شاعر ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر گوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب شب سکوت افزا ہوا آسودہ…
تخلیقی ادب
-
-
پلیگ اور کوارنٹین! ہمالہ کے پاؤں میں لیٹے ہوئے میدانوں پر پھیل کر ہر ایک چیز کو دھندلا بنا دینے والی کہرے…
-
’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘ ’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘ ’’اوں۔۔…
-
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں…
-
وقت کی گردش پوری ہوچکی !!! اُوم :بُھور،بُھوا سھا، ، تت سُوِ ترُ ور’ینِیَم’ ، بھر گو دِوسدِھیمھی دھیو یونہہ پر چو…
-
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر…
-
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش…
-
جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا لبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتا ملا نہ سرو کو کچھ اپنی راستی…
-
جبرئیل ہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بو ابلیس سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو جبرئیل…
-
ایک دن میں رکشہ سے آفس جا رہا تھا تو دفعتاً یہ احساس ہوا کہ یہ رکشہ والا جان پہچان کا ہے۔’تمہارا…

