پٹنہ یونیورسیٹی کا جرنل : ایک تعارف – فخرالدین عارفی
پٹنہ یونیورسیٹی کا اپنا ایک چہرا ہے ، ایک پہچان ہے ، ایک شناخت ہے ۔ اس یونیورسٹی کی ادب کے پس منظر میں ایک سنہری تاریخ ہے ۔ حسین روایت ہےاور تابناک مستقبل کی طرف پٹنہ یونیورسٹی کا شعبہء اردو آج بھی رواں دواں ہے ۔ شعبۂ اردو کی تاریخ خاص طور پر بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اس لیے کہ اس تاریخ میں پروفیسر اختر اورینوی ، جمیل مظہری ، پروفیسر صدرالدین فضا شمسی ، ڈاکٹر ممتاز احمد ، پروفیسر یوسف خورشیدی ، پروفیسر مطیع الرحمان ، پروفیسر اسلم آزاد ، پروفیسر اسرائیل رضا ، پروفیسر اعجاز علی ارشد ، پروفیسر جاوید حیات اور موجودہ عہد میں پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کی کاوشیں اس کے وقار و معیار میں اضافہ کررہی ہیں ۔ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کا "شعبہ اردو ” ادبی و ثقافتی فضا اور بہتر تعلیمی ماحول کے لیے ہمیشہ مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے ، اس شعبے نے "ایوان اردو ” کی سرزمین پر فکر و فن کے مختلف تاج محل تعمیر کیے ہیں ، رود گنگ کے ساحل پر آباد شعبہٴ اردو کا "دربھنگہ ہاؤس ” آج بھی اس شعبے کی ادبی فضا آفرینی کی ایک خوب صورت علامت کے طور پر موجود ہے اور گنگا کے کنارے آباد "دربھنگہ ہاؤس ” جو شعبہٴ اردو کے ماضی کی متعدد خوب صورت داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے جمنا کی لہروں کے تقدس کی بار بار قسمیں کھاتا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ شعبہ اردو آج بھی اردو زبان کی گنگا جمنی تہذیب کی آبیاری کرنے میں سرگرم عمل نظر آتا ہے ۔ گوکہ اس کا مکانی جغرافیہ اب تبدیل ہوچکا ہے لیکن تاریخی پس منظر آج بھی اپنے ماضی کی حسین داستانوں کا خوب صورت منظر نامہ پیش کررہا ہے ۔ داستانیں کیء ہیں ، لیکن ان میں پروفیسر اختر اورینوی کے قدموں کے نشانات زیادہ واضح ہیں ۔۔۔۔۔۔خواہ وہ حسن کی داستان ہو یا ادب کا کوئی خوب صورت منظر نامہ ۔۔۔۔۔۔اختر اورینوی زندہ تھے ، اختر اورینوی زندہ ہیں اور اختر اورینوی ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ان کی داستان ختم ہوکر بھی شاید کبھی ختم نہ ہوگی ۔ جمیل مظہری کے دل کی بانسری سے نکلے ہوےء نغموں کی بازگشت پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہٴ اردو کے بام و در سے آج بھی سنائی دیتی ہے ۔ جیسے کوئی بے چین روح اپنی "عذرا ” کو آج بھی آواز دے رہی ہو ۔۔۔۔۔
اختر اورینوی اور جمیل مظہری کی رومان پرور طبعیت کے فطری رنگ و آہنگ اور انداز کو اپنی طبعیت کے چمن میں دوبارہ پیدا کرنے اور ان رومان پرور پودوں کی کاشتکاری اور آبیاری کے لیےء ، ماضی میں متعدد اساتذہ نے کوششیں بھی کیں ، لیکن اس راہ میں کسی کو بھی کامیابی نصیب نہ ہوسکی ۔ اس لیےء کہ اختر اورینوی نے اس درخت کا ہی قتل کردیا تھا ، جس پر خوب صورت چڑیاں اپنا نشیمن بناتی تھیں اور آج محبت کا وہ خوب صورت گلاب بھی سوکھ کر بکھر چکا ہے جس کا طواف حسین تتلیاں کیا کرتی تھیں ۔ اب علم و ادب کے اس چمن میں رات کی تاریکی میں جگنو کی چمک بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے اور نہ ہی جگنو نظر آتے ہیں جن کو پرکھنے کی ضد ہمارے عہد کے چالاک بچّے کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔
سب کچھ ختم ہوچکا ہے ۔ لیکن باقی ہے تو اس شعبے کا معیار و اعتبار اور وقار جس کی زمین بہت وسیع ہے اور یہ وہ شعبہ ہے جس کی ارض پر کبھی اندھیرا دیکھنے کو نہیں ملا ۔۔۔۔ رات کے پچھلے پہر بھی یہاں علم کا سورج کبھی نہیں ڈوبتا ہے اور نہ اس کے فلک پر دانشوری کا آفتاب کبھی غروب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
آج بھی متعدد شخصیتیں ایسی ہیں یا آج وہ ملازمت میں نہیں ہیں ۔ لیکن ان کی حیات کا چمن ابھی بھی شاداب ہے اور اس چمن میں فکرو آگہی کے گلاب کھل رہے ہیں جن کی خوشبو سے ہمارا صحن دل آج بھی مہک رہا ہے ۔
پروفیسر اعجاز علی ارشد ، پروفیسر اسرائیل رضا ، اور حال کے دنوں میں ڈاکٹر جاوید حیات اور پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کا نام اس سلسلے میں مثال کے لیے کافی ہے ۔
پروفیسر اختر اورینوی اور جمیل مظہری کی ادبی وراثت کو آج یقیناً پروفیسر شہاب ظفر اعظمی اور ڈاکٹر جاوید حیات مل کر سنبھالے ہوئے ہیں اور اس روایت کی توسیع بھی ہورہی ہے جو پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہٴ اردو کی شان اور آن بان ہے ۔۔۔۔۔
اس شعبے کا ادبی ترجمان "اردو جرنل ” کا شمارہ نمبر 12 اس وقت میرے زیر نظر ہے ۔ اس کا سرورق انتہائی خوب صورت اور دیدہ زیب ہے ۔ طباعت اور کمپوزنگ بھی بہتر ہے اور معیار کے اعتبار سے بھی یہ جرنل اپنی مثال آپ ہے ۔ صفحات 352 , کاغذ نفیس اور عمدہ اور قیمت 300 روپے ہے جو بہت مناسب ہے ۔
جرنل کے مدیر پروفیسر شہاب ظفر اعظمی ہیں ، جبکہ پیش کش "شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کی ہے ۔ یہ شمارہ خاص شمارے کی حیثیت رکھتا ہے جو اکبر الہ آبادی اور ساحر لدھیانوی کے گوشوں پر مشتمل ہے ۔ اس خاص شمارے میں مذکورہ بالا دونوں شخصیتوں پر قیمتی، کار آمد اور معیاری مقالات شائع کئے گئے ہیں جن سے طلبا و طالبات خوب خوب استفادہ کرسکتے ہیں ۔
مقالہ نگاروں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اگر سارے مقالہ نگاروں کے اسمائے گرامی تحریر کئے جائیں تو صرف ان کے نام کی فہرست ایک طویل تبصرہ بن جائے پھر بھی چند قابل ذکر مقالہ نگاروں کے نام تحریر کرنا اخلاقی طور پر ضروری ہے ۔ مثلاّ : پروفیسر محمد حسن ،۔پروفیسر قدوس جاوید ، پروفیسر علی احمد فاطمی ، پروفیسر ابوبکر عباد ، ڈاکٹر آفتاب احمد منیری ، مولانا شاہ محمد ریان ، ڈاکٹر شیخ فاروق باشا، ڈاکٹر ظفر انصاری ظفر ، ڈاکٹر محمد شارب ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی ۔۔۔۔۔
ان لوگوں کے مقالات جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ ” بوستان اکبر ” کے باب کے تحت شائع کئے گئے ہیں ۔ ان کے علاوہ اکبر الہ آبادی کے فکرو فن پر نئے مقالہ نگاروں کے مقالات کو ” گلہائے نو ” کا عنوان مقرر کرکے شائع کیا گیا ہے ۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے :
محمد رضا اظہری ، شمس الدین ملک ، ڈاکٹر ضمیر رضا ، ڈاکٹر نعمت شمع ، شمع کوثر ، ڈاکٹر فائزہ احمد ، ڈاکٹر ممتاز جہاں ، محمد علیم الدین شاہ وغیرہ ۔۔۔۔
"گلشن ساحر ” عنوان کے تحت پروفیسر علی احمد فاطمی ، پروفیسر اسلم جمشید پوری ، ڈاکٹر عبدالحنان سبحانی ، ڈاکٹر رشید جہاں انور ، ڈاکٹر منتظر قائمی ، ڈاکٹر ارشاد شفق ، ڈاکٹر سورج دیو سنگھ وغیرہ ۔۔۔۔۔
"چمن تازہ ” باب قائم کرکے نےء لوگوں کو جگہ دی گئی ہے ۔ جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :
ڈاکٹر شیخ عمران ، ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی ، ڈاکٹر محمد سہیل انور ، ڈاکٹر محمد مجاہد حسین ، ڈاکٹر شہناز بانو ، آصف پرویز ، توصیف احمد ڈار ، ڈاکٹر محمد حیدر علی ، ڈاکٹر محمد نور نبی انصاری ۔۔۔ ان لوگوں کے علاوہ جرنل میں مختلف موضوعات پر چند لوگوں کے مقالات بھی ” گلستان نقد و نظر ” کے باب میں شائع کئے گئے ہیں ۔ ان کے ناموں کی فہرست درج ذیل ہے :
پروفیسر شہاب الدین ثاقب ، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ، پروفیسر حدیث انصاری ، محمد اکرام ، محمد عارف حسین ، جاوید احمد ، ڈاکٹر زبیر عالم ، شاہد وصی ، محمد عطاء اللہ ، شبیر احمد ڈار ، فیضان حیدر ، شہلا یاسمین اور ڈاکٹر محمد منہاج الدین وغیرہ ۔۔۔۔۔۔
"اپنی بات ” عنوان کے تحت پروفیسر شہاب ظفر اعظمی صاحب نے اس خصوصی شمارے میں شائع شدہ مقالات و مضامین کے سلسلے میں ضروری وضاحتیں تحریر کی ہیں اور اکبر الہ آبادی اور ساحر لدھیانوی پر شائع کئے گئے گوشوں کے تعلق سے جواز پیش کیا ہے ۔
"گلستان نقد و نظر ” کے عنوان سے جو باب قائم کیا گیا ہے وہ تقریباً ایک سو دس صفحات پر مشتمل ہے ۔ آخر میں یہ ہی کہوں گا کہ اساتذہ ہوں یا طلبا و طالبات یا پھر ادبا و شعرا ۔ سب کے لئے اس جرنل کا مطالعہ سود مند ثابت ہوگا ۔
مبصر : فخرالدین عارفی ، محمد پور ۔ شاہ گنج ، پٹنہ 800006 ، موبائیل نمبر : 9234422559
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

