کیفے میں کونے والی ٹیبل پر بیٹھا شخص، ہونٹوں میں سگریٹ دبائے، دھوئیں کے مرغولے بناتا ہوا جو اس کے گھنگھرالے بالوں…
نظم
-
-
اے سنو حاملِ بندوق و تفنگ و غصہ ہے کہاں ظلم روا بے بسوں معصوموں پر تیرے دامن پہ پڑیں خون کی…
-
خواب میں باپو نے آکر ایک بڑھیا سے کہا کیا ہمارے قاتلوں کا بھی چلا کوئی پتہ کیا ووستھا ہے مرے…
-
کچھ ہے فضا میں اذنِ جفا ظلمِ ناروا ہر سو ہے شورِ آہ و بکا و ستم بلا دارِ عنانِ ظلمت…
-
نظم
حسرت ان غنچوں پہ ہے (مظفرؔ ، انیقہؔ اور شکیبؔ کے نام) – ڈاکٹر عطاعابدی
by adbimirasby adbimirasشہادت کی بدولت وہ کئی معنوں میں زندہ ہے زمیں پر سرخرو ہو کرفلک والوں میں زندہ ہے مری آنکھوں میں وہ…
-
شکیب تیرا شکیب ہم کو جو آۓ بھی تو وہ آۓ کیسے تری جدائی میں اب تلک ہیں فضائیں مغموم ، رستے…
-
کیا محرم؟ کیا صفر؟ شوال کیا رمضان کیا؟ محترم سب ماہ ہیں ذی قعدہ اور شعبان کیا؟ کوئی بھی منحوس دن اور…
-
میری نظروں میں وہ لڑکی جو لوگوں کی توجہ تھی گر چہ سائرہ تھی وہ مگر میری محبت نے اجازت ہی نہیں…
-
اپنے گلدان کی زینت کو بڑھانے کے لیے تم نے جو پھول چنے ان کی نکہت پہ، تبسم پہ نہیں جاؤں…
-
مجھ کو محرومی وصال کر کے، ہجر کے پیکر میں ڈال کر کے، ہماری خواہش کو چال کر کے، اور اپنا دامن…

