جہیز کی لعنت پر بولتے بولتے اس کا حلق خشک ہو گیا اور جسم پسینے میں شرابور۔ اپنی تقریر ختم کرکے وہ…
تخلیقی ادب
-
-
ایرکنڈیشنڈ آفس میں ایزی چیئر پربھی مسٹرچوپڑا دباؤ اور تناؤ لیے بیٹھے تھے۔وہ ایک نئی قسم کے بواسیر میں مبتلاتھے۔مسّے ان کے…
-
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن پھول ہیں صحرا میں…
-
چند محاوروں اور فلموں کی بدولت قصائی کا لفظ ہمارے ذہنوں میں شقی القلبی اور سفاکی کا تصور اجاگر کرتا ہے۔تاہم میرا…
-
یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند…
-
مجھے شدید قسم کی شہوت نے جگایا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ کو وہیں رکھے رکھے دوسرا ہاتھ بڑھا کر قریب پڑا…
-
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر…
-
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن…
-
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش…
-
زندگی ایک دائرہ ہی تو ہے۔ عدم سے عدم تک سفر میں مصروف ہے——‘ انسان کسی نہ کسی بہانے سے اس دائرے…

