشکیلی قرأت/ ڈاکٹر اسد عباس عابد – محمد عامر سہیل
نام کتاب:نیر مسعود:تشکیلی قرأت
مرتب:ڈاکٹر اسد عباس عابد
مبصر: محمد عامر سہیل
نیر مسعود معاصر اردو افسانے کے نہایت منفرد اور غیر معمولی تخلیق کار ہیں۔ان کی انفرادیت اور غیر معمولی افسانوی طرز کو سمجھنے کےلئے روایتی قرات اور تنقیدی معیارات عمل میں لانے سے مفید نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ان کے افسانے حقیقیت اور جدیدیت کے امتزاج سے نئی شناخت قائم کرتے ہیں۔طرزِ اظہار کی مجموعی فضا،موضوعات،کرداروں کی داخلی کیفیات اور افسانے کے منظر نامہ کے اعتبار سے وہ جدید افسانہ نگاروں میں شامل ہیں۔ان کا فن (زبان و بیان،اسلوب،تکنیک) انھیں دیگر جدید افسانہ نگاروں سے الف فنی و ہئیتی لحاظ سے مابعد جدیدیت میں داخل کرتا ہے۔فنی و جمالیاتی حیثیتوں میں ان کے افسانے پریم چندیت اور جدید افسانہ نگاروں کے درمیان نظر آتے ہیں۔یوں کسی واحد خارجی (متن سے باہر روایتی) تنقیدی کسوٹی پر ان کے افسانوں کی تفہیم و تعبیر انتہائی مشکل ہے۔یہی ان کا انفراد اور امتیاز ہے۔سوال یہ ہے کہ نیر مسعود کی افسانوی کائنات کی سیاحی اور ان کے افسانوں کی تفہیم و تعبیر کےلیے قرات کا کونسا تنقیدی حربہ استعمال میں لایا جائے ؟ اس کےلیے مہدی جعفر نے "نیریت ” کی اصطلاح متعارف کروائی ہے۔
اس اصطلاح کی وضاحت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کہانی اور افسانے کا امتزاج؛حقیقت نگاری اور جدیدیت کا اتصال؛خوف اور خاموشی کی فضا میں اذیت میں مبتلا کرداروں کا پایا جانا؛اسلوں کا داستانوی رنگ؛کہانی میں واقعہ در واقعہ کی تنکنیک اور زمان و مکاں سے ماورا افسانے کی مجموعی فضا جس سے ان کے افسانوں سے کسی مربوط فکری نظام کی دریافت مشکل ہو جائے اور قاری موضوع کی تلاش میں بھٹکتا پھرے ” نیریت ” ہے۔مربوط فکری نظام سے مراد ان کے انفرادی ایک یا مجموعی افسانوں سے واضح پیغام یا نتیجہ کا تقاضا کرنا ہے۔وہ خارجی حالات کو پُر تحیر انداز میں پیش کرتے ہیں۔بیان کنندہ کے ذاتی تجربات،احساسات،مشاہدات،خدشات،تحفظات اور خیالات سے مملو ان کے افسانے عام سماجی زندگی میں کرداروں کی تنہائی،اذیت،خاموشی،وحشت مالی اور ڈر خوف کی کیفیات سامنے لاتے ہیں۔ان کے کردار عام سماجی زندگی سے تعلق رکھتے ہوئے بھی الگ شناخت قائم کرتے ہیں۔ان کے ہاں کہانی واقعہ در واقعہ آگے بڑھتی ہے۔افسانی اور کہانی دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں۔اپنے طرزّ اظہار سے افسانہ بنتا ہے اور واقعات کی منطقی ترتیب سے کہانی کا ارتقا ہوتا ہے۔
گویا طے شدہ پیمانوں سے نیر مسعود کے افسانوں کا تجزیہ ان کی افسانوی جہات کو سامنے لانے کی کمزور اور ناکافی صورت ہے۔اس لیے ناگزیر ہے کہ ان کے افسانوں سے اصول اخذ کر کے یا افسانوی کی قرات سے ہی جو کچھ قاری سمجھتا ہے اس کو سامنے لایا جائے۔یہی واحد راستے ان کے افسانوں کی تفہیم و تعبیر کے ساتھ تعین قدر کے سلسلے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔مغربی افسانہ نگاروں کے ان پہ اثرات اور معاصر اردو افسانہ نگاروں سے ان کی مماثلتیں بھی ناقدین نے نشان زد کی ہیں تاہم وہ ان سب سے الگ شناخت رکھتے ہوئے صرف افسانہ لکھتے ہیں۔
نیر مسعود کے افسانوں کے تجزیات ہندو پاک کے مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔جن کو نیر مسعود کے نئے نقاد ڈاکٹر اسد عباس عابد نے اپنی کتاب ” نیر مسعود،تشکیلی قرات ” میں جمع کر دیا ہے۔یہ کتاب نیر مسعود کے افسانوں سیمیا،مراسلہ،تحویل، شیشہ گھاٹ،طاؤس و چمن کی مینا،سلطان مظفر کا واقعہ نویس،نصرت،عطر کافور،مسکن،شطرنج کی بازی،گنجفہ،بُن بست،مارگیر، دستّ شفا اور دھول بن کے تجزیات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ان تجزیات کو پیش کرنے والوں میں عرفان صدیقی،سیدہ فاطمہ جعفری، عابد سہیل، سلیم سہیل،سلام بن رزاق،امتیاز احمد،مہدی جعفر،قاضی افضال حسین،ڈاکٹر سیما صغیر،ڈاکٹر نور فاطمہ،ڈاکٹر شافع قدوائی،ڈاکٹر حنا آفریں،محمد عباس،ڈاکٹر ضیاءالحسن،محمد رضا،ریاض احمد،اطہر حسین،ڈاکٹر اسد عباس عابد اور محمد عامر سہیل شامل ہیں۔
ان تجزیات میں ناقدین کے پیش نظر افسانے کی مجموعی فضا،کرداروں کی نفسیاتی حالت،واقعہ در واقعہ کہانی کا ارتقا،تہذیبی و ثقافتی پس منظر،ترقی پسند نقطہ نظر،معنیاتی جہات،افسانوی اسلوب کی پہچان،بیانیہ کی نشان دہی، افسانوں کی تشکیلی و لاشکیلی قرات،افسانوں کا تقابلی مطالعہ،فنی قدر و قیمت اور تاریخی و وجودیاتی تعبیر و تفہیم سامنے رہی ہے۔
ڈاکٹر اسد عباس عابد کی یہ مرتب کتاب افسانے کے تجزیے اور نیر مسعود کے قاری کےلیے نہایت اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔میں اس کتاب پہ ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور کتاب میں شامل میرے مضمون ” نیر مسعود کے افسانے ‘دھول بن’ کی وجودیاتی تعبیر ” پہ ان کا شکر گزار ہوں۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
محمد عامر سہیل نے کتاب پر نہایت عمدہ تبصرہ کیا ہے، جسے پڑھنے کے بعد کتاب کے مطالعہ کی تحریک ہوتی ہے۔